Ad
افسانہ

برتھ ڈے کیک... افسانہ

✍️:. عبدالرشید سرشار 



       جہانگیر بیکری کے مالک، حمید کی دکان ویریناگ کے ایک خاموش گوشے میں واقع ہے۔ یہ کوئی عالیشان عمارت نہیں ہے، نہ ہی یہاں قصبہ کے رؤساء کا ہجوم رہتا ہے۔

 بس ایک چھوٹا سا کاروبار ہے جو حمید کے گھر کا چولہا گرم رکھنے کے لیے کافی ہے۔ مگر اس چھوٹی سی دکان کی چاردیواری میں ایک ایسا دل دھڑکتا ہے جو دنیا کی بڑی بڑی منڈیوں سے زیادہ قیمتی ہے۔

​پچھلے منگل کی شام، آسمان بوجھل تھا اور بارش کے قطرے سڑک پر ناچ رہے تھے۔ اسی بھیگی ہوئی شام میں ایک عورت اپنی بیٹی کے ساتھ دکان کے اندر داخل ہوئی۔ اس کے سادہ کپڑے اور پھٹے ہوئے ہونٹ غربت کی وہ کہانی سنا رہے تھے جو لفظوں کی محتاج نہ تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ میں ایک پرانا پرس اس قدر سختی سے دبا رکھا تھا کہ انگلیوں کے نشانات پرس پر ثبت ہو چکے تھے،گویا وہ اس پرس کو نہیں، اپنی آخری امید کو تھامے ہوئے تھی۔

​اس کے ساتھ ایک چھ سال کی بچی تھی، جس کی آنکھیں شیشے کے شوکیس میں سجے رنگین کیکوں کو دیکھ کر یوں چمک رہی تھیں جیسے اندھیرے میں جگنو۔ عورت کافی دیر تک خاموش کھڑی شوکیس کو دیکھتی رہی، جیسے اپنی جیب اور بچی کی خواہش کے درمیان کوئی پل تلاش کر رہی ہو۔

​آخرکار، اس نے تھرتھراتی انگلی سے ایک چھوٹے سے، سادہ "ونیلا کپ کیک" کی طرف اشارہ کیا اور دھیمی آواز میں بولی: "بس یہی ایک، میاں!"

​بچی کا جی للچا رہا تھا، اس کے ہاتھ پاؤں بڑے کیکوں کی طرف لپک رہے تھے، مگر ماں نے اسے مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ عورت نے کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا: "کیا... کیا اس پر ایک چھوٹی سی موم بتی لگا دیں گے؟

 آج میری بیٹی کی چھٹی سالگرہ ہے۔"

​حمید نے اس عورت کے جوتوں کی طرف دیکھا جو کیچڑ اور پانی سے تر تھے۔ اس کی آنکھوں کی سرخی بتا رہی تھی کہ یہ ماں کئی راتوں سے جاگی ہے، شاید یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ اسے بجلی بل بھرنا ہے یا بیٹی کی مسکراہٹ خریدنی ہے۔

​حمید کے اندر کا انسان تڑپ اٹھا، مگر وہ اس کی خودداری کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی آواز میں مصنوعی پریشانی بھر کر بولا:

​"اوہ بی بی! آپ نے بڑی دیر کر دی۔ کیا آپ نے یہ چاکلیٹ کیک دیکھا ہے؟

 یہ آٹھ انچ کا یونیکورن والا؟

 میرے نئے کاریگر نے اسے بالکل خراب کر دیا ہے۔ دیکھیے، اس کی آئسنگ ذرا ناہموار ہے۔ اب یہ میرے کسی کام کا نہیں، میں اسے کچرے میں پھینکنے ہی والا تھا۔ کیا آپ مجھ پر احسان کریں گی؟

 اسے لے جائیے تاکہ میں کیک ضائع کرنے کے گناہ سے بچ سکوں۔"

​عورت کی نظریں اس چاکلیٹ کیک پر جم گئیں۔ آئسنگ بالکل بے عیب تھی، وہ یونیکورن خوابوں کی طرح خوبصورت تھا۔ وہ سمجھ گئی کہ یہ جھوٹ نہیں، بلکہ ایک سفید پوش کی دوسرے کے سامنے پردہ داری ہے۔

​اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر کروسان کی ٹرے پر گرے۔

 "کیا آپ سچ کہہ رہے ہیں؟" اس نے کانپتی آواز میں پوچھا۔

​حمید  نے مسکرا کر کہا: "بالکل! بلکہ میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے میرا بوجھ ہلکا کر دیا۔"

​وہ عورت  دوہزار   کا وہ کیک سینے سے لگا کر بارش میں باہر نکلی تو اس کے قدموں میں ایک عزم تھا۔ وہ اسے کیک نہیں، اپنی بیٹی کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی تعبیر سمجھ کر لے جا رہی تھی۔

​اگلی صبح، حمید کو اپنی دکان کے دروازے کے نیچے ایک کاغذ کا ٹکڑا ملا۔ اس پر ایک چھ سالہ بچی نے موم بتی والے رنگوں سے ایک مسکراتا ہوا یونیکورن بنایا تھا اور نیچے ٹیڑھے میڑھے لفظوں میں لکھا تھا:

​"میری ممی کو خوش کرنے کے لیے شکریہ۔"

​حمید نے اس کاغذ کو چوما اور اسے اپنی دکان کے سیف میں رکھ لیا۔ اس دن اسے معلوم ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی کمائی روپوں میں نہیں، بلکہ کسی کی آنکھوں سے پونچھے گئے آنسوؤں میں ہوتی ہے۔

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!