Ad
سفر نامہ

سفرِ محمود :.... قسط نمبر 17

✍️ :. عبدالرشید سرشارؔ


​مکہ مکرمہ کی تپتی ہوئی گھاٹیوں سے ذرا پرے، قریش کے ظلم و استہزاء اور روح فرسا اذیتوں سے دور، دو نہایت معزز، برگزیدہ اور پاکیزہ ہستیاں وادی کے ایک پرسکون گوشے کی طرف تشریف لے جا رہی تھیں۔ طویل مسافت، شدید گرمی، بھوک اور پیاس نے اپنا اثر دکھایا تو نگاہیں کسی سہارے کی متلاشی ہوئیں۔ اچانک سامنے دیکھا کہ ایک کمسن نوجوان بکریاں چرا رہا ہے۔

​ان دو معزز ہستیوں میں سے ایک نے شفقت بھرے لہجے میں پوچھا:

اے لڑکے، کیا تمہارے پاس کچھ دودھ ہے جو تم ہمیں پلا سکو اور ہماری پیاس بجھ سکے؟

​نوجوان نے ادب مگر استقامت سے جواب دیا:

’’یہ بکریاں میری ملکیت نہیں ہیں، میں تو محض ایک امانت دار چرواہا ہوں۔ اس لیے میرے لیے ممکن نہیں کہ میں امانت میں خیانت کر کے آپ کو ان کا دودھ پلاؤں۔‘‘

​یہ پوچھنے والے کوئی عام انسان نہ تھے؛ یہ انسانیت کے سب سے بڑے محسن، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے مخلص ترین یارِ غار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ اور امانت و دیانت کا وہ پیکر، بکریاں چرانے والا نوجوان عقبہ بن ابی معیط کا چرواہا، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھا۔

​حرم شریف کی مروہ پہاڑی کی سمت سے باہر نکلتے ہوئے، شمال کی جانب تقریباً بارہ سو میٹر کی مسافت پر طریق مسجدِ حرام اور شارع الحجون کے سنگم پر، مسجدِ فتح سے محض چار سو میٹر کے فاصلے پر عالمِ اسلام کی ایک بے حد تاریخی اور ایمان افروز زیارت  واقع ہے، جسے دنیا مسجدِ جن کے نام سے جانتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں اسے مسجد الحرس اور مسجد البیعت سے بھی پکارا گیا ہے۔

​یہ ایک خوبصورت، مستطیل اور دو منزلہ عمارت ہے۔ اس میں نمازیوں کی گنجائش لگ بھگ دو سو سے ڈھائی سو تک ہے۔ نچلی منزل مرد حضرات کے لیے مختص ہے جبکہ بالائی منزل خواتین  کے لیے ۔ عرفِ عام میں اس پورے چوک اور محلے کو غزہ محلہ کہا جاتا ہے۔ عمرہ زائرین یہاں حاضری دینا، نوافل ادا کرنا اور اس تاریخی زمین کو چومنا اپنے لیے باعثِ سعادت اور تبرک سمجھتے ہیں۔ اس مسجد کے قرب و جوار میں مسجدِ شجرہ، مسجدِ فتح اور مکہ معظمہ کا تاریخی و مقدس قبرستان ’’جنت المعلیٰ‘‘ بھی واقع ہیں۔

​یہ مقام عالمِ اسباب اور عالمِ ارواح کے درمیان ایک محیر العقول تعلق کا شاہد ہے۔ اسی مبارک جگہ پر جنات کے ایک وفد نے فخرِ موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ مبارک سے قرآنِ مجید کی آیات سنیں، حق کو پہچانا اور اسلام قبول کیا۔ 

ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محض بنی آدم کے لیے نہیں بلکہ جن و انس دونوں جہانوں کے لیے نبی اور ہادی بنا کر مبعوث فرمائے گئے ہیں۔

​یہ دس تا بارہ نبوی کا پُرآشوب دور تھا، جب مکہ مکرمہ کی سرزمین مسلمانوں پر تنگ کر دی گئی تھی۔ کفار کے مظالم انتہا کو پہنچ چکے تھے اور بظاہر ایسا لگتا تھا کہ مکہ میں مزید کوئی سعید روح دعوتِ حق کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ پھر تیرھویں نبوی کو ہجرتِ مدینہ کا عظیم واقعہ پیش آیا۔ مگر اس ہجرت سے کچھ عرصہ قبل، اللہ تعالیٰ نے اسی مقام پر جہاں آج مسجدِ جن قائم ہے، جنات کے سات یا نو سرداروں کو اپنے ماتحت جنوں کے ہمراہ بھیجا۔ انہوں نے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کی، حق کو گلے لگایا اور پھر اپنی اپنی بستیوں اور وادیوں میں جاکر جنوں میں اسلام کی دعوت دینے لگے۔

​اس محیر العقول اور غیبی واقعے کے چشم دید گواہ وہی چرواہے تھے جن کا ذکر آغاز میں گزرا یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

​مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کی مزید تفصیل سے قبل اس جلیل القدر صحابی کا تذکرہِ خیر کر لیا جائے جن کی دیانت نے پہلی ہی ملاقات میں نبوت کی نظروں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔

​حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ’’السابقون الاولون‘‘ یعنی ابتدائی مسلمانوں میں شامل ہیں۔ روایات بتاتی ہیں کہ ان سے قبل صرف پانچ خوش نصیب شخصیات دولتِ اسلام سے مالا مال ہوئی تھیں، یوں آپ اسلام قبول کرنے والے چھٹے خوش بخت انسان قرار پائے۔

​اس تشنہ کام دوپہر کا قصہ سنیے جب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے  دیانت دار نوجوان چرواہے سے پوچھا کہ کیا ایسی کوئی بکری موجود ہے جس نے ابھی تک بچے کو جنم نہ دیا ہو اور اس کے تھنوں میں دودھ نہ اترا ہو؟

 نوجوان نے ایک چھوٹی بکری کی طرف اشارہ کیا۔ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، اپنا دستِ  رحمت اس بکری کے خشک تھنوں پر پھیرا اور اللہ کا نام لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تھن دودھ سے بھر گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فوراً پیالے کی شکل کا ایک گہرا پتھر لے آئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے دودھ دوہا۔ دونوں حضرات نے خوب سیر ہو کر پیا اور اس نوجوان کو بھی پلایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھنوں پر دوبارہ ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ’’سمٹ جاؤ!‘‘ تو تھن اپنی پہلی حالت پر واپس آگئے۔

​کم سن چرواہا یہ روشن معجزہ دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ اس نے اسی وقت کلمہ پڑھا اور غلامیِ مصطفیٰ میں داخل ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کے سر پر دستِ شفقت رکھ کر فرمایا

انّک غلام معلّم

بے شک تم ایک سکھائے پڑھائے اور باصلاحیت نوجوان ہو۔

​یہی امانت دار چرواہا آگے چل کر فہمِ دین، علمِ حدیث، فقہ اور تفسیر کا وہ درخشندہ آفتاب بنا جس کی روشنی سے امت ہمیشہ فیض یاب ہوتی رہی۔ کعبۃ اللہ کے صحن میں قریش کے خونخوار سرداروں کی موجودگی میں کھڑے ہو کر جس پاکباز ہستی نے سب سے پہلے اعلانیہ اور بلند آواز سے سورۃ الرحمٰن کی تلاوت کا تاریخی کارنامہ انجام دیا، اور بدلے میں ظالموں کے بدترین تشدد کو مسکراتے ہوئے اپنے بدن پر جھیلا، وہ یہی عبداللہ بن مسعود تھے۔

​دربارِ رسالت میں آپ کو ایک بے پایاں قرب حاصل تھا۔ سفر و حضر میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارک، مسواک شریف، تکیہ اور وضو کے پانی کو سنبھالنے کی خدمت انہی کے سپرد تھی۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ چال ڈھال، سیرت و اخلاق اور عادات و اطوار میں عبداللہ بن مسعود رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ تھے۔ قرأتِ قرآن میں آپ کو کمال حاصل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا:

جو شخص قرآن کو اسی طرح ترو تازہ پڑھنا چاہتا ہے جیسا کہ وہ نازل ہوا ہے، تو وہ ابنِ ام عبد (عبداللہ بن مسعود) کی قرأت پر پڑھے۔

علم و اجتہاد کے آپ بانیوں میں سے ہیں، اور بعد کے ادوار میں فقہِ حنفی کی وسیع علمی و فکری بنیادیں انہی کے تلامذہ (شاگردوں) کے ذریعے پروان چڑھیں۔

​اسی مقام پر جہاں آج مسجد جن ایستادہ ہے، جنوں کی آمد کے چشم کشا واقعے کو خود حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کمال تفاصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

​آپ فرماتے ہیں کہ ایک رات وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی میں پہنچے تو زمین پر ایک خط (حصار یا لکیر) کھینچ دی اور عبداللہ بن مسعود کو سختی سے ہدایت فرمائی:

خبردار، جب تک میں واپس نہ آؤں، اس حصار سے باہر مت نکلنا۔

​حضور صلی اللہ علیہ وسلم تنِ تنہا اس حصار سے آگے تشریف لے گئے اور قرآنِ مجید کی تلاوت شروع فرمائی۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ سیاہ بادلوں اور پرندوں کے جھنڈ کی مانند پرہیبت سائے نمودار ہونے لگے، فضا میں عجیب قسم کا پراسرار شور گونجنے لگا۔ وہ سائے تیزی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد پروانہ وار جمع ہو گئے، یہاں تک کہ وہ میرے اور آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مکمل طور پر حائل ہو گئے۔

​ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میرے دل پر شدید خوف طاری ہوا کہ کہیں یہ مخلوق میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گزند نہ پہنچا دے

دل چاہا کہ دوڑ کر حضور کے پاس جاؤں، لیکن زبانِ رسالت کی سخت نصیحت میرے پاؤں کی زنجیر بن گئی کہ اس حصار سے باہر قدم نہیں رکھنا۔ چنانچہ میں اپنی جگہ ہمہ تن گوش اور ساکت کھڑا رہا۔

​قرآن کی پاکیزہ صدائیں رات کے سناٹے کو چیرتی رہیں۔ جب سحر کے آثار نمودار ہوئے اور فجر کا وقت قریب آیا تو وہ جمگھٹا آہستہ آہستہ تحلیل ہونے لگا اور رخصت ہو گیا۔

​یہ قافلہ دراصل عراق اور شام کی سرحدوں اور نصیبین کے دور دراز جزائر سے آئے ہوئے جنات کا وفد تھا، جن میں ان کے نامور سردار جنہیں زوبعہ اور وردان کہا گیا بھی شامل تھے۔ انہوں نے نورِ حق کو پہچانا، ایمان کی دولت سے جھولیاں بھریں اور فجر کی سپیدی پھیلتے ہی اپنے علاقوں کی طرف پلٹ گئے تاکہ اپنی قوم کو عذابِ الٰہی سے ڈرائیں اور اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دیں۔

 ​قرونِ اولیٰ، صحابہ کرام اور تابعین کے مبارک ادوار سے ہی اس جگہ ایک جائے نماز اور مسجد کا اہتمام موجود رہا ہے۔ خلافتِ عباسیہ کے زریں عہد اور بعد ازاں سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں وقتاً فوقتاً اس مسجد کی تعمیر، تجدید اور توسیع کی جاتی رہی۔ موجودہ سعودی دور میں جدید اسلامی فنِ تعمیر کے امتزاج سے ایک خوبصورت،پر وقار عمارت اور ایک  مینار اس کی پہچان بنا۔

​مسجد کے ارد گرد آج جنوب اور مغرب کی سمت بلند و بالا اور فلک بوس جدید ہوٹل تعمیر ہو چکے ہیں، جن کی اونچائی کے سامنے مسجد کا مینار چھوٹا نظر آتا ہے۔

​جس گھڑی راقم الحروف نے دیگر خوش نصیب زائرین کے ہمراہ اس پرشکوہ چوکھٹ پر اپنے گناہ گار پاؤں رکھے، تو اندر کا منظر روح کو موہ لینے والا تھا۔ کچھ زائرین پرسکون انداز میں عبادت کی تھکن اتارنے کے لیے لیٹے ہوئے تھے، کچھ پروانے تلاوتِ کلام پاک میں محو تھے، اور کچھ ذکر و اذکار کے زمزموں میں گم تھے۔ حسبِ معمول، دیواروں پر نصب چھوٹی چھوٹی خوبصورت الماریوں میں قرآنِ مجید کے نسخے انتہائی سلیقے اور قرینے سے سجائے گئے تھے۔ زائرین میں کثیر تعداد برصغیر پاک و ہند کے درویش صفت زائرین کی تھی، جن کے چہروں پر عاجزی اور ندامت کا نور دمک رہا تھا۔

​مسجد کے اندر، قبلہ کے مقابل دیوار کے قریب بڑے بڑے جدید ریفریجریٹر رکھے ہوئے ہیں، جو  پینے کے ٹھنڈے پانی کی بوتلوں سے بھرے رہتے ہیں۔ تشنہ لب مسافر اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور واپسی پر تبرک کے طور پر بوتلیں ساتھ بھی لے جاتے ہیں۔

​اس خنک اور معطر فضا میں بیٹھتے ہی میرا تخیل صدیوں کے فاصلے سمیٹ کر ماضی کے اس منظر میں جا پہنچا۔ جنات کی وہ پراسرار پروانہ وار آمد، فخرِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک سے کھینچا گیا وہ نورانی حصار، اس حصار میں مؤدب کھڑے عاشقِ صادق عبداللہ بن مسعود، اور فضاؤں میں گونجتی لحنِ مصطفیٰ کی وہ روح پرور تلاوت ہر منظر میری آنکھوں کے سامنے ایک روشن فلم کی مانند گردش کرنے لگا۔

​پھر کیا تھا، دل قابو میں نہ رہا اور گناہ گار آنکھیں جھلک پڑیں۔ بے ساختہ آنسو رخساروں پر بہنے لگے۔ یہ نہ معلوم شکرانے اور مسرت کے آنسو تھے، یا اس پاکیزہ سرزمین پر غیبی تجلیات کے اثر سے بے خودی کے عالم میں دل کی کدورتوں کو دھونے والا کوئی آبِ رحمت تھا! یوں محسوس ہوا جیسے اشکوں کے اس جھرنے نے روح پر جمی ہوئی گناہوں کی دھول کو ایک ہی لمحے میں دھو کر شفاف کر دیا ہو۔

​اس پاکیزہ دربار سے رخصت ہوتے ہوئے نگاہیں بار بار پلٹ کر اس مینار کو دیکھتی رہیں۔

 اگلی قسط میں، ان شاء اللہ الرحمٰن، عاشقانِ رسول کے ایک اور عظیم مسکن، مکہ معظمہ کے قدیم ترین اور پربرکت قبرستان ’’جنت المعلیٰ‘‘ کی پرکیف حاضری کا احوال قلم بند کیا جائے گا۔ دعا گو رہیے گا۔

​خاکسار و دعا جو:

سفرِ محمود  قسط نمبر 17

حالسیڈار، ویری ناگ

رابطہ: 7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!