Ad
سفر نامہ

سفرِ محمود:... قسط نمبر 18

✍️ :. عبدالرشید سرشارؔ 


​حرمِ مکی میں ہر فرض نماز کے بعد سلام پھیرتے ہی فضا میں جنازوں کے اعلانات گونجنے لگتے ہیں۔ اس قافلۂ اموات میں دو تین سے لے کر دس بارہ تک  کی تعداد ہوتی ہے ایک ہی صفِ میں ایک ہی نمازِ جنازہ سب کے لیے ادا کی جاتی ہے۔ باہر سے آنے والے زائرین کے دل و دماغ میں عموماً یہ خوش فہم خیال جاگزیں رہتا ہے کہ حرم سے اٹھنے والے ان تمام جنازوں کا آخری مسکن شاید تاریخ کی آغوش، یعنی "جنت المعلیٰ" بنتا ہے۔ مگر حقیقت اس عام تاثر کے بالکل برعکس ہے۔

​کوہِ حجون کے دامن میں تقریباً ایک لاکھ مربع میٹر پر محیط یہ پرشکوہ قبرستان محض ایک مدفن نہیں، بلکہ تاریخِ اسلام کی زندہ کتاب ہے۔ یہ قبرستان عہدِ قصی بن کلاب سے لے کر آج تک اپنے سینے میں وہ درّہائے نایاب چھپائے ہوئے ہے جن پر تاریخ کو ناز ہے۔ یہاں سید الانبیاء ﷺ کے شفیق دادا  عبدالمطلب، غمگسار چچا ابو طالب، لختِ جگر حضرت قاسم و عبداللہ، اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما جیسی جلیل القدر شخصیات پیوند خاکر ہوئی ہیں۔

​اسی خاکِ پاک کا ایک اور تابناک اور رقت انگیز باب ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا مدفن ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب رفیقۂ حیات کا وصال ہوا تو نبیٔ کریم ﷺ خود ان کی لحد میں اترے، اپنے دستِ مبارک سے مٹی درست کی اور غم کی اس اتھاہ کیفیت کی یادگار کے طور پر اس پورے سال کو "عام الحزن" یا غم کا سال کا قرار دیا۔

​مروہ پہاڑی کی سمت سے باہر نکل کر شارعِ مسجد الحرام پر تقریباً دو کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں تو راستے میں مسجدِ شجر، مسجدِ فتح اور مسجدِ جن کے تاریخی نقوش دل کو عقیدت سے لبریز کرتے ہیں۔ آگے بڑھتے ہی، تقریباً چار سو میٹر کی مسافت پر، جنت المعلیٰ کی حدود آشکار ہوتی ہیں۔ درمیان سے گزرنے والی شاہراہ نے اسے دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ عربی روایات میں قبرستان کو محبت و عقیدت کی بنا پر جنت سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور چونکہ یہ بلند مقام الحجون پہاڑی کے دامن میں واقع ہے، اس لیے اسے "جنت المعلیٰ" یا "جنت المعلاۃ"  اور الحجون بھی  کہا جاتا ہے۔

​ہر معتمر اور حاجی کی یہ دلی  آرزو ہوتی ہے کہ حرم کی خاک کا پیوند بنے اور جنت المعلیٰ کے ان خوش نصیبوں کی معیت نصیب ہو، مگر یہ تمنا ہر کسی کے حق میں پوری نہیں ہوتی۔ مکہ بلدیہ نے تدفین کا انتظام ایک سخت اور مربوط قانونی دائرے میں پابند کر رکھا ہے۔ یہاں تدفین کا استحقاق صرف مکہ مکرمہ کے قدیم اور روایتی باشندوں، سادات و اشراف، قدیم علمی و روحانی خانوادوں، ائمہ حرم، اور گرد و نواح کے مخصوص محلوں جیسے المعابدة، الحجون اور شعب عامر کے متوفین تک محدود ہے، وہ بھی خاندانی ریکارڈ کی باقاعدہ تصدیق اور خصوصی اجازت نامے کی شرط کے ساتھ۔

​چونکہ مکہ مکرمہ کی آبادی روز افزوں بڑھ رہی ہے اور جنت المعلیٰ کا دامن تنگ، اس لیے حرم کے بقیہ جنازوں کے لیے تین دیگر وسیع قبرستان مختص کیے گئے ہیں۔

1) ​مقبرۃ الشرائع یہ کعبہ شریف سے شمال مشرق کی جانب حدودِ حرم سے باہر، شاہ فیصل روڈ پر لگ بھگ 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مکہ معظمہ اور حرم شریف سے اٹھنے والے اکثر عام جنازوں کی تدفین یہیں عمل میں لائی جاتی ہے۔

2) ​مقبرۃ العدل: یہ قبرستان مکہ کے معروف محلوں العدل اور خنسا کے درمیان واقع ہے، جہاں معززین اور مخصوص شہریوں کی تدفین ہوتی ہے۔

3) ​مقبرۃ الشہداء: اس قبرستان کی وجہِ تسمیہ بڑی درد انگیز اور باوقار ہے۔ مسجدِ حرام کی تعمیر و توسیع کے دوران پیش آنے والے حادثات کے متوفین، جمرات کی ماضی کی بھگدڑوں میں جان بحق ہونے والے، یا طواف و عبادات کے دوران انتقال کر جانے والے ضیوف الرحمن جو انتظامی طور پر "شہداء" کے زمرے میں شمار کیے جاتے ہیں، ان کی تدفین کے لیے یہ خطہ مخصوص ہے۔ اسی طرح حجاج و معتمرین کے ناگہانی وصال کے بعد ان کی آخری آرام گاہ بھی اکثر یہی قبرستان بنتا ہے۔

​جنت المعلیٰ کی زیارت کے مناظر بھی رقت انگیز اور حیرت انگیز ہیں۔ حج کے ایام میں روزانہ بیس سے چالیس ہزار اور رمضان المبارک کے پرنور مہینے میں آٹھ سے پندرہ ہزار تشنگانِ عقیدت یہاں روزانہ سلام پیش کرنے حاضر ہوتے ہیں۔ زمین کی تنگی کے پیشِ نظر یہاں صدیوں قدیم ایک انتظامی اور شرعی طریقہ رائج ہے قبریں پہلے سے ہموار اور تیار رکھی جاتی ہیں، اور جب شرعی و انتظامی مدت کے بعد جسدِ خاکی مٹی کے سپرد ہو کر فنا ہو جاتا ہے، تو اس پرانی لحد کو ازسرِنو سنوار کر دوسری میت کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے۔

​قبروں کی پہچان کے لیے صرف ایک یا دو سادہ کچے پتھر رکھ دیے جاتے ہیں، کسی قسم کے کتبے، گنبد یا پختہ عمارت کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ پہاڑ کی کٹائی کے بعد اگرچہ اس کی وسعتوں کو بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں، مگر تاریخ کے اس سب سے متبرک مدفن میں جگہ پانے کی تمنا اب بھی ہزاروں دلوں میں محض ایک حسین اور ناتمام آرزو بن کر ہی دھڑکتی رہتی ہے۔

برصغیر کے معتمرین اور حجاج اکثر اس بات پر شاکی نظر آتے ہیں کہ انھیں جنت المعلی میں ہر وقت داخل ہو کر فاتحہ خوانی کی اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!