Ad
مضامین

نئی نسل اور ہماری ذمہ داریاں‎

✍️:. حافظ نویدالاسلام


یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں معلومات کی فراوانی ہےمگر حکمت نایاب‘ ترقی کی دوڑ ہے مگر مقصد اوجھل‘ اظہار کی آزادی ہے مگر فکری رہنمائی مفقود۔ اس ہنگامہ خیز ماحول میں جو طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے‘ وہ ہماری نئی نسل ہے۔ایک ایسی نسل جو ذہانت، توانائی اور صلاحیت سے بھرپور ہے لیکن سمت کی تلاش میں بھٹک رہی ہے ‘ تن آسان ہے ‘  اخلاقی اوصاف کی خوشبوؤں سے عاری ہے اور روحانی لذتوں سے ناآشنا ہے۔علامہ اقبال جواں پود کی انہی مایوس کن کوتاہیوں کی نشاندہی بجاطور فرماتے ہیں   ؎

ترے صوفے ہیں افرنگی ‘ترے قالیںہیں ایرانی

لہومجھ کو رُلاتی ہے جوانوںکی تن آسانی

لیکن اُنہیں اسی جواں نسل سے ایک اُمیدفردا بھی وابستہ ہے کہ دلاسہ دیتے ہیں   ؎ 

نہیں ہے نااُمید اقبالؔ اپنی کشت ِویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

نوجوانی میں انسان کی ذہنی صلاحیتیں اور وجدانی کیفیات شباب پر ہوتی ہیں ‘اس لئے یہ مقصدِ زندگی جاننے اور حقائق کی گرہ کشائی کے لئے سوال کرنے کا دور ماناجاتا ہے‘ مگر افسوس آج کے نوجوان سنجیدہ سوالات کر ہی نہیں رہے بلکہ ان سے گریز کر کے وہ ایک ایسی زندگی کی تلاش میں مست ہونا چاہتے ہیں جو انہیں لمحاتی سکون واطمینان کا نشہ عطا کرے۔ چنانچہ سوشل میڈیا کی یلغار، مادی ترقی کی دوڑ، فوری شہرت کے خواب اور مقلدانہ طرزِ زندگی نے نوجوان ذہنوں کو اس قدر منتشر کر دیا ہے کہ عقل وفہم کی گہرائیاں اور اخلاق کی وسعیتں ان میں ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ ہر کوئی کچھ بننا چاہتا ہے مگر کیوں اور کس لئے ‘یہ اہم سوال پس پشت ڈالا جاتاہے ۔ بقول غالبؔ

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

تعلیم: علم یا محض معلومات؟

تعلیم کسی قوم کی فکری وعقلی حوالوں سے ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام زیادہ تر امتحان پاس کرنے اور روزگار پانے تک کی جدوجہد تک محدود ہوچکا ہے۔ کردار، مقصد اور اخلاق جیسے بنیادی عناصر اس نظریہ ٔ  تعلیم میں ثانوی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔ نتیجہ یہ کہ ہم نے ذہین لوگ تو پیدا کئے مگر باشعور انسان کم ہو رہ گئے ہیں۔جب تعلیم وتدریس اخلاقی وذہنی تربیت سے خالی ہو جائے تو وہ زندگی میں رہنمائی کے بجائے فکری ابہامات پیدا کرتی ہے۔

خاندان: پہلی درس گاہ کا کمزور ہوتا کردار

خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا جب گھر بچے کے لئے پہلی درس گاہ اور والدین کردار کے معمار ہوتے۔ آج مصروفیات، معاشی دباؤ اور ڈیجیٹل زندگی نے گھر کے مکالمے اور باہمی روابط کو محدود کردیا ہے یا خاموش کر دیا ہے۔ نوجوان جذباتی طور پر تنہا ہوتےجا رہے ہیں اور یہی تنہائی انہیں غلط سمتوں کی طرف دھکیل دیتی ہے ۔اگر خاندان نے اپنی تربیتی ذمہ داری چھوڑ دی تو نسلوں کی آواز نغمہ نہیں شور بن جائے گی۔

ہر نسل کو باکردار رہنماؤں کی ضرورت ہوتی ہے‘ایسے کردار جو لفظوں سے نہیں اعمال سے سکھائیں مگر آج نوجوان کی نگاہ میں کامیابی کا معیار اکثر دولت، طاقت اور شہرت کے دائروں میں مقید ہے۔ جب سوچ کا معیار منفی انداز اختیار کر جائے تو عظیم اقدار کی جڑیں کھوکھلی یا کمزور پڑ جاتی ہیں۔

آج کی دنیا فوری نتائج کی دنیا ہے‘ نئی نسل بھی عجلت پسندانہ کامیابی چاہتی ہے۔ یہی جلد بازی اسے مایوسی اور یاسیت کا شکار کر دیتی ہے۔ صبر اور استقامت وہ اوصاف ہیں جو انسان کو ٹھہراؤ، حوصلہ اور مستقل مزاجی عطا کرتے ہیں۔ ناکامی اگر سیکھنے کا ذریعہ بن جائے تو وہ ترقی کی سیڑھی بن سکتی ہے۔

رہنمائی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ نوجوان کو صبرو قرار ‘ انتظار اور محنت کی قدر سکھائی جائے۔

احساسِ ذمہ داری اور جواب دہی کو زندگی میں کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ انسانی آزادی اگر ذمہ داری سے خالی ہو تو وہ بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ آج کا نوجوان اپنے حقوق سے باخبر ہے مگر فرائض کے شعور سے وہ غافل ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لے کہ اس کے فیصلے اور اقدامات صرف اس کی ذات کو ہی نہیں بلکہ معاشرےکو بھی متاثر کرتے ہیں تو اس کا رویہ باوقار اور فکر بلند ہو جاتی ہے۔ اسی پہلو کی جانب علامہ اقبال اشارہ دیتے ہیں ؎

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

لہٰذا نئی پود میں احساسِ جواب دہی کو پہلی فرصت میں پیدا کیا جائے اور یہی چیز شخصیت کو نکھارتی اور  مثبت سمت عطا کرتی ہے۔

روحانی خلا اور باطنی بے چینی:

مادی ترقی کے باوجود نوجوان کے دل میں ایک خلا ہے‘ گرچہ وہ سہولتوں اور آسائشوں میں گھرا ہوا ہے، مگر دلی طور مطمئن نہیں۔ یہ خلا نہ دولت سے پُر ہوسکتا ہے نہ شہرت سے بلکہ اس کے لئے واضح مقصد حیات اور رُوحانی بالیدگی درکار ہے جو خدا سے انسان کا ٹوٹا رشتہ پھرسے جوڑنے سے ممکن ہے۔نئی نسل کو نصیحت نہیں‘ مخلص ہمدرد چاہیے‘زبردستی نہیں مکالمہ چاہیے‘تنقید نہیں اعتماد چاہیے۔ سنجیدہ سوال کرنے والا نوجوان بغاوت کا نہیں بلکہ شعور کی علامت کا حامل ہوتا ہے۔ جو سماج نوجوان کی داخلی آواز سن لیتا ہے‘ وہی اپنے مستقبل  کا مستقبل محفوظ کر پاتا ہے۔

نئی نسل ہمارا مستقبل نہیں، ہمارا آئینہ بھی ہے۔ اگر آج ہم نے اس آئینے کو نظر انداز کیا تو کل ہمیں اپنی ہی غلط فکروعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ والدین، اساتذہ، اہل ِ دانش اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس نسل کو صرف اچھے اور عمدہ خواب ہی نہ دیں بلکہ راستہ بھی دکھائیں‘کیونکہ ٹھوس حقیقت یہی ہے کہ نسلیں تقریروں سے نہیں، رہنمائی سے سنورتی ہیں   ؎

اندازِ بیاں گرچہ میرا شوخ نہیں ہے

شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات

hafiznaveedahkhan@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!