مضامین
۲۰۲۶ سے سالِ نو تو بھی گزرجائے گا برسوں کی طرح

7006883587
سال۲۰۲۶ خوش آمدید!
ناچیز اپنے دل کی باتیں رقم کرکے دست بدعا ہے کہ آپ دنیا کے بشمول جموں کشمیر کے لئے ایک نعمت ِ مترقبہ ثابت ہو ں۔ سچ میں آپ نے اپنی آمد سے ہمارے دیواری کلینڈر ہی بدل نہ دئے بلکہ ہماری جیبی ڈائریاں بدل بھی دیں‘ زندگی کی ضخیم یاداشت میں آپ نے صرف چار روز قبل اپنے اوراق قلم بند کرنے کا آغاز کیاہوا ہے۔ شایدایسا کرکے آپ جھوٹی توقعات کی نئی بُنت سے زندگی کا تسلسل بنائے رکھنا چاہتے ہیں ‘ ٹوٹی اُمیدوں کے اُڑتے پرندوں کو نئے گھونسلے بنانے کا شوق دلارہے ہیں‘ بجھے بجھے خوابوں کو نئے چراغ جلانے کا حوصلہ دے رہے ہیں‘ نئے ارادوں کا تازہ گوشوارہ دل کے تہ خانوں کو سونپ رہے ہیں ۔ ہماری زندگی میں جس طرح سال ۲۰۲۵ نے پیش رو برسوں کی تقلید میں فرضی بہشت کے دروازے اور خیالی جنت کی کھڑکیاں کھول دی تھیں ‘ کیا آپ وہی کام اب تازہ دم عزم وارادہ کے ساتھ بھی شروع کیا ہوا ہے ؟ یہ آپ کا رسمی فریضہ بھی ہے اور حیاتِ ارضی کی ایک ناگزیر ضرورت بھی ہے‘ ہوگا کیا وہ اس دنیا ئے بسیط کا خالق ومالک جانے ۔ یہ لکھے بغیر نہیں رہا جاتا کہ آپ کے بار ےمیں ہمارے دل کی پکار یہی ہے ؎
سالِ نو تُو بھی گزرجائے گا برسوں کی طرح
وقت کی کھیتی میں کٹ جائے گا سرسوں کی طرح
زندگی ورقوں میں قیدی زخم ہوگی صبح وشام
آج کل پرسوں کہانی آہ درسُوں کی طرح
سال رواں! ذرا یاد کر جب سابقہ سال یعنی ۲۰۲۵ نے عصری تاریخ کے دروازے پر دستک د ی تو دنیا نے جشن منایا‘ پٹاخوں کے شور وغوغا میں ’’ہپی نیو ائر‘‘ کے نغمے گائے ‘ ہنگامہ برپا کیا ‘ نئے سال کے مبارک بادی کارڈوں‘ تحفےتحائف بھیج کر اور دعوتوں کے اہتمام سے بہت اُ چھلی کودی ‘ ناچا نچایا۔ مجموعی طور دنیا کوتاثر ملا گویا دنیا سال ۲۰۲۴ کی حسرتوں اور محرومیوں سے چھٹکارا پاکر اب خوشیوں اور مسرتوں میں جھوم کر ۲۰۲۵ میں تین سو پانسٹھ عیدیں منائے گی‘ دُکھوں کامدوا ہوگا ‘ غموں سے نجات ملے گی ‘ خواب تشنہ ٔ تعبیر ہوں گے‘ آسمان سے ہُن برسے گا ‘ زمین سونا اُگلے گی‘ یوں اہل ِ جشن نے شرق وغرب میں بانہیں کھول کر سال ۲۰۲۵ کا استقبال کیا ۔ لوگ خود کو طفل تسلی دینے لگے تھےکہ بہت ہوگیا ‘ اب انسانیت آب و تاب کے ساتھ چمکے گی‘ سُکھ شانتی کے بھجن ہوں گے ‘ اطمینان کی شہنائیاں گونج اُٹھیں گی‘ عالمی ضمیر جاگ اُٹھے گا ‘ ہر جگہ نفرت کے بازار میں محبت کی دوکانیں نمودار ہوں گی ‘ تعصب جنگ بغض عداوت اور حسد کی آتش ِ نمردو سر د ہوگی‘ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ عالمی بدامنی پر کاغذی واویلا کرنے کے بجائے امن ِعالم کا خواب حقیقت میں بدلنے میں ہمہ تن مصروف ہوگا‘ عالمی طاقتوں کی دھماچوکڑیاں قصۂ پارینہ ہوں گی‘ نیا ورلڈ آرڈر اُخوت ومحبت پر اور جیو اور جینے دو کی نغمہ خوانیوں پر اُستوار ہوگا‘ کمزور اور بے نواقوموں کی تقدیریں بدل جائیں گی‘ عالم انسانیت کے ہرےزخم بھر آئیں گے‘ صبح ِ نو کی اذانِ جابجا بلند ہوگی ‘ امن اور بھائی چارے کے مصلے پر نمازِ شوق ادا کرنے والے دنیا کی امامت کریں گے‘ عالمی چارٹر اور قوانین ِجہاں بانی کا احترام ہوگا ‘ قوموں کا سکون لوٹ آئے گا ‘ ملک در ملک امن کی بانسریاں بجیں گی‘ انسانیت کا باغ لہلائے گا ‘ بڑی طاقتوں کی لوٹ پاٹ کی آدم خور پلاننگ اور ننگ ِ انسانیت پالسیوں کی جگہ مساوات پر مبنی اقتصادی ترقیوں کے منصوبے ترتیب پائیں گے‘ بھوک بیماری ناخواندگی اور محرومیوں سے نڈھال قوموں کو خوش حالیاں لوٹائی جائیں گی ‘غزہ اور یوکرین میں امن و آشتی کے گیت گنگنا ئے جائیں گے‘ تیسری دنیا میں تعمیروترقی کی نئی اُمیدوں کی کونپلیں پھو ٹیں گی‘ کمزور معیشتوں میں مثبت توقعات کی حنابندی شروع ہوگی‘ امن شانتی کےدن پھریں گے‘ دوستیوں کے ہاتھ دشمنیاں مات کھائیں گی ‘ رُوٹھے ہوئےبھائی گلے ملیں گے ‘ تلخیاں کافور ہوں گی‘ گلے شکوے دُورہوں گے‘ ملکوں کے بیچ سرحدوں اور دیواروں کی تقسیم ہیچ ثابت ہوں گی اور قوموں کے مابین تناؤ اور تفرقے ختم ہوں گے اور لوگ چُومکھی ترقی کے اتحادی بنیں گی۔۔۔ مگرواحسرتا! بقول میر دردؔ ع
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ‘جو سنا افسانہ تھا
ان خوابوں کی تکمیل کے لئے غزہ اور یوکرین دو اہم کیس اسٹیڈیاں تھیں مگر جب لوگوں نے دیکھا کہ سال بھر غزہ فلسطین میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں طفل وجواں اور خواتین کی مسلسل نسل کشی جاری رہی تو اُن کی ساری خوش فہمیاں ہوا میں یکسر تحلیل ہوگئیں‘ وہاں تو انسانیت کو شرمسار کر نے والی بھوک کو متواتر جنگی ہتھیار کے طور استعمال کر کے اسرائیل نے وہ ظلم وتشدد روا رکھا کہ قلم اس کا تذکرہ کرتے ہوئے تھراتاہے۔ علاج و معالجے سے منسلک تمام مراکز کی اینٹ سے اینٹ بجا کروہاں زخمیوں اور مریضوں کو دست ِ مرگ کے رحم وکرم پر دانستہ طورچھوڑ ا گیا ‘ اور حالت بہ ایں جا رسید کہ جاوید اختر جیسی اونچی ادبی ہستی نےاس گھمبیر اور ناقابل ِبرداشت صورت حال کو اپنے ایک حالیہ مناظرے میں جذباتی انداز میں بیان کرکے اسے اپنی الحادی فکر کے جواز میں مثالاً پیش کیا۔ خدا خدا کرکے ٹرمپ کی پیشوائی میں ایک آدھا ادھوراجنگ بندی معاہدہ طے پایا مگر اب تک دوڈھائی ماہ سے آئی ڈی ایف مسلسل معاہدۂ امن کی دھجیاں اُڑا کر غزہ واسیوں کو تہ تیغ کئے جارہی ہے ‘ اورتل ابیب کو دنیا میں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں کہ معاہدہ شکنی ہی کرنی تھی تو سئیز فائر کا مذاق کیوں کیا؟ یہی حال یوکرین کے محاذِ جنگ پر قدرے کم شدت کے ساتھ رُوس کی جانب سے جاری ہے۔ اگرچہ امریکہ نے یوکرین اورروس کو جنگ بندی پر راضی کرنے کے لئے اپنی نیم دلانہ کوششیں ۲۰۲۵ میں کیں مگر حاصل ندارد۔ اس لئے عالمی سطح پر سال ۲۰۲۵ کے تئیں عام خام لوگوں میں جو خوش گمانیاں اور خوش اُمیدیاں تھیں‘ اُنہیں جھٹکوں پر جھٹکے لگے‘ حتیٰ کہ ایران کے خلاف اسرائیلی امریکی یلغار وں نے دنیا میں خوف وخطر کے سیاہ بادل آسمانِ رقابت پرمتواتر جمائے رکھے اور جنگ وجدل کے دل دہلانےو الےسماں سےکرہ ٔارض ایک نہایت ہی پُرخطر جہنم زار کا مہیب منظر پیش کرتارہا۔ سال ۲۰۲۵ نے برصغیر ہندوپاک کو بھی ہلاکت آفرین جنگ کے دہانے پرلا کھڑاکیا مگر خدا خدا کرکے دونیوکلیائی ہمسائیوں میں کی چارروزہ جنگ رُک گئی۔ انڈیا نے ’’آپریشن سندور‘‘ لانچ کرکے پار والوں کے دانت کھٹے کئے مگر یہاں جموں اور کشمیر کے کئی سرحدی علاقوں میں عام لوگوں کواس کشت وخون کی بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ کشمیر کواسی جنگ کے پس منظر میں پہلے ایک ایساداغِ نہاں لگا جس کی بدنمائی سے جھوج کر اہل کشمیر کو برس ہا برس خاص کر سیاحوں کو بھروسہ دلانے میں لگ جائیں گے کہ کشمیر کابچہ بچہ دہشت گردوں کی ہر جگر سوز کارروائی پر انہیں دُھتکارتاہے‘ ہم خون ِ ناحق کے شدید مخالف ہیں ‘اس لئے نہیں کہ ہم سیاحت کی صنعت کو بچانا چاہتے ہیں بلکہ ہماری امن پسندی ‘ انسان دوستی ‘کشادہ دلی اور مہمان نوازی پر کوئی آنچ آئے‘ یہ ہم کبھی گوارا نہیں کرسکتے ۔ہم یقینی طور چاہتے ہیں کہ اپنے انسان دوست و غیر متعصب سماج کے اوپر ناکردہ گناہوں کے داغ دھبے کی صفائی ہو تاکہ ہماری شناخت انسانی برادری میں مسخ ہوکر نہ رہ جائے۔ یہ داغ ہم کشمیریوں پر بائسرن پہلگام میں ہوئے درد انگیز دہشت گردانہ المیے کی صورت میں ہمارے اپنےگھر کے بھیدیوں نے اسی سال کشمیر پر لگا یا۔ پہلگام کی اس حسین وجمیل وادی میں ایک غریب مگر خوددار کشمیری گھوڑے سیدعادل شاہ نے اگرچہ اس نازک گھڑی میں جرأت مندانہ‘ بہادرانہ اور انسان دوستانہ دفاعی اقدام کرکے کشمیریوں کی آبرو بچائی مگر اس عظیم نوجوان سمیت جوپچیس سیاح دہشت گردوں نے اپنے بے رحم گولیوں سے بھون ڈالے‘ اُن پر کشمیر کا بچہ بچہ ہمیشہ چشم گریاں قلب گریاں رہے گا۔ پہلگام محض ایک سفاکانہ قتل ِعام ہی نہیں تھا بلکہ یہ ایک ناقابلِ مندمل زخم بھی ہے جس نے کشمیر کی رُوح کو پامال کیا ‘ کشمیریت کے وقار کو مجروح کیا‘ انسانیت کا گلا گھونٹ دیا ‘ لیکن اس سلسلے میں سلور لائننگ یہ ہے کہ اس جگرپاش المیے نے پہلی بار کشمیریوں کو دہشت گردی کے خلاف اکھٹ کرکے جنونیوں کے خلاف اپنا صدائے احتجاج بلند کرنے اور گن کلچر کو کھلے عام تھوکنےکا حوصلہ بھی دیا ۔ افسوس کہ ابھی یہ زخم ہر اہی تھا کہ سال۲۰۲۵ میں ہی لال قلعے کے بالکل متصل ایک مصروف بازا ر میں ایک خودکش دھماکے نے کشمیر کو ایک اور داغِ نہاں سے بڑا دھچکا دیا ۔اس سلسلے میں جو تہلکہ آمیز تفصیلات میڈیا اور تفتیش کاروں کی وساطت سے دنیا کے سامنے اب تک آئی ہیں‘ ان سے باور ہوتا ہے کہ اس خون خوارانہ المیے میں کشمیر کے کئی ڈاکٹر ملوث رہے ۔ دھماکے میں اُن کے بدنامِ زماں رول نے کشمیر کے اجتماعی ضمیر کو بھی جھنجوڑکے رکھا اور حیران وپریشاں بھی کر دیا کہ آخرکشمیر کے تشخص اور امن وامان کو داؤ پر لگانے والے اندھ کاری جنونیوں کو اپنے لئے جہنم کمانا تھا سو کمایا مگر عام کشمیر یوں کو انہوں دیا کیا ‘ خواہ مخواہ ان کو دنیا کی نگاہوں مشکوک الحال اور انسان دشمن بناکے پیش کر دیا۔ ذرا سوچئے بیرونِ کشمیر جو اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اعلیٰ درجہ کی عمدہ خدمات مختلف اہم شعبوں میں سر انجام دے رہے ہیں ‘ یا جو طلبہ وطالبات مختلف اداروں میں دوسری ریاستوں میں زیر تعلیم وتربیت ہیں ‘یاجومحنت کش اپنے کاروبار یا محنت مزدوری کے لئے ملک کی دیگر ریاستوں کارُخ کر کے اپنا آذوقہ کماتے ہیں‘ یا کوئی مریض باہرعلاج ومعالجہ کے لئےاور کوئی کشمیری سیر سپاٹےکے لئے جائے تو اُس کے لئے طرح طرح کی مشکلات اور خطرات کھڑی ہوناکوئی حیرت کی بات نہیں رہی ۔اس سال جموں کشمیر کی سٹیٹ ہُڈ کی واپسی کا سوال بدستور ایک سیاسی چیستاں بنارہا۔ اس ضمن میں بشمول ریزرویشن پالیسی کے حکمران نیشنل کانفرنس کو درونِ خانہ ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ صاحب کی شدیدتنقیدوں کا سامنا ہے ۔ سال بھر مہنگائی شیطان کی آنت کی طرح بڑھتی رہی اور بے ورزگاری اب شاید جموں کشمیر کو ہمیشہ ہمیش کے لئے گلے لگا چکی ہے۔
سالِ رواں! ہم نے سال ِ رفتہ کی یہ رُوداد مختصراً آپ کواس غرض سے سنائی تا کہ آپ دنیا بھر میں اپنے بارے میں عام لوگوں کی بڑی بڑی توقعات سے ہی با خبر نہ ہوں بلکہ باشندگانِ جموں کشمیر بھی اگلے بارہ مہینوں یاترپن ہفتوں کے دورانیے میں آپ کےمسلسل اور بے تکان سفر سے کافی اچھی اور مثبت اُمیدیں رکھتے ہیں کہ ہمارے ہر دردکا درماں ہوگا‘ ہمارے سیاسی ومعاشرتی تشخص کی بازیابی ہوگی ‘ ہمارے مبنی بر حق مطالبات کی شنوائی ہوگی ‘ ہمارے جنیون خوابوں کی تعبیریں ڈھونڈی جائیں گی‘ ہمارے یہاں بے روزگاری کے جان لیوا مسئلے کا حل فوری طور نکالا جائےگا‘ مہنگائی کےدندناتے عفریتوں نے جس وسیع پیمانے پر اہل ِ وطن کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے ‘اس کی کوئی موثر روک تھام ہوگی ‘ اس کے بین بین سماج میں اخلاقی بے راہ روی‘ زوال وپستی ‘ فضولیات بدعات رسوماتِ بد اور منشیات جیسے موذی امراض کا موثر سدباب بھی ہوگا لیکن اسی اثنا میں لاطینی امریکہ وینزولا میں سال کے پہلے ہفتے کے تیسرے دن طاقت اور فوجی بر تری کے بل پر امریکہ نے وہاں کے صدر اور اُن کی اہلیہ کو چشم زدن میں ایوان ِصدارت سے’’گرفتار‘‘ ( اغوا کہنا صحیح ہوگا) کروا کے ملک سے باہر امریکہ منتقل کیا ہے‘ تو اے سال ِ نو! اس منحوس واقعے سے آپ کو آنے والے دنوں کے حوالے سے کیا نوشہ ٔ دیوار نظر آرہا ہے؟ شاید یہ کہ جنگ کے عادی سپر پاور نے نیا محاذِ جنگ کھولنے کی بسمہ اللہ کرکے اپنا شو قِ حرب ہی پورا نہیں کیا ہے‘ بلکہ اس سے لگتاہے کہ سال ِ نو میں بھی دنیا میں جنگل کاقانون ‘ جبر وقہر کا راج ‘ فوجی کارروائیوں کا دور دورہ اور کُشت وخون جاری رہے گا۔ اس لئے سال ۲۰۲۶ تجھ سے ہم کیا اُمید ِفردا رکھیں سوائےا س کے کہ دعاؤں سے بارگاہِ ایزدی سے التجا کریں کہ عالمی امن کو درہم برہم کرنےو الے تمام یزیدی قوتیں ناکام ونامراد ہوں اور پوری دنیا میں امن وآشتی کا پھریرا لہرائے ؎
جنگ زدہ دنیا تمہاری خیر ہو
امن کی خواہش کہیں نہ ڈھیر ہو