Ad
مضامین

حجاب پہن کر ویران کیوں...؟

✍️:. عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری 


9224599910

حجاب پہن کر ویران جگہوں ،گاڑن ،انھیرے ،ریلوے اسٹیشنز ،بس اڈوں پر  مسلم عاشقوں کی جوڑیاں*

حجاب پہن کر ویران....اصل سوال: ذمہ دار کون؟

 سیدھا جواب یہ ہے:

نہ صرف ایک فرد، نہ صرف حجاب، نہ صرف والدین — بلکہ ایک “خراب شدہ اجتماعی نظام”۔ کھلے عام برائی اور برائی روکنے والوں کی کمی ۔

آئیے ذمہ داری کو ایمانداری سے تقسیم کریں:

1️⃣ کیا حجاب ذمہ دار ہے؟

ہرگز نہیں۔

* حجاب لباس ہے، کردار نہیں

* حجاب ظاہر کو ڈھانپتا ہے، باطن کو نہیں ۔

اگر حجاب فحاشی روکتا تو مغرب میں بغیر حجاب بھی اخلاق باقی ہوتا ۔ 

اصل مسئلہ:

> حجاب کو “دینی علامت” بنا دیا گیا،

مگر حیا، تقویٰ، خوفِ خدا، اور اخلاق کی تعلیم نہیں دی گئی۔

حجاب بغیر تربیت = مذہبی میک اپ

2️⃣ کیا اسلام ذمہ دار ہے؟

بالکل نہیں۔

اسلام نے تو:

* نگاہ کی حفاظت فرض کی

* خلوت سے منع کیا

* غیر محرم سے غیر ضروری گفتگو روکی

* دل کے فتنوں سے پہلے راستہ بند کیا 

مسئلہ اسلام میں نہیں

 مسئلہ اسلام سے ناواقف مسلمان لڑکے ،لڑکیوں میں ہے ۔

3️⃣ کیا والدین ذمہ دار ہیں؟

جزوی نہیں، بڑی حد تک ہاں

اکثر والدین:

* نماز تو سکھاتے ہیں، جنس، تعلق، حدود پر خاموش رہتے ہیں ۔ 

* موبائل دے دیتے ہیں، کنٹرول نہیں دیتے

* کہتے ہیں: “بس حجاب کر لو”

* مگر یہ نہیں سکھاتے:

غیر محرم کیا ہے؟

* دوستی اور تعلق کی حد کہاں ختم ہوتی ہے ؟

* دل کیوں بہکتا ہے ؟

 *آج کے والدین کی سب سے بڑی غلطی:اولاد کو “معصوم” سمجھنا ۔ نگرانی سے غفلت ۔

* جبکہ دنیا شکار پر لگی ہوئی ہے۔ (بے شمار واقعات رونما ہورہے ہیں ) والدین کی اس طرف سے غفلت اور یہ سوچنا میری لڑکی/لڑکا ایسا نہیں ۔

4️⃣ کیا تعلیمی ادارے اور اساتذہ؟

* جی ہاں، واضح طور پر۔۔۔۔۔

* مخلوط ماحول

* بے مقصد آزادی

* اخلاقی تربیت صفر

* Relationship کو “نارمل” بنا دینا

*اسکول  کالج ،یونیورسٹی کلچر:*

* تعلیم تو دے رہے ہیں ۔

مگر کردار کی تربیت نہیں ۔ جوڑیاں بن رہی ہیں اور معاشقے بھی ۔

5️⃣ کیا علماء و مذہبی قیادت؟

یہ سب سے نازک مگر اہم نکتہ ہے

بہت سے علماء:

صرف لباس پر بولتے ہیں ۔

نفس، جذبات، سوشل میڈیا، اٹریکشن، نفسیات پر خاموش

نوجوان پوچھتا ہے:

*  دل کیوں بہکتا ہے؟

* محبت کیوں ہوتی ہے؟

* تعلق کی حد کیا ہے؟

اور جواب ملتا ہے:

> “یہ حرام ہے” (بس)

*حرام کہنا کافی نہیں،*

حرام تک پہنچنے کا راستہ بھی بند کرنا سکھانا ہوگا ۔

6️⃣ کیا سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کلچر؟

 سب سے بڑا مجرم

* ریلس، چیٹس، ڈی ایمز

* خفیہ تعلقات

* نارملائزڈ فحاشی

* ایسے کیسیز میں حجاب میں فتنہ — کیونکہ دل عریاں ہے ۔

 * موبائل = نیا شیطان

اگر تربیت نہ ہو

7️⃣ کیا پوری امت؟

ہاں — اجتماعی طور پر

کیونکہ:

* ہم صرف بدنامی پر شور مچاتے ہیں ۔

* اصلاح پر لڑکا /لڑکی ناراض ہوتے ہیں(میرا جسم میری مرضی کی بات کہتے ہیں )

* ویڈیو وائرل ہو تو چیختے ہیں ۔

مگر اسباب ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے

*اصل مسئلہ کیا ہے؟*

> ظاہر پر زور، باطن سے غفلت ۔

* حجاب ہے، مگر حیا نہیں(ایسا لگتا ہے پردہ شناخت چھپانا ہے) بے غیرتی ہے اور کہیں کہیں دیوثیت ۔

نماز ہے ، مگر نگاہ پاک نہیں ۔

اسلامی نام ہے، مگر اسلامی شعور نہیں ۔

 *مسلمان کیا کریں؟ (حل)*

✅ 1. اخلاقی تربیت (Moral Education)

جنس، تعلق، جذبات پر کھلی مگر باوقار گفتگو

“یہ کیوں غلط ہے” سمجھایا جائے

✅ 2. والدین کی تربیت

والدین کو خود سیکھنا ہوگا۔ آنکھیں کھلی رکھنی ہوگی۔

 مہنگےموبائل، مہنگے تحائف ، ریچارج ، دوست ، وقت — سب پر نظر رکھنی ہوگی ۔

✅ 3. نوجوانوں کے لیے الگ تربیتی پروگرام

* Emotional Control

* Attraction Management

* Digital Hygiene

✅ 4. علماء کا اسلوب بدلا جائے ۔

صرف وعظ نہیں

نفسیات + شریعت + جدید فتنوں کی زبان

✅ 5. حجاب کو علامت نہیں، نظام بنائیں

حجاب + حیا + حدود + کردار

* *آخری بات (کڑوی مگر سچی)*

> اگر ہم نے

حجاب کو بچانے کے بجائےنسل کو بچانے پر توجہ نہ دی۔تو حجاب بدنام ہوتا رہے گا ۔اور امت روتی رہے گی ۔

یہ مسئلہ:

 برا بولنے ،گالی دینے ، کوسنے اسکول ،کالج ،ٹیوشن کلاس جانے پر پابندی سے حل نہیں ہوگا۔ویڈیو وائرل کرنے سے نہیں ہوگا۔ ملت کو مہم چلانی ہوگی۔ نگرانی کرنی ہوگی ۔ جاگنا ہوگا ۔ 

والدین خود مشاہدہ کریں ۔گارڈن ، میدان ، ریلوے اسٹیشن کے ویرانوں کا ، رات کے وقت سنسان سڑکوں پر نکل کر دیکھیں ۔ پارک رکشوں ،کاروں  میں کیا ہوریا ہے حجاب میں ۔

آپ کا لڑکا لڑکی نہیں ؟لیکن ملت اسلامیہ کی شرعی حیثیت حجاب پہن کر کیا ہورہا ہے ۔ غور کا مقام ہے ،فکر کی ضرورت ہے ۔ ہر شخص زمہ داری قبول کر ے اور روکنے کی کوشش کرتا رہے ۔

زبان سے ،نصیحت سے ،ڈراوے سے ،اور جہاں با اختیار ہے اپنے اختیار سے۔۔۔۔

*اب پچھتائے کا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت*



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!