Ad
افسانہ

شناخت کی دیوار :.. افسانہ

✍️:. عبدالرشید سرشار 


​شہر کی تپتی ہوئی دوپہر میں شائستہ کے چہرے پر تھکن کے ساتھ ساتھ ایک امید کی چمک تھی۔ معتبر ترین ادارے میں ایم بی بی ایس میں داخلہ ملنا اس کے خوابوں کی تعبیر تھی۔ اب بس  رہائش کی تلاش تھی جہاں وہ سکون سے اپنی پڑھائی جاری رکھ سکے۔

​وہ ایک کثیر المنزلہ عمارت کے سامنے رکی،

"مارس گیسٹ ہاؤس"

جہاں "کمرہ کرائے کے لیے خالی ہے" کا بورڈ لگا تھا۔ مکان مالک، ایک عمر رسیدہ،دوتی کرتے میں ملبوس شخص جنہیں سب 'انکل' کہہ کر پکار رہے تھے، برآمدے میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔اس کے سامنے تپائی پر  کانچ کا جگ ،دو چھوٹے چھوٹے گلاس،ایک موٹی سی نوٹ بک اور ہینگروں کے ساتھ لٹکی ہوئی بڑی چابیوں کے گچھے تھے۔چار پانچ پلاسٹک کی کرسیاں بھی بے ترتیبی کے ساتھ بکھری پڑی تھیں۔

​"گڈ مارننگ انکل!" شائستہ نے مسکرا کر سلام کیا۔

بوڑھے شخص نے عینک کے اوپر سے دیکھا اور جواب دیا، 

"گڈ مارننگ بیٹا! کہیے، کیسے آنا ہوا؟"

انکل نے ایک کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے کو کہا۔

​"انکل، مجھے ایک کمرہ چاہیے تھا۔"

انکل نے اخبار تہہ کر کے ایک طرف رکھا اور پیشہ ورانہ لہجے میں پوچھا،

 "آپ کو کس قسم کا کمرہ چاہیے؟"

​شائستہ نے اپنی ضرورت بتائی، 

"سنگل بیڈ، چھوٹا سا کچن، اٹیچ باتھ روم اور ہوا خوری کے لیے ایک ٹیرس ہو تو بہت اچھا ہوگا۔"

​انکل اسے کمرے دکھانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

 "بیٹا، پہلی منزلوں کے کمرے مہنگے ہیں، دس ہزار روپیہ ماہانہ کرایہ۔

 اوپر والی منزلوں کا کرایہ آٹھ ہزار ہے۔

 سہولیات سب موجود ہیں؛ چوبیس گھنٹے بجلی، وائی فائی اور اے سی۔ مگر بجلی کا بل الگ بھرنا ہوگا۔"

​شائستہ نے اوپر کی منزل کا ایک کمرہ دیکھا۔ روشن، ہوا دار اور پرسکون۔ اسے وہ جگہ فوراً پسند آگئی۔

 "انکل، یہ سیٹ بہترین ہے۔ میں اسے فائنل کرنا چاہتی ہوں۔"

​"ٹھیک ہے بیٹا،" انکل نے خوش دلی سے کہا،

 "پچاس ہزار ایڈوانس دینا ہوگا اور آپ کی آئی ڈی درکار ہوگی۔ ویسے آپ کرتی کیا ہیں؟"

​"میں ۔۔۔ میں ایم بی بی ایس کر رہی ہوں،" شائستہ نے فخر سے بتایا۔

انکل کے چہرے پر ستائش کے تاثرات ابھرے۔ "بہت خوب! ڈاکٹر بنو گی۔ 

نظم و ضبط کی پابند تو ہو گی ہی۔

 تمہارا نام کیا ہے بیٹا؟"

​"میرا نام شائستہ ہے۔"

انکل کے ماتھے پر اچانک ایک سلوٹ ابھری۔

 "اوہ، محمڈن ہو؟"

​شائستہ ایک پل کے لیے ٹھٹھک گئی، اسے لگا شاید اس نے غلط سنا ہے۔ 

"جی انکل؟ میں سمجھی نہیں۔۔۔"

"میرا مطلب ہے، تمہارا مذہب کیا ہے؟"

 انکل کا لہجہ اب پہلے جیسا نرم نہیں رہا تھا۔

​"انکل، میں مسلم ہوں،" شائستہ نے دھیمے لیکن پر اعتماد لہجہ میں جواب دیا۔

انکل کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل گئے۔ ایک لمحہ پہلے کی اپنائیت اجنبیت میں بدل گئی۔ 

"اوہ! تمہیں کمرہ نہیں ملے گا۔"

​شائستہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ 

"لیکن کیوں انکل؟

 ابھی تو آپ کمرہ دینے پر راضی تھے، سب طے پا گیا تھا۔

 میں ایک طالبہ ہوں، میرا ریکارڈ صاف ہے۔"

​انکل نے ایک گہرا سانس لیا اور دوسرا سوال داغا، "تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟"

"انکل، میں کشمیر سے ہوں۔"

​یہ سنتے ہی بوڑھے شخص کے چہرے پر نفرت اور خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ "اوہ نو! میڈم، آپ کو کمرہ ہرگز نہیں ملے گا۔"

​شائستہ کے چہرے پر حیرانگی نے ڈیرہ ڈال دیا۔

 "مگر انکل، میرا قصور کیا ہے؟ 

میں یہاں پڑھنے آئی ہوں، انسانیت کی خدمت کرنے آئی ہوں۔"

​انکل نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے درشت لہجے میں کہا، 

"کیونکہ تم لوگ دیش دروہی ہو۔ ہم تم پر اعتبار نہیں کر سکتے۔"

​شائستہ خاموش ہو گئی۔ اسے لگا جیسے اس کی برسوں کی محنت، اس کی ڈاکٹر بننے کی خواہش اور اس کی انسانیت، سب اس کی "شناخت" کے سامنے ڈھیر ہو گئے ہیں۔ وہ سیڑھیاں اترنے لگی،

ایک ایک زینہ سے  اسے حیوانیت کی بو آنے لگی۔

 ایک اہم سوال اس کے ذہن میں بار بار گونج رہا تھا کہ

 دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی،اور ہم ابھی بھی ذات،مذہب،رسم و رواج  اور رنگ و نسل کی پرچھائیوں کے ساتھ ہی زندہ رہنا چاہتے ہیں ۔

​نیچے سڑک پر میٹرو سٹی کی ٹریفک کا شور تھا، مگر شائستہ کے اندر ایک سسکتی ہوئی مایوسی نے ہلچل مچائی تھی۔ 

حالسیڈار ویریناگ

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!