سفر نامہ
مدینہ شریف کی زیارات: مسجدِ قباء.... قسط (8)

✍️ :. عبدالرشید سرشار
مدینہ منورہ کے جنوب مغرب میں تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر وہ متبرک خطہ واقع ہے جسے تاریخ ’قباء‘ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں آج ایک پرشکوه اور روح پرور مسجد ایستادہ ہے، جس کا موجودہ رقبہ تقریباً 13,500 مربع میٹر پر محیط ہے اور بیک وقت بیس ہزار سے زائد فرزندانِ توحید اس کے دامن میں بارگاہِ الٰہی کے حضور سربسجود ہو سکتے ہیں۔
یہ 13 نبوی کا پُرنور سال تھا جب آفتابِ نبوت مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ کے افق پر طلوع ہوا۔ مدینہ کے مضافات میں قباء نامی اس بستی کو اس وقت ’عالیہ‘ بھی کہا جاتا تھا، جہاں قبیلہ بنو عمرو بن عوف اور انصار کے باوفا گھرانے آباد تھے۔ 22 یا 23 ستمبر 622ء کو، پیر کے روز دوپہر کی تپتی دھوپ میں خاتم النبیین، رحمتِ دوعالم ﷺ نے اس بستی میں قدم رنجہ فرمایا۔ قبیلے کے سردار حضرت کلثوم بن الہدم رضی اللہ عنہ نے نہ صرف حضورِ انور ﷺ کا والہانہ اور تاریخی استقبال کیا، بلکہ آپ سے قبل پہنچنے والے مہاجرینِ کرام کی میزبانی و ضیافت کا شرف بھی کمال محبت سے نبھاتے رہے۔ تاجدارِ مدینہ ﷺ نے شہر میں باضابطہ داخلے سے قبل تقریباً دو ہفتے یہیں قیام فرمایا۔
اسی قیام کے دوران حضرت کلثوم بن الہدم رضی اللہ عنہ کی ایک غیر آباد زمین پر، جہاں کھجوریں سکھائی جاتی تھیں، اسلام کی پہلی باقاعدہ مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔ نبیِ پاک ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے پہلا سنگِ بنیاد رکھا۔ تعمیر کا منظر بھی کس قدر ایمان افروز رہا ہوگا جب سرورِ کونین ﷺ خود اپنے مبارک شانوں پر بھاری بھاری پتھر اٹھاتے، صحابہ کرام پروانہ وار دوڑ کر عرض گزار ہوتے: "یا رسول اللہ! آپ زحمت نہ فرمائیں، یہ پتھر ہم اٹھاتے ہیں!" تو آپ ﷺ وہ پتھر انہیں عطا فرما کر خود دوسرا پتھر اٹھا لیتے۔ اس پرجوش ماحول میں جلیل القدر صحابی اور شاعرِ اسلام حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے مترنم اشعار اہلِ ایمان کے ولولوں کو مزید گرماتے۔
اسی مسجد کی شان میں ربِ کائنات نے سورۃ التوبہ میں ارشاد فرمایا:
"وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔"
اس کی فضیلت کا یہ عالم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس نے اپنے گھر سے اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجدِ قباء آ کر دو رکعت نماز ادا کی، اسے ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے۔" یہی وجہ تھی کہ آپ ﷺ ہر ہفتے کے دن پیدل یا سوار ہو کر یہاں تشریف لاتے اور دو رکعت ادا فرماتے۔
ہم بھی جب زیارت کی گاڑیوں میں سوار ہو کر مسجدِ قباء پہنچے تو ایک پُرشکوہ، نورانی منظر نے آنکھوں کو خیرہ کر دیا۔ چاروں طرف زائرین کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا جو سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہو کر دو رکعت نفل کے ذریعے عمرے کی سعادت پانے کے لیے بے قرار چلا آ رہا تھا۔ مسجدِ نبوی سے مسجدِ قباء تک پیدل چلنے والوں کے لیے ایک انتہائی خوبصورت اور کشادہ ٹریک تعمیر کیا گیا ہے، جہاں سے عشاقِ رسول ﷺ پیدل چل کر بھی اس پہلی مسجد میں حاضری کا شرف حاصل کرتے ہیں۔
مسجد کے اندر وضو اور طہارت کا نہایت عالی شان اور جدید انتظام ہے، جبکہ خواتین کے لیے الگ اور باپردہ راستے مختص ہیں۔ زائرین نماز و عبادات کے ساتھ ساتھ ان یادگار لمحات کو اپنے کیمروں اور آنکھوں میں محفوظ کرتے نظر آتے ہیں۔ مسجد کے اطراف میں خوبصورت اور وسیع مارکیٹیں قائم ہیں جہاں جائے نماز، تسبیح، خالص سرمہ، دلکش عطر اور روایتی ملبوسات کی خوب بہار ہے، اور زائرین زیارت کی تکمیل کے بعد دل کھول کر خریداری کے لطف سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔
اگلی قسط میں بدر کی زیارت کا سفر بیان ہوگا بشرطے زندگانی
عبدالرشید سرشار
حالسی ڈار، ویریناگ
7006146071