Ad
سفر نامہ

سفرِ محمود: قسط نمبر 15

✍️ :. ​عبدالرشید سرشار



​مسجدِ حرام کے مشرقی نقوش: مولد النبیؐ اور شِعبِ ابی طالب کی وادیِ آزمائش

​مسجدِ حرام کے مشرق کی سمت دو اہم ترین اور وجد آفریں تاریخی زیارات واقع ہیں ایک سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش، جسے آج کل "مکتبۃ مکۃ المکرمہ" کہا جاتا ہے، اور دوسری تاریخی زیارت "شِعبِ ابی طالب" یا شِعبِ بنی ہاشم ہے۔

​اگر ہم باب السلام سے باہر نکلیں تو دائیں جانب ایک تاریخی پہاڑی سر اٹھائے نظر آتی ہے، جسے تاریخ "جبلِ ابو قبیس" کے نام سے جانتی ہے۔ جبلِ ابو قبیس اور جبلِ خندمہ کے درمیانی گھاٹی نما خطے کو شِعبِ بنی ہاشم یا شِعبِ ابی طالب کہا جاتا ہے۔ اس کی طوالت ڈیڑھ سے دو کلومیٹر اور چوڑائی ایک سو سے دو سو میٹر کے لگ بھگ ہے۔

​مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مکتبۃ مکۃ المکرمہ:

جبلِ خندمہ کے بالکل دامن میں واقع یہ پرشکوہ پیلے رنگ کی عمارت سیرت کی معتبر کتب کے مطابق وہی بابرکت مقام ہے جہاں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف فرما ہوئے۔ آج کل یہاں ایک کتب خانہ قائم ہے۔ زائرین کے وفورِ جذبات ،دیواروں کو چومنے، تبرک کے نام پر گریہ و زاری اور بعض غلو آمیز حرکات کے پیشِ نظر انتظامیہ نے بیریکیڈز لگا کر اس کے اندر عمومی داخلہ محدود کر رکھا ہے۔

​اسی عمارت اور سعی گاہ (مروہ پہاڑ) کے بالمقابل بیت الخلاء اور حمام واقع ہیں، جنہیں عام زبان میں "ابوجہل کے گھر" سے منسوب کیا جاتا ہے۔ تاریخی و تحقیقی نقطۂ نظر سے یہ بات قطعاً قرینِ قیاس نہیں ہے۔ ابوجہل کا تعلق بنو مخزوم سے تھا، اور اس قبیلے کی آبادی کوہِ صفا اور اجیاد کے درمیانی علاقے میں تھی۔ حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی بنو مخزوم سے تھا، جن کے مکان میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی دور میں خفیہ دعوتِ حق کا فریضہ انجام دیا۔ چنانچہ مروہ کے سامنے اس بیت الخلاء کا ابوجہل کے گھر پر واقع ہونا محض عوامی گمان ہے  بظاہر اہلِ مکہ یا حجاج نے ابو جہل کی اسلام دشمنی کی نفرت میں اس مقام کو اس کے نام سے پکارنا شروع کر دیا۔

​شِعبِ ابی طالب: استقامت کی بے مثال داستان:

یہ گھاٹی تین اطراف سے کوہِ صفا، جبلِ ابو قبیس اور جبلِ خندمہ کے حصار میں ہے۔ نبوت کا ساتواں سال تاریخِ اسلام کا وہ کٹھن موڑ تھا جب قریش نے بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا مکمل سماجی و معاشی مقاطعہ (سوشل بائیکاٹ) کر دیا۔ رشتہ داری، لین دین، خرید و فروخت، یہاں تک کہ سلام و کلام پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ جنابِ ابوطالب اپنے پورے خاندان (سوائے ابولہب کے کے )ساتھ اسی گھاٹی میں محصور ہو گئے۔ ابولہب نے خاندانی روایات کے برعکس اپنے سسرالی قبیلے (بنو عبدالشمس/بنو امیہ) کا ساتھ دیا، کیونکہ اس کی بیوی ام جمیل، ابوسفیان کی بہن تھی۔

​نبوت کے ساتویں سال سے دسویں سال تک، یہ تین سالہ دور بنو ہاشم کے ڈیڑھ سو  سے دو سو نفوس کے لیے ابتلاء و آزمائش کا کوہِ گراں تھا۔ گھاٹی کے دہانے پر ابوجہل اور ابولہب نے سخت چوکیاں بٹھا رکھی تھیں۔ جب کبھی حکیم بن حزام اپنی پھوپھی ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے لیے کچھ اناج چھپا کر لے جانے کی کوشش کرتے تو ان پر تشدد کیا جاتا اور رسوا کیا جاتا۔ محصوری کے اس عالم میں فخرِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جاں نثار ساتھیوں نے درختوں کے پتے ابال کر کھائے اور فاقہ کشی کی انتہا دیکھی۔ صرف حرمت والے مہینوں میں باہر نکلنے کی اجازت ہوتی تھی، مگر وہاں بھی قریش کے اوباش سودا سلف خریدنے نہ دیتے تھے۔

​ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا اصل عالی شان مکان مروہ سے شمال کی جانب تقریباً پچاس ساٹھ میٹر کے فاصلے پر "زقاق الحجر" گلی میں واقع تھا (جو آج کل مسجدِ حرام کے مشرقی صحن یعنی ساحاتِ شرقیہ کے نیچے آ چکا ہے)۔ مگر آپ نے بائیکاٹ کے ایام میں اپنا پرآسائش گھر بار چھوڑ کر اپنے سرتاج صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں شِعب کی خاک چھانی اور اپنی ساری دولت اس بے سروسامانی میں لٹا دی۔ دسویں نبوی میں جب یہ ظالمانہ معاہدہ دیمک کی نذر ہوا اور بائیکاٹ ختم ہوا، تب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اپنے اسی گھر تشریف لائے۔

​موجودہ جغرافیہ اور زائرین کے مغالطے:

آج کی تاریخ میں شِعبِ ابی طالب ایک بہت بڑا بس ٹرمینل، الغزہ تجارتی مراکز اور مکہ ٹاورز کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جبلِ ابو قبیس کے اندر سے کشادہ سرنگیں (ٹنلز) نکالی گئی ہیں جو اجیاد اور جمرات کی سمت جاتی ہیں۔ مولد النبی اور شِعب کے درمیانی رقبے پر آبِ زمزم کا ایک بہت بڑا فلنگ اسٹیشن اور ٹینکیاں قائم ہیں، اور اس وسیع میدان میں عمرہ زائرین صفیں باندھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔

​باب السلام سے نکلتے ہی بالکل سامنے ایک بلند و بالا عمارت میں ایک چھوٹی سی کھڑکی نظر آتی ہے۔ حجاج اور عمرہ  میں یہ قصہ عام ہے کہ یہاں اس بڑھیا کا گھر تھا جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر روزانہ کوڑا پھینکتی تھی، حالانکہ سیرت کی مستند اور مستند ترین کتابوں میں نہ اس واقعے کی کوئی پختہ سند ہے اور نہ ہی اس عمارت کا اس سے کوئی تعلق ہے۔ درحقیقت یہ "قصرِ صفا" ہے، جو سعودی حکومت کا شاہی مہمان خانہ ہے۔ ایامِ حج اور رمضان کے آخری عشرے میں شاہی خاندان اور سربراہانِ مملکت یہاں قیام کرتے ہیں۔ یہ عمارت جبلِ صفا اور دارِ ارقم کے قدیم مقام کے متصل واقع ہے، جبکہ دارِ ارقم اب مسجدِ حرام کی توسیع کا حصہ بن چکا ہے۔ یاد رہے کہ کوہِ صفا وہی تاریخی مقام ہے جہاں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے "وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ" کے حکم کے تحت قریش کے تمام قبائل کو نام بنام پکار کر دعوتِ حق دی تھی۔

​مسجدِ حرام کے توسیعی نظام کے تحت اب عمرہ زائرین کی آمد و رفت میں بھی تبدیلیاں آئی ہیں۔ پہلے معتمرین زیادہ تر باب السلام سے داخل ہوتے تھے، مگر اب مروہ کے شمال میں ایک عظیم الشان "باب الفتح" تعمیر کیا گیا ہے۔ جن زائرین کا قیام مسجدِ جن اور حَفائر کے رخ پر واقع ہوٹلوں میں ہوتا ہے، وہ زیادہ تر اسی شمالی دروازے سے سعی و طواف کے لیے داخل ہوتے ہیں۔

​حجاج اور معتمرین کا یہ فطری اشتیاق ہوتا ہے کہ وہ حرمین شریفین کے چپّے چپّے سے واقف ہوں۔ اگلی قسط میں انشاء اللہ مسجدِ جن، مسجدِ شجر، مسجدِ فتح اور تاریخی قبرستان "جنت المعلیٰ" کے احوال و مشاہدات قلمبند کیے جائیں گے۔

​عبدالرشید سرشار

حالسیڈار، ویریناگ (کشمیر)

7006146074



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!