Ad
مضامین

وہ جو ہنس مکھ تھا، باوقار تھا اور چلا گیا

وہ جو ہنس مکھ تھا، باوقار تھا اور چلا گیا    غلام محمد ٹھوکر کی یاد میں

✍️ :​عبدالرشید سرشار


​عصر کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد گھر لوٹا تو  چائے کی گرم پیالی ہاتھوں میں سجا لی۔ ابھی پہلا گھونٹ حلق تک نہ اترا تھا کہ موبائل فون کی گھنٹی نے سکوت توڑ دیا۔ ایک ہاتھ میں چائے کا گرم گرم پیالہ سنبھالے دوسرے ہاتھ سے کال وصول کی۔ دوسری طرف ایک عزیز کی لرزتی ہوئی آواز تھی، جس نے ایک ایسی خبر سنائی کہ چائے کی پیالی ہاتھ ہی میں سمٹ کر رہ گئی۔ دل کانپ اٹھا اور چائے کا وہ گھونٹ وہیں کا وہیں رہ گیا ۔خبر ہی ایسی تھی کہ ہمارے گاؤں کی ایک انتہائی معزز، بردبار اور باوقار شخصیت، غلام محمد ٹھوکر المعروف گلہ صدر اچانک دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔

​موت تو برحق ہے، اس کا کوئی تقویم یا کیلنڈر نہیں ہوتا۔ ہر روز کتنے ہی ناگہاں چراغ بجھتے ہیں، کتنی ہی زندگیوں کے قافلے بے وقت لٹتے ہیں، لیکن بعض خبریں ایسی ہوتی ہیں جو دل پر بجلی بن کر گرتی ہیں۔

 شمیم احمد شمیم نے جب اپنے بے تکلف دوست عبدالقادر دیوان کی ناگہانی موت کی خبر پا کر اپنے شاہکار خاکے کا آغاز کیا تھا، تو شاید الفاظ کے پیچھے وہی سکتہ اور ویرانی تھی جو آج غلام محمد ٹھوکر کی اچانک جدائی پر احقر کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہے۔ زندگی کا ایک پختہ کار اور پرخلوص رفیق یوں یکایک بچھڑ جائے گا، اس کا گمان تک نہ تھا۔

​یادوں کے دریچے کھلے تو ذہن 1998 کے دھندلکوں میں اتر گیا۔ تب راقم گورنمنٹ ڈگری کالج اننت ناگ میں بی اے کا طالب علم تھا۔ واپسی کا سفر معمول کے مطابق مسافر بسوں ہی میں کٹتا تھا۔ عصر کے وقت ایک کھٹارا بس میں سوار ہوا، گاڑی ڈورو شاہ آباد کے قریب پہنچی ہی تھی کہ اچانک ایک دہلا دینے والا دھماکہ ہوا۔ وادی کے حالات ان دنوں غایت درجہ مخدوش تھے، بارود کی بو فضا میں رچی ہوئی تھی اور آئے روز کے دھماکوں نے ذہنوں کو خوف کا عادی بنا دیا تھا۔ میرا گمان فوراً یہی ہوا کہ گاڑی کسی بارودی سرنگ کی زد میں آ گئی۔ اوسان خطا تھے، مگر اسی افراتفری اور موت کے روبرو میرے کانوں میں ایک مانوس  آواز پڑی جو پورے اخلاص اور استحضار کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھ رہی تھی: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ اسی لمحے گاڑی الٹ گئی۔ ہوش آیا تو قیامت کا منظر تھا، لوگ شیشے توڑ کر جان بچا رہے تھے۔ میں نے بھی ایک کھڑکی کا کنارہ تھام کر باہر چھلانگ لگائی۔ جب پلٹ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ گاڑی الٹتے وقت موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بلند آواز سے کلمہ پڑھنے والا کوئی اور نہیں، میرے ہی گاؤں کا نوجوان غلام محمد ٹھوکر تھا!

 بعد میں یہ راز کھلا کہ وہ بارودی سرنگ نہیں تھی بلکہ گاڑی کا اگلا ٹائر اپنی عمر پوری کر کے پھٹ گیا تھا، چند مسافر معمولی زخمی ہوئے اور خدا کے فضل سے سب سلامت رہے۔ مگر اس قیامت خیز گھڑی میں جس شخص نے زندگی کی آخری حد پر کلمہ توحید کا دامن نہیں چھوڑا تھا، وہ آج ٹھیک اٹھائیس سال بعد، دل کی دھڑکن رک جانے سے ابدی نیند سو گیا۔

​وقت گزرتا رہا۔ ہمارے گاؤں کی جامع مسجد کی قدیم عمارت نمازیوں کی کثیر تعداد کے پیش نظر ناکافی ثابت ہو رہی تھی۔ اہل موضع نے ایک وسیع اور جدید عمارت کی تعمیر کا عزم کیا۔ مسجد کمیٹی کی ازسرنو تشکیل ہوئی تو صدارت کا قرعہ غلام محمد ٹھوکر کے نام نکلا۔ میں نے بلا جھجک اپنا ووٹ انہی کے حق میں دیا، کیونکہ بس حادثے کے وقت جس ایمانی استقامت کا مظاہرہ انہوں نے کیا تھا، وہ میرے دل پر نقش تھا۔ شومئی قسمت سے احقر کو اس نئی انتظامیہ کا سیکرٹری چن لیا گیا۔ دو درجن ممبران پر مشتمل کمیٹی تو بن گئی، مگر جب وسائل اور بجٹنگ کے مرحلے آئے تو پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔ ہمارے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہیں تھا جسے رگڑتے اور جن حاضر ہو کر سونے چاندی کی اینٹیں اور خزانے ڈھیر کر دیتا۔ بستی کے نوے فیصد سے زائد لوگ خطِ افلاس سے نیچے بسر اوقات کر رہے تھے، بمشکل دو تین فیصد احباب ہی صاحبِ ثروت تھے۔

​ایسے کٹھن حالات میں ہم نے دن رات ایک کر دیا۔ جاڑا ہو یا برسات، بہار کی آمد ہو یا خزاں کے پتے، عیدین کے ایام ہوں یا جمعۃ المبارک کے اجتماعات، ہم نے گھر گھر جا کر دستک دی۔ چند روپوں کی معمولی ریزگاری سے لے کر ہزار دو ہزار تک کے اعلانات سمیٹے۔ بارہ سال سے زائد عمر کے مردوں پر مقرر کردہ رقم کی وصولیابی، نذر و نیاز اور ایصالِ ثواب کے نذرانے، کھاتہ بک، کیش بک اور کارروائی کے رجسٹروں کا پیسے پیسے کا حساب 

غرض تین چار سال تک غلام محمد صاحب کی  صدارت میں ایسی محنت ہوئی کہ 2004 میں جامع مسجد شریف کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس موقع پر ایک باعمل اور مخلص عالم دین کے پُرجوش خطاب نے اہل بستی کے جذبہ ایثار کو وہ مہمیز دی کہ دو ہزار مربع فٹ کے رقبے پر محیط عمارت کے لیے دیکھتے ہی دیکھتے دونوں منزلوں کے اخراجات فراہم ہو گئے اور ایک عظیم الشان مسجد پایہ تکمیل کو پہنچی۔

​دیہاتی زندگی اپنے اندر جتنی سادگی سموئے ہوئے ہے، تنازعات اور الجھنوں سے بھی اتنی ہی بھری ہے۔ کھیت کھلیان کی حد بندیاں ہوں، وراثت کی تقسیم کے شرعی تقاضے، رشتہ و ناطے کی نزاکتیں، میاں بیوی کی ناچاقیاں یا بھائی بھائی کے باہمی جھگڑے

  سادہ لوح دیہاتی عدالتوں اور تھانوں کی خاک چھاننے کو ہمیشہ معیوب گردانتے ہیں۔ ایسے میں ہماری یہ مقامی کمیٹیاں ایک غیر رسمی عدالت کی طرح کام کرتی تھیں جہاں بغیر کسی فیس، بغیر کسی وکیل اور بغیر سالہا سال کے التوا کے، خالصتاً رضاکارانہ جذبے اور شرعی منشا کے مطابق فوری فیصلے کیے جاتے تھے۔ غریبوں کی جبیں کٹنے سے بچ جاتیں اور برادریاں انتشار سے محفوظ رہتیں۔

​اس پنچایتی اور مصالحتی عمل میں غلام محمد ٹھوکر مرحوم کا کردار کلیدی تھا۔ باری تعالیٰ نے انہیں بلا کی معاملہ فہمی، فہم و فراست، بے باکی اور دور اندیشی ودیعت کی تھی۔ وہ محکمہ سیاحت میں پہلے یومیہ اجرت پر ملازم ہوئے، بعد ازاں مستقل ہوئے اور دفتری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ گھریلو اور سماجی فرائض کو کمال دیانت سے نبھایا۔ ان کی دینی حس بیدار اور اسلامی شعور پختہ تھا۔ پنچایت میں بیٹھتے تو بغیر کسی لگی لپٹی اور رو رعایت کے حق بات زبان پر لاتے، اور فریقین کو شریعت و دانائی کے ترازو میں تول کر راضی کر دیتے۔ یہ سلسلہ 2020 تک بحسن و خوبی چلتا رہا۔ کووڈ کے مہیب ایام میں ہم نے مسجد شریف کے زیر سایہ باضابطہ ایک شعبہ قضا قائم کیا تھا تاکہ فقہی آراء کی روشنی میں تنازعات نمٹائے جا سکیں، مگر افسوس کہ بعض کوتاہ اندیش نادانوں کی نذر ہو کر یہ باب بند ہو گیا۔

​ابھی غلام محمد بھائی کی عمر کا وہ سنہرا دور تھا جب ان کا وجود اور تجربہ سماج کے لیے ازحد سودمند تھا۔ ملازمت کی سبکدوشی میں بھی  ایک سال باقی تھا، مگر اجل کا بلاوا آ گیا اور وہ خاموشی سے راہیِ عدم ہوئے۔ پسماندگان میں اہلیہ، دو جوان بیٹے اور ایک بیٹی سوگوار چھوڑے ہیں۔

​خدا مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا!

​دعا گو ہوں کہ باری تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں کو عفو و درگزر کی چادر میں ڈھانپ لے، ان کی حسنات و خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، جنت الفردوس میں اعلیٰ علیین کا مکین بنائے، اور پسماندگان کو صبرِ جمیل و اجرِ عظیم سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین!

​عبدالرشید سرشار

حالسیڈار، ویریناگ

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!