مضامین
شیخ محمد حسن : ۔۔۔ ایک روشن فکر، ایک خاموش انقلاب

وادیٔ کشمیر کے ممتاز عالمِ دین، مفسرِ قرآن، صاحبِ بصیرت رہنمااور سابق امیرِ جماعت اسلامی جموں و کشمیر، شیخ محمد حسن کی رحلت محض ایک جسمانی وجود کے فنا ہونے کا نام نہیں، بلکہ شعور و آگہی کے ایک ایسے چراغ کے بجھنے کا لمحہ ہے جس کی روشنی نے دلوں کو معنی، فکر کو سمت اور زندگی کو مقصد عطا کیا۔ ان کا انتقال اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بعض شخصیات وقت کے دھارے میں محض زندہ نہیں رہتیں بلکہ خود زمانے کی معنویت بن جاتی ہیں۔ وہ علم کے امین، دعوت کے راہی، اخلاص کے پیکر اور استقامت کے استعارے تھے، جنہوں نے اپنی پوری حیات دینِ اسلام کی خدمت، قرآن کے ابلاغ اور انسان کے باطن کی تعمیر کے لیے وقف کر دی۔
شیخ محمد حسنؒ علم اور عمل کے اس نادر امتزاج کا نام تھے جہاں فکر، کردار کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور معرفت، زندگی کے ہر گوشے میں نور بن کر اترتی ہے۔ ان کی گفتگو میں قرآن کی ازلی روشنی، سنت کی روح پرور خوشبو اور حکمت کی وہ تہہ داری نمایاں ہوتی تھی جو لفظ کو معنی اور معنی کو اثر عطا کرتی ہے۔ ان کے دروسِ قرآن صرف آیات کی تفسیر نہ تھے بلکہ دل کے باطن میں ایمان کی حرارت، عقل میں یقین کی استواری اور کردار میں اخلاقی رفعت پیدا کرتے تھے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو شکوک کے دھندلکوں سے نکال کر شعور کے افق، یقین کے سکون اور مقصدِ حیات کی روشن سمت سے آشنا کیا۔تنظیمی ذمہ داریوں میں انہوں نے قیادت کو اقتدار نہیں بلکہ امانت سمجھا، اور بصیرت، حلم اور دور اندیشی کے ساتھ اسے نبھایا۔ ان کی رہنمائی میں دعوت، تعلیم اور اصلاح کی کوششوں کو نئی روح اور تازہ معنویت حاصل ہوئی۔ انہوں نے اعتدال کو حکمت، اتحادِ امت کو ضرورت اور اخلاقی تربیت کو ہر تبدیلی کی بنیاد قرار دیا۔ ان کا طرزِ فکر محبت کی نرمی، اخلاص کی پاکیزگی اور خیر خواہی کی وسعت سے عبارت تھا۔ ان کی رحلت سے صرف ایک شخصیت ہم سے جدا نہیں ہوئی بلکہ شعور، وقار اور روحانی بصیرت کا ایک روشن چراغ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔
شیخ صاحبؒ نے حوادثِ زمانہ کی تند آندھیوں میں بھی چراغِ حق کو بجھنے نہ دیا۔ آزمائشوں کے سنگلاخ صحرا، مخالفتوں کے پرآشوب جنگل اور محرومیوں کی طویل راتیں ان کے عزم کے آفتاب کو دھندلا نہ سکیں۔ انہوں نے اپنی ذات کی آسائشوں کو قربان کر کے اجتماعی خیر کے اس باغ کی آبیاری کی جس کے پھول آنے والی نسلوں کو خوشبو دیتے رہیں گے۔ ان کی زندگی محض ایام کا سلسلہ نہ تھی بلکہ ایک ایسی خاموش تفسیر تھی جس میں تقویٰ روح کی روشنی بن کر جھلکتا تھا، علم حکمت کے دریا کی صورت بہتا تھا، اور خدمت ایک بے صدا دعا کی طرح انسانیت کے دامن میں اترتی تھی۔ وہ سادگی کے لباس میں ملبوس ایک ایسا بلند مینار تھے جس کی چوٹی پر اخلاص کا چراغ روشن تھا، اور جس کی روشنی میں بے شمار دلوں نے راستہ پایا۔
اگرچہ شیخ محمد حسن آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی فکر کی خوشبو اب بھی فضاؤں میں مہک رہی ہے، ان کے الفاظ کی روشنی اب بھی دلوں کے چراغ روشن کر رہی ہے، اور ان کی نصیحتوں کی بازگشت اب بھی ذہنوں کے ویرانوں میں امید کے پھول کھلا رہی ہے۔ وہ ایک ایسا چراغ تھے جو بجھ کر بھی روشنی دے گیا، ایک ایسا درخت جو گر کر بھی اپنی چھاؤں یادوں میں باقی چھوڑ گیا۔ان کی یاد اہلِ علم کے لیے سرمایہ، اہلِ دعوت کے لیے حوصلہ، اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ شیخ محمد حسنؒ کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔