جموں و کشمیر
انوارالقرآن بٹ پورہ چرارشریف کی جانب سے لیے گئے کوئز امتحان کے نتائج کا اعلان،

انوارالقرآن بٹ پورہ چرارشریف کی جانب سے لیے گئے کوئز امتحان کے نتائج کا اعلان، ٹاؤن ہال چرارشریف میں پروقار تقریب کا انعقاد
بتاریخ: 27 ستمبر 2026، بروز اتوار
چرارشریف: دارالعلوم انوارالقرآن، بٹ پورہ چرارشریف کی جانب سے منعقد کیے گئے کوئز امتحان کے نتائج کے اعلان کے سلسلے میں اتوار کے روز ٹاؤن ہال چرارشریف میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں چرارشریف اور ملحقہ علاقوں سے ڈیڑھ سو سے زائد طلبہ و طالبات، اساتذہ، علماء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد طلبہ کی علمی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں دینی تعلیم کے حصول اور قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی ترغیب دینا تھا۔
تقریب کا آغاز دارالعلوم انوارالقرآن کے ناظمِ اعلیٰ مفتی منظور احمد رحیمی صاحب کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ انہوں نے شرکائے تقریب، علماء کرام، اساتذہ اور بالخصوص طلبہ و طالبات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی علمی اور تربیتی سرگرمیاں طلبہ میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنے، ان کے اعتماد میں اضافہ کرنے اور دینی معلومات کو پختہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کوئز امتحان میں حصہ لینے والے تمام طلبہ کو مبارک باد پیش کی اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔
اس موقع پر مفتی عابد حسین صاحب، استاد اشرف العلوم حیدرپورہ سرینگر نے علم کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی کام کو درست طریقے سے انجام دینے کے لیے علم کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ علم کے بغیر عمل میں تکمیل اور درستگی پیدا نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ حصولِ علم کو اپنی زندگی کا مستقل مقصد بنائیں اور علم کو صرف امتحانات تک محدود نہ رکھیں۔
مفتی مزمل صاحب نے قرآنِ کریم سیکھنے اور اس کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآن سے وابستگی انسان کی دینی و اخلاقی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو قرآنِ کریم کی تعلیمات سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلے میں دینی اداروں، اساتذہ اور والدین کی ذمہ داری اہم ہے۔
مفتی محمد اسلم رحیمی صاحب نے اپنے خطاب میں کوئز امتحانات کے اصل مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے امتحانات کا مقصد محض علم حاصل کرنا یا انعامات جیتنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اصل فائدہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب ہم حاصل کیے ہوئے علم کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔ انہوں نے کہا کہ علم اسی وقت ہمارے لیے مفید ثابت ہوتا ہے جب اس کے مطابق عمل بھی کیا جائے۔ ان کے مطابق مقابلے اور انعامات طلبہ کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ ضرور بن سکتے ہیں، لیکن علم کا حقیقی ثمر کردار اور عمل کی صورت میں ظاہر ہونا چاہیے۔
برادر عاصم اسدی صاحب نے چرارشریف کی علمی و دینی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چرارشریف ایک مردم خیز سرزمین ہے۔ ایک وقت تھا جب اس نوعیت کے ادارے یہاں بہت کم تھے، لیکن آج مختلف ادارے دینی و تعلیمی میدان میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان اداروں کی محنت و کاوشوں کے ثمرات نمایاں طور پر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ انہوں نے اس طرح کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر قاری صاحب نے قرآنِ کریم کی تجوید کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک زمانے میں علاقے کے بہت سے لوگ قرآنِ کریم کو تجوید کے ساتھ پڑھنے سے پوری طرح واقف نہیں تھے، لیکن آج چرارشریف کی متعدد مساجد میں لوگ تجوید کے مطابق قرآن پڑھتے ہیں، جو دینی اداروں، ائمہ اور اساتذہ کی مسلسل محنت اور خدمات کا ایک اہم ثمر ہے۔ انہوں نے قرآنِ کریم کو درست تلفظ اور تجوید کے ساتھ پڑھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
تقریب سے مختار علی صاحب نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ جدید علوم کے ساتھ ساتھ اپنے دین، اسلامی اقدار اور اسلامی شناخت کے ساتھ بھی مضبوط تعلق برقرار رکھیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیمی مصروفیات کے ساتھ دینی علم کے حصول کو بھی اہمیت دیں اور اس طرح کے علمی و دینی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ان کے مطابق ایسی سرگرمیاں طلبہ میں دینی شعور، علمی ذوق، خود اعتمادی اور تعلق باللہ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کیے جانے والے ایسے پروگرام صرف ایک مقابلے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کے ذریعے بچوں میں مطالعہ، یادداشت، تحقیق اور سیکھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دینی اور تعلیمی ادارے مستقبل میں بھی اس نوعیت کی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔
تقریب کے دوران طلبہ و طالبات میں خاصا جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ نتائج کے اعلان کے موقع پر کامیاب امیدواروں کے ساتھ ساتھ دیگر شرکاء کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی، تاکہ انہیں مستقبل میں مزید محنت اور بہتر کارکردگی کے لیے آمادہ کیا جا سکے۔
تقریب کے اختتام پر کوئز امتحان کے نتائج کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم کو پانچ ہزار روپے نقد، کتب اور سندِ امتیاز سے نوازا گیا، جبکہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو تین ہزار روپے نقد، کتب اور سند پیش کی گئی۔ اسی طرح تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم کو دو ہزار روپے نقد، کتب اور سند سے نوازا گیا۔
کامیاب طلبہ و طالبات کو انعامات اور اسناد سے نوازے جانے پر تقریب میں موجود شرکاء نے خوشی کا اظہار کیا اور انہیں مبارک باد پیش کی۔ منتظمین کی جانب سے اس موقع پر طلبہ کی محنت کو سراہا گیا اور انہیں مستقبل میں بھی دینی و علمی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کی تلقین کی گئی۔
تقریب کے شرکاء نے درسگاہ انوارالقرآن بٹ پورہ چرارشریف کی جانب سے اس علمی و تربیتی سرگرمی کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام نئی نسل میں دینی شعور پیدا کرنے اور انہیں قرآن و سنت کی تعلیمات سے جوڑنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ شرکاء نے ادارے کی انتظامیہ اور تمام منتظمین کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
آخر میں ملک و ملت، علاقے اور تمام طلبہ و طالبات کی کامیابی و کامرانی کے لیے دعا کی گئی اور اسی کے ساتھ یہ پروقار تقریب اختتام پذیر ہوئی۔