Ad
مضامین

آن لائن دنیا، تنہا انسان

✍️ : مختار علی


کشمیر میں کبھی شام ڈھلتے ہی گھروں، محلوں اور چوکوں میں رونق محسوس ہوتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے، بزرگوں کے پاس بیٹھتے، نوجوان دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے اور پڑوسی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔ رشتوں کی یہ قربت کشمیری معاشرے کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔ مگر وقت کے ساتھ زندگی کا انداز بدل رہا ہے۔ آج انسان کے ہاتھ میں دنیا تو آگئی ہے، لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کی اپنی دنیا اس سے دور ہوتی جا رہی ہے؟

موبائل فون اور سوشل میڈیا نے کشمیر میں بھی روزمرہ زندگی کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور دیگر آن لائن پلیٹ فارم رابطے کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ دور بیٹھے رشتہ داروں سے بات کرنا، خبریں حاصل کرنا، تعلیمی مواد دیکھنا اور اپنی سرگرمیوں کو دوسروں تک پہنچانا اب چند لمحوں کا کام ہے۔ بلاشبہ یہ ٹیکنالوجی کی بڑی سہولت ہے، لیکن ہر سہولت کے ساتھ اس کے درست استعمال کی ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔

آج کشمیر کے بہت سے گھروں میں ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے افراد اپنی اپنی اسکرینوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ والدین موبائل پر، بچے موبائل پر اور نوجوان سوشل میڈیا کی دنیا میں۔ گفتگو کم اور اسکرولنگ زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہونے کے باوجود ذہنی طور پر سب اپنی الگ دنیا میں موجود ہیں۔

یہ صورتِ حال نوجوان نسل کے لیے خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ کشمیر کے نوجوان پہلے ہی تعلیم، روزگار اور مستقبل کے مختلف سوالات سے نبردآزما ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا اگر علم اور مثبت سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو تو ایک نعمت ہے، لیکن اگر اس کا استعمال محض وقت گزاری، غیر ضروری موازنے اور مسلسل ورچوئل مصروفیت تک محدود ہوجائے تو یہ انسان کو اپنی حقیقی زندگی سے دور کرسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر دوسروں کی کامیابیاں اور خوشیاں دیکھ کر بعض نوجوان اپنی زندگی کو ان کے ساتھ موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی زندگی مکمل حقیقت نہیں ہوتی۔ نتیجتاً انسان کے اندر بے اطمینانی بڑھ سکتی ہے اور وہ اپنے اردگرد موجود حقیقی نعمتوں اور رشتوں کی قدر کم کرنے لگتا ہے۔

سب سے زیادہ نقصان خاندانی گفتگو کا ہو رہا ہے۔ پہلے گھر میں بزرگوں کی بات سنی جاتی تھی، بچوں کے مسائل پر گفتگو ہوتی تھی اور خاندان کے افراد ایک دوسرے کے حالات سے واقف رہتے تھے۔ اب بعض گھروں میں ضروری بات بھی مختصر پیغام کے ذریعے پہنچائی جاتی ہے۔ یوں ٹیکنالوجی نے رابطے کو آسان تو کیا، مگر بعض اوقات تعلق کی گہرائی کم کردی۔

کشمیر جیسے معاشرے کے لیے یہ تبدیلی معمولی معاملہ نہیں۔ ہماری سماجی طاقت صرف قدرتی حسن میں نہیں بلکہ باہمی تعلق، پڑوسیوں کے حقوق، بزرگوں کے احترام اور خاندان کی مضبوطی میں بھی ہے۔ اگر نئی نسل حقیقی معاشرتی زندگی سے کٹ کر صرف ایک ورچوئل دنیا میں پروان چڑھے گی تو آنے والے وقت میں اس کے اثرات ہماری سماجی ساخت پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس صورتِ حال کا حل ٹیکنالوجی سے دوری نہیں بلکہ توازن ہے۔ والدین بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، تعلیمی ادارے ڈیجیٹل شعور پیدا کریں اور نوجوان یہ طے کریں کہ موبائل ان کی ضرورت ہے، ان کی زندگی نہیں۔ گھر میں روزانہ کچھ وقت ایسا ضرور ہو جب موبائل ایک طرف رکھے جائیں اور خاندان کے افراد ایک دوسرے سے براہِ راست گفتگو کریں۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہزاروں آن لائن رابطے ایک مخلص رشتے کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ کسی بزرگ کے پاس بیٹھنا، کسی دوست سے بالمشافہ ملنا، پڑوسی کا حال پوچھنا اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا وہ انسانی تجربات ہیں جنہیں کوئی اسکرین مکمل طور پر بدل نہیں سکتی۔

کشمیر کو صرف تیز رفتار انٹرنیٹ نہیں، مضبوط انسانی رابطوں کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی ڈیجیٹل زندگی اختیار کرنی ہوگی جو ہمیں دنیا سے جوڑے، مگر اپنے گھر، اپنے خاندان اور اپنے معاشرے سے دور نہ کرے۔

آخر میں سوال یہی ہے: ہم آن لائن دنیا سے تو جڑ گئے، لیکن کیا ہم اپنے آس پاس کے انسانوں سے بھی اتنے ہی جڑے ہوئے ہیں؟

اگر جواب نفی میں ہے تو شاید وقت آگیا ہے کہ کبھی کبھی موبائل کی اسکرین بند کرکے اپنے اردگرد کی حقیقی دنیا کو بھی دیکھا جائے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!