Ad
مضامین

رنجور تلگامی : کشمیری زبان و ادب کا خوددار مفکر اور فکری وقار کی علامت

✍️: ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری


کشمیر کی ادبی تاریخ میں بعض شخصیات محض شاعر یا ادیب نہیں ہوتیں بلکہ وہ ایک پورے فکری،تہذیبی اور لسانی عہد کی نمائندہ بن جاتی ہیں۔ان کی موجودگی زبان کو وقار،ادب کو سمت اور فکر کو گہرائی عطا کرتی ہے۔رنجور تلگامی ایسی ہی قد آور اور ہمہ جہت ادبی شخصیت کا نام ہے جنہوں نے کشمیری زبان و ادب کو اپنی فکر،قلم،تدریس اور تنظیمی کردار کے ذریعے نئی توانائی بخشی۔وہ ان اہلِ قلم میں شامل ہیں جنہوں نے شور و تشہیر سے دور رہ کر خاموشی،سنجیدگی اور استقلال کے ساتھ ادب کی خدمت کی اور اپنے عہد میں ایک مضبوط اور دیرپا ادبی شناخت قائم کی۔

رنجور تلگامی جن کا اصل نام عبد الخالق وانی ہے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کی تحصیل پٹن کے معروف گاؤں تلگام میں پیدا ہوئے۔تلگام اور اس کے اطراف کا علمی،صوفیانہ اور ادبی ماحول ان کی فکری تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔اسی مٹی نے ان کی شخصیت کو وہ وقار،ٹھہراؤ اور گہرائی عطا کی جو آج ان کی تحریروں اور گفتگو میں نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ان کے ہاں دیہی زندگی کی سادگی،روایت کی خوشبو اور انسان کے باطنی کرب کی بازگشت ایک ساتھ سنائی دیتی ہے جو ان کے تخلیقی شعور کو ایک منفرد رنگ عطا کرتی ہے۔

تعلیم کے میدان میں رنجور تلگامی ایک مضبوط اور معتبر پس منظر رکھتے ہیں۔انہوں نے ایم اے، بی ایڈ کے ساتھ آنرز کشمیری کی ڈگری حاصل کی،جب کہ پنجابی زبان میں سی آئی ایل ایل میسور کے ذریعے ڈپلومہ بھی کیا۔فارسی زبان میں ان کی گہری علمی تربیت نے ان کے فکری افق کو وسیع کیا اور ان کی تحریروں میں کلاسیکی شعور اور جدید حسیت کا حسین امتزاج پیدا کیا۔پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے تدریس کو اختیار کیا اور ایک طویل عرصے تک بطور لیکچرر خدمات انجام دیں۔ایک استاد کی حیثیت سے وہ محض نصابی علوم تک محدود نہیں رہے بلکہ طلبہ کی فکری،اخلاقی اور تہذیبی تربیت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ ایک پرمغز،ذہین،صاحبِ بصیرت اور ماہرِ تعلیم کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

رنجور تلگامی کا ادبی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔انہوں نے ایسے دور میں کشمیری زبان میں تخلیق کا عمل جاری رکھا جب مادری زبانیں مختلف سماجی اور لسانی دباؤ کا شکار تھیں۔اس مشکل وقت میں انہوں نے پوری استقامت کے ساتھ کشمیری زبان کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ان کی شاعری میں تصوف،معرفت،انسانی درد،وجودی سوالات،وقت کی بے ثباتی اور عصری اضطراب نہایت فکری گہرائی کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔وہ بڑے اور پیچیدہ سوالات کو سادہ مگر معنی خیز زبان میں پیش کرتے ہیں،جو قاری کے لیے سوچ کے نئے زاویے عطا کرتی ہے۔

ان کے اسلوب کی سب سے نمایاں خصوصیت سادگی اور معنویت کا حسین امتزاج ہے۔وہ نہ غیر ضروری لفاظی کے قائل ہیں اور نہ ہی پیچیدہ علامتوں کے اسیر۔ان کی تحریر میں ایک مسلسل داخلی مکالمہ جاری رہتا ہے جو قاری کو اپنے باطن میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔یہی وصف ان کے ادب کو وقتی نہیں بلکہ دیرپا بناتا ہے اور انہیں محض شاعر نہیں بلکہ 

مفکر کے درجے پر فائز کرتا ہے۔

رنجور تلگامی کی تصانیف ان کے فکری سفر کا واضح آئینہ ہیں۔ان کا شعری مجموعہ “کلامِ رنجور” کشمیری شاعری میں ان کی شناخت کا بنیادی حوالہ ہے۔ “احمد پلہاج” ایک اہم مونوگراف ہے جب کہ “نورِ عرفان” کشمیری صوفی شاعری میں علامتوں پر مبنی ایک تحقیقی اور فکری کام ہے۔ اردو زبان میں ان کی کتاب “بشرِ جاوداں” ان کے فکری تنوع کو نمایاں کرتی ہے۔معروف ہندوستانی شاعر این گوپی کی ساہتیہ ایوارڈ یافتہ کتاب کا کشمیری ترجمہ “بہ دِم نہ وقتس تھامے گژھنہ” بھی ان کی علمی و ادبی وسعت کا ثبوت ہے۔“گاشو ستھ گاش وندویو” کشمیری ادب پر تنقیدی و تجزیاتی نظر کا مظہر ہے۔

ان کا تازہ ترین شعری مجموعہ “گو واؤ پریشان” حال ہی میں شائع ہوا ہے جسے ان کے ادبی سفر کا ایک اہم اور پختہ شاہکار قرار دیا جا رہا ہے۔اس مجموعے میں فکری بے چینی،عصری شعور اور صوفیانہ رمزیت گہرے تخلیقی توازن کے ساتھ جلوہ گر ہے۔اس کے علاوہ ان کے کئی اہم مسودات زیرِ اشاعت ہیں،جن میں کشمیری نثری کتاب “ نصرہ پھولے” تصوف پر مبنی تحقیقی کام “صوتِ سرمدی” اور انگریزی زبان میں خود نوشت “I, Through My Eyes” شامل ہیں۔

تنظیمی سطح پر رنجور تلگامی کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے سنہ 1995 میں صوبائی سطح کی ادبی تنظیم کشمیر ینگ رائٹرز ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی،جو گزشتہ تقریباً تیس برسوں سے مسلسل سرگرم عمل ہے۔اس تنظیم کے ذریعے بے شمار نوجوان قلمکاروں کو فکری تربیت،ادبی رہنمائی اور شناخت ملی۔وہ اس تنظیم کے بانی اور سرپرست کی حیثیت سے آج بھی نوجوان نسل کے لیے ایک مضبوط سہارا ہیں۔اس کے علاوہ وہ کروہن کلچرل فورم کریری کے بانی اراکین میں شامل رہے اور اس کے پہلے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

ادارت کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔وہ کشمیر ینگ رائٹرز ایسوسی ایشن کے ادبی مجلے “ویَتھ” کے چیف ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے جموں و کشمیر مہجور فاؤنڈیشن کے سہ ماہی ادبی رسالہ “گاش” کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کی ادارت میں یہ رسائل کشمیری ادب کے سنجیدہ مباحث اور معیاری تخلیقات کا معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔

رنجور تلگامی کی شخصیت پر اگر غور کیا جائے تو ان کی غیرت مندی اور خودداری ایک نمایاں اور روشن قدر کے طور پر سامنے آتی ہے۔انہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر حالات کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنے ضمیر کی آواز کو ترجیح دی۔سختیوں،محرومیوں اور آزمائشوں کے باوجود انہوں نے کبھی اپنی فکری آزادی، علمی وقار اور ذاتی خودداری پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کے نزدیک قلم کی حرمت،فکر کی سچائی اور ذات کا احترام ہر طرح کے فائدے،مصلحت اور وقتی آسائش سے بلند رہا ہے۔یہی خودداری انہیں ثابت قدم رکھتی ہے اور ان کی شخصیت کو ایک باوقار،معتبر اور قابلِ احترام مثال بنا دیتی ہے،جو بدلتے وقت میں بھی اپنے اصولوں پر قائم رہنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔بقول امیر قزلباش۔

وقت   کے  ساتھ   بدلنا  تو  بہت  آساں  تھا

مجھ سے ہر وقت مخاطب رہی غیرت میری

رنجور تلگامی ریڈیو،ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ سے بھی وابستہ رہے ہیں جہاں انہوں نے تصوف،علم اور ادب کو عام لوگوں تک سادہ مگر مؤثر انداز میں پہنچایا۔سنہ 2008 میں انہوں نے قومی مشاعرے میں شرکت کر کے کشمیری شاعری کی نمائندگی کی اور اسی برس انہیں قومی شاعر کے طور پر پہچان ملی جو ان کے ادبی قد و قامت کا باضابطہ اعتراف ہے۔

رنجور تلگامی ایک ذہین عالم،ماہر تعلیم،شاعر،نقاد اور فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ اور ہردلعزیز شخصیت کے مالک ہیں۔ان کی دانش محض کتابی نہیں بلکہ تجربے اور مشاہدے سے جڑی ہوئی ہے۔ان کی شخصیت میں سادگی،انکساری اور اخلاقی وقار نمایاں ہے جس کی وجہ سے وہ ہر طبقے میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ان کے شاگرد ہوں یا ہم عصر اہلِ قلم سب ان کی علمی بصیرت اور انسانی رویّے کے معترف نظر آتے ہیں۔

رنجور تلگامی کا نام آج کشمیری زبان و ادب میں ایک سنجیدہ،باوقار اور معتبر حوالہ بن چکا ہے۔ان کی تحریریں،تدریسی خدمات،تنظیمی کردار اور فکری بصیرت اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ محض ایک تخلیق کار نہیں بلکہ ایک فکری معمار ہیں۔ایسے اہلِ قلم کا ذکر اور اعتراف نہ صرف ادبی تاریخ کی ضرورت ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بھی تاکہ کشمیری زبان و ادب کی یہ مضبوط روایت آئندہ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ رہ سکے۔

رنجور تلگامی گزشتہ سولہ برسوں سے تنہائی کی آغوش میں سانس لے رہے ہیں۔بے یار و مددگار یہ شیر دل مفکر، ادیب اور فلسفی اپنی داخلی سراسیمگی اور غم و آلام کو ایک خاموش مسکراہٹ میں ڈھال کر دوسروں کو خوش رکھنے اور ان کے کام آنے میں مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ان کی زندگی کا یہ پہلو نہایت پوشیدہ مگر غمناک ہے جس کا اندازہ صرف وہی لوگ کر پاتے ہیں جو ان کی قربت میں رہے ہیں اور جنہوں نے اس ہمہ جہت شخصیت کو قریب سے سمجھنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ بظاہر وقار،سکون اور ٹھہراؤ میں لپٹا یہ انسان اپنے اندر ایک طویل کرب اور گہری تنہائی سمیٹے ہوئے ہے، جسے وہ کبھی شکوہ اور کبھی شکایت کا روپ نہیں دیتے۔

انہیں دیکھ کر اکثر دل میں میر تقی میر کا یہ خوبصورت اور معنی خیز شعر گونج اٹھتا ہے،جو ان کی شخصیت کا آئینہ دار محسوس ہوتا ہے۔

پیدا  کہاں  ہیں  ایسے  پراگندہ  طبع لوگ

افسوس تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!