مضامین
"ایپسٹین فائلز" بے نقاب ہوتے بھیانک حقائق

Bandayzaid5532@gmail.com
آج کل دنیا بھر میں "ایپسٹین فائلز" کا تذکرہ زبان زدِ عام ہے۔ یہ صرف چند کاغذات یا قانونی دستاویزات نہیں ہیں، بلکہ یہ اس جدید مغربی تہذیب کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو خود کو انسانی حقوق کا سب سے بڑا چیمپیئن قرار دیتی ہے۔ جیفری ایپسٹین، جو کہ ایک امریکی کروڑ پتی تھا، اس نے برسوں تک دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کے ساتھ مل کر ایک ایسا نیٹ ورک چلایا جس کا مقصد معصوم بچوں اور بچیوں کا استحصال کرنا تھا۔ یہ فائلز اب سامنے آ رہی ہیں اور ان کے ذریعے وہ ہولناکیاں بے نقاب ہو رہی ہیں جن کا تصور کر کے بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔
معصوموں کی چیخیں اور شیطانی اعمال
ان دستاویزات میں درج واقعات کسی ڈراؤنی فلم سے کم نہیں ہیں۔ ایپسٹین نے "لٹل سینٹ جیمز" نامی ایک جزیرے کو اپنا مرکز بنا رکھا تھا، جہاں 14، 15 اور 16 سال کی بچیوں کو لایا جاتا تھا۔ ان معصوموں کو نہ صرف جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا بلکہ وہاں ایسے کام بھی کیے جاتے تھے جو انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں۔
حالیہ رپورٹس اور سوشل میڈیا پر لیک ہونے والی معلومات میں یہ لرزہ خیز دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ ان بچیوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ایسے ہولناک الزامات بھی لگائے گئے ہیں کہ وہاں پیدا ہونے والے بچوں کو شیطانی رسومات کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا اور ان کے ساتھ وہ وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا جسے "کینبلزم" یا آدم خوری کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ باتیں اتنی سنگین ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے، لیکن فائلز میں موجود گواہیاں اور ویڈیوز کے تذکرے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مغربی اشرافیہ کے بند کمروں میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔
عالمی شخصیات کا مکروہ گٹھ جوڑ
ایپسٹین فائلز کی سب سے بڑی طاقت وہ نام ہیں جو اس میں شامل ہیں۔ یہ لوگ دنیا کے نقشے پر بڑے فیصلے کرتے ہیں، لیکن پردے کے پیچھے یہ ایک مجرمانہ گروہ کا حصہ تھے۔ ان ناموں میں شامل ہیں:
امریکی صدور اور سیاستدان: بل کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ناموں کا بار بار ذکر آنا اس بات کی دلیل ہے کہ امریکہ کی سیاسی طاقت اس گندگی میں ڈوبی ہوئی تھی۔
ٹیکنالوجی کے ٹائیکونز: بل گیٹس اور ایلن مسک جیسے امیر ترین افراد کے روابط بھی ایپسٹین کے ساتھ پائے گئے ہیں۔
سائنس اور علم کے دعویدار: اسٹیفن ہاکنگ جیسے معروف سائنسدان کا نام بھی اس فہرست میں دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی۔
اسرائیلی قیادت: اسرائیل کے سابق وزرائے اعظم اور فوجی حکام کے نام بھی ان فائلوں کا حصہ ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نیٹ ورک صرف امریکہ تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے تانے بانے اسرائیل تک پھیلے ہوئے تھے۔
نریندر مودی کا حوالہ: بھارتی وزیراعظم مودی کے حوالے سے بھی بعض ای میلز اور ملاقاتوں کے تذکرے سامنے آئے ہیں جن سے اس عالمی نیٹ ورک کی پہنچ کا اندازہ ہوتا ہے۔
مغربی دوہرا معیار اور اسلام دشمنی
کئی دہائیوں سے مغربی میڈیا اور وہاں کے تھنک ٹینکس نے ایک مخصوص ایجنڈا چلا رکھا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو "دہشت گرد" اور "شدت پسند" ثابت کرنا ہے۔ وہ دنیا کو یہ باور کراتے ہیں کہ مشرق کے لوگ جاہل ہیں اور وہاں خواتین اور بچوں کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ لیکن آج جب ایپسٹین فائلز کی صورت میں مغرب کا اپنا کچا چٹھا سامنے آیا ہے، تو سب خاموش ہیں۔
سب سے اہم اور قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ اس طویل فہرست میں، جس میں سینکڑوں طاقتور غیر مسلم شامل ہیں، ایک بھی مسلمان کا نام نہیں ملا۔ یہ حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان، جنہیں دنیا بھر میں نشانہ بنایا جاتا ہے، اس منظم اخلاقی گراوٹ اور شیطانی جال سے پاک ہیں۔ یہ مغربی کلچر ہی ہے جہاں آزادی کے نام پر بچوں کا سودا کیا جاتا ہے اور پھر اسے اقتدار کے زور پر چھپایا جاتا ہے۔
مغرب کا ٹوٹتا ہوا بھرم
آج مغرب کا وہ چہرہ جو روشن خیالی اور جمہوریت کے پردے میں چھپا ہوا تھا، بری طرح مسخ ہو چکا ہے۔ وہ لوگ جو ہمیں تہذیب سکھاتے تھے، خود ایسے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں جن کی مثال تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ ایپسٹین کے جزیرے پر جو کچھ ہوا، وہ صرف چند افراد کا فعل نہیں تھا بلکہ یہ پورے مغربی نظام کی ناکامی اور اس کی اندرونی سڑاند کو ظاہر کرتا ہے۔
نتیجہ
ایپسٹین فائلز کا سامنے آنا ایک عالمی موڑ ہے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ حق اور باطل کے درمیان اصل لکیر کہاں کھچی ہوئی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو دنیا کو امن اور اخلاق کا درس دیتے ہیں لیکن خود اندھیروں میں معصوموں کا گوشت نوچتے ہیں، اور دوسری طرف وہ مظلوم طبقہ ہے (مسلمان) جنہیں صرف بدنام کرنے کے لیے دہشت گرد کہا جاتا رہا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں اور مغرب کی نقالی کرنے کے بجائے اپنی دینی اور اخلاقی اقدار پر فخر کریں۔ سچائی کو اب مزید دبایا نہیں جا سکتا، اور یہ فائلز اس بھیانک سچ کی پہلی قسط ہیں۔