مضامین
مرتضیٰ میموریل ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ چندوسہ، اور میرا پہلا پی ٹی ایم

آج اپنے بچوں کے اسکول میں پیرنٹ ٹیچر میٹنگ (PTM) میں شرکت کا موقع ملا۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اس بار میٹنگ کا طریقہ کار اور انتظام گزشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں بالکل مختلف اور انتہائی مؤثر تھا۔
سب سے قابلِ تحسین بات یہ تھی کہ ہر مضمون کے استاد سے بچے کی موجودگی میں انفرادی طور پر تفصیلی ملاقات کا موقع ملا۔ یہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کی ضرورت میں ہمیشہ محسوس کرتا رہا ہوں، کیونکہ اس سے بچے، والدین اور اساتذہ کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچے کو اپنی تعلیمی کارکردگی اور کمزوریوں کا براہِ راست اندازہ بھی ہوتا ہے۔
میں تمام قابلِ احترام اساتذہ کرام کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے انتہائی توجہ، خلوص اور حسنِ اخلاق کے ساتھ بچوں کی تعلیمی اور اخلاقی صورتِ حال پر گفتگو کی۔ اس مثبت تبدیلی پر اسکول انتظامیہ بھی مبارکباد کی مستحق ہے۔
جہاں یہ پیش رفت انتہائی خوش آئند ہے، وہیں امید ہے کہ آئندہ بھی تعلیمی نظام اور بچوں کی ہمہ جہت تربیت کے حوالے سے مزید بہتری کا سلسلہ جاری رہے گا۔ میری تمام اساتذہ کرام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ بچوں کو روایتی تعلیم محنت، لگن اور اخلاص کے ساتھ دینے کے علاوہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار کریں۔ ان میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking)، تخلیقی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور بہترین اخلاقی اقدار پیدا کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔
چند اہم تجاویز بھی پیشِ خدمت ہیں:
جدید لائبریری کا قیام:
اسکول میں ایک فعال، جدید اور معیاری لائبریری قائم کی جائے تاکہ بچوں میں کتب بینی کی عادت پختہ ہو، مطالعے کا شوق پیدا ہو اور ان کے علمی و فکری افق کو وسعت ملے۔
کشمیر کے کالجز اور یونیورسٹیز کے تعلیمی دورے:
بچوں کو کشمیر کے مختلف معروف کالجز اور جامعات کے تعلیمی دورے کروائے جائیں تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم کے ماحول سے واقف ہوں، مستقبل کے تعلیمی اہداف کا تعین کر سکیں اور ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو۔
زبانوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ:
انگریزی، اردو اور عربی جیسے زبان کے مضامین کے لیے ماہر اور تجربہ کار اساتذہ کا انتخاب کیا جائے۔ میٹنگ کے دوران یہ محسوس ہوا کہ زبانوں کے مضامین میں طلبہ کی مطلوبہ پختگی کے لیے مزید توجہ اور عملی مشق کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں بولنے، لکھنے، پڑھنے اور اظہارِ خیال کی عملی سرگرمیوں کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
کھیل اور جسمانی سرگرمیاں:
طلبہ کو جسمانی اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں مزید آگے لایا جائے۔ کھیل بچوں کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، ٹیم ورک اور قائدانہ صلاحیتوں کو بھی بہتر بناتے ہیں۔
دورِ حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ:
اساتذہ کرام بچوں کو محنت، لگن اور اخلاص کے ساتھ تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ انہیں موجودہ دور کے تعلیمی، فکری، سماجی اور اخلاقی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار کریں۔
امید ہے کہ اسکول انتظامیہ اور پرنسپل صاحب ان تجاویز پر غور فرمائیں گے اور انہیں مرحلہ وار عملی شکل دینے کی کوشش کریں گے، تاکہ ہمارے بچوں کو ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے جو انہیں علم، کردار، اعتماد اور عملی زندگی کے لیے بہتر طور پر تیار کرے۔