Ad
سفر نامہ

میدانِ بدر کی پُرنور زیارت..... قسط 9

✍️ :. ​عبدالرشید سرشار


​بدر، مدینۃ المنورہ سے قریباً اسی میل کی مسافت پر جنوب کی جانب واقع ایک ایسا تاریخی خطہ ہے جو اب ایک پُر رونق اور گنجان بستی کا روپ دھار چکا ہے۔ صبح کے اولین پہر جب آفتاب کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں، ہم نے گاڑیوں کا رخ اس وادیِ پُرشوق کی طرف موڑ دیا جسے قرآنِ حکیم نے یومُ الفرقان کے لازوال اعزاز سے نوازا ہے۔ جوں جوں فاصلے سمٹ رہے تھے، دل کی دھڑکنوں میں ایک عجیب روحانی ارتعاش اور اضطراب امنڈ رہا تھا۔

​ہم صبح دس بجے کے قریب حدودِ بدر میں داخل ہو گئے۔ جدید شاہراہ پر دوڑتی برق رفتار گاڑی کے پُرسکون ماحول میں زائرین محوِ استراحت تھے، مگر میرے ذہن و فکر کے دریچوں پر چودہ سو سال پرانے تاریخی مناظر کسی متحرک تصویر کی مانند جلوہ گر تھے۔ یہ ہجرت کا دوسرا سال تھا مسلمان اپنے وطن، گھر بار اور کعبۃ اللہ کی پاکیزہ فضاؤں سے کفارِ مکہ کے جبر و ستم کے باعث بے دخل کیے جا چکے تھے۔ ابھی مدینہ کی نوخیز اسلامی ریاست اپنے پاؤں جما ہی رہی تھی کہ ابوسفیان کا شام سے مکہ جانے والا بھاری تجارتی قافلہ سرخیوں میں آیا۔ اس قافلے میں اہلِ مکہ کے سرمایہ داروں کی کثیر رقوم شامل تھیں، جس کا بڑا مقصد نوزائیدہ اسلامی تحریک اور اصحابِ رسول کی پاکباز جماعت کا قلع قمع کرنا تھا۔ تجارتی راستے پر مسلمانوں کے اثر و رسوخ کے خوف سے ابوسفیان نے مکہ قاصد بھیجے، جس پر دارالندوہ میں ابو جہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف جیسے سردارانِ قریش نے اپنے تکبر کے نشے میں ہزار مسلح جنگجوؤں پر مشتمل لشکر ترتیب دیا۔

​ماہِ رمضان کے مقدس ایام  اور مسلمان روزے کی حالت میں تھے۔ جب مدینہ کے  سراغ رسانوں نے اس یلغار کی تصدیق کی، تو رسولِ کونین ﷺ اپنے ساتھ کل 313 جان نثاروں کی مٹھی بھر جماعت لے کر حق و باطل کے اس اولین معرکے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ تاریخ نے کیسا شاندار موڑ لیا۔ ستر قریشی سردار جن میں ابو جہل، شیبہ اور عتبہ جیسے متکبرین شامل تھے، خاک میں ملا دیے گئے اور ستر قیدی بنے، جبکہ چودہ سرفروشوں نے جامِ شہادت نوش کر کے تاریخ کو اپنے گرم گرم لہو سے رقم کیا۔  اسیرانِ جنگ کی رہائی کا فدیہ ان کے علم اور ان کے مال کو بنایا گیا کہ جو خواندہ تھے، وہ مدینہ کے دس دس مسلمانوں کو تعلیم دے کر آزاد ہو سکتے تھےجو اس دین کی علم پروری کا بے مثال شاہکار ہے۔اور جن کے پاس مال ہے وہ چار ہزار درہم ادا کر کے اپنی گردن چھڑا سکتے ہیں۔

​خیالات کا یہ سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب ہماری گاڑی میدانِ بدر کی اصل وادی میں داخل ہوئی۔ یہ ایک وسیع اترائی ہے جس کے ٹیلوں پر سنہری ریت اور نشیب میں نرم مٹی کی چادر پھیلی ہے۔ 

ہم نے سب سے پہلے اس مقام پر بنی خوبصورت سفید دودھیائی مسجد کا رخ کیا جہاں سرورِ کائنات ﷺ کا خیمہ (عریش) نصب تھا، اور وہاں تبرکاً دو رکعت نفل ادا کیے۔

​نشیب میں قدم رکھا تو چاروں طرف تاریخ کی دھول اور تقدس کا احساس تھا۔ ایک مقام پر افغان زائرین کو علامتی طور پر سنگ باری کرتے دیکھا، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ وہی  جگہ ہے جہاں ابو جہل اپنے انجام کو پہنچا تھا۔ قریب ہی وہ گڑھا (قلیبِ بدر) بھی عبرت کا سامان پیش کر رہا تھا جہاں مشرکین کی لاشیں پھینکی گئی تھیں۔ 

دل پر گداز کیفیت طاری ہوئی  جب ہم نے چودہ شہدائے بدر کی پاکیزہ آرام گاہوں پر کھڑے ہو کر سلام و درود کا ہدیہ پیش کیا۔

​تھوڑا آگے بڑھے تو سامنے وہ سفید رنگ کا پرشکوہ پہاڑ نظر آیا جسے جبلِ ملائکہ کہا جاتا ہے۔ اس سفید ٹیلے پر زائرین عقیدت سے چڑھتے اور اتر رہے تھے۔

 یہ وہی مقدس مقام ہے جہاں نصرتِ الٰہی کے تحت حضرت جبرائیل امینؑ فرشتوں کی فوج کے ہمراہ مسلمانوں کی ثابت قدمی کو فتح میں بدلنے کے لیے بنفسِ نفیس نازل ہوئے تھے۔

​میدانِ بدر میں جہاں باطل کے عبرتناک زوال نے دل میں اللہ کی بے نیازی کا خوف پیدا کیا، وہیں حق کی سربلندی پر روح سرشار ہو گئی۔ چونکہ دوپہر کی نماز ہمیں مسجدِ نبوی میں باجماعت ادا کرنی تھی، اس لیے نم دیدہ آنکھوں اور سرشار دل کے ساتھ ہم دوبارہ گاڑی میں سوار ہوئے اور مدینۃ النبی ﷺ کی طرف محوِ سفر ہو گئے۔

حالسیڈار، ویری ناگ، کشمیر

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!