Ad
مضامین

ایپسٹین فائلز: انکشاف یا توجہ کا جال؟

ایپسٹین فائلز: انکشاف یا توجہ کا جال؟

کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے!

اِکز اِقبال / سہی پورا قاضی آباد کشمیر


رابطہ: 7006857283

ایپسٹین فائلز کے انکشاف نے دنیا کو ایک بار پھر چونکا دیا۔ طاقت، دولت اور اثر و رسوخ کے سائے میں ہونے والے جرائم کی تفصیلات نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑا، سوالات کو جنم دیا، اور غصے کی ایک نئی لہر پیدا کی۔ ان فائلز نے یہ واضح کر دیا کہ کس طرح بعض نظام جرائم کو صرف برداشت نہیں کرتے، بلکہ انہیں تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔

ہم نے وہی سوالات دہرائے جو ہر بڑے انکشاف کے بعد دہرائے جاتے ہیں:

کون جانتا تھا؟

کس نے چھپایا؟

اور سزا کس کو ملے گی؟

 ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔

یہ سوال اور مطالبے درست بھی ہیں، ضروری بھی۔

مگر یہ بھی ایک  تلخ حقیقت ہے کہ وہ معاشرے جو اخلاقیات کے سب سے بلند دعوے کرتے ہیں، اکثر اس وقت سب سے زیادہ کمزور پڑ جاتے ہیں جب ان دعووں پر عمل کا وقت آتا ہے۔ انصاف آسان ہے جب اس کی قیمت کچھ نہ ہو۔ لیکن جب انصاف طاقت کے خلاف کھڑا ہو جائے، تو اسے “عملی تقاضوں” کے نام پر پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔

ایپسٹین فائلز ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ ہم جرم سے آگے دیکھیں۔ یہ سوال کریں کہ ہمارے نظام کس کی حفاظت کے لیے بنے ہیں۔ یہ سمجھیں کہ انصاف کی تاخیر اکثر شواہد کی کمی نہیں، اثر و رسوخ کی زیادتی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اور یہ مانیں کہ اخلاقیات کبھی اعلان کر کے رخصت نہیں ہوتیں—وہ بس آہستہ آہستہ غیر متعلق بنا دی جاتی ہیں۔

یہ مسئلہ کسی ایک خطے کا نہیں۔ جہاں بھی طاقت جواب دہی سے آزاد ہو، وہاں یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ معاشرے اقدار کا دعویٰ زیادہ بلند آواز میں کرتے ہیں، اس لیے تضاد بھی زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔

مگر اس سب کے درمیان ایک اور سوال خاموشی سے ہمارے سامنے کھڑا ہے—جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے  یہ انکشاف اپنی جگہ خوفناک ہے، مگر یہاں رک جانا شاید تصویر کا صرف آدھا رخ دیکھنا ہے۔

ہیں۔ کیا ہر بڑا انکشاف واقعی حادثاتی ہوتا ہے؟

یہ مان لینا اب مشکل نہیں رہا کہ بعض سچ خود بھی منصوبہ بندی کے تحت سامنے لائے جاتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ اقتدار اچانک دیانت دار ہو جاتا ہے، بلکہ اس لیے کہ سچ بھی ایک مؤثر ہتھیار بن سکتا ہے—توجہ کو ایک خاص سمت میں موڑنے کا ہتھیار۔

کیونکہ ایپسٹین فائلز کا اصل پیغام شاید ان سوالات سے کہیں آگے ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی دکھاتی ہیں کہ سچ ہمیشہ اچانک نہیں آتا، اور ہر سچ آزادی کی علامت بھی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سچ کو اس وقت سامنے لایا جاتا ہے جب وہ خود ایک مقصد پورا کر سکتا ہو—جب وہ عوامی توجہ کو ایک سمت میں موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

انسانی توجہ محض نظر نہیں، توانائی ہے۔

جب لاکھوں لوگ ایک ہی خبر پر چونکتے ہیں، غصے میں آتے ہیں، بحث کرتے ہیں، صفیں بناتے ہیں، تو وہ اپنی ذہنی توانائی ایک ہی مقام پر صرف کر رہے ہوتے ہیں۔ اور جدید طاقت کو بخوبی معلوم ہے کہ اس توانائی کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔

مقصد یہ نہیں ہوتا کہ سب کچھ چھپا لیا جائے۔

اکثر مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اتنا مصروف، اتنا مشتعل اور اتنا ذہنی طور پر تھکا دیا جائے کہ وہ یہ دیکھ ہی نہ سکیں کہ پس منظر میں کیا کچھ خاموشی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

عین ممکن ہے کہ جب ہر اسکرین، ہر اخبار، ہر گفتگو ایپسٹین فائلز کے گرد گھوم رہی ہوتی ہو، تب کہیں اور بڑے فیصلے سرکائے جا رہے ہوتے ہوں۔ پیسے کے، اختیار کے، ٹیکنالوجی کے، پالیسی کے۔ وہ فیصلے جن پر اگر عوام کی پوری توجہ ہوتی تو شاید سوال اٹھتے، مزاحمت ہوتی، یا کم از کم سنجیدہ بحث ضرور ہوتی۔

یوں بعض اوقات سچ خود بھی پردہ بن جاتا ہے۔

ایک ایسا پردہ جو ہمیں یہ احساس دیتا ہے کہ ہم باخبر ہیں، حالانکہ ہم صرف جذباتی ردِعمل میں الجھے ہوتے ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ طاقتور نظام ہمیشہ جرائم کو چھپاتے نہیں۔ اکثر وہ انہیں معمول بنا دیتے ہیں۔ اتنا معمول کہ ایک وقت آتا ہے جب انکشاف بھی خبر کم اور شور زیادہ بن جاتا ہے۔ اور شور—سچ کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے۔

ایپسٹین فائلز ہمیں غصہ تو دیتی ہیں، مگر ٹھہراؤ نہیں۔ وہ ہمیں بولنے پر مجبور کرتی ہیں، مگر سوچنے کا وقت کم دیتی ہیں۔ ہم افراد پر چیختے ہیں، مگر  

نظام پر خاموش رہتے ہیں۔

یہاں اصل مزاحمت شور نہیں

بلکہ شعوری فاصلہ ہے۔

اس کا مطلب بے حسی نہیں، بلکہ بیداری ہے۔

یہ سمجھنا کہ ہر لہر میں بہہ جانا طاقت کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ مضبوط بناتا ہے۔ ہر انکشاف پر خود کو جذباتی طور پر نچوڑ لینا—اسی دائرے کو بار بار دہرانا ہے جس میں ہمیں الجھایا جاتا ہے۔

ہمیں دیکھنا سیکھنا ہوگا، مگر اندھا ہو کر نہیں۔

سمجھنا ہوگا، مگر جذباتی یرغمال بن کر نہیں۔

کیونکہ جب توجہ مسلسل غصے، اسکینڈل اور انتشار میں بہتی رہتی ہے، تب کنٹرول نہایت سکون سے اپنا کام کرتا ہے۔ اور جب توجہ پرسکون، مرکوز اور باشعور ہو، تو ہیرا پھیری اپنی طاقت کھو دیتی ہے۔

ایپسٹین فائلز ہمیں صرف یہ نہیں بتاتیں کہ دنیا میں کیا غلط ہو رہا ہے۔ وہ یہ بھی دکھاتی ہیں کہ ہم بطور معاشرہ کیسے ردِعمل دیتے ہیں، کیسے تھکتے ہیں، اور کیسے اصل سوال سے ہٹ جاتے ہیں۔

سچ کا سب سے بڑا دشمن ہمیشہ جھوٹ نہیں ہوتا

اکثر وہ بکھری ہوئی توجہ ہوتی ہے۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہر بڑے انکشاف پر چیخنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سیکھیں کہ کہاں رکنا ہے، کہاں خاموش رہنا ہے، اور کہاں اپنی توجہ بچانی ہے۔

طاقت شور سے نہیں ڈرتی۔

طاقت اس انسان سے گھبراتی ہے جو باخبر بھی ہو، پرسکون بھی—

اور جس کی توجہ اس کے اپنے اختیار میں ہو۔

سچ کا انکشاف ہمیشہ آزادی کی نوید نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ صرف اتنا کرتا ہے کہ ہمیں مصروف رکھے—غصے میں، بحث میں، اور ردِعمل میں۔ اصل خطرہ یہ نہیں کہ ہمیں اندھیرے میں رکھا جائے، اصل خطرہ یہ ہے کہ ہمیں اتنا شور دکھا دیا جائے کہ ہم خاموش فیصلوں کو دیکھ ہی نہ سکیں۔ جو معاشرہ ہر انکشاف پر چونک کر تھک جائے، وہ سوال کرنا آہستہ آہستہ بھول جاتا ہے۔ اور جب توجہ بکھر جائے، تو طاقت کو چھپنے کی ضرورت نہیں رہتی—وہ آرام سے آگے بڑھتی ہے۔

مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں۔ رابطہ ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!