Ad
مضامین

آہ! مولوی عبدالرحمن ٹھوکر بھی داغِ مفارقت دے گئے۔

✍️ :. عبدالرشید سرشار 



​قلم تھرتھرا رہا ہے اور دل حزن و ملال کے بحرِ بے کراں میں غرق ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے، مگر کچھ ہستیوں کا اٹھ جانا محض ایک شخص کا رخصت ہونا نہیں بلکہ ایک پورے عہد، ایک مکتبِ فکر اور علم و ادب کی ایک زندہ روایت کا دفن ہو جانا ہوتا ہے۔ آج 20 ستمبر کی سحر دم، جب فلک پر سپیدۂ سحر نمودار ہو رہا تھا، ہمارے محترم و مکرم بزرگ، ادیبِ باکمال، عاشقِ قرآن و سنت، آنریری کیپٹن مولوی عبدالرحمن ٹھوکر صاحب نے اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کر دی اور ہم سب کو ہمیشہ کے لیے داغِ مفارقت دے گئے۔

​آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

​موصوف کے اسکول ریکارڈ کے مطابق ان کی تاریخِ پیدائش مئی 1953 درج تھی، لیکن موصوف نے ذاتی نشستوں میں خاکسار سے بارہا ذکر کیا کہ ان کا سنہِ پیدائش دراصل 1950 یا 1951 تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں حالسیڈار میں پائی، آٹھویں جماعت کا مرحلہ کپرن میں طے کیا اور دسویں جماعت کے امتحان کے لیے گورنمنٹ ہائی اسکول قمر میں شریک ہوئے۔ مگر تقدیر کو ان سے کوئی اور ہی خدمت لینی تھی  میٹرک کے امتحان میں عدم کامیابی کے بعد عصری تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور دل میں حصولِ علم دین کی تڑپ انگڑائیاں لینے لگی۔ چنانچہ رختِ سفر باندھا اور ازہرِ ہند، دارالعلوم دیوبند کی خاک چھاننے جا پہنچے۔ وہاں ناظرہ، تجوید و قرات اور عالمیت میں داخلہ لیا۔ وادیٔ کشمیر کے نامور داعی اور استادِ محترم حافظ رحمت اللہ صاحب وہاں ان کے ہم مکتبوں میں شامل تھے، جو بعد میں فارغ التحصیل ہو کر میدانِ عمل میں اترے، جب کہ مولوی عبدالرحمن صاحب کو چند ناگزیر گھریلو اور عائلی وجوہات کے باعث دیوبند کی مسندِ درس کو ادھورا چھوڑ کر وطن واپس آنا پڑا۔

​وطن واپسی پر جب معاش اور روزگار کی فکر دامن گیر ہوئی، تو مقدر انہیں جموں اینڈ کشمیر لائٹ انفنٹری (JAK LI) کے دروازے پر لے گیا، جہاں وہ بحیثیتِ سپاہی جنرل ڈیوٹی، بھرتی ہوئے۔ لیکن علم کا نور کبھی چھپائے نہیں چھپتا۔ سال بھر کی کٹھن عسکری تربیت کے بعد جب پہلی تقرری کے وقت ان کا انٹرویو لیا گیا، تو اربابِ حل و عقد ان کی علمی پختگی، عربی و شرعی علوم پر دسترس اور فکری بلندی دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ سپاہی کے بجائے انہیں بحیثیت ’ریلیجس ٹیچر‘ (آرمی امام) ترقی دے کر ناگالینڈ تعینات کر دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے فوج میں ایک طویل، پروقار اور تابناک سروس گزاری اور تقریباً 2013-14 میں بحیثیت آنریری کیپٹن سبکدوش ہوئے۔ ربِ کریم نے ان کے فضل و کرم سے نہ صرف ان کی ابتدائی معاشی تنگی کو فارغ البالی میں بدلا، بلکہ ان کے درجات کو رفعت بھی عطا فرمائی۔

​فوجی ملازمت کے دوران انہیں ملک بھر کی سیر اور تنوع کو سمجھنے کا موقع ملا۔ آسام کے گھنے جنگلات سے لے کر راجستھان کے تپتے صحراؤں تک، اور مدھیہ پردیش کے میدانوں سے لے کر لداخ کی برف پوش چوٹیوں تک، انہوں نے مختلف ثقافتوں، زبانوں اور انسانوں کا گہرا سماجی و نفسیاتی مطالعہ کیا۔ وسطی ہند کے علمی مراکز جبل پور اور مہو میں قیام ان کی علمی زندگی کا زریں دور ثابت ہوا۔ وہاں انہوں نے کبار علماء سے اکتسابِ فیض کیا۔ ان کی گفتگو کا ایک مستقل اور شیریں تکیہ کلام "غفور صاحب" تھا، جو فوج میں ان کے رفیق اور باکمال امام تھے، جن کا ذاتی دارالمطالعہ ہزاروں نادر کتب پر مشتمل تھا۔ مولوی صاحب نے اپنی زندگی کے بہترین ایام غفور صاحب اور کرنل جہانگیر کی علمی صحبتوں میں گزارے۔ چونکہ ذمہ داری محض امامت کی تھی، اس لیے فراغت کے تمام شب و روز کتابوں کے سمندر میں غوطہ زنی کرتے گزرے۔ انہوں نے بلامبالغہ ہزاروں کتابیں چاٹ لی تھیں۔ نوے کی دہائی میں جب ان کی تعیناتی وادی کے پرخطر سرحدی علاقوں گریز اور ٹنگدار میں تھی، تو نوگام سیکٹر میں ان کی امامت میں پہلی بار باقاعدہ جمعہ قائم ہوا۔ چونکہ اللہ نے انہیں خوبرو، سرخ و سفید رنگت، پروقار ڈیل ڈول اور رعب دار وجاہت دی تھی، اس لیے خطے کے سادہ لوح پہاڑی مسلمان پہلی نظر میں انہیں کوئی کشمیری پنڈت سمجھ بیٹھتے تھے کہ بھلا ایسا حسین و جمیل شخص امام کیسے ہو سکتا ہے!

​مولوی عبدالرحمن صاحب محض روایتی خطیب نہیں تھے، وہ علم کے ایک بحرِ ناپیدا کنار تھے۔ تفسیر، حدیث، فقہ اور معاصر ملی مسائل پر ان کی نظر عمیق تھی۔ قدیم و جدید تفاسیر کے تمام اردو تراجم ان کی نظر سے حرف بہ حرف گزرے تھے۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں موجود تفاسیر کے صفحات پر تاریخ وار حواشی اور ان کے دستخط اس بات کے شاہد ہیں کہ انہوں نے کتابوں کو محض سجایا نہیں، بلکہ دل میں سمایا تھا۔ سیرتِ طیبہ ان کا خصوصی اور قلبی موضوع تھا۔ سیرت ابن ہشام سے لے کر الرحیق المختوم، سیرت سرورِ کائنات اور دُرِّ یتیم تک، سیرت کی سو سے زائد مستند کتب ان کے زیرِ مطالعہ رہ چکی تھیں۔ زبان و ادب کے میدان میں وہ یکتائے روزگار تھے۔ اردو اور فارسی پر انہیں ایسا ملکہ حاصل تھا کہ اب ہمارے خطے میں ان جیسا فارسی داں اور خوش خط شاید ہی کوئی بچا ہو۔ انگریزی بولتے تو تلفظ کا التزام حیران کن ہوتا، عربی میں عمدہ شد بدھ تھی اور ضرورت پڑنے پر روانی سے ٹھیٹھ پنجابی بھی بول لیتے تھے۔ شعر و سخن کا ایسا پاکیزہ ذوق پایا تھا کہ مثنویِ مولانا روم، دیوانِ حافظ، گلستان و بوستان اور علامہ اقبال و غالب کے کلام کے بغیر ان کا دن مکمل نہ ہوتا۔ ان کے سرہانے ہمیشہ مثنوی، دیوانِ حافظ اور نفیس قلم سے لکھی گئی ان کی ذاتی ڈائریاں قرینے سے سجی ملتیں۔ تحریر و قلم میں وہ اپنا تخلص "مسکینؔ" رقم فرماتے تھے۔

​خاکسار کے ساتھ ان کا رشتہ دہرا تھا، قرابت داری کا بھی اور فکری و روحانی وابستگی کا بھی۔ ہمارا سب سے مضبوط رشتہ کتاب کا رشتہ تھا۔ کبھی کبھی علمی و فکری مسائل پر ان سے اختلافِ رائے بھی ہوتا، مگر وہ اختلاف کو احترامِ آدمیت پر کبھی غالب نہ آنے دیتے تھے۔

​مجھے اچھی طرح یاد ہے، یہ 1980 کے آس پاس کا قصہ ہے، میں مکتب جانے کی عمر کو بمشکل پہنچا تھا، قریباً پانچ برس کی عمر تھی۔ ہمارے دیہات میں تعلیم کا چراغ ابھی مدہم سا تھا۔ ایک دن میں نے اپنے گھر کے دالان میں خوبرو نوجوان مولوی عبدالرحمن صاحب کو آتے دیکھا، ان کے ہاتھ میں ایک قاعدہ تھا، شاید ’یسرنا القرآن‘۔ انہوں نے وہ قاعدہ میرے والد صاحب مرحوم کے دستِ مبارک میں تھما دیا۔ پانچ سال کے بچے کا وجدان خطرہ بھانپ گیا کہ یہ آفت میرے لیے ہی لائی گئی ہے۔ میں دن بھر اس قاعدے کو دیکھ دیکھ کر روتا رہا، مگر والدہ محترمہ نے دلاسہ دیا، شفقت سے سمجھایا، تب جا کر کسی مولوی صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور حروفِ تہجی کی پہلی مشق کی۔ کچھ عرصے بعد جب ہمارے گاؤں میں ایک رفاہی اور اسلامی اسکول کی بنیاد پڑی، تو میں چھ سات سال کا ہو چکا تھا۔ مولوی صاحب جب چھٹیوں پر گھر آتے تو اسکول کا چکر ضرور لگاتے۔ وہ جب اپنی کلف لگی آرمی کی وردی میں سج دھج کر باوقار چال کے ساتھ نکلتے، تو دیکھنے والے دم بخود رہ جاتے۔ ان کا قد و قامت، ستون جیسی مضبوط ٹانگیں، وجیہہ چہرہ اور بارعب شخصیت دلوں پر نقش ہو جاتی تھی۔

​سب سے بڑھ کر اللہ نے انہیں لحنِ داؤدی سے نوازا تھا۔ ان کی اذان میں وہ سوز اور کرب تھا کہ سننے والے مسحور ہو جاتے۔ جب وہ منبر پر کھڑے ہوتے تو رقت آمیز لہجے میں تلاوتِ قرآن اور احادیثِ  اس طرح سناتے کہ خود بھی زار و قطار روتے اور سامعین کے قلوب کو بھی پگھلا کر رکھ دیتے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے بغیر کسی دنیوی طمع کے، خالصۃً لوجہ اللہ ہماری جامع مسجد کی خطابت کا فریضہ سنبھالا۔ دورانِ خطبہ جب وہ مولانا روم، شیخ سعدی اور اقبال کے اشعار چھیڑتے، تو ان کا حسنِ بیان ایسا ہوتا کہ عام ان پڑھ کسان بھی شعر کی گہرائی تک پہنچ جاتا تھا۔ وہ نہ صرف خطیب تھے بلکہ گاؤں کے ایک دانشور مصلح بھی تھے۔ اوقاف کی صدارت کا بوجھ بھی ان کے کاندھوں پر ڈالا گیا جسے انہوں نے کمال دیانت سے نبھایا۔ فریقین کے پیچیدہ تنازعات کو وہ قانونی جبر کے تحت نہیں، بلکہ شرعی بصیرت اور حکمتِ عملی سے ایسے حل کرتے کہ دونوں فریق باہم شیر و شکر ہو کر لوٹتے۔

​مولوی صاحب خالص عقیدۂ توحید کے حامل اور باعمل موحد تھے۔ وہ ایسے دور میں  توحیدی اساس لے کر آئے جب ہمارے معاشرے میں اس خالص فکر کی تفہیم آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ انہوں نے معاشرتی رسوم و بدعات کی پروا کیے بغیر، آندھیوں کے رخ پر توحید کا چراغ روشن کیا، اور ساتھ ہی عزیز و اقارب کی صلہ رحمی اور باہمی احترام کو ہمیشہ مقدم رکھا۔

​زندگی کے آخری دس سال ان کی جسمانی آزمائش کے سال تھے۔ شوگر کے موذی مرض نے گھیر لیا۔ چونکہ طبیعت میں ذوقِ طعام اور میٹھے کی رغبت زیادہ تھی اور وہ پرہیز کے معاملے میں کمزور ثابت ہوئے، اس لیے ادویات کے منفی اثرات اور احتیاط کی کمی کے باعث رفتہ رفتہ ان کے دونوں گردے ناکارہ ہو گئے۔ گزشتہ تین برسوں سے وہ مسلسل ڈائیلاسز پر تھے، جس کی وجہ سے ان کے شاندار اور بھاری جسم پر ورم آ جاتا تھا۔ پیاس اور پانی کی بندش اور نقاہت کے باعث آخری ایام میں ان پر غصے اور بے چینی کی کیفیات بھی طاری ہوئیں، مگر ان کی باوفا اور نیک طینت شریکِ حیات اور سعادت مند بچوں نے جس صبر، جاں فشانی اور کمال درجے کی تیمارداری سے ان کی خدمت کی، وہ لائقِ صد تحسین ہے۔

​آج وہ شمع بجھ گئی جو عشروں تک ہمارے مضافات کو علم، کتاب، توحید اور قرآنی لحن سے منور کیے ہوئے تھی۔ مولوی صاحب دنیا سے رخصت ہوئے مگر اپنے پیچھے علم و مطالعہ کا ایک ایسا سنہری نقش چھوڑ گئے ہیں جو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

​دعا ہے کہ ربِ ذوالجلال مرحوم کی تمام مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت بخشے،  ملی خدمات کا بہترین اجر عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے انہیں اپنے مقربین کے ساتھ جنت الفردوس کے اعلیٰ درجات میں جگہ دے، اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!