Ad
مضامین

ٹرمپ نے تاریخ دہرائی تابعداری یا تباہی؟

✍️:. ش م احمد / سرینگر 


7006883587

   ۳؍جنوری کو اپنی نوعیت کا ایک انوکھاواقعہ تاریخ میں قلمبند ہوا۔ مٹھی بھر امریکی سپاہ نے تیل اور بیش قیمت معدنیات سے مالامال لاطینی امریکہ کے ایک غریب ملک وینزویلا کے دارلحکومت کراکس میں قصرِ صدارت کو حیرت انگیز انداز میں چھاپہ مار کارروائی میں آگھیرا ۔ مبصرین کی رائے میں یہ عصری تاریخ میں ایک اور ایرانی وزیراعظم مصدق‘ ایک اور بھٹو ‘ ایک اور عمران خان کا اضافہ ہے۔ اگرچہ سینکڑوں فوجیوں پر مشتمل مستعد وینزویلائی اہل کاروں نے امریکہ کی اس اچانک کارروائی کی حتی الوسع مزاحمت کی‘لیکن بے سود کیونکہ اُن کے پاس وہ جدید ترین ہتھیار تھے ہی نہیں جو سرتاپا لیس امریکی فورسز اہل کاروں کو روک سکتے‘ انہیں کوئی گزنہیں پہنچاسکتے‘ان کے مفوضہ مشن کی پیش قدمی میں مانع ثابت ہو سکتے ۔ بتایا جاتاہے کہ اس سریع الاختتام منصوبہ بند ایکشن میں امریکن چھاپہ مار ٹیم کو ایک خراش بھی نہ آئی۔ انہوں نے مبینہ طور ایک پُراسرار ہتھیار کا استعمال کیا جس سے مزاحمتی فوج کی نکسیریں پھوٹیں ‘ وہ خون کی اُلٹیاں کرنے لگے‘ ان کے قویٰ مضمحل ہوگئے اور انہیں بہت جلد امریکن دراندازوں کےسامنے چار وناچار پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ موقعٔ وارادت پر سو کے قریب صدارتی محافظین کو چند لمحوں میں ہلاک کرنے کے بعد چھاپہ ماروں نے صدرنکولس ماددرو اور خاتون ِ اول کو بڑی آسانی سے اپنی تحویل میں لے لیا۔ دونوں میاں بیوی کو ایوان ِ صدارت سے اسیران ِ امریکہ کے طور ہوا کے دوش پر اُٹھاکر چھاپہ ماروں نے اپنے تیار بہ تیار فوجی ہیلی کراپٹر میں وطن کی راہ لی۔ اس تہلکہ آمیز واقعے کی فوٹیج آناًفاناً پھیلی تو سارا جہاں بھونچکا ہوکر رہا۔ یوں لگا جیسے خوف ودہشت کی ایک نئی کہانی بدیں عنوان جریدہ ٔعالم پر لکھی جار ہی ہےکہ امریکہ ٹرمپ اور کارپوریٹ ورلڈ کی قیادت میں سپر پاور سے اب ’’سپریم پاور‘‘ بننے کی دوڑ میں آگے بڑھنے والاہے۔ یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ امریکہ نےوینزویلا میں اپنا ہدف پورا کرتے ہوئے یواین چارٹر‘ عالمی قوانین ‘ قومی خودمختاری‘ ریاستی ا قتدارِ اعلیٰ اور انسانی تہذیب وتمیز کے ادنیٰ تقاضوں تک کو یکسر بالائے طاق رکھا تاکہ ا س کا وضع کردہ مشن’’ کنٹرول وینزویلا آئیل اینڈ گولڈ ویلتھ‘‘ پوری مستعدی سے پایہ ٔ تکمیل کو پہنچایا جاسکے۔اُس کالی رات کو امریکہ کی سرزمین سے کئی جنگی ہیلی کراپٹروں نے آسمانی قہر برسایا ‘ بہت جلد ان کے ذریعے مسلح فورسز صدر موصوف کی سرکاری رہائش گاہ پر باراتیوں کی طرح آرام سے اُتری ۔ راجدھانی میں آٹھ دس غیر ملکی ہیلی کراپٹروں کی پرواز سے اچانک کان کے پردے پھاڑ دینے والےشور وغوغا سے رات کا سناٹا خوف سے بدل گیا‘ لوگوں کے دل دہل گئے ‘ فضائے بسیط پر جنگ کا دہشت انگیز ساماحول چھاگیا‘ صدارتی محل کے قریب گولیوں کی دندناہٹ کے بیچ کئی سرکاری عمارتیں آگ کے شعلوں کی نذر ہو تی دیکھی گئیں تو فضا اور زیادہ ڈراؤنی بنی۔ ایوانِ صدارت میں دراندازی کرنے والے امریکی سپاہ کو حکومتی فوج کی جانب سے تھوڑی بہت مزاحمت کا سامنا رہا ‘ مگر ایک سو کے قریب مقامی حفاظتی اہل کاروں کو ہلاک کرنے کے بعد چھاپہ ماروں نے صورت حال پر مکمل غلبہ پایا‘ اب ان کے قدم فوراً ایوان ِ صدار کی جانب بڑھ گئے ‘ وہاں سے ملکی صدر اور اُن کی شریکِ حیات خاتون ِ اول کو بندوق کی نوک پر اپنی حراست میں لے لیا ‘ ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالیں ‘ بےحرمتی اور نفسیاتی ہراسانی کے اوچھے حربوں سے زیرکر کے دونوں کوکچھ اس طرح سے دھر دبوچا جیسے وردی پوشوں نے کسی اول درجہ کے مفرور مجرم کو مدتوں بعد پکڑاہو۔ میاں بیوی کوپاس ہی کھڑے امریکی فوجی ہیلی کراپٹر میں لادکر اُڑن کھٹولے نے واشنگٹن میں لینڈ کیا ۔

 ۲۰۲۶ کے بالکل آغاز میں بدشگونی والےاس ناقابل ِ یقین منظر کو دیکھ کر اہل ِجہاں انگشت بدنداں ہوئے ۔ لوگوں کو محسوس ہوا کہ یہ  چھاپہ مار کارروائی امنِ عالم کے لئے بدشگونی کا سندیسہ ہے ۔ مذکورہ آپریشن اس حوالے سے بھی پُراسراریت سے لبریز لگ رہا ہے کہ عالمی طاقتوں مثلاً روس اور چین نے اس بارے میں تادم ِ تحریر کوئی لب کشائی تک نہ کی بلکہ’ ٹُک ٹُک دیدم دم نہ کشیدم‘ کے مصداق انہوں نے خاموشی کی لحاف اوڑھ لی ۔اس سے پیغام یہ مل رہاہے کہ اُن کے لئے یہ کارروائی کوئی حیران کن معاملہ یا گھمبیر چیز نہیں مگر اس کے برعکس امریکی عوام سمیت یورپ ‘ افریقہ اورایشیا بھر میں عام لوگ اس تذلیل آمیز ڈرامائی حرکت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں‘ کہیں جلسے جلوس ہورہے ہیں اور کہیں سرگوشیاں۔ حساس ذہن اور سنجیدہ لوگ اس رُسواکن واقعہ سے یہ نوشتہ ٔدیوار پڑھ رہے ہوں گے کہ غزہ اور یوکرین کی بربادی کے بعد اب وییزویلا کی بربادی کا سامان ہونے والاہے ‘ اس لئے اگر دنیا اس ہوش رُبا صورت حال کے بارے میں سر جوڑ کر کوئی متحدہ لائحہ عمل اور متفقہ موقف اختیار نہیں کرتی‘ صدر ٹرمپ کوروزبروز کی جنگجویانہ روش اپنا نے سے باز نہیں رکھتی‘ خود یہ ملک اپنے اختلافات ونزاعات کو درونِ خانہ بہ عجلت نہیں سلجھاتے‘ اپنے بیچ جمہوریت اور جمہوری اقدار کو پروان نہیں چڑھاتے تو وہ دن دور نہیں جب آگے ہم ہر جگہ سری لنکا‘ نیپال‘ بنگلہ دیش اور اب ایرانی ٹائپ رژیم چینج کے تماشے دیکھیں گے ۔ ٹرمپ تو سو قدم آگے بڑھ کر عالمی پراپرٹی ڈیلر جیسے رول میں گرین لینڈ‘ میکسیکواور کینیڈا کی آزادی وخودمختاری کی دھجیاں بکھیرنے پر بھی آمادہ ٔ پیکار ہونے کے لئے پرتولیں گے‘ اس سے عالمی معیشت کا بیڑہ غرق ہوگا ‘ عالمی امن و امان تہ وبالا ہوگا ‘ نوآبادتی نظام کا نحوست آمیز سایہ  پھرسے بطن ِ گیتی کو آگھیرے گا ‘ طاقت ور کی جے جے کارہوگی اور کمزور کی کمر توڑی جائے گی۔ 

وینزویلا کے صدر کے خلاف امریکہ کا ایکشن بلیغ اشارہ دے رہاہے کہ ٹرمپ جس نوبیل پیس پرائز کے خواب دیکھ رہے ہیں اور جس کے استحقاق کے جواز میں وہ دنیا میں آٹھ جنگوں کو روکنے کا کریڈٹ خود  کومیاں مٹھو بن کر دئےجا رہے ہیں‘ وہ ان کے مخصوص نظریہ ٔ امن سے پورا  لگا کھاتاہے ۔ ان کے مزعومہ امن کی تعریف یہ نہیں ہے کہ لوگ سکون وآرام سے جی لیں‘ دنیا جیو اور جینے دو کے اصول پر گامزن ر ہے‘ جابجا اتحاد ویگانگت کے گیت گنگائے جائیں‘ نہیں قطعی نہیں ‘ امن ِعامہ سے صدر ٹرمپ کی مراد یہ ہے کہ صرف اور صرف امریکہ کے سر معاشی خوش حالی‘ فارغ البالی‘ سیاسی چودھراہٹ اور ثقافتی بالادستی کا تاج سجے‘ باقی ماندہ دنیا امریکہ کی حاکمیت اعلیٰ کے سامنے سرنگوں ہو ‘ اس کی تابع ِ فرمان ہو کر جیئے مرے‘ امریکہ چاہے ٹیرف میں پانچ صد فی صد اضافے کا شاہی فرمان جاری کرے ‘ بے نوا قوموں کو ناکردہ گناہوں کی کوئی بھی من مانی سزا سنائے‘  اقوام بھیگی بلی کی مانند بغیر کسی چوں چرا کے آمنا صدقناکہیں ۔ ٹرمپ چاہے لاشوں ‘ زخموں اور کھنڈروں کے شہر غزہ کو سمندری ریزاٹ بنائیں ‘ یوکرین کے صدر زیلنسکی کو اپنے ملک کے چنیدہ حصے روس کے حوالے کردینے کے پلان کو مانیں ‘ وینزویلا کی قدرتی دولت پر علی الاعلان اپنا دست ِ تصرف بڑھائیں‘ وہاں کے صدر کو چرس‘ گانجے ‘ ہیروئین ‘ براؤن شوگر کا نامی اسمگلر جتلاکر اپنے جیل میں قید کریں اور ملک کےقدرتی وسائل لوٹ لینے کی امریکی سرمایہ داروں کو کھلی اجازت دیں ‘ ڈنمارک کے زیر انتظام گرین لینڈ پر للچاہٹ بھری آنکھیں گاڑدیں‘ وہ چاہے جو بھی کریں یاکہیں‘ دنیا میں کسی بھی گوشے سے لبیک کی آواز آئے اور جہاں کہیں ان پالیسیوں سے عدم موافقت کی صدا گونجے ‘ وہ شخص یا قوم اپنی تباہی کا منہ دیکھنےکے لئے تیار ہوجائے ۔ بالفاظ دیگر امریکہ بہادر عالمی تھانیداری کا اپنا دیرینہ کردار منوانے کے لئے دُنیا کوپتھر کے زمانے میں لوٹا نا چاہتا ہے‘ اندھیر نگری چوپٹ راج کا دور دورہ چاہتا ہے ‘ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والے اندھے قانون کا نفاذ چاہتا ہے‘ دنیا میں نوآبادیاتی نظام کا احیا کرنا چاہتاہے۔ اسی ساری کرم کنڈلی کا جلّی عنوان وینزیلا ئی ڈرامہ ہے۔ 

  ہماری د نیا میں بڑی طاقتیں خاص کر ملک ہوس ِگیری کے لاعلاج روگ میں مبتلا ہیں ‘ لہٰذا جس کسی کمزور وغریب ملک کی سررمین میں قدرتی وسائل کے جتنے انمول ذخائر موجود ہوں‘ اُتنے ہی اُس کے لئے برے دن آنا مقدر ہوتاہے کیونکہ عالمی طاقتوں کی لوٹ پاٹ اور رسہ کشی کے چلتے ان غریب قوموں کے لئے خطرات ‘ مشکلات اور مصائب وآلام کا انتظام وانصرام ہونا لازم وملزوم ہے ‘بشرطیکہ وہ شعوری طور امریکہ کی جی حضوری میں اس کے تلوے چاٹنے پر آمادہ نہ ہوں ۔ امریکہ کے ہاتھوں وینیزویلا کے اقتدار اعلیٰ کی پامالی اور اس کے منتخبہ صدر کے ساتھ کھلی اہانت اور بدسلوکی کا رویہ دیکھ کر بعض لوگوں نے خود سے لامحالہ پوچھا ہو گا یہ کیسا دورِ جمہور ہے کہ کسی منہ پھٹ اور طاقت ور ملک کا سربراہ کسی دوسرے کمزور ملک کے حکومتی سربراہ کے خلاف بلا کسی ٹھوس ثبوت اور جواز کےالزام تھوپ دے کہ تم ڈرگ اسمگلر ہو‘ میری مملکت میں تم نے اَربوں ڈالر مالیت کے منشیات سمگل کرنے کا جرم کیا ہے‘ تم اپنی حرام کمائی میرے ہم وطنوں کی بربادی سے نتھی کرنے کا کھیل کھیل ر ہے ہو‘ اس لئے تمہیں کڑی سز ا دلانے کے لئے مابدولت تمہیں اور تمہاری جورو کو گرفتار کرکے اپنے دربار میں لائین حاضر کرنے کاحکم صادرکر چکا ہے ‘ تم اپنے دفاع میں ایک لفظ بھی بولنے یا کوئی صفائی دینے کے حق سے محروم ہو‘ میں تمہیں اپنے جیل میںےٹھونس چکاہوں تاکہ تمہارے اوپرقانون شکنی کی پاداش میں میرے ملک میں مقدمہ چلے گا‘ عدالت میری ہوگی ‘ منصف میرا ہوگا‘ قانون میرا ہوگا ‘ فیصلہ بھی میراہوگا‘ مرضی میری چلے گی ‘ میں چاہوں تو تمہیں کڑی سزا دوں گا ‘چاہوں تو پانچ سال سے میرے قید میں ہنڈوراس کے سابق اسیر صدر خوان اور لینڈو ہر نینڈز کی مانند معاف کردوں ۔اُس پر بھی منشیات اسمگلنگ کے سنگین الزامات مابدولت کے پیش رو نے عائد کئے تھے ۔

 خود ہی سوچئے جہاں عدل گستری کا معیاراور جمہوریت کا نظام ایک شخص کی ذاتی مرضی سے مشروط ہو ‘ قانون ایک فرد کے ابروئے چشم کے اشاروں کا غلام ہو ‘ ایک قوم کا مادی مفاد ‘ دوسری قوم کے خساروں میں منجمد ہو‘ تو گئے زمانے کے کسی مطلق العنان بادشاہ اور نئے دور کے جمہوری آقا میں کو ن سا خط ِ امتیازکھینچا جاسکتاہے ۔ وینزویلا کے منتخبہ صدر کو آہنی زنجیروں اور تذلیل کےساتھ مقید کرکے امریکہ لانے کا مقصد شاید یہ بھی ہے کہ دنیا صدر ٹرمپ کے تیکھے تیوروں سے تھر تھر کانپتی رہے اور اپنی گرہ میں یہ بات باندھ کر رکھ لے کہ امریکہ کو گریٹ بنانے کے چکر میں دنیا کا طاقت ور ترین انسان کسی بھی اُصول کو کھلے عام پامال کرسکتا ہے‘ کسی بھی ضابطہ ٔ اخلاق کو پائے حقارت سے ٹھکراسکتا ہے ‘کسی بھی قاعدے قانون کو من مرضی سے توڑ سکتا ہے ۔ شاید دنیا اب جان گئی بھلے ہی امریکہ بہادر دنیا کوڈیماکریسی‘ ہیومن رائٹس ‘ تکریمِ آدمیت ‘امن وسلامتی اور تہذیب و ذکاوت کے لمبے لمبے بھاشن دیتا رہاہے‘ وہ سب زبان کے چٹخارےہیں‘ عملی دنیا میں اُن کی کوئی معنویت نہیں‘ کوئی حقیقت نہیں‘ کوئی مقصدیت نہیں ‘کوئی افادیت نہیں۔ ویسے امریکہ کی سیاسی تواریخ کے پنوں کو نظر میں رکھتے ہوئے صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں کچھ زیادہ نیانہ کیا‘ انہوں نے اپنی ملکی تاریخ کا محض اعادہ کیا۔ امریکہ نے روز اول سے اپنےسپرپاور حیثیت کا دبدبہ منوایا تو یہ کرکے کہ صرف ۱۹۴۷  تا ۱۹۸۹  تقریباً۷۲ ؍ حکومتوں کو سرد جنگ کے دوران اپنے راستے کا روڑا جان کر ٹھکانے لگانے کی کوششیں کہیں علانیہ اور کہیں اخفا  کے پردے میں کیں، جہاں کہیں روس نواز حکومت بنتی ‘وہاں امریکہ اپنی حامی حکومت بنانے کی کاوشوں میں ہر جائز وناجائز حربہ آزمانے لگتا۔ یہ سلسلہ اب بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے ۔ ایران کی رواں ایجی ٹیشن اس کی تازہ مثال ہے‘اور وینیزویلا میں پہلے چہروں کی تبدیلی اور پھر وقت آنے پر شاید اسی تاریخ کا نیا سنگِ میل بننے کی راہ پرپر ڈالا جائے گا جو امریکی تاریخ کا خاصہ رہاہے۔ اس تاریخ کو اگلی قسط میں کھنگالیں گے   ؎

   ساری دنیاٹرمپ کی جاگیر ہے

  کیوں زمین و آسمان دلگیر ہے



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!