جموں و کشمیر
ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر" کے زیرِ اہتمام عظیم الشان محفلِ نعت،

بابا ریشیؒ میں "ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر" کے زیرِ اہتمام عظیم الشان محفلِ نعت،شب بھر گونجتی رہیں نعتِ رسول ﷺ کی روح پرور صدائیں۔ محبوب کی محفل کو محبوب سجاتے ہیں آتے ہیں وہی جن کو سرکارؐ بلاتے ہیں
عید میلادالنبی ﷺ کی بابرکت مناسبت سے ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کے زیرِ اہتمام حضرت سخی بابا پیام الدین ریشیؒ کے آستانۂ عالیہ بابا ریشی میں ایک عظیم الشان،روح پرور اور یادگار محفلِ نعت کا انعقاد کیا گیا جس میں وادیٔ کشمیر کے اطراف واکناف سے ممتاز شعراء،ادباء،نعت خواں حضرات،دانشوروں اور عاشقانِ رسول ﷺ نے بڑھ چڑھ کر شرکت کی۔محفل رات دس بجے شروع ہوئی اور عشق و عقیدت کی خوشبو بکھیرتے ہوئے صبح نمازِ فجر تک جاری رہی۔
یہ محفل محض ایک نعتیہ مشاعرہ نہیں تھی بلکہ عشقِ رسول ﷺ، ادب،روحانیت،اخوت اور تہذیبی وابستگی کا ایک حسین امتزاج تھی۔بابا ریشیؒ کی روحانی فضا میں جب بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا گیا تو پوری فضا درود و سلام،نعتیہ اشعار اور محبت و عقیدت کے جذبات سے معمور ہوگئی۔رات کی خاموشی،آستانۂ عالیہ کا روحانی ماحول اور لبوں پر نعتِ مصطفیٰ ﷺ نے محفل کو ایسی کیفیت عطا کی جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا آسان نہیں۔
محفل میں اختر معراج،سرور احمد سرور،سرور بلبل،گلشن بدرنی،الیاس آزاد،فاروق واگوری،نذیر طالب،مجروح کشمیری،مقبول فیروزی،سید شوکت ہاشمی،غلام قادر شاد دردپوری،غلام حسن حق کاوچک،غلام علی پمپوش کشمیری،محی الدین دلاور،ہلال کشمیری،الطاف احمد خان بٹہ پوری،طارق منور،بشیر منگوالپوری،سید محمد اشرف روپوش،سید نادم بخاری،اشرف گلکار،صاد اکبر،الطاف دولی پوری،جمیل یوسف،ڈاکٹر الطاف حسین یتو،حسن اظہر،جی۔ایم۔ زاہد،ردا مدثر،گلشن وارثی،ظہور صوفی،محمد اکرم،عادل رمضان دولتپوری،برہان فیاض،مشروع نصیب آبادی اور ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری سمیت متعدد شعرائے کرام اور نعت خواں حضرات نے شرکت کرکے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں اپنے اپنے انداز میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔
محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت نوجوان شاعر اور خوش الحان قاری طارق منور نے اپنے منفرد انداز میں حاصل کی۔تلاوتِ قرآنِ مجید سے پیدا ہونے والی روحانی کیفیت نے محفل کے آغاز ہی میں ایک پُرسکون اور نورانی ماحول قائم کردیا۔
بعد ازاں وادیٔ کشمیر کے معروف اور خوش الحان نعت خواں بلال میاں نے بارگاہِ سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کیا۔ان کے پُرسوز اور دل نشیں انداز نے حاضرین کے دلوں کو چھو لیا اور محفل میں ایک عجیب روحانی کیفیت طاری ہوگئی۔متعدد سامعین کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور فضا درود و سلام کی صداؤں سے گونج اٹھی۔
خطبۂ استقبالیہ اور تحریکِ شکرانہ ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کے صدر سید نادم بخاری نے پیش کیا۔انہوں نے تمام مہمانانِ گرامی،شعرائے کرام،نعت خواں حضرات اور شرکائے محفل کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے ان کی شرکت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔اپنے خطاب میں انہوں نے میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی اہمیت، سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں اور محبتِ رسول ﷺ کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
محفل کی نظامت ہم سخن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری نے اپنے منفرد،برجستہ اور پُراثر انداز میں انجام دی۔انہوں نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ محفل کے مختلف مراحل کو آگے بڑھایا اور شعرائے کرام،نعت خواں حضرات اور مقررین کو مدعو کرتے رہے۔دورانِ محفل ہم سخن کے میڈیا سیکریٹری محمد اکرم نے بھی نظامت میں ان کا ساتھ نبھایا۔دونوں کی مربوط پیشکش اور خوبصورت اندازِ نظامت نے محفل کے حسن،وقار اور تسلسل کو برقرار رکھا۔
محفل کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی رہی کہ بابا ریشیؒ میں موجود متعدد زائرین بھی اس روح پرور اجتماع کا حصہ بن گئے۔مختلف علاقوں سے آئے ہوئے زائرین نے رات بھر محفل میں شرکت کی اور نعتیہ کلام سماعت کیا۔کئی زائرین نے محفل کے اختتام تک موجود رہ کر اس بابرکت نشست سے روحانی فیض حاصل کیا اور ہم سخن کی اس کاوش کو بے حد سراہا۔
ایوانِ صدارت میں وادیٔ کشمیر کے معروف شعراء و ادباء ڈاکٹر الطاف حسین یتو،گلشن بدرنی،غلام قادر شاد دردپوری،حسن اظہر،سید نادم بخاری،مقبول فیروزی،بشیر منگوالپوری اور غلام علی پمپوش کشمیری موجود تھے۔اپنے خطابات میں مقررین نے ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کو ایک فعال، متحرک اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سرگرم تنظیم قرار دیا۔
انہوں نے عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر بابا ریشیؒ جیسے روحانی مقام پر اس منفرد نوعیت کی محفل کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایسی بابرکت محافل نہ صرف ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں بلکہ معاشرے میں محبتِ رسول ﷺ، رواداری،اخوت اور روحانی وابستگی کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ محبتِ رسول ﷺ ہماری اجتماعی زندگی کا بنیادی سرمایہ ہے اور نئی نسل کو سیرتِ طیبہ اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے ایسی محافل کا تسلسل انتہائی اہم ہے۔
محفل میں شعرائے کرام اور نعت خواں حضرات نے عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبی ہوئی نعتیں اور عقیدت سے معمور کلام پیش کیا۔ہر نعت کے بعد محفل میں درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتیں اور سامعین والہانہ انداز میں داد و تحسین پیش کرتے۔کبھی کسی نعت کے اشعار نے سامعین کی آنکھیں نم کردیں،کبھی کسی پُرسوز آواز نے دلوں کو نرم کیا اور کبھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں ڈوبے ہوئے اشعار پر حاضرین بے اختیار عقیدتی نعروں سے فضا کو گونجا اٹھاتے۔یوں رات آگے بڑھتی رہی مگر نہ شعراء کے جذبۂ عقیدت میں کمی آئی اور نہ سامعین کی سماعتوں کی پیاس بجھی۔
محفل کے دوران نظم و ضبط کا خصوصی خیال رکھا گیا۔منتظمین اور رضاکاروں نے تمام انتظامات کو نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا، جس کے باعث پروگرام پوری سنجیدگی، وقار اور تسلسل کے ساتھ صبح تک جاری رہا۔ ہم سخن کے منتظمین کی جانب سے شرکائے محفل کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے، جبکہ محفل کے اختتام پر ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا۔ شرکاء نے منتظمین کی مہمان نوازی اور انتظامی صلاحیتوں کو سراہا۔
عشقِ رسول ﷺ سے معمور یہ روحانی رات بالآخر صبحِ صادق کے نمودار ہونے کے ساتھ اپنے اختتام کی جانب بڑھی۔نمازِ فجر باجماعت ادا کی گئی اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا۔اس موقع پر امتِ مسلمہ،اہلِ کشمیر،وطنِ عزیز اور پوری انسانیت کے لیے امن،سلامتی،خوشحالی اور خیر و برکت کی دعائیں بھی کی گئیں۔
رات دس بجے شروع ہونے والی یہ محفل جب فجر کی اذان کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی تو یوں محسوس ہورہا تھا جیسے بابا ریشیؒ کی اس روحانی وادی میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی ایک پوری رات بسر ہوگئی ہو۔ دلوں میں نعتِ رسول ﷺ کی گونج،لبوں پر درود و سلام اور آنکھوں میں عقیدت کے آنسو اس محفل کی سب سے خوبصورت یاد بن کر رہ گئے۔
اس موقع پر شرکائے محفل اور معزز شعراء و ادباء نے ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کی پوری ٹیم کو اس کامیاب اور بامقصد پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔یہ محفل اس بات کا خوبصورت اظہار تھی کہ کشمیر کی سرزمین آج بھی ادب،شعر و سخن،روحانیت اور عشقِ رسول ﷺ کی روایات سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔
ہم سخن کی جانب سے ادبی،ثقافتی اور روحانی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے جاری کاوشیں یقیناً ایک قابلِ قدر سلسلہ ہیں جنہیں مستقبل میں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔بابا ریشیؒ کی روحانی فضا میں منعقد ہونے والی یہ شبِ عشق ایک ایسی یادگار بن گئی جس کی خوشبو دیر تک دلوں میں محسوس ہوتی رہے گی ایک ایسی رات جس میں شعر نے عقیدت کا لباس پہنا لفظوں نے محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا رنگ اختیار کیا اور دلوں نے درود و سلام کی روشنی میں ایک دوسرے سے ملاقات کی۔
ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر نے اس بابرکت محفل کے ذریعے نہ صرف ایک خوبصورت ادبی و روحانی روایت کو زندہ رکھا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ محبتِ رسول ﷺ وہ روشنی ہے جو دلوں کو جوڑتی،معاشروں کو سنوارتی اور نسلوں کو اپنی اصل سے وابستہ رکھتی ہے۔
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمد ؐ سے اجالا کردے
ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفئیر آرگنائزیشن کشمیر