مضامین
کیا خدا موجود ہے؟ کامیاب مناظرہ یادگارمباحثہ

7006883587
ہفتہ عشرہ قبل دلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں معروف نغمہ نگار ‘ کہانی کار‘ دنیا ئے اُردو کے ممتاز ادیب وشاعر جناب جاوید اختر صاحب اور عالمی شہرت یافتہ دینی ادارہ ندوۃ العلما لکھنو سے اسلامیات میں فارغ التحصیل جواں سال پی ایچ ڈی اسکالر مفتی شمائل ندوی صاحب کے درمیان خدا کے اثبات اور انکار کے حوالے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ طویل ایک دلچسپ مباحثہ اورمناظرہ ہوا۔ ا پنی نوعیت کےاس اہم تاریخی مباحثے میں الحاد ودہریت کے دفاع میں جاویدصاحب کی عمومی گفتگو اور وجودِ خداوند کے اثبات میں منطقی دلائل اور علم وآگہی پر مبنی شمائل ندوی صاحب کے نطق وکلام علمی ومذہبی حلقوں میں تہلکہ پیدا ہوا۔ مذہب وفلسفہ کے میدان سے وابستہ مختلف دانش ور ‘ اسکالر‘ علما اور عام لوگ اس ڈبیٹ پر برابر اپنے تبصرے اور تجزیئےجا ری رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ مناظرہ اسلام بمقابلہ الحاد نہ تھا بلکہ پوری بحث و جدال کا مرکزی نکتہ یہ سوال تھا کہ آیا وجودِ باری کوئی اٹل‘ ٹھوس اور ناقابلِ تردید حقیقت رکھتا ہے جیسا کہ خدا پرستوں کا عقیدہ ہے‘یا خدا کا تصور محض ایک واہمہ‘ انسانی ذہن کا خود ساختہ ڈھکوسلہ اور قدیم زمانوں سے مروج مذہبی عقائد وافکارکاایک فرضی کردار ہے۔ اول الذکر طبقہ مختلف مذاہب کے پیروکار مانے جاتے ہیں ‘ موخرالذکر ملحد ‘ دہری ‘ تشکیک وانکار کےقائل منکرین ِخدا کہلاتے ہیں ۔ مفتی شمائل صاحب مناظرے میں خدا پرست طبقۂ خیال کی نمائندگی رہے تھے ‘ جاوید اختر صاحب ملحدین اور تشکیک ودہریت کے قائل آزاد خیال لوگوں کی ترجمانی کررہے تھے۔ مباحثے کا عنوان تھا ’’کیا خدا کاوجود ہے؟‘‘۔
انسان ہمیشہ اس پیچ در پیچ سوال کے ہمالیائی پہاڑ سے اپنا سر ٹکراتا رہاہے کہ آیا اس کے اوپر خدا نامی کسی سُپر باس کی آقائیت وحاکمیت کا سکہ چلتا ہے‘ جو اس کا اصل خالق ومالک ہے یا انسان محض ایک مادی وجود ہے ‘ جس کا کوئی غیر مرئی آقا ومولا نہیں ‘ اسے ایک دن فنائیت کے گھاٹ اُتر کر دھول مٹی ہو نا ہے‘ مرنے کے بعد اس کاکوئی نیا جنم نہیں ہونے والا‘ ابن آدم دنیا میں ایک حیوان ِ ناطق اور شُتربے مہار کی طرح جینے کے لئے آیا ہے ‘ جب کہ خود عالم ہست وبُود کا وجود اتفاقاتِ دہر کا مرہون ِ منت ہے ۔ اس مخمصے پر ا کبرؔ الہ آبادی کاایک شعر عرض ہے ؎
فلسفی کو بحث کےا ندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھارہا ہے سر املتا نہیں
کیا خدا موجود ہے ؟حساسیت بھرا یہ سوال ہر زمانے میں خدا کا وجود ماننے والوں اور انکار کرنے والے دہریوں سے پوچھا گیا اور آگے بھی پوچھا جائےگا۔ اگر آج علم وبصیرت کے اس دور میں یہ گتھی نما پہیلی مذہبی اورغیر مذہبی حلقوں میں تجسس وتفحص کی آنچ بڑھا نے کا سبب بنا ہواہے تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ تاریخ شاہد عادل ہے کہ انسانی ذہن اور فلسفہ اس سوال کا مسکت جواب پانے میں آج تک عاجز وناکام رہاہے ‘ سائنس کھوج کرید کے پر لگاکر بھی جب سوال کا حتمی جواب پانے سے انسان خالی ہاتھ رہا تو بجائےاس کے کہ عقل وفہم کی نارسائی کا اعلان ہوتا ‘ عقل پرستوں نے سائنس کو خدا ئی منصب پر بٹھاکر انسان کو ایک انتہا سے دوسری انتہا تک پہنچا دیا۔یہاں مجھے حدیث رسول ﷺ کا مفہوم یاد آرہاہے کہ مومن کو اللہ کی ذات پر نہیں بلکہ اس کی مخلوق (صفات‘ احسانات اورآیات یعنی نشانیوں) پر غور وتدبر کرنا چاہیے۔ واضح ہوا کہ اللہ کی ذات اتنی لامحدود ہے کہ انسانی ذہن وفہم کی محدود یتیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ اس بناپر اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں غور و فکر کرنے کے برعکس اپنےایمان باللہ سے وسوسوں سے بچنے کا حکم دیا گیاہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کی ذات میں غور و فکر نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں غور وفکر کرو۔“سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ حتیٰ کہ سوال کرنے لگتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا ؟ لہٰذا جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا چاہیے اور اس شیطانی خیال کو ترک کر دینا چاہیے۔“سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺْ نے فرمایا:’’لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے بے فائدہ اور (فضول) سوال کرتے رہیں گے‘ یہاں تک کہ یہ سوال بھی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ جس شخص کے دل میں اس قسم کے خیالات پیدا ہوں تو وہ کہے: میں اللہ پر ایمان لایا ہوں۔‘‘( مسلم )۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر ہم خود کو خدا ماننے والے کہتے ہیں تو ہمیں ہر حال میں خداکی ماننی چاہیے لیکن ہمارا حال اس کے بالکل اُلٹ ہے کہ مذہبیت کا لبادہ اوڑھے ہم خودخدائی احکامات کی مٹی پلید کرتے رہتے ہیں اور نفس کی خدائی میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے۔ علی الخصوص جب لوگ مذہب کے پیروکاروں اور اخلاقیات کے دعویداروں میں قول اور فعل کا کھلا تضاد دیکھتے ہیں تو اُن کا وجودِ باری پر اعتماد ویقین متزلزل نہ ہوگا تو اور کیا ہوگا؟ اُن کا دہریت اور تشکیک کےاندھیرے میں بھٹک جانے کی حقیقی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایمان کے دعویدار اپنے کردار کی شمعیں بجھا چکے ہوتے ہیں ۔
آج جب دلی میں ایک ملحد اور ایک مومن وجود ِ خداوند کے تعلق سے ازمنہ ٔ قدیم سے پوچھے جارہے اسی سوال کے اوپر مغز ماریاں کر رہے ہیں ، تو اُن کے مباحثےکا ماحصل شاید یہ ہوگا کہ خدا کا وجود تسلیم کرنے والے شمائل ندوی صاحب کی تعریفیں اور واہ واہی کریں گے اور الحاد پرست لوگ جاوید صاحب کو سر آنکھوں پربٹھا ئیں گے ‘ لیکن بات اس سے آگے جانی چاہیے کہ اگر ہم حق کو بصدق دل تسلیم کرکے خدا کی بندگی کریں اور بندگان ِ خداوند کے لئے ہر لحاظ سے مفید و مددگار بنیں تو الحاد کا اندھیرا خود بخود کافور ہوگا۔ بہرصورت دلی میں منعقدہ اس بحث وتمحیص کا محرک یہ قصہ بنا کہ ماہِ اگست۲۰۲۵ میں مغربی بنگال کی اُردو اکادمی نے کولکتہ میں اپنے سالانہ ادبی میلے بعنوان ’’اُردو اِن ہندی سنیما‘‘ کا اعلان کیا ۔ اس خالصتاًادبی ایونٹ میں جاوید اختر کو مہمان ِ خصوصی کے طور مدعو کیا گیا تھا۔ اُن کے نام کا اعلان ہوتے ہی جمعیت علما ئے ہند( ویسٹ بنگال یونٹ) اور واحیین نامی ایک مسلم اُنجمن کے سربراہ مفتی شمائل ندوی صاحب نے ادبی پروگرام کی شدید مخالفت کی کیونکہ بقول اُن کے جاوید صاحب علانیہ ملحد ہیں ‘ باری تعالیٰ اور مذہب کے بارے میں گستاخانہ تبصرے اور اشتعال انگیز و متنازعہ باتیں کرتے رہتے ہیں۔گو اُردو اکادمی کے منتظمین نے جاوید صاحب کی مجوزہ ادبی محفل میں موجودگی پر پیشگی اعتراضات اور تنقیدوں کے پیش نظر پروگرام کو سرے سے منسوخ کردیا مگر مفتی صاحب نے۲۹؍اگست کو جاوید صاحب کو پیش کش کی کہ اگر آپ چاہیں تو خدا کے وجود کے اثبات پر میں آپ کے ساتھ عوامی سطح پر ایک علمی اور منطقی ڈبیٹ میں شریک ہونے کو تیار ہوں ۔ جاویدصاحب نے جواباً مفتی شمائل صاحب کے ساتھ مجوزہ تبادلۂ خیال کے ضمن میں اپنی بعض شرائط رکھیں ‘جنہیں من وعن مانا گیا۔ یوں مناظرہ باضابطہ طور طے ہوا۔ اس بابت دونوں جانب سےسوشل میڈیا کے استعمال کے علاوہ وحیین سے مراسلت ومکالمت بھی ہوتی رہی۔ جاوید اختر صاحب نے مفتی شمائل کے مناظرے میں شرکت کی حامی بھرکر لوگوں کو بے قرار رکھا چلودیکھتے ہیں کہ مناظرے میں کونسا فریق جیت جاتاہے اور کون ہارجاتا ہے۔ ۲۰؍دسمبر کو مناظرہ پورے مسلمہ آداب وضوابط کی پابندی کے ساتھ منعقد ہوا ۔ چارہ ماہ تک اس پروگرام کو وسیع پیمانے پر تشہیر ملنے سے اس کے تئیں شرقاًوغرباً متعلقین میں غیر معمولی دلچسپی پہلے سے ہی بہت بڑ ھ گئی تھی۔ مقررہ تاریخ پر علمی مناظرہ ہوا تو ممالک اور مذاہب کی سرحدیں پھلانک کر اسے لاکھوں کروڑوں ناظرین نے لائیودیکھا ۔ سچ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے اس ڈبیٹ کو عملاً عالمی شو میں بدل دیا ۔ برصغیر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس صحت مند اور آزادنہ تبادلہ ٔ خیال سے یہ خیال تقویت پاگیا کہ اختلافی مسائل پر گفت وشنید کرنا کوئی شجر ممنوعہ نہیں ۔
مناظرے کے بارے میں شاید وباید جاوید صاحب سمیت اُن کے ہم خیال عام ناظرین اس مغالطے میں رہے ہوں کہ مدرسوں سے فارغ مولویانہ وضع قطع رکھنے والے نوجوان دنیا ومافہیا سے اکثر وبیش تر لاعلم ہوتے ہیں ‘ نیز تہذیب ِ نوی میں مذہب کی دُرگت ہونےسے یہ ’’مولوی لوگ‘‘ زیادہ تر احساسِ کمتری کے شکار ہوتے ہیں ‘ انہیں دورکعت کا امام بن کر عمر بھر بے عزتیاں اور محرومیاں سہنے کی عادت پڑتی ہے‘درس ِ نظامی کے حدود وقیود سے باہر آکر انہیں کبھی جدید علوم وآگہی کی ہوا بھی نہیں لگی ہوتی ہے‘ اس لئے جاوید صاحب جیسی بڑی ادبی وعلمی شخصیت سے مرعوب ہوکر شمائل صاحب چند ہی منٹوں کی گفتگو میں چاروں شانے چت ہوں گے‘ مدلل ومفصل علمی دلائل کا جواب دینے سے قاصرر ہیں گے‘ جاویدصاحب کےبراہین ِقاطع سے پنڈ چھڑانے کے لئے اُلٹے پاؤں مباحثہ سے بھاگ کھڑےہوں گے‘ سائنس اور فلسفے کی موٹی موٹی اصطلاحوں کے سامنے گنگ ہوکر بحث لپیٹنے میں اپنی عافیت سمجھیں گے‘ شمائل جی جیسے لوگ اللہ کو قادرِ مطلق ماننے کے باوجود غزہ کے مظلوم بچوں کے دفاع اللہ کی مداخلت نہ کرنے کی ملحدانہ پھبتی کے سامنے ہتھیار ڈال کر اللہ کی ذات سے برگشتہ ہوجائیں گے لیکن مناظرے میں جب خلافِ توقع مفتی شمائل صاحب اپنے حریف جاوید صاحب کے لئے ٹیڑھی کھیر ثابت ہوئے اور جب اُن کی لاجواب علمی استعداد‘ مدبرانہ طریقِ بحث ‘ بے پناہ قوت ِاستدلا ل‘ دانش ورانہ سطح کے علم الکلام اور علت ومعلول کے منطقی نکات کے سامنے معروف سخن ور صاحب لاجواب ہوئے‘ تو اُن کے لئےآئیں بائیں شائیں کرنے کے علاوہ اورکوئی کام نہ رہا ۔ البتہ غزہ کے جذباتی موضوع پر بولتے ہوئے اُن کی آواز ازراہ ِ انسانیت بھر آئی ۔
مباحثے کاقابل ِ ذکر پہلو یہ رہا کہ دونوں اصحاب نے خدا کے وجود اور عدم وجود یعنی ایمان باللہ اور انکارِ خدا جیسے حساس عنوان پر اپنے اپنے افکار ونظریات اور نقطہ ٔ نظر کے دائرے میں گرماگرم بحث وتکرار تو کی‘ مگر پہلے سے طے شدہ فارمیٹ سے طرفین میں سے کسی نے سرمو انحراف نہ کیا‘ نہ دلائل اورجوابی دلائل میں کسی تلخ کلامی ‘ جھنجلاہٹ ‘ بے جا ضد اور ہٹ دھرمی کا کوئی معاملہ پیش آیا۔ بحث کے دوران کسی بھی فریق نے اپنے حریف کو پچھاڑنے کے لئے کوئی بازاری پن ا ختیار نہ کیا‘ مناظرے میں مذہبی کتب کے حوالوں سے بھی شعوری طور پرہیز کیا گیا ‘ سارا سلسلۂ کلام شائستگی ‘ تہذیب ‘ فلسفیا نہ تاویلات‘ منطقی تشریحات ‘ سائنسی اکتشافات تک محدود رہا ۔جاوید صاحب غزہ میں خون کے آنسو رُلادینے والی خونین سرگزشت کا ذکر چھیڑ کر اس بات چیت کو زمینی حقائق سے اور زیادہ مربوط کیا ۔ان سارے خصوصی کوائف نے مباحثے کو تاریخ کےصفحات میں ایک یادگار سنجیدہ گفتگو کے طور درج کرڈالا ہے۔ مباحثے سے بین السطور یہ بھی مترشح ہوا کہ بھارت میں جمہوری اقدار ‘ آزادیٔ اظہار ‘ جرأت ِکلام‘ اختلافی امور میں مکالمہ آرائی کا کلچر آج بھی محفوظ ومامون ہے ۔ یہاں آپ اپنی بات اور اپنا نقطہ ٔ نظر بیان کر نے میں اگر سنجیدگی‘ متانت ‘ علمی دیانت ‘ حق بیانی ‘ سکھ شانتی کا دامن پکڑے رہتے ہیں تو آپ کے تائید کنندہ گان ہی نہیں بلکہ آپ کے مخالفین بھی آپ کی بات آرام سے سن سکتے ہیں، آپ کی آرا سے اتفاق یا اختلاف کا حق آزادانہ طور استعمال کر سکتے ہیں ‘آپ کواپنانقطہ ٔ نظر منوانے میں دلیل ومنطق کی زبان میں بات کرنے کا فن آتا ہو تو کوئی آپ کو نکار نہیں سکتا لیکن اگر آپ اس فن میں کچے ہوں یا آدھے ادھورے ہوں تو آپ کی بات چاہے ناقابل ِ تردید ہو حقائق کی نیو پر اُستوار ہو ‘ کوئی آپ سے متفق نہیں ہوسکتا ۔ بڑی ناسپاسی ہوگی اگر اس تاریخ ساز علمی محفل کے انعقاد میں للن ٹاپ کے معروف ومقبول اینکر سروبھ دویدی کی کمال کی غیر جانب داری اور صحافیانہ دیانت داری کی دل کھول کرسراہنا نہ کی جائے ۔انہوں نے اس پروگرام کی وساطت سے پھرایک باراپنی غیر جانب داری اور عمدہ پیشہ ورانہ صلاحیت کی جو گہری چھاپ چھوڑ دی‘ وہ مدتوں صحافت کے حوالے سے قابل تقلید مثال کے طور قائم ر ہے گی۔ آخر پر جاویداخترصاحب کی غزل کے چند اشعار جو آج خود اُنہیں نئی زندگی کی خوش خبری دینے ‘ تازہ دم سوچ کے پیام بر بن کر اُن کے فکر وشعور کو نئی جہت عطاکرنے او ر تمام ناظرین کے لئے پیغام ِ زیست دیتے محسوس ہورہے ہیں ؎
جوبات کہتے ڈرتے ہیں سب ‘تو و ہ بات لکھ
اتنی اندھیری تھی نہ کبھی پہلے‘رات لکھ
جن سے قصیدے لکھے تھے و ہ پھینک دے قلم
پھرخون ِ دل سے سچے قلم کی صفات لکھ
جوروزناموں میں کہیں پاتی نہیں جگہ
جوروز ہرجگہ کی ہے ‘ وہ وارادت لکھ
جو واقعات ہوچکے‘ اُن کا تو ذکر ہے
لیکن جو ہونے چاہیں وہ واقعات لکھ