مضامین
مفتی اقبال واصفی قاسمی دامت برکاتہم العالیہ — علم و عمل کا روشن چراغ

موبائل نمبر: 9797888975
کسی بھی معاشرے کی فکری، دینی اور اخلاقی زندگی میں علماءِ حق کا وجود چراغِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہوتے ہیں جو کتابوں کے اوراق سے نکل کر انسانوں کے دلوں میں روشنی بکھیرتے ہیں، جو گفتار سے زیادہ کردار کے ذریعے دعوت دیتے ہیں اور جو علم کو محض الفاظ نہیں بلکہ زندگی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ایسے ہی اہلِ علم میں ایک درخشاں نام مفتی اقبال واصفی قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کا ہے، جن کی شخصیت علم و عمل کے حسین امتزاج کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
مفتی صاحب ایک علمی اور روحانی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد محترم سلسلۂ نقشبندیہ سے وابستہ تھے، جس کا اثر مفتی صاحب کی زندگی میں بھی نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں علم کے ساتھ ساتھ روحانیت، وقار اور اخلاقی پختگی بھی نظر آتی ہے۔ کپواڑہ کے معزز اور معروف افراد میں آپ کا شمار ہوتا ہے، اور لوگ آپ کو صرف ایک عالمِ دین نہیں بلکہ اخلاق و کردار کے پیکر کے طور پر جانتے ہیں۔ ان کی نشست و برخاست، گفتگو اور طرزِ زندگی سادگی، متانت اور شرافت کی عملی تصویر ہے۔
مفتی صاحب کو علمِ حدیث، فقہ اور اصولِ فقہ، تفسیر، تاریخ اور دیگر اسلامی علوم پر گہری نظر حاصل ہے۔ آپ قرآنِ مجید کے حافظ بھی ہیں اور علمی میدان میں ایک مضبوط اور معتبر مقام رکھتے ہیں۔ مفتی صاحب نے گریجویشن اور ایم اے اسلامیات جامعہ ہمدرد دہلی سے مکمل کی ہے۔ آپ جامع مسجد عثمانہ آباد کپواڑہ کے امام و خطیب ہیں، جہاں آپ کی خطابت علمی، فکری اور تحقیقی پہلوؤں سے مزین ہوتی ہے۔ آپ کا اسلوب فصیح و بلیغ، مدلل اور دل میں اتر جانے والا ہوتا ہے۔ سامعین محسوس کرتے ہیں کہ یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی باتیں ہیں جو دلوں تک پہنچتی ہیں۔ اسی طرح آپ مدرسہ فاطمہ الزہریٰ للبنات گوس کپواڑہ میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ کا دولت خانہ ریکی پورہ کپواڑہ میں واقع ہے، جہاں سے علم و رہنمائی کی ایک خاموش مگر مؤثر روشنی پورے علاقے میں پھیل رہی ہے۔
مفتی صاحب کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کے علم میں گہرائی بھی ہے اور ان کے عمل میں اخلاص بھی۔ وہ محض درس و تدریس تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح، نوجوانوں کی تربیت اور امت کے فکری مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں دلیل کی پختگی، لہجے میں نرمی اور فکر میں وسعت جھلکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بات دل میں اترتی ہے اور سننے والا سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
علمِ دین کا اصل مقصد انسان کو اللہ سے جوڑنا اور بندوں کے ساتھ خیر خواہی سکھانا ہے۔ مفتی اقبال واصفی قاسمی دامت برکاتہم العالیہ نے اسی مقصد کو اپنی زندگی کا شعار بنایا ہے۔ وہ دین کو سختی اور تنگ نظری کے بجائے محبت، حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ان کی مجلس ہو یا منبر، ہر جگہ اصلاح اور رہنمائی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ وہ نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید اور عمل کی روشنی دکھاتے ہیں اور انہیں باور کراتے ہیں کہ علم کا اصل حسن عمل میں ہے۔
آج ہمارا معاشرہ جن بڑے بڑے فتنوں میں گھرا ہوا ہے، ان میں شراب نوشی، ارتداد، بے حیائی اور اخلاقی انحطاط سرِ فہرست ہیں۔ یہ فتنے صرف فرد کو نہیں بلکہ پوری نسل کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں مفتی اقبال واصفی قاسمی دامت برکاتہم العالیہ نے ہمیشہ ان کبائر کے خلاف مضبوط آواز بلند کی ہے۔ وہ اپنے خطبات، دروس اور گفتگو کے ذریعے ان برائیوں کا علمی اور دینی رد کرتے آئے ہیں۔ خاص طور پر نوجوانوں کے مستقبل کے حوالے سے وہ نہایت فکرمند اور پریشان نظر آتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر آج کی نسل فتنوں کی نذر ہو گئی تو کل کا معاشرہ اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔ اسی لیے وہ نوجوانوں کو ایمان، کردار اور علم کے راستے پر لانے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔
ان کی علمی خدمات کا دائرہ صرف فتویٰ نویسی یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ دعوت و اصلاح کا ایک وسیع میدان ان کے سامنے ہے۔ وہ معاشرتی بگاڑ، اخلاقی کمزوری اور فکری انتشار کے خلاف خاموش مگر مؤثر جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی تحریر ہو یا تقریر، دونوں میں درد بھی ہوتا ہے اور رہنمائی بھی۔ یہی وہ وصف ہے جو ایک عالم کو محض عالم نہیں بلکہ امت کا رہبر بنا دیتا ہے۔
آج کا دور فتنوں اور فکری انتشار کا دور ہے، جہاں نوجوان ذہن مختلف نظریات اور بے راہ روی کی یلغار میں الجھ چکا ہے۔ ایسے حالات میں مفتی اقبال واصفی قاسمی دامت برکاتہم العالیہ جیسے اہلِ علم کا وجود امت کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ وہ نہ صرف شریعت کی درست رہنمائی فراہم کرتے ہیں بلکہ حالاتِ حاضرہ کو بھی سمجھتے ہیں۔ ان کی فکر میں توازن ہے، ان کے مزاج میں اعتدال ہے اور ان کے مشن میں امت کی خیر خواہی جھلکتی ہے۔
مفتی صاحب کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عالم وہی ہے جو علم کو عمل سے جوڑ دے، جو خود بھی دین پر چلے اور دوسروں کو بھی دین کی طرف بلائے، جو صرف مسائل نہ بتائے بلکہ دلوں کو بھی سنوارے۔ ان کا طرزِ زندگی سادگی، تقویٰ اور خدمتِ خلق کا حسین نمونہ ہے۔ وہ شہرت کے طالب نہیں بلکہ خدمت کے خوگر ہیں، اور یہی اخلاص ان کی مقبولیت کا اصل راز ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مفتی اقبال واصفی قاسمی دامت برکاتہم العالیہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک روشن چراغ ہیں، جو فکری اور اخلاقی اندھیروں میں راستہ دکھا رہے ہیں۔ ان کی علمی و اصلاحی کاوشیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسے اہلِ علم کی قدر کریں، ان کی صحبت سے فائدہ اٹھائیں اور ان کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مفتی اقبال واصفی قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کی عمر میں برکت عطا فرمائے، ان کے علم میں اضافہ فرمائے، ان کی مساعی کو قبول فرمائے اور انہیں امت کے لیے مزید خیر و ہدایت کا ذریعہ بنائے۔
اللہ کرے کہ یہ چراغِ علم و عمل ہمیشہ روشن رہے اور اس کی روشنی سے ہمارا معاشرہ منور ہوتا رہے۔
آمین یا رب العالمین۔