ادب
عزل از :..... اسرا رشید

ہر لمحہ کوئی خواب نیا دام نظر آتا ہے
ہر سوائپ پہ اک قفلِ دوام نظر آتا ہے
-------------------------------
جس شمع کو سمجھے تھے اجالے کی بشارت
وہ اسکرین کا دھوکا، سرِ شام نظر آتا ہے
--------------------------------
لب خاموش ہیں، انگلی مگر مصروفِ بیعت
ہر نوٹیفکیشن پر سجدہِ عام نظر آتا ہے
-------------------------------
ہم نے توڑ دی بیڑیاں آہن کی پرانی
اب ڈوپامین کا پنجہ تمام نظر آتا ہے
--------------------------------
بچے بھی یہاں کھیل میں مصروف نہیں ہیں
ہر ہاتھ میں اک چھوٹا غلام نظر آتا ہے
--------------------------------
محفل میں بھی تنہا ہے، ہجوم میں بھی اکیلا
ہر شخص فقط عکس کا غلام نظر آتا ہے
------------------------------
جو وقت تھا اپنا، وہ کرائے پہ دے بیٹھے
اب ہر گھنٹہ کسی ایپ کا نام نظر آتا ہے
-----------------------------------
آزادی کے نعرے بھی ٹرینڈنگ میں چلتے ہیں
پر لائک کے بدلے ہر کلام نظر آتا ہے
-----------------------------------
چہرے پہ ہے مسکراہٹ مگر آنکھ میں وحشت
ہر سیلفی کے پیچھے انجرام نظر آتا ہے
-----------------------------------
جب نیند سے جاگے تو خبر ڈھونڈتے ہیں ہم
بیداری بھی اک نیند کا دام نظر آتا ہے
------------------------------------
اب سوچ پہ پہرہ ہے، خیالوں پہ کمندیں
ہر کلک پہ اک نیا الزام نظر آتا ہے
-----------------------------------
دوستوں سے ملاقات بھی اب ریل میں گم ہے
رابطہ بھی فقط ایک پیام نظر آتا ہے
----------------------------------
علم کے نام پہ منڈی سجی ہے یہاں پر
ہر طالبِ دانش بھی نیلام نظر آتا ہے
----------------------------------
ہم قیدی ہیں اور خوش ہیں اسیری پہ اپنی
زندان کا در اب تو انعام نظر آتا ہے
----------------------------------
اے شاعرِ ناداں، تری تحریر بھی شاید
اک پوسٹ کے قابل ہی کلام نظر آتا ہے
---------------------------------
جو شخص اٹھا دے یہ نقابِ سرِ محفل
وہ اہلِ جہاں میں بدنام نظر آتا ہے
-----------------------------
توڑے کوئی گر فون تو زنجیرِ نئی کو
ہر سمت سے الزام ہی الزام نظر آتا ہے
--------------------------------
لیکن جو بجھا دے یہ فروزاں سرِ اسکرین
وہ شخص حقیقت میں تمام نظر آتا ہے
------------------------------
اب فیصلہ تیرا ہے، غلامی ہے گوارا
یا تجھ کو بھی یہ جبر حرام نظر آتا ہے