افسانہ
چلہ کلان :.... افسانہ

آفتاب ابھی افق کی اوٹ میں چھپا ہی تھا کہ وادی کی فضا بدلی بدلی سی نظر آنے لگی۔ بوڑھے رحیم چاچا نے اپنی پرانی اونی ٹوپی کانوں تک کھینچی اور آسمان کی سیاہی دیکھ کر بڑبڑائے، "لو بھائی! وہ سائبیریا کا درویشِ مست، لشکرِ برفانی لے کر سرِ کشمیر آ پہنچا۔"
کشمیر کی وادی میں ۲۱ دسمبر کی وہ صبح کسی بادشاہ کی آمد کا اعلان نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے جابر سلطان کا ورود تھا جس کے رعب سے جاندار تو جاندار، بے جان پتھر بھی تھر تھر کانپنے لگتے۔ اس سلطان کا نام ہے "چلہ کلان ہے"۔
گاؤں کے چوپال میں آگ کے الاؤ کے گرد بیٹھے لوگ یوں دبکے بیٹھے تھے جیسے کسی جرم کی پاداش میں قید ہوں۔ چلہ کلان کی شہرت کسی ولیِ کامل کی سی ہے، جو چالیس دن کے لیے چلہ کشی کرنے آتا ہے، مگر اس کی اس چلہ کشی کے دوران سارا کشمیر سراپا توبہ و استغفار بن جاتا۔ کشمیری لوگ بھی اس وقت عجیب کشمکش میں ہیں۔ ایک طرف "شرعی لباس" کی ایسی پابندی کہ سر پر اونی ٹوپی، گلے میں سمور کا گلوبند اور اوپر سے وہ بھاری بھرکم کشمیری فیرن، جس کے نیچے کانگڑیاں ایسےچھپی ہوتی ہیں جیسے کوئی بخیل اپنے سینے سے دولت کا خزانہ لگائے بیٹھا ہو۔اور اسے چور کے چرانے کا کو فیصدی یقین ہو۔
انسان کی کم ہمت دیکھو کہ آنکھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھنے سے کتراتا ہے۔ نگاہ اوپر کیا کی، گویا کسی شاہزادی کے ناحق درشن کئے اور اب تعزیر کو دعوت دے دی۔
آسمان سے وہ سفید گالے گر رہے ہیں جن کے بارے میں اسکول کے ماسٹر جی کہتے تھے کہ ان کے چھ کونے ہوتے ہیں، مگر یہاں کسے فرصت ہے کہ ان گالوں کی ساخت پر غور کرے؟
رحیم چاچا کہتےتھے۔
"میاں! یہ چھ کونے دیکھنے کے لیے ولایت سے کوئی مشین منگواؤ، ہم ٹھٹھرتے ہاتھوں سے کانگڑی سینکیں یا برف کے نقش و نگار ناپیں؟"
بچوں کا حال نرالا ہے۔ جہاں بڑے بوڑھے کھانسی اور دمے کے ہاتھوں "اوپر" جانے کی تیاری میں جاں بہ لب ہوتے، وہاں یہ ننھے منے سنگ تراش برف کے ڈھیروں سے شیر، ہرن اور نہ جانے کون کون سے عجوبے تراش لیتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی سرخ انگلیاں جب برف کو مجسمہ بناتی ہیں، تو لگتا ہے کہ قدرت نے ان گنوار بچوں میں فنِ لطیف کی روح پھونک دی ہے۔
مگر اس چلہ کلان کی بے مروتی تو دیکھو!
نلکے جم کر پتھر ہو گئے، ٹھنڈا پانی پینا کیا ہوا، گویا مریخ پر کمند ڈالنا ہے۔ ناک ہے کہ گنگوتری کے گلیشیر کی طرح بہہ رہی ہے۔ سڑکوں کا حال تو بس اللہ ہی جانتا ہے۔ موٹر کاریں اور لاریاں ہیں کہ اسٹارٹ ہونے کا نام نہیں لیتیں، اور اگر بضد ہو کر چل پڑیں تو ذرا سی بریک پر پہیے آسمان کی طرف یوں رخ کرتے ہیں جیسے کوئی معصوم ملزم اپنی بے گناہی کی دہائی دے رہا ہو۔
سورج میاں کا کچھ مت پوچھو ! گویا ڈیپوٹیشن پر کسی دوسرے ملک چلے گئے ہیں۔ ہر طرف سفیدی کا راج ہے، قدم قدم پر پھسلن ہے، اور زندگی جیسے رک سی گئی ہے۔
لیکن اس تمام مصیبت کے پیچھے ایک امید بھی چھپی ہے۔
رحیم چاچا کہتے تھے کہ یہ پہاڑوں پر جمع ہونے والی برف کوئی آفت نہیں، بلکہ قدرت کا وہ "ریزرو بینک" ہے جو اگلے سال کے رزق اور ہریالی کی ضمانت دیتا ہے۔ چلہ کلان بے شک بے مروت سہی، جابر سہی، مگر اس کی سختی میں ہی وادی کی زندگی کا امرت چھپا ہے۔یہی سوچتے سوچتے سرشار نے اونی چادر اوڑھ کر چالیس ایام کی چلہ کشی کی نیت کی۔
حالسیڈار ویریناگ