Ad
مضامین

شیخ العالم: حیات،خدمات،تعلیمات۔۔۔میری نظر میں

نام کتاب:۔ شیخ العالم: حیات،خدمات،تعلیمات

مصنف:۔ خاکی محمد فاروق

صفحات:۔ 280

قیمت:۔350

اشاعت:۔ اول 2012ء  دوم 2025 ء

ناشر:۔ مکتبہ اسلامیہ نوگام سرینگر

مبصر:۔ غازی سہیل خان / بارہمولہ


چند ہفتے پہلے راقم نے محترم خاکی محمد فاروق صاحب کو فون کیا اور عاشق کشمیری صاحب مرحوم اور خاکی صاحب کا مختصر تعارف مانگا۔جواباً خاکی صاحب نے فرمایا کہ میرا تعارف (پروفائیل) فلاں کتاب میں ہے اور عاشق صاحب مرحوم کا تعارف فلاں کتاب میں ہے۔اسے خوش قسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ دونوں کتابیں میرے پاس موجود نہیں تھیں۔میں نے جواباً کہا کہ یہ دونوں کتابیں میرے پاس موجود نہیں ہیں میرا تنا کہنا کہ خاکی صاحب نے حیرانگی کے عالم میں کہا کہ کیا واقعتاً ابھی آپ کے پاس یہ کتابیں نہیں ہیں؟خاکی صاحب مصنف ادیب شاعر،واعظ ہونے کے ساتھ ساتھ نبض شناس انسان بھی ہیں وہ اس لئے لیے جب بھی کبھی اُن کی کتاب شایع ہو کے آئی ہے انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ خاکسار عاشقِ کتابیں بھی ہے۔ اور تب وہ مجھے کتاب بذریعہ ڈاک ارسال کیا کرتے تھے اور آج بھی اپنی نئی تازہ پانچ ضخیم کتابیں ڈاک کے ذریعے مجھے ارسال کر دی۔الحمدا اللہ۔میں نے اسی دن اپنے فیس بُک پوسٹ میں کہا تھا کہ ایک ایک کر کے یہ کوشش ہوگی کہ ان کتابوں کا تعارف و تبصرہ قارئین تک بے لاگ طریقے سے پہنچایاجائے،جن میں سے کلام شیخ العالم کا پہلے ہی ویڈیو کی صورت میں تعارف شایع ہوا ہے اور آج شیخ العالم ؒ کی حیات خدمات اور تعلیمات پر بات کریں گے۔ان شا ء اللہ۔

شیخ العالم:حضرت شیخ نورالدین ولی ؒ، حیات،خدمات،تعلیمات محتر م خاکی صاحب کی تصنیف ہے۔کتاب کو مکتبہ اسلامہ نوگام سرینگر نے بہترین گیٹ اپ کے ساتھ شایع کیا ہے،کتاب چار ابواب اور کُل 280صفحات پر مشتمل ہے۔کتاب کے چار بنیادی ابواب کو ذیلی عناوین کی صورت میں قلمبند کیا ہے۔چار ابواب کچھ اس طرح سے ہیں پہلا،حضرت شیخ ؒ کی ابتدائی زندگی اور اُن کی دعوت کے اُصول و آداب،دوسرا :حضرت شیخ نورالدین ولی ؒ کی تبلیغی زندگی آغاز سے آخر تک،تیسرا:حضرت شیخ العالم ؒ کی تبلیغی تحریک کے ارکان و رفقاء چوتھا:حضرت شیخ العالم ؒ کے افکار و تعلیمات قابل ذکر ہیں۔

محترم خاکی صاحب نے جموں کشمیر کے بزرگانِ دین،علماء فضلا کے متعلق خاصا تصنیفی کام کیا ہے۔اور یہ کام مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔وہیں ان بزرگان ِ دین کی اصل دعوتی تحاریک اور تعلیمات کو اپنی اصل میں پیش کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔اکثر یہاں بزرگوں اور اولیاء اللہ کو چند مافوق الفطرت باتوں اور کرامات سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔جس کے سبب پڑھا لکھا طبقہ خصوصاً نوجوان ایسے بزرگوں کی تعلیمات سے قریب آنے کے بجائے دور ہی ہوتے جاتے ہیں۔اس طریقے کو خاکی صاحب نے خوب توڑنے کی کوشش کی ہے۔کتاب کی تقریظ میں محترم غلام محمد بٹ لکھتے ہیں کہ ”محترم خاکی محمد فاروق صاحب نے زیر نظر کتاب میں حضرت شیخ ؒ کی دعوتی اور تبلیغی سرگرمیوں اور کارناموں کو ایک منظم اور مربوط انداز میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔حضرت شیخ ؒ کے مواعظ حسنہ اور اُن کی دعوتی اور تبلیغی سرگرمیوں سے آج بھی داعیان حق راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ہمارے ہاں زیادہ تر بزرگان ِ دین کی کرامات کا چلن رہا ہے،لیکن محترم خاکی صاحب نے اُس غیر ضروری طرز تحریر سے اجتناب کر کے شیخ ؒ کے اصل کارناموں اُجا گر کیا ہے،جو اُمت کا بالعموم اور کشمیریوں کا بالخصوص اصل سرمایہ حیات ہے۔(ص 19)

کتاب میں حضرت شیخ ؒ کے ابتدا سے وفات تک کی زندگی کے اہم ترین گوشوں کو قلمبند کیا گیا ہے،جس سے ہمارے سامنے اُن کی تعلیمات اور افکار واضح ہوتے ہیں۔مصنف موصوف فرماتے ہیں کہ ”حضرت شیخ نورالدین ولی ؒ کے آ با و اجداد اصل میں کشتواڑ کے رہنے والے تھے۔چوں کہ کشتواڑ کی سلطنت اس زمانے میں ایک چھوٹی سی خودمختار سلطنت تھی۔حضرت شیخ ؒ کے جد امجد ”اوگرا سنز“ کشتواڑ میں بڑے اثر رسوخ کا مالک تھا وہ ہندوؤں کے معزز خاندان راجپوت سے تعلق رکھتا تھا۔وہاں ”اوگر ا سنز“ نے ایک مقامی لڑائی میں شکست کھا کر اپنے بال بچوں اور بھائیوں کے ساتھ رام دیو 1252ء تا 1273ء کے دور حکومت میں کشمیر چلا آیا اور چرار شریف کے نزدیک”تلہ سر گاؤں“ میں قیام کیا۔ص 33. آگے لکھتے ہیں کہ ”حضرت شیخ العالم کی ولادت 10الحجہ 779ھ بمطابق 1377ء کھی جوگی پورہ (یہ گاؤں ضلع کولگام میں واقع ہے)میں ہوئی۔اور سید حُسین سمنانی ؒ نے اُن کا نام ”نورالدین“رکھا اور گھر والے اُن کو پیار سے ”نُند“ کہنے لگے بعد میں انہوں نے’’نُند“ کو ہی قلمی نام کی صورت میں استعمال کیا۔ص 36۔

حضرت شیخ ؒ کی زندگی بچپن تا وفات دین اسلام کی سربلندی میں ہی گُزری ہے۔اُن کے سینے میں اسلام کی اقامت کے لئے ایک درد تھا جو درد اور تڑپ اُنہیں کبھی بیٹھنے نہیں دیتاتھا۔وہیں گھر بار بیوی بچوں کی بغیر پرواہ کیے رات دن اسلام کی سربلندی کے لئے کام کرتے رہیے،اُن کی شاعری ایک انسان کے اندر جذبہ اور تڑپ پیدا کر دیتا ہے،بلکہ جو کوئی بھی اُن کی شاعری کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرے سمجھ لیجیے وہ کبھی قرار سے بیٹھ نہیں سکتے بلکہ ہر لمحہ اسلام کی سربلندی کے لئے کام کرتا رہے گا۔ایک بار اُن کی بیوی نے وقت کے بادشاہ کے پاس شکایت کی کہ حضرت شیخ ؒ گھر میں اپنی بیوی بچوں کا خیال نہیں رکھتے اور اپنا، اپنے بچوں کے نان و نفقہ کے لئے استغاثہ کیا حاکم وقت نے”نازی بٹ“ نام کے ایک کوتوال کو شیخ ؒ کی گرفتاری کے لئے بھیجا جو کہ ایک تُند مزاج افسر تھا مصنف موصوف لکھتے ہیں کہ ”نازی“ جب حضرت شیخ ؒ کے پاس غار میں پہنچا تو بڑی سختی سے شیخ ؒ کے ساتھ پیش آیا۔شیخ العالم ؒ نے اس کی سختی اور گستاخی کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور اس کے سوالات کے جوابات حسنِ اخلاق اور حلم و بردباری سے دیے۔جس کے نتیجے میں کوتوال ان کے گفتار و کردار اور شخصیت سے متاثر ہو ااور اسی وقت مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ص 48۔

جیسا کہ ہم پہلے ہی بتا چُکے ہیں کہ جموں کشمیر میں اکثر مصنفین اورواعظین نے بزرگان ِ دین کی دعوت کے اصل اُصول کو ہمارے سامنے پیش نہیں کیا۔جس کی وجہ سے بزرگان َ اور اولیاء اللہ کی ایک نئی صورت ہمارے سامنے پیش ہوئی۔کاش ہمارے پاس ان کی تعلیمات کو اپنی اصل صورت میں من و عن پیش کیا ہوتا تو آج یہاں حق پرست علماء اور واعظین کو اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی جس میں لوگوں کو معمولی چیزوں اور شرک سے نکالنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔اس سلسلے میں مصنف موصوف ”حضرت شیخ ؒ کی دعوت کے اُصول“ عنوان میں فرماتے ہیں کہ ”یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے تذکرہ نگاروں اور موخین نے دیگر اولیاء کرام ؒ کی طرح حضرت شیخ العالم ؒ کے دعوتی کارناموں اور اصلاحی کاوشوں کو اُجاگر کرنے کی طرف خاص توجہ نہ دی۔اس کے بجائے انہوں نے کرامات اور مافوق الفطرت واقعات کو بیان کرنے پر خاصا زور دیا ہے۔جس سے اُن کی دعوت و تبلغ کے اُصول و آداب اور طریقہ کار دب کر رہ گیا۔اور عوام ان کی دعوت اور اس کے اُصول و طریقہ کار سے واقف نہ ہو سکے۔جب کہ حضرت شیخ ؒ کی زندگی اور ان کے منظوم کلام کے بغور مطالعہ کرنے سے ان کی دعوت و اصلاح کے اُصول و آداب کھل کر سامنے آتے ہیں۔ص  56۔

حضرت شیخ ؒ جموں کشمیر اور خصوصاً وادی کشمیر کی اکثر جگہوں پر اسلام کی دعوت دینے گئے،کوئی بستی اور علاقہ نہیں چھوڑا جہاں انہوں نے اسلام کی اقامت کے لئے اپنا وقت صرف نہ کیا ہو۔اپنی زندگی کے ابتدائی چند سال تو انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کی تھی تاہم اس کے بعد گوشیہ نشینی کو ترک کر دیا۔بلکہ جو لوگ چلہ کشی یا گوشہ نشینی اختار کرتے تھے اُن کی بھی حوصلہ شکنی کی،ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ۔

مُڈہ   کندیو    اژ کھ   چلس

کتھ  کر   پننس   ذاتس  ستی

یُتھنہ  شیطان   پھری   شِلس

ادِ   تُلہ   نے   ابو جہلس   ستی

ترجمہ:۔ارے بے خبر تم کیا چلہ کشی کرو گے اس سے بہتر ہے کہ اپنے آپ کو پہچان لو۔ پہلے نیک و بد کی تمیز سیکھو۔ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہاری لاعلمی کا فائدہ اٹھا کر تمہارے دل سے ایمان کی دولت لوٹ لے جائے۔اور اپنی جہالت کے زعم میں غلط کو صحیح سمجھتے رہو۔ایسا کرو گے تو قیامت کے روز تم ابو جہل کے ساتھی کی حیثیت سے اٹھائے جاو گئے۔ص 186۔

کتاب کا چوتھا حصہ حضرت شیخ کی تعلیمات پر مشتمل ہے جس میں اکثر جگہوں پر اشعار کے ذریعے انہوں نے ہماری راہنمائی کی ہے۔کتاب کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اُن کے دور میں بھی ایسے بہت سارے علمائے حق کے ساتھ ساتھ علمائے سو بھی موجود تھے،جو محض چلہ کشی اور اپنا پیٹ بھرنے کے لئے اسلام کو بیچ کھاتے تھے۔بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات کو چھوڑ کر وہ اپنے نفس کی خواہشات کے مطابق اپنی زندگی گزارتے تھے،انہوں نے اسلام کو اپنا اور اپنے عیال کا پیٹ پالنے کا ایک ذریعہ بنایا تھا۔باقی اُن کے اندر توحید پر چل کر اسلام کے باغ کو آبیاری کرنے کی کوئی نیت نہیں تھی۔ایک جگہ اپنے شعر میں لکھتے ہیں کہ

ملہ   ڈینٹھِم   موش  کھیوان

ہاکس   دپان   یہ   چھہ  کچھ

با کِر   کھیوان   ڈاکری  تراوان

مشیدن   دپان   پیتہ   چھہ  یچھ

ترجمہ:۔میں نے ان ملاؤں کو بھینس کا گوشت کھاتے دیکھا پھر بھی اُن کا پیٹ نہیں بھرتا۔مسافروں کے لئے جو ساگ (روٹی مسجد اور خانقاہ میں لایا جاتا)اس کو گھاس کہہ کر (انہیں کھانے نہیں دیتے)یہ خود پوری بھیڑ کھا کر ڈکاریں لیتے رہتے ہیں اور رات بھر مسجد کے (حمام) میں خراٹے لیتے رہتے ہیں۔لیکن ان مسجدوں میں پناہ لینے والے مسافروں سے کہتے ہیں کہ یہاں سے بھاگ جاؤ یہاں خوفناک بلائیں رات کو آتی ہیں۔“ ص 215۔یعنی حضرت شیخ نے ایسے نفس پرست عالموں کی خبر لی ہے،جن کا مقصد محض اپنا پیٹ پالنا اور عیش و عشرت کی زندگی اسلام کے نام ر گزارنا ہوتا ہے۔ہمیں ایسے ہی بزرگانَ دین کی تعلیمات کو اپنی اصل میں پڑھنا اور آنے والی نسل تک پہنچانا چاہے۔اس حق پرست اور حق پسند داعی دین اور مرد قلندر نے آخر کار محض 63/سال کی عمر پا کر 842ھ بمطابق ۱۴۴۱ء میں انتقال فرمایا۔

الغرض کتاب بڑی خوبصورتی سے تصنیف کی گئی ہے۔کتاب املا کی غلطیوں سے کسی حد تک پاک ہے سوائے چند ایک جگہوں کے۔سر ورق دیدہ زیب اور کتاب ہارڈ باونڈ میں ہے۔کتاب کی کمپوزنگ اچھی ہے وہیں کتاب میں واقعات کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ابواب کے بعد مختصر عناوین کے ذیل میں واقعات کو مختصراً  اور جامع اندر میں پیش کیا گیا ہے۔کشمیر زبان میں اشعار کے بعد اُردو میں آسان اور عام فہم ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔تاہم کسی تکنیکی وجہ سے کتاب کا سرورق اُلٹا ہے اگلے ایڈیشن میں اس چیز کا دھیان رکھنا ہوگا۔اس سب کے باوجود کتاب ہماری نوجوان نسل کے لئے نشانِ راہ ثابت ہو سکتی ہے شرط ہے کہ اس کو سمجھ کے پڑھا جانا چاہے۔ا ن شاء اللہ۔کتاب کو آپ گھر بیٹھے اس نمبر 9682164457 پر رابطہ کر کے رعایتی قیمت پر حاصل کر سکتے ہیں۔ مبصر کا رابطہ نمبر 7006715103

٭٭٭



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!