ادب
غزل....سید بشارت گیلانی

✍️:. سید بشارت گیلانی
شادمانی زندگی میں اب کہاں
دلکشی وہ سادگی میں اب کہاں
--------------------------------
ہیں محبت کے یہ دعوے سب فریب
عشق باقی عاشقی میں اب کہاں
---------------------------------
شاعروں نے شاعروں سے یہ کہا
لطف باقی شاعری میں اب کہاں
-----------------------------------
جو گناہوں سے کرے اب تم کو پاک
ایسا حاصل بندگی میں اب کہاں
----------------------------------
مال و دولت کے اسیروں سے سنا
جینا ممکن خستگی میں اب کہاں
----------------------------------
عشق میں ہے کس کا اب یہ حوصلہ
مرنا جینا تشنگی میں اب کہاں