ادب
غزل...... از کامریڈ فرقان

یہ بے دِلی، یہ بے رُخی، کوئی اضطراب ہے کیا؟
بے وفا تو تم نہیں، پھر زمانہ خراب ہے کیا؟
---------------------------------------------
کانچ پر ٹھہری ہوئی شبنم سی یہ رات ہے!
دونوں کے درمیان رُکا، کوئی سوال و جواب ہے کیا؟
-------------------------------------------------
کس کی خطا تھی، کون صحیح، اب اس کا حساب کیا رکھیں!
جو ہاتھ ہی چھوٹ گئے، وہ محض ایک سراب ہے کیا؟
-----------------------------------------------
پرانی کتاب کے پنّوں میں جو چھپا رکھا تھا!
بے رنگ سا جو ہو گیا، وہ وہی گلاب ہے کیا؟
----------------------------------------------
دونوں نے مل کر سجائے تھے جو بند آنکھوں میں!
اب المیے میں بکھرا ہوا، وہ ادھورا خواب ہے کیا؟
----------------------------------------------
پاس بیٹھ کر بھی جو ایک دوسرے سے دور ہیں!
آنکھوں کے درمیان یہ حجاب ہے کیا؟
--------------------------------------------
نیت تو دونوں کی بس وفا نبھانے کی تھی
سزا جو یہ مل رہی ہے، کسی نیکی کا ثواب ہے کیا؟
--------------------------------------------
پلکوں پر رکے ہوئے اشک اب سوکھنے لگے!
جو بہہ گیا وہ بارشیں تھیں، یا کوئی شراب ہے کیا؟
----------------------------------------------
لوگ کہتے ہیں وقت بھر دے گا ہر ایک نشان!
پر وقت ہی ٹھہرا ہوا ہے، تو یہ کوئی عذاب ہے کیا؟
----------------------------------------------
آئینے میں ڈھونڈتا ہوں پرانا وہ ہمراہی!
سامنے جو کھڑا ہے اب، وہ صرف ایک نقاب ہے کیا؟
---------------------------------------------
نہ تم میں کوئی نفرت ہے، نہ مجھ میں کوئی گلہ!
جب دونوں ہی وہی ہیں، تو پھر زمانہ خراب ہے کیا؟