مضامین
ایپسٹین فائلز قیامت خیز انکشافات!

7006883587
سفید چہروں میں بولہب ہیں
یہ تن کے اُجلےیہ من کے کالے
بھری ہے ان کی کتاب ِ ہستی
فحاشیت سے یہ ہیں چھنالے
اِ ن دنوں عالمی سطح اگر کوئی چیز زبان زد ِ عام ہے تو وہ ہے تین بلین صفحات پر محیط اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کےامریکی ایجنٹ جیفری اپیسٹین کے گناہوں کا پٹارا موسوم بہ’’ ایپسٹین فائلز‘‘ ۔ ابھی باقیماندہ رپورٹ کا منظرعام پر آنا باقی ہے ۔ لاکھوں صفحات پر پھیلی یہ کالی فائلز ایک جانب مغربی سماج اور سیاست کی خباثتیں ‘ بد نمائیاں اور خرابیاں کھول کھول کر بیان کر رہی ہیں ‘ دوسری جانب اُن لوگوں کو سرعام برہنہ کر رہی ہیں جن کے پاس عالمی سطح پر اقتدار واختیار کی باگیں ہیں ‘ جو سیاسی دبدبہ رکھتے ہیں‘ جن کے یہاں دولت سے بھرے قارون کےخزانے موجود ہیں ‘ جو رات دن حقوق ِ نسواں پر دھواں دار تقریریں کرتے ہیں مگرخود عورت ذات کی توہین کرتے ہیں‘ جواپنے اپنے فیلڈ میں اعلیٰ پایہ ماہرین تصور کئے جاتےہیں‘ جو متاعِ تہذیب کے دعوؤں میں خود کو یکتائے روزگار کہتے تھکتےنہیں مگران لوگوں کی نجی زندگیوں کی اندھیر نگری ‘ ان کے حیوانی شوق اور جنس زدگی کے مشغلے کھنگالئےتو گھن آئے گی۔ افسوس کہ چھوٹے دماغ والے یہ لوگ بڑی اہم کرسیوں اور جلیل القدر منصبوں پر براجمان ہیں۔ایپسٹین فائلز چیخ چیخ کر بتاتی ہیں کہ یہ من کے سیہ کار لوگ شیطان کے پجاری اور کالے جادو کے پرستارہیں ‘ انہیں پیڈو فائل کا نفسیاتی مرض لاحق ہے یعنی نابالغ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے مریض ‘ یہ بددماغ لوگ اخلاقی زوال کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے دنیا میں زن‘زر‘ زمین کے مہلک فتنوں میں ملوث ہیں۔ امریکہ کے ڈپارٹمنٹ آف جسٹس نے ان فائلز کے انبار کو آئینہ بناکر ان لوگوں کی شہوت پرستی کی جو باتصویر گندی کہانیاں سامنے لائی ہیں ‘اس پر عالم ِ انسانیت ا نگشت بدنداں ہے ۔کوئی سلیم الفطرت انسان انہیں دل کی کڑھن اور ضمیر میں تلاطم کے ساتھ پڑھ لے تو صاف محسوس ہوگا کہ دنیا قیامت ِصغریٰ سے گزررہی ہے ۔ اصولی طور یہ رُسواکن فائلز کوئی خدائی الہام نہیں جن کے مندرجات اور دعوؤں پر تحقیق و تفتیش شجر ممنوعہ ہو مگر دیکھنایہ ہے کہ جیفری ایپسٹین نامی دیوث نے جان بُوجھ کر ان لاکھوں خفیہ فائلوں کا ذخیرہ اپنے پاس مع تحریری ثبوت وتصویری شواہد کیوں کیاتھااور ہم ان کی اعتباریت آنکھ بند کرکے جھٹلانہیں سکتے۔ بایں ہمہ ان فائلوں میں کسی بھی معروف شخصیت کا محض تذکرہ یہ معانی نہیں رکھتاکہ وہ بھی جرائم اور گناہوں کے دلدل میں ایپسٹین کا مرید یا مددگار تھا ۔ ان مثلوں میں درج تمام دعوؤں کو کراس چیک کی کسوٹی پر جانچنے کے لئے تحقیق وتفحص کے چراغ جلانا لازم ہوگا ۔
اہم دستاویزوں کا یہ ضخیم ترین دفتر ایپسٹین کے لئے الہٰ دین کے چراغ جیسا تھا۔ جادوئی چراغ کو رگڑ کر وہ اپنےمایا جال میں پھنسے شرق وغرب کے نامور پنچھیوں کو اپنی اُنگلیوں پر نچا تاتھا۔ یہ شخص بہت شاطر اورچالاک تھاکہ اپنے ہر گاہک اور شکار کی کمزوریوں کا مکمل ریکارڈ رکھتا تا کہ بوقت ضرورت انہیں اپنی منشا اور مرضی کے مطابق بلیک میل کرکے بلا چوں چرا صیہونی حکومت کے مقاصد ومفادات کی تکمیل کرواسکے ۔
ایپسٹین امریکہ کے ایک ہائی اسکول میں ریاضی کا معمولی ٹیچر ہونے کے ناطے عام آدمی کی زندگی گزارتاتھا ۔ درس وتدریس کا پیشہ اختیار کر کے وہ اپنی صلاحیتیں تعمیری کام میں کھپا سکتا تھا مگر بہت جلد اپنی بد فطرتی کے ہاتھوں اس نامراد کے سر پر یک بار ڈھیر ساری دولت کمانے کا بھوت سوار ہو ا ‘ ٹیچری کے مقدس پیشے کو خیر باد کہا ‘اب مال ومنال کا حصول اور عیاشیوں میں ڈوب مرنا اس کی طبیعت ِثانی بن گئی۔ مال وزَر کی ہوس نے ہی اسے موساد کی چوکھٹ پر پہنچایا۔ بتایا جاتاہے کہ اس کا باپ بھی موساد کا جاسوس تھا۔ کامیاب جاسوس بننے کے لئے ایپسٹین نے اپنی ابلیسی توجہات سیکس ٹریفکنگ پر مرکوز کردیں اور اُسے دفعتاً سرخاب کے پرلگ گئے۔ آناًفاناً گلیمر ‘اَمارت ‘ دولت ‘ شہرت اور سیاسی اثرورسوخ سے لیس ہوکر اس نےمعصوم وکم فہم بچیوں کی دلالی کا دھندا خوب خوب چلایا ۔اس سےنہ صرف وہ اسرائیلی جاسوسی نظام کا اثاثہ ثابت ہوا بلکہ بہت پیسہ کمایا ‘ جائیدادیں بنائیں‘حکومتی منصب داروں کو اپنے شیشے میں اُتارنے میں کامیاب ہوا اور اپنے پنجۂ استحصال کے چمتکار دکھائے ۔ ظاہرہے کہ فحاشی کا ہائی فائی اڈہ چلانے کے لئے اُس نے اپنی رُوح سے بغاوت کی‘ اخلاقی تنزل سے سمجھوتہ کیا اور ضمیر کی اَن سنی کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ‘ یہ سب کچھ کیا توایپسٹین کی دلالی کو امریکہ کےاندراورباہر چار چاند لگے۔ کہنے کو وہ مذہباً یہودی تھا مگر دین ِموسوی ؑ طہارت ‘ عبادت ‘ انسانیت ‘ پاکیزگی اوراخلا قی سربلندی کا درس دیتاہے‘ اس کے علی الرغم ایپسٹین کا کام صرف سامریت کے پستیٔ کردار سے ہی چلانا ممکن تھا ‘ اس لئے سامری کے قالب میں خود کوڈھال کر اُس نے شہوت پرستی اورہوس رانی کا بچھڑا بنایااور اپنی تجوریاں بھردیں۔ دیوث جیفری ایپسٹین نے سیکس ‘ ہیومن ٹریفکنگ ‘ قحبہ گری ‘ جسم فروشی اور لواطت یعنی ہم جنسی پرستی جیسی غلاظتوں کے مواد پر اپنی بدنام زماں سلطنت اپنے اسرائیلی آقاؤں کے ایما‘ امداد اورحوصلہ افزائیوں سےقائم کر کے رکھ دی‘ یہاں تک اس رسوائے زمانہ دلال نے کئی مربع میل پر مشتمل ایک جزیرہ تک امریکہ میں خرید ڈالا۔ یہیں پر قحبہ خانہ‘ بعل کا بُت خانہ ‘جدید سہولیات والی عیش گاہ اور طرح طرح کی بدمعاشیوں کا اڈہ قائم کرکے ایپسٹین نے اپنی خدائی کا ڈنکا بجاتارہا مگر جب اُ س کی کالی کرتوتوں کی کشتی بھر آئی تو ایک روز کسی امریکی خاتون نے پولیس تھانے میں ایپسٹین کے خلاف اپنی کم سن بیٹی کی عزت ریزی کی شکایت درج کرائی ‘ پولیس نے اپنی کارروائی شروع کی‘ چلتے چلتے یہی پولیس ایکشن عالمی دلال کی لنکا خاکستر کرکےڈبونے پرمنتج ہوئی۔ پولیس تفتیش سے ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کے ایسے ایسے سنسنی خیز سراغ حکام کے ہاتھ لگ گئے کہ سارا اسکنڈل ایک بم دھماکے کی صورت میں طشت ازبام ہواکہ ایپسٹین اپنے جرائم کی پاداش میں ملکی قانون کے ہتھے چڑھ گیا اور جیل پہنچا۔
ایپسٹین اتنا بے غیرت تھا کہ اپنی محبوبہ میکس ویل( جو اِن دنوں گناہوں کے اس دیوتا کی شر یک ِ کار ہونے کی حیثیت سے امریکی جیل میں بیس برس کی مدتِ اسیری کا ٹ رہی ہے) سے مل کر اپنی بدنما کارگزاریوں کاجال امریکہ سمیت یورپ اور دوسرے ملکوں تک پھیلادیا تھا۔ اوردل تھام کر سنئے کہ اس غلیظ جال میں امریکی صدور سے لے کر وہاں کا اشرافیہ‘ نامور صنعت کار‘ ہالی وڈ اداکار ‘ سدا بہارگلوکار‘ مشہور زماں کھلاڑی اور جنسی اباحیت کی مرض میں مبتلا سرمایہ دار جوق درجوق پھنس گئے تھے۔ آج انہی کے بدنما چہرے مذکورہ فائلز کی مددسے ایک ایک کرکے دنیا کے سامنے بے نقاب ہورہے ہیں ۔ فحاشی کے اڈے میں ان لوگوں کی آمد ورفت اور دادِ عیش دینے کا دور تادیر قائم رہا مگر آخرہر ظلم کی ایک حد بھی ہوتی ہے۔آج اس شیطانی نیٹ ورک کا عبرت انگیزانجام دنیا کےسامنے آچکا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ گناہوں اور جرائم کے دلدل میں سرتاپا دھنسے ہوئے قدآورلوگوں کو قانون کوئی قرار واقعی سزابھی دیتا ہے یا رات گئی بات گئی کے مصداق قانون اپنی ذمہ داریوں سے کنی کتراتاہے ۔
بدنام زماں فائلز سے یہ بات بھی اظہرمن الشمس ہوتی ہے کہ جن لوگوں کو بےشرم دلال نے اپنے دام ِ ہمرنگِ زمین میں پھنسایا تھا‘ اُن میں صرف ایک مذہب کےماننے والے یا ایک براعظم کے باشندے گاہکوں میں شامل نہیں تھے بلکہ ہر مذہب‘ ہرزبان ‘ ہر خطے اور ہر رنگ ونسل کے سیاہ باطن مقتدر لوگ اس حمام میں ننگے نظر آتے ہیں ۔ یہ لوگ سب کےسب زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ عالمی شہرت یافتہ شخصیات ہیں۔ان میں کچھ وی آئی پی ہستیاں وہ بھی ہیں جو ایپسٹین کا شرفِ دیدار پانے کے لئے مدتوں ترستے رہے مگر ان کی حسرت پوری نہ ہوئی کیونکہ کم بخت دلال کے پاس فالتو وقت تھا ہی نہیں۔اس صف میں ایک سعودی شہرادہ بھی ہے جس نے بااثر کہلانے والی کسی عزیز ہ الاحمد نامی خاتون کی وساطت سے اپیسٹین کو ایک ایسا گفٹ بھجوادیا جس کی اہمیت اورتقدس کولفظوں میں بیان کرنے سے قلم قاصر ہے۔ بعض بڑےحضرات ایپسٹین سے اپنے حق میں لابنگ اور سفارشیں کرواتے‘ جب کہ کچھ دل جلےسیدھےاس کے ذیلی دلال بن جانا اپنے لئے خوبی ٔ قسمت سمجھتے تھے۔ اپنے کام دھندے کی حرام کمائی سے اس کے وہ بیش قیمت اثاثے اب اس کی ابدی عدم موجودگی میں نشان ِ عبرت بن گئے ہیں ۔ قحبہ خانے اور بدکاری کے مرکز میں ایپسٹین کے پاس پرائیوٹ طیارہ اور کئی مستعد پائلٹ اور تابعِ فرمان عملہ ہمہ وقت حکم کاغلام بنا رہتا۔ا ڈےسے باہر جابجا اُس کی کم بخت دلال ٹیم خاص کرکم سن وکوتاہ فہم نابالغ بچیوں کا شکار کرکے اُ نہیں کوٹھے پر لاتی اور اُن کے داداؤں اور نا ناؤں سے زائد عمر کے بھوکے درندوں کی خلوت گاہوں میں روتے بلکتے چھوڑتی۔ کچی عمر کی کم نصیب بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد وتعذیب پر اُن کی چیخ وپکار سے یہ پتھر دل گدھ اپنی تفریح ِ طبع کا شوق پورا کرتے‘ بعدازاں دلالی ٹیم ان بچیوں کو پیشہ ور چھنال بنا کرچھوڑنے میں اپنا گھناؤنا رول نبھانے میں شریک وسہیم رہتی ۔ بعض انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ فحاشی کے اڈے میں کم عمر بچوں کی بلی بعل دیوتا کے چرنوں میں چڑھائی جاتی تاکہ ان درندوں کو اُس بت کی خوشنودی حاصل ہو۔ قدیم زمانے کے اس بُت کی پوجا کا ذکر سورہ صافات کی آیت ۱۲۵ میں بھی آیاہے۔
وقت کے حکمرانوں تک براہِ راست پہنچ رکھنے والا اسرائیلی جاسوس اور فحاشیت کا بے تاج بادشاہ جیفری ایپسٹین اب اس دنیا میں نہیں‘ چند سال قبل جیل کی چاردیواری میں اُس کی موت پُراسرارحالات میں ہوئی ۔ یہ موت ابھی تک معمہ بنی ہوئی ہے کہ آیا اس بد قماش نے خودکشی کی یا اسے جان بُوجھ کر ہلاک کر دیا گیا تاکہ بڑے بڑوں کے رازوں کا دفینہ دنیا کی نظروں سے ہمیشہ اوجھل رہے مگر شاید قدرت کو یہ منظور تھاکہ ان رازوں کو قبل از قیامت دنیا میں بھی جزوی طور فاش کیا جائے ۔ چناں چہ دنیا چھوڑنے سے پہلے اس نالائق نے اپنی کالی کرتوتُوں کی جو رُودادیں شرح وبسط کے ساتھ اپنے پیچھے چھوڑدی تھیں ‘ آج وہ قسط وار بے نقاب ہوکر ساری دنیا میں تہلکہ مچارہی ہیں۔ واٹرگیٹ اسکنڈل ‘ کلنٹن۔ مونکا لویسنکی معاشقہ اور میمو گیٹ سے ہز ار گنا زیادہ ایپسٹین فائلز نے گویا امریکہ اور یورپ سے لے کر برصغیر تک۱۰ عشاریہ ۱۰ شدت والا گلوبل زلزلہ لایاہے‘ اس کی زد میں آنے والے اونچےاونچے محلات اور بڑے بڑے بُرج زمین بوس نظر آتے ہیں۔ابھی نہ جانے کب تک ناقابل ِ معافی گناہوں میں ملوث سیاسی اور غیر سیاسی ہستیاں لرزہ براندام رہیں گی۔ شرم ناک‘ قیامت خیز اور بھیانک کہانیوں سے عبارت ان کالے صفحات سے خلاصہ ہوتا ہے کہ ہم اور آپ زمین نامی کسی خدائی گلشن میں نہیں جی رہے بلکہ بداخلاقی کے جہنم زار کے دہانے بے اعتبارسانسیں لے رہے ہیں کیونکہ نہ معلوم کرہ ٔارض پر گناہوں اور جرائم کے اور کتنے ایسے انسانیت دشمن اڈے ا س وقت بھی پھل پھول رہے ہوں گے۔ ان دستاویزات میں ناقابل ِ یقین واقعات کی ایک دل دہلانے دینے والی سرگزشت کو کافی تاخیر کے بعد منصۂ شہود پر لانے کا کریڈٹ امریکہ کے محکمہ ٔ انصاف کو جاتا ہے ۔ اخفا ٔ کے لاکھ پردے پھاڑ کر یہ فائیلیں ہم پر منکشف کرتی ہیں کہ دنیا میں جمہوریت‘ خواتین کی عزت و حُرمت ‘ انسانی حقوق کی نگہداری‘ اخلاقی قواعد کی پاسداری اور احترام ِآدمیت بس کاغذی گھوڑے ہیں ‘جب کہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم سبھی پتھر کے زمانے میں جی رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیائے انسانیت پر غالب ومقتدر لوگوں سےکوئی اچھا کام ہوتا ہی نہیں سوائے اس کے کہ یہ لوگ انسانی تہذیب کا قتل اور اخلاقیات کا خون بے مروتی سے کئے جارہے ہیں ‘ ان کی ہوس رانیوں اور شہوت پرستیوں کے سامنے ماں بہن بیٹی جیسے پاک ومقدس رشتوں کا کوئی مطلب نہیں ‘ شرافت و پاک نفسی کاگلستان لتاڑنے سے انہیں دلی سکون ملتا ہے ۔ بظاہر ہم ان بدروحوں کو فیصلہ سازمنصبوں پر براجمان پاتےہیں مگر بباطن یہ کتنے گھٹیا کردار کے مالک ہوتے ہیں ‘ایپسٹین فائلز اس چیز کو من وعن ایکسپوز کرتی ہیں۔ ہماری نظر میں یہ عالمی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے دولت مند رئیس اور سرمایہ دار ہیں مگر یہ ہیں آدم خور جو اپنے بے قابوسفلی جذبات کی تسلی اور بے لگام جنسی خواہشات کی تشفی کے لئے انسانیت کے منہ پر کالک پوتنےمیں کوئی باک محسوس نہیں کرتے ‘ ہم انہیں عالمی معیشت کے ناخداؤں کی حیثیت سے جانتے پہچانتے ہیں جو ہماری دانست میں عالمی معیشت کا قافلہ ا نسانیت کی بھلائی کے لئےدن رات چلاتے ہیں مگر زیربحث فائیلیں انہیں ابلیس کے ہرکارے ثابت کرتی ہیں ‘ ہم انہیں فلمی دنیا سے وابستہ فن اور ثقافت کے دلدادے مانتے ہیں مگر اپیسٹین ان کو بے نقاب کرکے بزبان ِقال بتاتاہے کہ یہ فن کے نام پر گندے انڈے ہیں‘ ہم انہیں مشہور ومعروف گلوکار تسلیم کرکےا ن کی خوش صوتی کے دیوانے بنے پھرتے ہیں مگر سعادت حسن منٹو کےالفاظ میں یہ لوگ’’ ٹھنڈا گوشت‘‘ نوچنے والے چیل کوے ہیں ۔ ایپسٹین فائلز نے ان لوگوں کے اصل رازوں کا بھانڈا سر راہ پھوڑ دیا اور دنیا محو ِ حیرت ہے کہ ہم کس درجہ سادہ لوحی میں اور حماقت میں مبتلا رہے کہ انہیں مسیحا سمجھتے رہے ۔
ذرا ساغور وفکرکریں تو آج ہمیں دو مختلف امریکہ نظر آئیں گے: ایک وہ امریکہ جس کی علمی و سائنسی ترقیوں کی معراج نے عالم ِا نسانیت کے تئیں انمول خدمات انجام دےکر علم وتہذیب کاسفر بامِ عروج تک پہنچایا ‘ دوسرا وہ امریکہ جہاں چنگیزیت کو بھی شرمندہ کرنے والی ایپسٹین جیسی خباثتیں رکھنے والی بدروحیں موجود ہیں ۔ ہم کس امریکہ پرعش عش کریں اور کس پرتُھوتُھو کریں؟ بہرکیف سردست ایپسٹین فائلز کی صورت میں لاکھوں صفحات پر مشتمل شرم ناک ای میلز ‘ مسیجز‘ تصاویر اور ویڈیوز کی شرم ناک جھلکیاں دکھا کر اس فرمودۂ ا قبال پر گویا مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے ؎
اُٹھاکر پھینک دو باہرگلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے