Ad
ادب

پینگوئن جو چل پڑا ( آزاد نظم )

 

✍🏼 اِکز اِقبال / سہی پورا قاضی آباد کشمیر


رابطہ: 7006857283

وہ قطار سے باہر نکلا

کیونکہ قطار

ہمیشہ منزل نہیں ہوتی

اکثر

عادت ہوتی ہے۔

-----------------

برف سب کے لیے ایک جیسی تھی

مگر ہر قدم پر

اس کی چیخ الگ تھی

جسے سننے والا

کوئی نہ تھا۔

---------------

اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا

اس لیے نہیں کہ پیچھے کچھ نہ تھا

بلکہ اس لیے کہ

کچھ چیزیں

دیکھ لینے کے بعد

چھوڑی نہیں جاتیں۔

---------------------

ہم اسے فنا کا نام دیتے ہیں

کیونکہ ہمیں بقا

صرف ہجوم میں نظر آتی ہے

ہم تنہائی سے ڈرتے ہیں

اس لیے

خاموش فیصلوں کو

پاگل پن کہہ دیتے ہیں۔

-------------------

مگر شاید

اصل پاگل پن یہ ہے

کہ آدمی

زندہ رہتے ہوئے بھی

اپنی سمت کسی اور کے حوالے کر دے۔

------------------

وہ جانتا تھا

کہ تعلق کا قیمتی سکہ

اگر ایک بار

ضمیر کے ہاتھ سے گر جائے

تو پھر

لوگوں کی جیبوں میں

صرف شور ملتا ہے

قدر نہیں۔

---------------

وہ چلتا رہا

اس یقین کے ساتھ

کہ کچھ راستے

واپسی کا وعدہ نہیں کرتے

بس

سچائی مانگتے ہیں۔

-----------------

اور ہم؟

ہم ابھی تک

قطار میں کھڑے

اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں

اس دن کے لیے

جب ہمیں بھی

کسی طرف کو نکلنا ہو

اور معلوم ہو

کہ پھر

نہیں ملنا۔

نوٹ: اِکز اقبال مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔

رابطہ: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!