Ad
ادب

عزل از :..... اسرا رشید

✍️ :. اسرا رشید 


ہر لمحہ کوئی خواب نیا دام نظر آتا ہے  

ہر سوائپ پہ اک قفلِ دوام نظر آتا ہے

-------------------------------

جس شمع کو سمجھے تھے اجالے کی بشارت  

وہ اسکرین کا دھوکا، سرِ شام نظر آتا ہے

--------------------------------

لب خاموش ہیں، انگلی مگر مصروفِ بیعت  

ہر نوٹیفکیشن پر سجدہِ عام نظر آتا ہے

-------------------------------

ہم نے توڑ دی بیڑیاں آہن کی پرانی  

اب ڈوپامین کا پنجہ تمام نظر آتا ہے

--------------------------------

بچے بھی یہاں کھیل میں مصروف نہیں ہیں  

ہر ہاتھ میں اک چھوٹا غلام نظر آتا ہے

--------------------------------

محفل میں بھی تنہا ہے، ہجوم میں بھی اکیلا  

ہر شخص فقط عکس کا غلام نظر آتا ہے

------------------------------

جو وقت تھا اپنا، وہ کرائے پہ دے بیٹھے  

اب ہر گھنٹہ کسی ایپ کا نام نظر آتا ہے

-----------------------------------

آزادی کے نعرے بھی ٹرینڈنگ میں چلتے ہیں  

پر لائک کے بدلے ہر کلام نظر آتا ہے

-----------------------------------

چہرے پہ ہے مسکراہٹ مگر آنکھ میں وحشت  

ہر سیلفی کے پیچھے انجرام نظر آتا ہے

-----------------------------------

جب نیند سے جاگے تو خبر ڈھونڈتے ہیں ہم  

بیداری بھی اک نیند کا دام نظر آتا ہے

------------------------------------

اب سوچ پہ پہرہ ہے، خیالوں پہ کمندیں  

ہر کلک پہ اک نیا الزام نظر آتا ہے

-----------------------------------

دوستوں سے ملاقات بھی اب ریل میں گم ہے  

رابطہ بھی فقط ایک پیام نظر آتا ہے

----------------------------------

علم کے نام پہ منڈی سجی ہے یہاں پر  

ہر طالبِ دانش بھی نیلام نظر آتا ہے

----------------------------------

ہم قیدی ہیں اور خوش ہیں اسیری پہ اپنی  

زندان کا در اب تو انعام نظر آتا ہے

----------------------------------

اے شاعرِ ناداں، تری تحریر بھی شاید  

اک پوسٹ کے قابل ہی کلام نظر آتا ہے

---------------------------------

جو شخص اٹھا دے یہ نقابِ سرِ محفل  

وہ اہلِ جہاں میں بدنام نظر آتا ہے

-----------------------------

توڑے کوئی گر فون تو زنجیرِ نئی کو  

ہر سمت سے الزام ہی الزام نظر آتا ہے

--------------------------------

لیکن جو بجھا دے یہ فروزاں سرِ اسکرین  

وہ شخص حقیقت میں تمام نظر آتا ہے

------------------------------

اب فیصلہ تیرا ہے، غلامی ہے گوارا  

یا تجھ کو بھی یہ جبر حرام نظر آتا ہے



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!