افسانہ
دست شفاء. :..... افسانہ

شیرِ کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سرینگر کے سفید ٹھنڈے برآمدوں میں دوائیوں کی بو اور ایک عجیب سی گہماگہمی تھی۔ وارڈ نمبر ٩ میں فتح محمد بستر پر دراز تھے، مگر ان کا جسم ساکن ہونے کے باوجود روح اضطراب کے عالم میں تھی۔ آپریشن میں صرف دو گھنٹے باقی رہ گئے تھے، اور موت و حیات کی کشمکش نے ان کے چہرے پر زردی مل دی تھی۔ خوف جب انسان کے اعصاب پر سوار ہوتا ہے، تو امید کے چراغ ایک ایک کر کے بجھنے لگتے ہیں۔
اچانک دروازہ کھلا اور ایک نرس اندر داخل ہوئی۔ اس کے چہرے پر ایسی روایتی بیزاری نہ تھی جو اکثر ہسپتال کے عملے کا خاصہ ہوتی ہے، بلکہ ایک عجیب سی اپنائیت تھی۔ اس نے فتح محمد کی طرف دیکھنے کے بجائے میز پر رکھے مرجھائے ہوئے گلدستے کی طرف توجہ دی۔ وہ بڑی دلجمعی سے پھولوں کی کانٹ چھانٹ کرنے لگی، گویا اس وقت ہسپتال کا سب سے اہم کام ان پھولوں کی ترتیب اور انھیں درست کرنا ہو۔
کمرے کی خاموشی کو توڑتے ہوئے نرس نے بڑے ہمدردانہ لہجے میں پوچھا، "فتح محمد! یہ تو بتائیے، کہ آپ کا آپریشن کون سا ڈاکٹر کر رہا ہے؟"
فتح محمد نے، جن کی آنکھوں میں ناامیدی کے بادل چھائے تھے، بغیر سر اٹھائے نحیف آواز میں جواب دیا،
بی بی ان کا نام "ڈاکٹر گورو"ہے۔
یہ نام سنتے ہی نرس کے ہاتھ رک گئے۔
اس نے حیرت سے مڑ کر فتح محمد کی طرف دیکھا، جیسے اسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا ہو۔
"کیا کہا آپ نے؟ ڈاکٹر گورو!
"کیا واقعی ڈاکٹر گورو نے آپ کا آپریشن کرنا قبول کر لیا ہے؟"
فتح محمد کے ماتھے پر سلوٹیں ابھریں۔ نرس کی حیرت نے ان کے اندر کے خوف کو تھوڑی دیر کے لیے تجسس میں بدل دیا۔
"جی ہاں، وہی کر رہے ہیں۔ مگر اس میں ایسی کیا بات ہے؟" فتح محمد نے پوچھا۔
نرس نے پھولوں کو چھوڑا اور بیڈ کے قریب آ کر بڑے جوش سے بولی، "آپ کو شاید اندازہ نہیں ہے!
ڈاکٹر گورو کا ہاتھ تو جیسے شفا کا خزانہ ہے۔ انہوں نے اب تک ہزاروں آپریشن کیے ہیں اور خدا کی قدرت دیکھیے کہ آج تک ایک بھی آپریشن ناکام نہیں ہوا۔ وہ اتنے مصروف رہتے ہیں کہ بڑے بڑے امیر،وزیر اور سرمایہ دار ان کا وقت حاصل کرنے کے لیے مہینوں انتظار کرتے ہیں۔ میں تو اس لیے دنگ ہوں کہ آپ کو اتنی جلدی ان کا وقت مل کیسے گیا!"
فتح محمد کے مرجھائے ہوئے چہرے پر اچانک ایک رونق سی آ گئی۔ وہ جو اب تک خود کو بے بس اور لاچار سمجھ رہے تھے، اب خود کو خوش قسمت محسوس کرنے لگے۔ ایک اطمینان بھری مسکراہٹ ان کے لبوں پر پھیل گئی۔ بولے، "بس بی بی، یہ اللہ کا کرم ہے کہ مجھے ان کا سہارا مل گیا۔"
نرس نے جاتے جاتے ایک بار پھر مڑ کر دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا، "یقین جانیے، آپ بہت خوش نصیب ہیں۔ دنیا کا بہترین مسیحا آپ کا آپریشن کرے گا۔"
جب فتح محمد کو آپریشن تھیٹر لے جایا گیا، تو وہ ڈرے ہوئے مریض نہیں تھے، بلکہ ایک فاتح کی طرح مطمئن اور پرسکون تھے۔ ان کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ شکست کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آپریشن کامیاب رہا اور چند ہی دنوں میں فتح محمد ہنستے کھیلتے اپنے گھر روانہ ہو گئے۔
فتح محمد کا آپریشن کسی اور ڈاکٹر نے کیا تھا مگر اسے ہمت دینے کیلئے نرس نے ڈاکٹر گورو کا نام لیا تھا۔
حالسیڈار ویریناگ
7006146071