ادب
غزل....... از :. بٹ سحران مسرور

جس روز آپ سے بڑا ہی پیار رکھ چکے
قدموں پہ اُنکے آپ ہی دستار رکھ چکے
-------------------------------
جو وقت آیا آپ لگے کام میں کہ اب
ہم پیار میں ہی اپنا سارا کار رکھ چکے
------------------------------
تیرا جو حسن دیکھا تو ہم اور دل بھی بس
ہونٹوں پہ اپنے پیارے جو رخسار رکھ چکے
--------------------------------
ہم تو کسی نگر کے سہی تخت والے تھے
تیرے لیے ایسے کئی دربار رکھ چکے
------------------------------
اب بس تو ایک ہے جو سنے گا میری صدا
ہم پاس تیرے اپنا دلِ زار رکھ چکے
--------------------------------
اب لوگ ہنستے ہیں میرے اس حال پر لیکن
ہم بھی تو اب جو دل کو شرم سار رکھ چکے
-------------------------------
تیرے لیے کوئی بھی جگہ اب یہاں نہیں
ہم بھی تو دل کو اب کے خبردار رکھ چکے
--------------------------------
وعدے ترے جو یاد آتے ہیں کہ رو پڑے
سحرانؔ کو بھی بس کے طلبگار رکھ چکے