مضامین
منتظر مومن وانی: سماجی انحطاط کے عہد میں ایک ذمہ دار آواز

7006259067
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ہمارا سماج اس وقت فکری انتشار، اخلاقی زوال اور سماجی بےحسی کے ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں خاموشی بھی جرم بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں وہ افراد جو محض تماشائی بننے کے بجائے اپنی رائے، اپنے قلم اور اپنی آواز کے ذریعے سماجی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، دراصل اجتماعی ذمہ داری کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ انہی افراد میں ایک نمایاں اور قابلِ توجہ نام منتظر مومن وانی کا ہے۔
منتظر مومن وانی ایک حساس قلمکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باشعور سماجی مبصر بھی ہیں۔ ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ مسائل کو سطحی انداز میں نہیں دیکھتے بلکہ ان کے اسباب، نتائج اور سماجی اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ ان کی تحریروں اور تقاریر میں جذباتیت کم اور استدلال زیادہ ہوتا ہے، جو کسی بھی سنجیدہ صحافت کی بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔
کشمیر جیسے سیاسی، سماجی اور تہذیبی طور پر پیچیدہ خطے میں واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرنا آسان نہیں۔ یہاں اکثر سچ کو مصلحت کے پردے میں لپیٹ دیا جاتا ہے، مگر منتظر مومن وانی نے ہمیشہ غیرمبہم مؤقف کو ترجیح دی۔ وہ سماجی بدعات، اخلاقی تضادات، ریاکاری اور دوہرے معیار کو براہِ راست نشانہ بناتے ہیں، چاہے اس کی قیمت ذاتی تنقید یا مخالفت کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
اگرچہ سوشل میڈیا ایک ایسا مؤثر پلیٹ فارم بن سکتا تھا جہاں سنجیدہ، باشعور اور تعمیری مکالمہ فروغ پاتا، مگر افسوس کہ یہاں اکثریت اُن عناصر کو سراہتی ہے جو مسخرہ پن، سطحی حرکات اور وقتی تفریح کے ذریعے داد سمیٹنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ رجحان محض ذوق کی خرابی نہیں بلکہ ہمارے سماج کی ذہنی ناپختگی، فکری جمود اور شعوری زوال کی واضح علامت ہے۔
ایسے گھٹن زدہ ماحول میں منتظر مومن وانی کا کردار ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ انہوں نے سستی مقبولیت کے اس دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے شعور، سوال اور سچائی کے ساتھ اپنا رشتہ قائم رکھا۔ ان کی تحریر اور گفتار نہ صرف سماجی بندشوں کو توڑتی ہے بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی باشعور ہونا، سچ کہنا اور فکری ذمہ داری نبھانا ممکن ہےبشرطیکہ نیت صاف اور قلم زندہ ہو۔
گزشتہ کچھ عرصے میں انہوں نے سوشل میڈیا کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی مکالمے کا پلیٹ فارم بنایا ہے۔ واٹس ایپ اور فیس بک پر ان کی آواز محض رائے نہیں بلکہ ایک سماجی اپیل ہوتی ہے۔ وہ عوام کو آئینہ دکھاتے ہیں. بلا لگی لپٹی، بلا خوف۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خیالات پر بحث ہوتی ہے، ردِ عمل آتا ہے اور بعض اوقات مخالفت بھی، مگر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اہم بات یہ ہے کہ منتظر مومن وانی کی تنقید ذاتی یا جذباتی نہیں بلکہ اصولی ہوتی ہے۔ وہ فرد سے زیادہ رویے پر سوال اٹھاتے ہیں اور نظام کی خرابی کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہی رویہ انہیں عام سوشل میڈیا مقررین سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کے نزدیک سماج کی اصلاح نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل فکری دباؤ اور سچ کی تکرار سے ممکن ہے۔
آج کے دور میں، جب اظہارِ رائے اکثر سنسنی خیزی اور ذاتی مفاد کا شکار ہو چکا ہے، منتظر مومن وانی جیسے افراد صحافت اور سماجی شعور کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ نہ کسی جماعت کے ترجمان ہیں، نہ کسی نظریاتی خانے میں قید، بلکہ ایک آزاد ذہن کے حامل شہری ہیں جو اپنے سماج کے سامنے جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے افراد کی تعداد کم اور ضرورت زیادہ ہے۔ اگر ہمارا سماج واقعی خود احتسابی کی طرف بڑھنا چاہتا ہے تو اسے ایسی آوازوں کو برداشت کرنا اور سننا سیکھنا ہوگا۔ منتظر مومن وانی کی جدوجہد ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ خاموشی سہولت تو ہو سکتی ہے، مگر حل نہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ منتظر مومن وانی محض ایک قلمکار یا سوشل میڈیا کی آواز نہیں، بلکہ وہ ایک ایسے سماجی رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں جو سوال اٹھانے، سچ بولنے اور اصلاح کا مطالبہ کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ایسے لوگ کسی بھی معاشرے کے لیے سرمایہ ہوتے ہیں. بشرطیکہ انہیں سنا جائے، سمجھا جائے اور برداشت کیا جائے۔