ہندوستان
اردو میڈیم سے انجینئرنگ اور قانون تک، پہلی کوشش میں جے ایم ایف سی بننے والی صائمہ شیخ کی متاثر کن کہانی

اردو میڈیم سے پڑھ کر پہلے انجینئر بنیں، پھر قانون پڑھا اور پہلی کوشش میں جج بننے کی راہ ہموار کرلی۔ ناندیڑ کی صائمہ نکہت شیخ کی متاثر کن کہانی۔ ///.... نوکِ قلم نیوز ڈیسک مہاراشٹر کے ناندیڑ کی صائمہ نکہت شیخ کی تعلیمی کامیابی کی کہانی سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہی ہے۔ خاص طور پر ان کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے مدرسے سے تعلیم حاصل کرکے جج کا امتحان پاس کیا، تاہم دستیاب رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ صائمہ نے اپنی دسویں جماعت تک کی تعلیم یوسفیہ اردو ہائی اسکول، ناندیڑ سے اردو میڈیم میں حاصل کی اور دسویں میں 85.40 فیصد نمبر حاصل کیے۔ اس کے بعد انہوں نے گورنمنٹ پولی ٹیکنک کالج، ناندیڑ سے میڈیکل الیکٹرانکس میں ڈپلومہ کیا۔ پھر الیکٹرانکس اور ٹیلی کمیونی کیشن میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ انجینئرنگ کے بعد صائمہ نے نارائن راؤ چوہان لاء کالج میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کی تعلیم مکمل کی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے ایل ایل بی میں 95.67 فیصد نمبر حاصل کیے اور اس کے بعد ایل ایل ایم کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ صائمہ کے والد شیخ عبدالستار ناندیڑ سیشن کورٹ میں بطور بیلف کام کرتے تھے۔ صائمہ کے مطابق والد کی قانونی شعبے سے وابستگی اور مجسٹریٹ کے عہدے کو ملنے والی عزت نے انہیں بھی قانون کے شعبے کی طرف آنے کے لیے متاثر کیا۔ سب سے اہم مرحلہ اس وقت آیا جب صائمہ نے مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کے ذریعے جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم ایف سی) کا امتحان دیا اور پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی 2023 میں رپورٹ ہوئی تھی۔ صائمہ نے خود بتایا تھا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ان کی دسویں جماعت تک تعلیم اردو میڈیم سے ہوئی۔ اس لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ’’مدرسے سے پڑھ کر جج بننے‘‘ کے دعوے کے بجائے درست بات یہ ہے کہ صائمہ شیخ نے اردو میڈیم اسکول سے تعلیم شروع کی، انجینئرنگ کی، پھر قانون کی تعلیم حاصل کی اور پہلی کوشش میں جے ایم ایف سی امتحان پاس کیا۔ ان کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ طالب علم کی ابتدائی تعلیم کا ذریعہ اس کی آخری منزل طے نہیں کرتا؛ محنت، مسلسل تعلیم اور واضح مقصد کے ساتھ آگے بڑھنے کے کئی راستے کھلے رہتے ہیں۔