Ad
مضامین

گورنمنٹ اپر پرائمری اسکول خان محلہ شیڈی پورہ کپواڑہ: مشکل حالات میں تعلیم کا روشن چراغ

✍️: آصف حسین الکشمیری


موبائل نمبر: 9797888975

کشمیر کی سرزمین صرف قدرتی حسن ہی کی امین نہیں بلکہ خاموش قربانیوں، بے لوث خدمت اور تعلیمی جدوجہد کی ایسی داستانوں سے بھی بھری ہوئی ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔ انہی خاموش مگر تابناک کہانیوں میں ایک روشن نام گورنمنٹ اپر پرائمری اسکول خان محلہ شیڈی پورہ کا بھی شامل ہے، جو محدود وسائل اور سخت حالات کے باوجود علم کی شمع جلائے ہوئے ہے اور آج پورے علاقے کے بچوں کے مستقبل کو روشنی عطا کر رہا ہے۔

یہ تعلیمی ادارہ سنہ 2004 میں ایک نجی عمارت میں قائم کیا گیا۔ اس وقت نہ مناسب کمروں کا انتظام تھا، نہ فرنیچر میسر تھا اور نہ ہی بنیادی تعلیمی سہولیات دستیاب تھیں۔ مگر دو باہمت اور مخلص اساتذہ، محترم پیرزادہ معراج الدین صاحب اور محترم بشیر احمد شیر گوجری صاحب، نے اخلاص، قربانی اور مضبوط عزم کے ساتھ اس تعلیمی مشن کا آغاز کیا۔ سردیوں کی سختی ہو یا گرمی کی شدت، معاشی تنگی ہو یا وسائل کی کمی—انہوں نے علم کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا اور اپنی محنت سے اس ننھے پودے کو تناور درخت بنانے کی بنیاد رکھی۔

چار برس تک یہ اسکول نجی عمارت میں قائم رہا۔ اس عرصے میں ان دونوں اساتذہ نے بے شمار صعوبتوں اور مشکلات کا سامنا کیا، مگر ان کے حوصلے کبھی پست نہ ہوئے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر آج یہ چراغ بجھ گیا تو آنے والی نسلیں اندھیروں میں بھٹک جائیں گی۔ ان کا یقین تھا کہ علم ہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو زوال سے نکال کر عروج کی منزل تک پہنچاتا ہے۔

سنہ 2008 میں حکومت کی جانب سے اسکول کو اپنی عمارت فراہم کی گئی، جو اس ادارے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوئی۔ سنہ 2011 میں اسکول کو مڈل درجہ دیا گیا اور مزید اساتذہ کی تعیناتی عمل میں آئی۔ یوں یہ تعلیمی مرکز بتدریج ترقی کے مراحل طے کرتا گیا اور طلبہ و طالبات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

یہ بات نہایت باعثِ فخر ہے کہ اس اسکول سے فارغ ہونے والے بے شمار طلبہ آج بڑے اور معتبر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ کئی نوجوان اعلیٰ تعلیم مکمل کر کے مختلف شعبۂ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب اسی ادارے کی محنت، اساتذہ کی قربانیوں اور تعلیمی اخلاص کا روشن ثمر ہے۔

اس ادارے کے تمام اساتذہ نے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور خلوص کے ساتھ نبھائیں، تاہم محترم پیرزادہ معراج الدین صاحب کی خدمات اس حوالے سے خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے دل میں واقعی علاقے اور گاؤں کے بچوں کے لیے درد تھا۔ وہ صرف اسکول تک محدود نہیں رہے بلکہ گھر گھر جا کر والدین کو اس بات پر آمادہ کرتے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں، انہیں تعلیم کی اہمیت کا شعور دیں اور بچوں کی اخلاقی و سماجی تربیت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ اسی مسلسل محنت اور عوامی رابطے نے اس ادارے کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی اور اسے محض ایک اسکول نہیں بلکہ ایک تربیتی مرکز بنا دیا۔

آج اس اسکول میں تقریباً چھ اساتذہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور سو سے زائد طلبہ و طالبات زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ مگر بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسکول کو مزید کلاس رومز کی اشد ضرورت ہے، کھیل کے میدان کی سہولت میسر نہیں، اسمارٹ بورڈ، سائنس لیبارٹری اور کمپیوٹر لیب جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، جبکہ اسکول کے اطراف چاردیواری نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی حفاظت بھی ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

پھلا پھولا رہے یا رب! چمن میری امیدوں کا

جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں-

یہ ادارہ واقعی ان لوگوں کی امیدوں کا چمن ہے جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے اس کی آبیاری کی ہے۔ آج جب ہم پہاڑوں اور جھیلوں کے درمیان اس تعلیمی چراغ کو روشن دیکھتے ہیں تو دل سے دعا نکلتی ہے کہ یہ چراغ ہمیشہ فروزاں رہے اور اس کی روشنی آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتی رہے۔

علاقے کے عوام الناس اور پڑھا لکھا طبقہ سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس ادارے میں زیادہ سے زیادہ بچوں کا داخلہ کرائیں اور اپنی قیمتی آرا اور مشوروں سے اسکول کے اساتذہ کا ساتھ دیں تاکہ یہ تعلیمی مرکز مزید فعال، مضبوط اور مؤثر بن سکے۔ تعلیم صرف اساتذہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فریضہ ہے۔

ہم حکومتِ وقت اور محکمۂ تعلیم سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس اسکول کی حالتِ زار پر خصوصی توجہ دی جائے۔ مزید کمروں کی تعمیر، کھیل کے میدان کی فراہمی، اسمارٹ کلاس روم، کمپیوٹر لیب، سائنس لیبارٹری اور اسکول کے گرد چاردیواری جیسے بنیادی مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ بچوں کو بہتر، محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔

یہ ادارہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد بلند ہو تو وسائل کی کمی بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ گورنمنٹ اپر پرائمری اسکول خان محلہ شیڈی پورہ آج بھی خاموشی سے علم کی شمع روشن کیے ہوئے ہے اور آنے والی نسلوں کو امید، شعور اور روشنی کا پیغام دے رہا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ:

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

یہ اسکول بھی چند مخلص افراد کی محنت سے شروع ہوا اور آج ایک قافلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی عطا فرمائے، اساتذہ کی محنت کو قبول فرمائے اور اس تعلیمی چراغ کو ہمیشہ فروزاں رکھے۔

سرکار سے ہماری مؤدبانہ التجا ہے کہ اس اسکول کے مسائل کا فوری اور عملی حل نکالا جائے تاکہ علاقے کے بچوں کا مستقبل محفوظ اور روشن بنایا جا سکے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!