ادب
پینگوئن جو چل پڑا ( آزاد نظم )

رابطہ: 7006857283
وہ قطار سے باہر نکلا
کیونکہ قطار
ہمیشہ منزل نہیں ہوتی
اکثر
عادت ہوتی ہے۔
-----------------
برف سب کے لیے ایک جیسی تھی
مگر ہر قدم پر
اس کی چیخ الگ تھی
جسے سننے والا
کوئی نہ تھا۔
---------------
اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا
اس لیے نہیں کہ پیچھے کچھ نہ تھا
بلکہ اس لیے کہ
کچھ چیزیں
دیکھ لینے کے بعد
چھوڑی نہیں جاتیں۔
---------------------
ہم اسے فنا کا نام دیتے ہیں
کیونکہ ہمیں بقا
صرف ہجوم میں نظر آتی ہے
ہم تنہائی سے ڈرتے ہیں
اس لیے
خاموش فیصلوں کو
پاگل پن کہہ دیتے ہیں۔
-------------------
مگر شاید
اصل پاگل پن یہ ہے
کہ آدمی
زندہ رہتے ہوئے بھی
اپنی سمت کسی اور کے حوالے کر دے۔
------------------
وہ جانتا تھا
کہ تعلق کا قیمتی سکہ
اگر ایک بار
ضمیر کے ہاتھ سے گر جائے
تو پھر
لوگوں کی جیبوں میں
صرف شور ملتا ہے
قدر نہیں۔
---------------
وہ چلتا رہا
اس یقین کے ساتھ
کہ کچھ راستے
واپسی کا وعدہ نہیں کرتے
بس
سچائی مانگتے ہیں۔
-----------------
اور ہم؟
ہم ابھی تک
قطار میں کھڑے
اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں
اس دن کے لیے
جب ہمیں بھی
کسی طرف کو نکلنا ہو
اور معلوم ہو
کہ پھر
نہیں ملنا۔
نوٹ: اِکز اقبال مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔
رابطہ: ikkzikbal@gmail.com