Ad
مضامین

ایک نقطہ ذرا ہٹ کے

✍🏼 اِکز اِقبال / سہی پورا قاضی آباد 


رابطہ: 7006857283

حال ہی میں نئی دہلی میں ایک مناظرہ ہوا

موضوع تھا: “کیا خدا کا وجود ہے؟”

فریق تھے: مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر۔

دلائل نئے نہیں تھے، اعتراضات بھی صدیوں پرانے، مگر اس کے باوجود یہ گفتگو اس لیے اہم بن گئی کہ آج کے زمانے میں اختلاف کے ساتھ بات ہونا خود ایک خبر بن چکا ہے۔

 سوال کرنا خود ایک ایونٹ بن چکا ہے۔

یوٹیوب پر لاکھوں ویوز، ، سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی اور ہر شخص خود کو منصف سمجھنے لگا۔

جاوید اختر اپنے مخصوص اعتماد کے ساتھ گفتگو میں شریک ہوئے۔ وہ بولتے رہے، سوال اٹھاتے رہے، اور کہیں کہیں جذبات بھی غالب آئے۔ شاید یہ سوچ کر کہ جس طرح وہ پہلے کئی روحانی دعویداروں کو لاجواب کر چکے ہیں، یہ مکالمہ بھی واک اوور ہوگا۔

مگر مناظرہ عام گفتگو نہیں ہوتا۔

یہاں جیت سچ کی نہیں، دلیل کی رفتار کی ہوتی ہے۔

مفتی شمائل نے بھی وہی کلاسیکل دلیل پیش کی جو سینٹ تھامس ایکوائنس کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ چاہے وہ کلاسیکی فلسفہ ہو، علم الکلام کی روایت ہو یا جدید اعتراضات۔ مگر ان کی گفتگو میں مطالعہ تھا، تسلسل تھا، اور یہ بات محسوس کی جا سکتی تھی کہ انہوں نے اس موضوع پر سنجیدگی سے کام کیا ہے۔  چاہیے اُن کے تمام دلائل مان لینے پر ہر شخص آمادہ نہ ہو۔

ایسا ممکن ہے کہ خدا کے وجود پر دی جانے والی کلاسیکی توضیحات آج کے ذہن کے تمام سوالات کا جواب نہیں بن سکتیں۔ لیکن محنت، سنجیدگی اور شائستگی کی اپنی جگہ ایک قدر ہیں—اور اس مناظرے میں وہ واضح طور پر موجود تھیں۔

یہ مناظرہ کسی ایک کے جیتنے یا ہارنے کا فیصلہ نہیں تھا۔

یہ دراصل ہمیں یہ دکھا گیا کہ اختلاف کے باوجود بدتمیزی کے بغیر بات کی جا سکتی ہے۔ نہ گالی دی گئی، نہ نیت پر حملہ ہوا، نہ عقیدے کو ہتھیار بنایا گیا۔

یہی اس گفتگو کی اصل کامیابی ہے۔ اصل کامیابی اس مناظرے کی یہ نہیں کہ کون جیتا، بلکہ یہ ہے کہ بات شائستگی سے ہوئی۔

اصل سوال یہ نہیں کہ خدا ہے یا نہیں— یہ سوال صدیوں سے زیرِ بحث ہے اور صدیوں بعد بھی رہے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے کیسے بات کرتے ہیں؟

کیا ہم اختلاف کو دشمنی میں بدل دیں گے؟

یا مان لیں گے کہ کچھ سوالات کا جواب دلیل سے نہیں، تجربے سے ملتا ہے؟

بات یہ ہے کہ اگر ایسی گفتگو شائستگی سے نئی دہلی میں ہو سکتی ہے تو کیا ہم کشمیر میں يا دنیا کے کسی بھی کونے میں اختلاف کے ساتھ، وقار کے ساتھ، انسان بن کر بات نہیں کر سکتے؟

شاید ہمیں خدا کو ثابت کرنے سے پہلے

انسان ہونا ثابت کرنا چاہیے۔

مضمون نگار مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔ رابطہ کے لیے ایمیل: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!