Ad
افسانہ

الزبتھ سے فاطمہ تک

✍️:. عبدالرشید سرشار 


​میلبورن کی شامیں ہمیشہ سے پرسکون ہوتی تھیں، مگر مارک ٹیل کے گھر کی شامیں کچھ زیادہ ہی پُروقار تھیں۔ مارک ٹیل، جو پیشے سے سائنس کے استاد تھے، ان کا گھر ایک چھوٹی سی لائبریری کا منظر پیش کرتا تھا۔ الماریوں میں ترتیب سے لگی کتابیں صرف سجاوٹ کا سامان نہ تھیں، بلکہ مارک کے علم دوست ہونے کا ثبوت دیتی تھیں۔ وہ سائنس پڑھاتے تھے، مگر ان کی روح تہذیبوں اور ثقافتوں کے مطالعے میں مگن رہتی تھی۔

​ان کی بڑی بیٹی الزبتھ، جو مارک کی آنکھوں کا تارا تھی، اپنے باپ کی علمی وراثت کی اصل حقدار نکلی۔ اسے کتابوں سے عشق تھا، ایک ایسا جنون جو اسے دنیا کے پوشیدہ حقائق تلاش کرنے پر اکساتا رہتا۔

​آسٹریلیا کے سیکولر معاشرے میں، جہاں سرکاری اسکولوں میں مذہب ایک ذاتی معاملہ تھا، مارک ٹیل نے الزبتھ کو انتخاب کا حق دیا۔ اگرچہ مارک چاہتا تھا کہ الزبتھ سائنس پڑھے، مگر جب الزبتھ نے آرٹس اور چرچ اسکول کا انتخاب کیا، تو باپ نے اس کی خواہش کے آگے سر جھکا دیا۔

 اتوار کو جب دوسرے بچے ساحلِ سمندر پر موج مستی کرتے، الزبتھ بائبل کے اوراق میں گم رہتی۔ عہدِ نامہ قدیم کے قصوں نے اس کے اندر وہ تشنگی پیدا کر دی کہ وہ عیسائیت، یہودیت، بدھ مت اور اسلام کے تقابلی مطالعے کی راہ پر نکل پڑی۔

​"بیٹی! اندھی تقلید سے بہتر ہے کہ انسان غور و فکر کرے،" 

مارک اکثر اسے نصیحت کرتا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہی نصیحت ایک دن الزبتھ کو اس کے گھر سے بہت دور لے جائے گی۔

​کالج کے دوران الزبتھ نے برصغیر کے بارے میں عجیب و غریب باتیں سنیں۔ 

لوگ کہتے تھے وہاں کے لوگ 'وحشی' ہیں، اصولوں پر سمجھوتہ کرنے والے ہیں اور ذہنی طور پر غلام ہیں۔ مگر الزبتھ کا منطقی ذہن یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ دنیا کی بیس فیصد آبادی صرف منفی خصوصیات کی حامل ہو سکتی ہے۔ اسی تجسس نے اسے آسٹریلیا کے ساحلوں سے نکال کر کشمیر کی وادیوں میں لا کھڑا کیا۔

​کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ سماجی علوم میں داخل ہوتے ہی اسے اس کا فیس بک دوست 'مجید' مل گیا۔

"ہائے الزبتھ! تم یہاں؟" مجید حیران تھا۔

"بس مجید، سچ کی تلاش انسان کو کہیں بھی لے جا سکتی ہے،" الزبتھ نے مسکرا کر جواب دیا۔

​ایک جمعہ کی دوپہر، جب وہ درگاہ حضرت بل کے پاس سے گزر رہی تھی، فضا میں گونجتی ایک آواز نے اسے ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا۔ لاؤڈ اسپیکر پر ایک خطیب بڑے جذباتی انداز میں زندگی، موت اور آخرت کا فلسفہ بیان کر رہا تھا۔

"واؤ! یہ کیا ہو رہا ہے؟" اس نے اپنے گائیڈ سے پوچھا۔

"یہ جمعہ کا خطبہ ہے،" ترجمان نے بتایا، "یہاں لوگوں کو سکھایا جاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور ہمیں ایک دن اپنے خالق کو جواب دینا ہے"۔

​یہی وہ لمحہ تھا جب الزبتھ کے دل میں ایک انوکھی ہلچل مچی۔ اس نے چھ ماہ تک ایک مقامی دارالعلوم میں اسلام کا گہرا مطالعہ کیا۔ وہ جو 'تقابلی مطالعہ' کے شوق میں نکلی تھی، اب خود ایک حقیقت کا حصہ بن چکی تھی۔ اس نے اسلام قبول کر لیا اور اس کا نیا نام 'فاطمہ' رکھا گیا۔

​تعلیم مکمل ہوئی تو اس کی شادی 'اسد' نامی ایک شخص سے کر دی گئی، جو حال ہی میں دو سال  قید کاٹ کر رہا ہوا تھا۔ شروع میں سب کچھ خواب جیسا تھا۔ فاطمہ نے خود کو مکمل طور پر ڈھال لیا۔ وہ اب الزبتھ نہیں رہی تھی، بلکہ ایک ایسی ماں بن گئی تھی جو اپنے بچوں، حسن اور حسین کی تربیت کربلا کے اصولوں پر کرنا چاہتی تھی۔

​مگر افسوس! اسد کی صورت میں اس کا واسطہ ایک ایسے 'روایتی مسلمان' سے پڑا جس کے عمل میں اسلام کی روح مفقود تھی۔ وہ  اپنے ہی گھر میں ظالم بن گیا۔ فاطمہ کی علمی برتری اور اس کا سچائی پر اصرار اسد کی انا کو چبھنے لگا۔ وہ اسد جس نے اسے سہارا دینا تھا، اس کی زندگی اجیرن کرنے لگا۔ یہاں تک کہ بات زبان سے بڑھ کر ہاتھ تک پہنچ گئی۔

​آج مارک ٹیل اس دنیا میں نہیں ہیں۔ آسٹریلیا میں مقیم الزبتھ کے بھائیوں نے اس کے لیے گھر کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے ہیں۔ لیکن وادیِ کشمیر کے کسی گمنام کونے میں، فاطمہ آج بھی اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہے۔ وہ نہ کسی سے گلہ کرتی ہے، نہ اپنے فیصلے پر پچھتاتی ہے۔

​اگرچہ اسد نے اپنی تلخیوں سے ایک نو مسلمہ کا جینا دوبھر کر دیا، مگر فاطمہ کا ایمان کسی انسان کی شخصیت کا محتاج نہ تھا۔ وہ آج بھی الزبتھ سے فاطمہ بننے کے اس سفر پر ثابت قدم ہے، کیونکہ اس نے مذہب کو لوگوں کے رویوں میں نہیں، بلکہ کتابِ مبین کی سچائیوں میں تلاش کیا تھا.

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!