Ad
ادب

غزل...... از کامریڈ فرقان

✍️ :. کامریڈ فرقان 


یہ بے دِلی، یہ بے رُخی، کوئی اضطراب ہے کیا؟ 

بے وفا تو تم نہیں، پھر زمانہ خراب ہے کیا؟

---------------------------------------------

کانچ پر ٹھہری ہوئی شبنم سی یہ رات ہے! 

دونوں کے درمیان رُکا، کوئی سوال و جواب ہے کیا؟

-------------------------------------------------

کس کی خطا تھی، کون صحیح، اب اس کا حساب کیا رکھیں! 

جو ہاتھ ہی چھوٹ گئے، وہ محض ایک سراب ہے کیا؟

-----------------------------------------------

پرانی کتاب کے پنّوں میں جو چھپا رکھا تھا! 

بے رنگ سا جو ہو گیا، وہ وہی گلاب ہے کیا؟

----------------------------------------------

دونوں نے مل کر سجائے تھے جو بند آنکھوں میں! 

اب المیے میں بکھرا ہوا، وہ ادھورا خواب ہے کیا؟

----------------------------------------------

پاس بیٹھ کر بھی جو ایک دوسرے سے دور ہیں!

آنکھوں کے درمیان یہ حجاب ہے کیا؟

--------------------------------------------

نیت تو دونوں کی بس وفا نبھانے کی تھی

سزا جو یہ مل رہی ہے، کسی نیکی کا ثواب ہے کیا؟

--------------------------------------------

پلکوں پر رکے ہوئے اشک اب سوکھنے لگے! 

جو بہہ گیا وہ بارشیں تھیں، یا کوئی شراب ہے کیا؟

----------------------------------------------

لوگ کہتے ہیں وقت بھر دے گا ہر ایک نشان!

پر وقت ہی ٹھہرا ہوا ہے، تو یہ کوئی عذاب ہے کیا؟

----------------------------------------------

آئینے میں ڈھونڈتا ہوں پرانا وہ ہمراہی! 

 سامنے جو کھڑا ہے اب، وہ صرف ایک نقاب ہے کیا؟

---------------------------------------------

نہ تم میں کوئی نفرت ہے، نہ مجھ میں کوئی گلہ!

جب دونوں ہی وہی ہیں، تو پھر زمانہ خراب ہے کیا؟



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!