سفر نامہ
سفرِ محمود:.... قسط نمبر 16

✍️ :. عبدالرشید سرشار
آج کا سفر تاریخ کے ان روشن نقوش کی بازیافت ہے جو امتدادِ زمانہ کے باوجود مکہ مکرمہ کی خاک میں مہک رہے ہیں۔ مسجدِ حرام کے بابِ مروہ سے نکل کر قریباً ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کیجیے تو حَیّ سلیمانیہ یا محلہ سلیمانی کا تاریخی علاقہ سامنے آتا ہے۔ یہ وہ بقعۂ نور ہے جہاں اسلامی تاریخ کی دو بے مثال اور پرشکوہ یادگاریں باہم بغل گیر کھڑی ہیں مسجدِ شجرہ اور مسجدِ فتح مسجدِ رایَہ۔
مسجدِ حرام کے شمالی رخ پر شارع الغزہ کے کنارے، گلی کے موڑ پر واقع ننھی سی عمارت تاریخ میں مسجدِ شجرہ یا مسجد الجندراوی کے نام سے معروف ہے۔ امام فاکہی اور امام ازرقی کی روایات ہمیں نبوت کے آٹھویں تا دسویں سال کے اس پرآشوب دور میں لے جاتی ہیں جب شعبِ ابی طالب کی جاں گسل گھاٹی میں آلِ محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم ہمہ گیر سماجی و معاشی مقاطعہ کی سختیاں جھیل رہے تھے۔ انہی ایام میں قریش کے نامور پہلوان رکانہ بن عبدِ یزید المطلبی نے اسی جگہ پر سرکارِ دوعالم ﷺ سے صدقِ نبوت کے لیے کسی خرقِ عادت معجزے کی فرمائش کی۔ روایات شاہد ہیں کہ ابو جہل ، عتبہ اور شیبہ نے بھی اس کٹھن گھڑی میں معجزہ طلب کیا تھا۔ رحمة للعالمین ﷺ نے نگاہِ التفات فرمائی اور سامنے موجود ایک درخت کو طلب فرمایا۔ چشمِ فلک نے دیکھا کہ وہ درخت زمین کا سینہ چیرتا ہوا بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، دست بستہ سلام عرض کیا، حضورؐ کی نبوت کی ببانگِ دہل گواہی دی، اور پھر حکمِ نبویؐ پاتے ہی واپس پلٹ کر اپنی جڑوں میں پیوست ہو گیا۔ رکانہ نے تب اسے ساحری سے تعبیر کیا، مگر حق کا یہ بیج بلآخر بارآور ہوا اور فتحِ مکہ کے تابناک دن رکانہ بھی مشرفِ بہ اسلام ہو گئے۔
حضور اکرم ﷺ نے اس معجزۂ شجر پر بارگاہِ الٰہی میں شکرانے کے نوافل ادا فرمائے تھے، اور بعد ازاں اسی نسبت سے یہاں مسجد قائم ہوئی۔
یہ مستطیل شکل کی خوش نما مسجد، جس کے بائیں جانب شارع الحجون اور دائیں سلیمانیہ کا رخ ہے، تقریباً دو سو نمازیوں کی گنجائش رکھتی ہے۔ یہاں پنج وقتہ باجماعت نماز کا اہتمام تو ہے لیکن نمازِ جمعہ ادا نہیں کی جاتی۔ مسجد کے عقب میں پاکستانی حجاموں کی بڑی دکانیں ہیں، جہاں معتمرین اور حجاج سنتِ حلق و قصر کی ادائی کے لیے پانچ ریال تا بیس ریال تواضع کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ بیشتر ضعیف العمر زائرین اور قرب و جوار کے تاجر یہاں صف آرا ہوتے ہیں، جبکہ قوی ہیکل زائرین کی تڑپ مسجدِ حرام ہی رہتی ہے۔
مسجدِ شجرہ سے پلٹ کر جونہی مسجدِ حرام کی جانب قدم بڑھائیں تو دائیں ہاتھ کشادہ سڑک مسجدِ جن اور قبرستانِ معلّٰی کی طرف رہنمائی کرتی ہے، لیکن اس وقت ہماری نگاہیں شارع الغزہ کے ٹھیک پار، بمشکل سو میٹر کے فاصلے پر کھڑی ایک اور تاریخی مسجد پر جم گئیں۔ یہ مسجدِ فتح ہے، جسے تاریخ مسجدِ رایَہ کے نام سے بھی جانتی ہے۔ "رایَہ" عربی میں پرچم کو کہتے ہیں۔
اس سو میٹر کے مختصر سے فاصلے کو عبور کرتے ہوئے احقر کے تخیل میں بارہ برس کی تاریخ ایک متحرک فلم بن کر دوڑ گئی۔ کتنا روح فرسا منظر تھا وہ مسجدِ شجرہ کے زمانے کا، جب کلمۂ حق کا ابلاغ جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، چار سو قید و بند اور مقاطعے کے سائے تھے، اور دل خون کے آنسو روتا تھا۔ پھر ہجرتِ مدینہ کا پرسکون سویرا پھوٹا، اخوت کی بنیادیں استوار ہوئیں، اور بدر، احد، احزاب سے لے کر صلحِ حدیبیہ کے سنگِ میل طے پائے۔ حدیبیہ کے اسی امن معاہدے نے عرب کے قبائل کو خودمختاری دی تھی، جہاں بنو خزاعہ مسلمانوں سے اور بنو بکر قریش سے جا ملے۔ مگر جب بنو بکر نے عہد شکنی کرتے ہوئے بنو خزاعہ پر شب خون مارا اور قریش نے ان کی پشت پناہی کی، تو مظلومینِ خزاعہ کی فریاد بارگاہِ نبوی ﷺ میں پہنچی۔ قریش طاقت کے خمار میں الٹی میٹم ٹھکرا بیٹھے اور معاہدہ کالعدم ہو گیا۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ 8 ہجری کو، بیس رمضان المبارک کی ایک پرشکوہ صبح، دس ہزار قدسی صفات سرفروشوں کا لشکرِ جرار وادیِ مکہ میں خیمہ زن تھا۔
ٹھیک اسی مقام پر، جہاں آج مسجدِ فتح قائم ہے، محسنِ انسانیت ﷺ فاتحانہ شان اور سراپا عاجزی کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے۔ یہ مکہ کا بالائی اور سٹریٹجک حصہ تھا جہاں سے تمام فوجی پیش قدمی پر نگاہ رکھی جا سکتی تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے اسلام کا مرکزی پرچم (رایَہ) جلیل القدر صحابی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو اسی جگہ نصب کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ یہاں آپ ﷺ نے غسل فرمایا اور نمازِ ظہر ادا کی۔ ذرا تصور کیجیے۔
وہ مکہ والے جنہوں نے نبیؐ اور صحابہ پر زمین تنگ کی تھی، ان کے مکانات اور اثاثے چھینے تھے، بدن کا لباس تک نوچ لیا تھا، وہ سب اسی دربار میں لرزاں و ترساں اپنی تقدیر کا فیصلہ سننے کے لیے دم بخود کھڑے تھے، اور زبانوں پر ایک ہی التجا تھی: "أخٌ کریمٌ وابنُ أخٍ کریم" (آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے فرزند ہیں)۔
خیالات کے اس دھارے کو شارع المسجد الحرام پر فراٹے بھرتی ایک تیز رفتار کار کے اچانک بریک نے توڑا، اور احقر مسجدِ فتح کے روبرو کھڑا رہ گیا۔ اس مقام پر پہلی بار مسجد عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے عہد میں تعمیر ہوئی، پھر مملوک اور عثمانی سلاطین کے دور میں اس کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی، اور آج یہ جدید خطوط پر استوار ایک پروقار، یک منزلہ مستطیل مسجد کے طور پر جلوہ افروز ہے۔ مسجدِ شجرہ کی طرح یہاں بھی نمازِ پنجگانہ کا روح پرور سماں رہتا ہے۔
یہ دونوں مساجد دراصل اسلامی نشاۃِ ثانیہ کے دو عہد ساز کناروں کی مظہر ہیں ۔مسجدِ شجرہ استقامت کے بیج بونے کی داستاں ہے، اور مسجدِ فتح اسلامی ریاست کی ثمر آوری اور غلبۂ حق کا روشن باب ہے۔
احقر نے نم دیدہ زائرین کے ہمراہ اس مبارک عمارت کی چوکھٹ چومی، مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نفل شکرانہ ادا کیے۔ الماریوں میں قرینے سے آراستہ مصاحفِ قرآنی کی تلاوت کی سعادت پائی۔ اس متبرک فرش پر پیشانی ٹیکتے ہوئے دل کانپ اٹھا کہ یہی وہ مٹی ہے جہاں آقائے نامدار، سید الانبیاء ﷺ اور ان کے چاک و چوبند سرفروش اصحاب کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لیے سر بکف کھڑے تھے۔
بارگاہِ رب العزت میں التجا ہے کہ ان پاکیزہ مشاہد اور مقدس تاریخی مساجد کی زیارت اور ان کے تاریخی و روحانی معارف سے فیضیاب ہونا ہم سب کے مقدر میں بار بار رقم فرمائے۔ آمین، ثم آمین یا رب العالمین۔
حالسیڈار، ویری ناگ (کشمیر)
رابطہ: 7006146071