مضامین
جنریشن اے آئی

آج کی نسل کو عام طور پر جین زی کہا جاتا ہے لیکن میں اسے جین زی نہیں کہتا۔ میں اس نسل کو جنریشن اے آئی کہتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کی زندگی کا زیادہ تر دار و مدار اے آئی اور ٹیکنالوجی پر ہو چکا ہے۔ لوگ جاگنے سے لے کر سونے تک موبائل، اسکرین اور مشینوں کے کہنے پر چل رہے ہیں۔ کیا دیکھنا ہے، کیا سننا ہے، کیا پڑھنا ہے اور حتیٰ کہ کیا سوچنا ہے، یہ سب کچھ اب انسان خود کم اور اے آئی زیادہ طے کر رہی ہے۔
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اے آئی یا ٹیکنالوجی بذات خود غلط چیز نہیں ہے۔ اسلام علم، عقل اور آسانی کی تعلیم دیتا ہے۔ نئی چیزوں سے فائدہ اٹھانا منع نہیں ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان سہولت کو عقل کا بدل سمجھنے لگے اور مشین پر اتنا بھروسا کرے کہ خود سوچنا ہی چھوڑ دے۔ جب انسان اپنی سوچ، فیصلے اور ذمہ داری کسی اور کے حوالے کر دے تو وہ آہستہ آہستہ کمزور ہو جاتا ہے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان نسل ہر سوال کا جواب اے آئی سے لینا چاہتی ہے۔ پہلے انسان کتاب کھولتا تھا، استاد سے پوچھتا تھا یا بڑوں سے مشورہ کرتا تھا۔ اب ایک سوال لکھا جاتا ہے اور جواب فوراً سامنے آ جاتا ہے۔ یہ آسانی اپنی جگہ لیکن اس آسانی نے صبر، غور اور سمجھ کو کمزور کر دیا ہے۔ جو چیز محنت سے ملتی ہے وہ دل میں اترتی ہے، اور جو چیز فوراً مل جائے وہ اکثر گہرائی پیدا نہیں کرتی۔
اے آئی کے اس دور میں سچ اور جھوٹ کا فرق بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تصویریں، ویڈیوز اور آوازیں ایسی بنائی جا رہی ہیں جو بالکل اصل جیسی لگتی ہیں۔ عام انسان کے لیے یہ پہچاننا آسان نہیں رہا کہ کون سی بات درست ہے اور کون سی غلط۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت سچائی، دیانت اور خوفِ خدا کی ہے۔ اگر اخلاق کمزور ہوں تو ٹیکنالوجی فائدے کے بجائے نقصان بن جاتی ہے۔
ایک اور خطرہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی حد یاد نہیں رہتی۔ پہلے انسان اپنے علم پر فخر کرتا تھا، اب وہ اپنی ٹیکنالوجی پر غرور کرنے لگا ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ چونکہ اے آئی سب کچھ بتا سکتی ہے اس لیے انسان کو کسی اور رہنمائی کی ضرورت نہیں۔ یہ سوچ بہت خطرناک ہے۔ نہ کوئی مشین انسان کے ضمیر کی جگہ لے سکتی ہے اور نہ کوئی پروگرام اللہ کی ہدایت کا بدل ہو سکتا ہے۔
عبادت اور اخلاق کے معاملے میں بھی توازن ضروری ہے۔ عبادت میں سہولت اچھی ہے لیکن عبادت کا مقصد دل کی اصلاح ہے، صرف عمل کی آسانی نہیں۔ اگر علم اور ٹیکنالوجی انسان کو اللہ سے قریب نہ کریں بلکہ غفلت میں ڈال دیں تو پھر ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
اگر آنے والی نسل نے خود سوچنا چھوڑ دیا، سوال کرنا چھوڑ دیا اور صرف وہی ماننا شروع کر دیا جو اسکرین دکھائے تو یہ ترقی نہیں ہوگی بلکہ خاموش کمزوری ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اے آئی کے ساتھ چلیں لیکن اپنی عقل، ایمان اور انسانیت کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ یہی جنریشن اے آئی کے لیے اصل پیغام ہے۔