اہم ترین
کرناٹک میں اردو اور مراٹھی میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی

800 اردو میڈیم اور 200 مراٹھی میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی کو کابینہ کی منظوری؛ حکومت کے مثبت ردِعمل کا صولیڈیریٹی نے خیرمقدم کیا
بنگلورو: کرناٹک میں اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں لسانی اقلیتی میڈیم میں اساتذہ کی بھرتی کو بھی مساوی مواقع فراہم کرنے کے مطالبے پر دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک کی جانب سے مسلسل کی جانے والی جدوجہد پر حکومت کے مثبت ردِعمل کا صولیڈیریٹی نے خیرمقدم کیا ہے۔
2026 کے اساتذہ بھرتی نوٹیفکیشن میں اردو، مراٹھی سمیت لسانی اقلیتی میڈیم کے اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی کا مناسب مواقع فراہم نہ کیے جانے کے مسئلے کو صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک ابتدا ہی سے حکومت کے سامنے اٹھاتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں محکمۂ تعلیم، حکومت کے اعلیٰ افسران، وزراء، ارکانِ مقننہ اور مختلف کمیشنوں کو یادداشتیں پیش کرکے مسلسل مطالبات کیے گئے۔
ڈرافٹ نوٹیفکیشن سے جدوجہد کا آغاز
29 جون کو اساتذہ کی بھرتی سے متعلق ڈرافٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد صولیڈیریٹی نے اس لازمی شرط پر اعتراض کیا کہ امیدوار نے ایس ایس ایل سی یا پی یو سی میں کنڑا کو پہلی یا دوسری زبان کے طور پر پڑھا ہو۔
3 جولائی کو محکمۂ تعلیم کو تحریری اعتراض پیش کیا گیا۔ 21 جولائی کو محکمۂ عوامی تعلیم کی ایڈیشنل چیف سکریٹری رشمی مہیش سے ملاقات کرکے مجوزہ قواعد سے متعلق تفصیلی یادداشت پیش کی گئی۔ 30 جولائی کو گریڈ-1 اور گریڈ-2 فزیکل ایجوکیشن اساتذہ کی بھرتی میں میڈیم آف انسٹرکشن کی اہلیت کو واضح کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
10 اگست کے نوٹیفکیشن کے بعد جدوجہد میں شدت
10 اگست کو اساتذہ کی بھرتی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ مزید واضح ہوگیا کہ کنڑا اور انگریزی میڈیم اسکولوں کے لیے ہی اساتذہ کی بھرتی کی جارہی ہے ، جبکہ اردو، مراٹھی سمیت دیگر لسانی میڈیم کے اسکولوں میں ایک بھی ٹیچر کی بھرتی نہی کی جارہی ہے۔
اس کے ساتھ صولیڈیریٹی نے پانچ سال کی خصوصی عمر کی رعایت نہ دیے جانے اور سرکاری ہائی اسکولوں میں خالی ریاضی کے اساتذہ کی اسامیوں کو بھرتی میں شامل نہ کیے جانے کا مسئلہ بھی اٹھایا۔
12 اگست کو محکمۂ تعلیم سے نوٹیفکیشن میں ترمیم کرکے دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی روز وزیر یو۔ٹی۔ قادر سے ملاقات کرکے مسائل پر مشتمل یادداشت پیش کی گئی۔
13 اگست کو رکنِ قانون ساز کونسل بلقیس بانو کو یادداشت پیش کی گئی اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ اس معاملے کو وزیرِ تعلیم کے سامنے اٹھاتے ہوئے لسانی اقلیتی اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی ، پانچ سال کی عمر میں رعایت اور سرکاری ہائی اسکولوں میں ریاضی کے اساتذہ کی خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اسی موقع پر کرناٹک اسٹیٹ مائنارٹیز کمیشن کو بھی یادداشت پیش کی گئی۔
14 اگست کو کرناٹک اسٹیٹ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس، ہیومن رائٹس کمیشن اور کرناٹک اردو اکیڈمی کو بھی یادداشتیں پیش کی گئیں۔ صولیڈیریٹی کی یادداشت کا نوٹس لیتے ہوئے مائنارٹیز کمیشن نے محکمۂ اسکولی تعلیم کے کمشنر کو خط لکھ کر ضروری کارروائی کی ہدایت دی، اور کرناٹک ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی اپنے یہاں اس سلسلے میں کیس درج کر لیا، جس سے اس جدوجہد کو مزید تقویت ملی۔
امیدواروں کی جدوجہد کو براہِ راست حمایت
16 اور 17 اگست کو سابق کونسل چیرمین ںبسوراج ہورٹی سے ملاقات ہوئی اور مختلف ذرائع ابلاغ میں اساتذہ کی بھرتی میں لسانی اقلیتی اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی کو لے کر وسیع پیمانے پر میڈیا سے گفتگو ہوئی۔ وارتھا بھارتی میں خصوصی رپورٹ شائع ہوئی، جبکہ صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک کے یوٹیوب چینل پر ٹیچر امیدوار مرتضیٰ ایلکل کے ساتھ خصوصی گفتگو بھی منعقد ہوئی۔
18 اگست کو ریاست کے مختلف اضلاع سے بنگلورو کے کے ایم ڈی سی بھون پہنچنے والے ٹیچر امیدواروں کی جدوجہد میں صولیڈیریٹی نے براہِ راست ساتھ دیا۔ امیدواروں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تشکیل میں تعاون کیا گیا اور امیدواروں کے وفد کے ساتھ سابق وزیرِ اعلیٰ سدارامیا سے ملاقات کرکے یادداشت پیش کی گئی۔ بیرونی اضلاع لسے آنے والے امیدواروں کے لیے رات کے قیام اور کھانے کے انتظام میں بھی صولیڈیریٹی ٹیم نے تعاون کیا۔
19 اگست کو امیدواروں کے وفد کے ساتھ وزیر رضوان ارشد سے ملاقات کرکے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ بعد ازاں ودھان سودھا پہنچ کر وزیر یو۔ٹی۔ قادر سمیت متعدد عوامی نمائندوں سے ملاقات کی گئی اور مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اردو و مراٹھی اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی اور اقلیتوں کی تعلیم سے متعلق اہم امور پر بھی گفتگو ہوئی۔
20 اگست کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ودھان سودھا پہنچ کر قانون ساز کونسل کے چیئرمین سلیم احمد کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں بھی ان مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
800 اردو میڈیم اور 200 مراٹھی میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی کو کابینہ کی منظوری
ان مسلسل کوششوں کے نتیجے میں 21 اگست کو ڈی۔کے۔ شیوکمار کی قیادت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں 800 اردو میڈیم اور 200 مراٹھی میڈیم میں اساتذہ کی بھرتی کو منظوری دی گئی۔ یہ فیصلہ لسانی اقلیتی میڈیم کے اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی کو لے کر کی جارہی جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک، حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے۔ توقع ہے کہ محکمۂ مالیات کی رپورٹ اور دیگر ضروری کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد جلد ہی بھرتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
’’یہ اختتام نہیں، جدوجہد کے اگلے مرحلے کا آغاز ہے‘‘
حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک نے مطالبہ کیا ہے کہ منظور شدہ 800 اردو میڈیم اور 200 مراٹھی میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی اسامیوں کے لیے جلد از جلد باضابطہ بھرتی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اور اہل امیدواروں کو منصفانہ مواقع فراہم کیے جائیں۔
لسانی اقلیتی بچوں کو ان کی مادری زبان میں معیاری تعلیم حاصل ہونا ان کے حقِ تعلیم کا حصہ ہے۔ اس لیے اردو، مراٹھی سمیت تمام لسانی میڈیم کے لیے ضرورت کے مطابق اساتذہ کی اسامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں پُر کیا جانا چاہیے۔
اس کے ساتھ پانچ سال کی عمر میں رعایت، ہائی اسکولوں میں ریاضی کے اساتذہ کی خالی اسامیوں کو پُر کرنے اور بھرتی کے عمل سے متعلق دیگر زیرِ التوا مطالبات پر بھی حکومت فوری مثبت اقدام کرے۔
صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک کے ریاستی صدر ڈاکٹر نسیم احمد نے پریس ریلیز میں کہا کہ حکومت کو ان تمام مطالبات پر جلد کارروائی کرتے ہوئے لسانی اقلیتی میڈیم کے اسکولوں میں اساتذہ کو بھرتی کرتے ہوئے ان میں پڑھ رہے طلباء کے ساتھ مکمل انصاف کو یقینی بنانا چاہیے۔