Ad
مضامین

غنڈہ گردی کا نیا عالمی نظام

✍🏼:. اِکز اِقبال / سہی پورا قاضی آباد کشمیر


رابطہ: 7006857283

کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے ہم کسی مہذب دنیا میں نہیں بلکہ ایک ایسے جنگل میں رہ رہے ہیں جہاں قانون کتابوں میں، انصاف تقاریر میں، اور انسانیت صرف نعروں میں زندہ ہے۔ عملی دنیا میں جو کچھ دکھائی دیتا ہے، وہ طاقت کی وہ عریاں صورت ہے جو نہ دلیل سنتی ہے، نہ اخلاق مانتی ہے، اور نہ ہی کسی عالمی منشور سے شرماتی ہے۔ بس ایک اصول ہے: جس کے پاس طاقت ہے، وہی حق پر ہے۔

 آج کی دنیا میں انصاف مانگنا ایسا ہی ہے جیسے کسی مسلح غنڈے سے اخلاقیات کی اپیل کی جائے — وہ مسکرا کر ہتھیار سیدھا کر لیتا ہے۔

ہمیں ہمیشہ یہ بتایا گیا کہ ریاست شہریوں کے تحفظ کے لیے ہوتی ہے، حکومتیں عوام کی خدمت کے لیے بنتی ہیں، اور عالمی ادارے کمزوروں کی آواز بننے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ یہ تمام تصورات کسی پرانی نصابی کتاب کے باب بن کر رہ گئے ہیں، جنہیں پڑھا تو جاتا ہے، مگر زندگی میں کہیں لاگو نہیں کیا جاتا۔

دنیا آہستہ آہستہ اصولوں، قوانین اور اخلاقیات کے ہاتھ سے نکل کر غنڈوں کے قبضے میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ طاقتور ممالک اور حکومتوں میں بیٹھے لوگ اب خود کو قانون کا پابند نہیں بلکہ قانون کا مالک سمجھنے لگے ہیں۔ انصاف دینا ان کا منصب تھا، مگر وہ بندوق، پابندیوں، دھمکیوں اور جبر کے ذریعے فیصلے صادر کر رہے ہیں۔

حکومتیں جو لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے وجود میں آتی ہیں، وہی خوف کی علامت بن چکی ہیں۔ انصاف عدالتوں میں نہیں، طاقت کے ایوانوں میں تولے جانے لگے ہیں۔ اور جب ریاست خود غنڈا گردی پر اتر آئے تو پھر شہری کہاں فریاد لے کر جائیں؟

یہاں طنز یہ ہے کہ اسی خاموش شہری کو بعد میں بتایا جاتا ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے، ریاست کمزور ہو رہی ہے، اور قوم کو قربانی دینی ہوگی۔ قربانی ہمیشہ عوام دیتی ہے، مگر فائدہ ہمیشہ طاقتور سمیٹ لیتے ہیں۔

دنیا کے نقشے پر اگر نگاہ دوڑائی جائے تو ہر چند میل بعد ایک نیا المیہ منتظر کھڑا نظر آتا ہے۔ کہیں حکومتیں اپنے ہی شہریوں پر بندوق اٹھائے کھڑی ہیں، کہیں عالمی طاقتیں کمزور ممالک کو تجربہ گاہ سمجھ کر آزما رہی ہیں۔ کہیں معیشت کے نام پر پابندیاں ہیں، کہیں امن کے نام پر بمباری، اور کہیں جمہوریت کے نام پر منتخب آوازوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔

عجیب منطق ہے اس دور کا: طاقتور اگر حملہ کرے تو دفاع کہلاتا ہے، کمزور اگر بچاؤ کرے تو جرم بن جاتا ہے۔ طاقتور اگر قانون توڑے تو اسے حکمتِ عملی کہا جاتا ہے، اور کمزور اگر سوال اٹھائے تو اسے انتشار قرار دیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی قوانین آج کسی بوڑھے استاد کی مانند ہو چکے ہیں، جن کی عزت تو سب کرتے ہیں، مگر بات کوئی نہیں سنتا۔ اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں لمبی تقاریر ہوتی ہیں، قراردادیں پاس ہوتی ہیں، مذمتی بیانات آتے ہیں، اور پھر… سب کچھ ویسا ہی چلتا رہتا ہے جیسے پہلے چل رہا تھا۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ مظلوموں کی فہرست لمبی ہو جاتی ہے اور خبروں کی سرخی بدل جاتی ہے۔

ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ظلم کو بھی مارکیٹنگ کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر جارحیت کے لیے ایک خوبصورت اصطلاح تراشی جاتی ہے، ہر قتل کے لیے ایک “جواز”، اور ہر بربادی کے لیے ایک “اعلیٰ مقصد” گھڑ لیا جاتا ہے۔ سچ کو اتنی مہارت سے لپیٹا جاتا ہے کہ وہ خود بھی پہچان میں نہیں آتا۔

اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ افسوسناک کردار عام انسان کا ہے۔ وہ انسان جو ٹیکس دیتا ہے، قانون مانتا ہے، قطار میں کھڑا ہوتا ہے، اور پھر بھی انصاف کے لیے در در بھٹکتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ صبر کرو، نظام بہتر ہو جائے گا۔ وہ صبر کرتا ہے، نظام بدتر ہو جاتا ہے۔ پھر اسے کہا جاتا ہے کہ خاموش رہو، ملک کی خاطر۔ وہ خاموش رہتا ہے، اور ملک چند ہاتھوں میں سمٹ جاتا ہے۔

میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے برسوں ایک سادہ آدمی عدالت کے چکر کاٹتا رہتا ہے، اس امید پر کہ ایک دن قانون جاگے گا۔ مگر قانون جاگتا ہے تو اکثر طاقتور کے دروازے پر۔ کمزور کے لیے قانون بھی تھکا ہوا ہوتا ہے، فائلوں میں دب کر، تاریخوں میں الجھ کر۔

موجودہ دور میں محض دولت کسی قوم کی بقا کی ضامن نہیں رہی۔ آج کی دنیا میں اصل ضمانت مضبوط دفاع ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کمزور دفاع رکھنے والے ممالک، خواہ وہ کتنے ہی معاشی وسائل کے مالک کیوں نہ ہوں، عالمی طاقتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ جدید دنیا میں طاقت کا توازن ہتھیاروں، ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور دفاعی خود کفالت سے طے ہوتا ہے، نہ کہ صرف بینک بیلنس سے۔ کمزور ملک اس بے رحم عالمی نظام میں محفوظ نہیں رہ سکتے. 

بدقسمتی سے ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں اخلاقیات کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، اور اصولوں پر قائم رہنے والے کو “غیر حقیقت پسند” کہا جاتا ہے۔ حقیقت پسندی اب یہ سکھائی جا رہی ہے کہ سر جھکا کر جیو، سوال نہ کرو، اور جو ہو رہا ہے اسے تقدیر سمجھ لو۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ تقدیر اکثر سوال کرنے والوں کے ہاتھ میں بدلتی ہے، خاموش رہنے والوں کے نہیں۔

جو لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، وہی سب سے زیادہ قانون کی بات کرتے ہیں۔ جو انصاف کے قاتل ہیں، وہی انصاف کے علمبردار بن کر سامنے آتے ہیں۔ اور جو دنیا کو غنڈہ گردی سے چلا رہے ہیں، وہی امن کے لیکچر دیتے ہیں۔ شاید اسی کو جدید سیاست کہتے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ دنیا میں ظلم کیوں ہے — ظلم تو ہمیشہ رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ظلم کو معمول بنا لیا ہے؟ کیا ہم نے یہ مان لیا ہے کہ طاقت ہی سب کچھ ہے؟

کیا ہم نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ انصاف صرف نعروں کے لیے ہے؟ کیا ہم اتنے تھک چکے ہیں کہ اب سچ سننا بھی بوجھ لگتا ہے؟

اگر ایسا ہے، تو پھر واقعی یہ دنیا غنڈوں کے ہاتھ میں ہے۔

مگر اگر ابھی بھی کہیں کوئی قلم سچ لکھ رہا ہے، کوئی زبان سوال اٹھا رہی ہے، کوئی ضمیر بے چین ہے — تو پھر امید مکمل طور پر مری نہیں۔

کیونکہ تاریخ کا ایک سادہ سا اصول ہے: طاقت کے غنڈے زیادہ دیر تک تاریخ کے ہیرو نہیں رہتے، مگر سچ بولنے والے اکثر وقت کے ساتھ درست ثابت ہو جاتے ہیں۔ دنیا شاید وقتی طور پر طاقت کے نشے میں ہو، مگر آخرکار حساب ہمیشہ ضمیر ہی لیتا ہے — چاہے وہ عدالت میں ہو یا تاریخ کے صفحوں پر۔

مضمون نگار مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔ رابطہ کے لیے ایمیل: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!