سفر نامہ
سفرِ محمود (قسط نمبر 10)

مدینہ منورہ کی پرنور زیارات اور الوداعی لمحات
مسجدِ نبوی سے شمال کی سمت پانچ چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک عظیم الشان، پرشکوہ پہاڑی سلسلہ سر اٹھائے کھڑا ہے جسے جبلِ احد کہتے ہیں۔ اس کے بالمقابل وہ تاریخی چھوٹی پہاڑی واقع ہے جسے تاریخ جبلِ رمات کے نام سے یاد کرتی ہے۔ گاڑی کا رخ میدانِ احد کی طرف ہوا اور محض پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد ہم اس وادی میں اترے جہاں کی مٹی میں تاریخ کے انمٹ نقوش دفن ہیں۔
چاروں طرف سے آہنی جالیوں میں گھرا ہوا ایک وسیع قبرستان سامنے تھا جس کے دامن میں ستر جلیل القدر صحابہ کرام ابدی نیند سو رہے ہیں۔ یہاں سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور اسلام کے اولین سفیر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جیسی قدسی شخصیات محوِ استراحت ہیں۔
یہ وہی تاریخی میدان ہے جہاں شوال 3 ہجری کو مشرکینِ مکہ غزوہ بدر کی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لیے ابو سفیان کی قیادت میں تین ہزار کا لشکر لے کر پہنچے تھے، جن کے ساتھ ہندہ سمیت دیگر عورتیں رجز پڑھتی ہوئی صف آراء تھیں۔ حضورِ اکرم ﷺ نے مدینہ کی فضاؤں میں صحابہ سے مشاورت فرمائی اور سات سو جاں نثاروں کے ہمراہ احد کے دامن میں خیمہ زن ہوئے۔ جنگی حکمتِ عملی کے تحت درے پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی زیرِ کمان پچاس تیر اندازوں کا دستہ متعین کیا گیا تاکہ پشت سے کوئی وار نہ کر سکے۔
معرکہ شروع ہوا، ابتدا میں مشرکین کے پاؤں اکھڑ گئے، مگر جب غنیمت سمیٹنے کے گمان میں درے پر موجود مجاہدین میں سے اکثر اپنی پوزیشن چھوڑ گئے اور صرف دس بارہ جانثار وہاں بچے، تو خالد بن ولید نے پشت کے درے کو خالی پا کر اچانک بھرپور یلغار کر دی۔ پلٹتی ہوئی جنگ کا یہ مرحلہ مسلمانوں کے لیے سخت آزمائش بن گیا اور ستر جانثار صحابہ شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے۔ رسولِ کونین ﷺ نے اپنے ان فداکاروں کو بغیر غسل اور بغیر نمازِ جنازہ کے، ان کے خون آلود لباسوں سمیت اسی وادیِ احد کی آغوش میں سپردِ خاک فرمایا۔بذات خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دو دندان مبارک بھی شہید ہوئے ۔
جبلِ رمات پر پہلے کوئی روک ٹوک نہ تھی، مگر بعد میں زائرین کے غیر محتاط رویے اور تاریخی آثار کے تحفظ کے پیشِ نظر سعودی حکومت نے اس پر حفاظتی باڑ قائم کر دی ہے۔ ہم نے میدانِ احد میں واقع اس عالی شان مسجد کی زیارت کا شرف بھی حاصل کیا جس کے وسیع دالان میں بیک وقت پندرہ ہزار نمازی سربسجود ہو سکتے ہیں۔
مسجدِ جمعہ
مسجدِ قبا سے لگ بھگ نو سو میٹر کے فاصلے پر واقع یہ پرنور مقام مسجدِ بنو سالم یا مسجد الوادی کہلاتا ہے۔ ہجرت کے مبارک سفر میں جب سرکارِ دو عالم ﷺ نے وادیِ قباء کے قیام کے بعد مدینہ طیبہ کا رخ فرمایا، تو قبیلہ بنو سالم کی اس وادی میں جمعہ کا وقت آن پہنچا۔ یہیں کائنات کے والی ﷺ کی امامت میں تاریخِ اسلام کا سب سے پہلا جمعہ ادا کیا گیا، اور بعد ازاں اسی نسبت سے یہاں ایک پرشکوہ مسجد تعمیر ہوئی جو مسجدِ جمعہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
مسجدِ قبلتین
یہ دو قبلوں والی وہ مقدس عبادت گاہ ہے جہاں رجب 2 ہجری میں آسمانی حکم کے ذریعے قبلہ کی تبدیلی کا تاریخی واقعہ پیش آیا۔ آقائے دو جہاں ﷺ صحابہ کرام کے ہمراہ نماز ظہر یا عصر پڑھا رہے تھے کہ دو رکعتیں مکمل ہونے پر وحیِ نازل ہوئی اور دورانِ نماز ہی چہرۂ مبارک مسجدِ اقصی سے کعبۃ اللہ کی سمت موڑ لیا گیا۔ چار ہزار مربع میٹر پر پھیلی یہ جدید اور جاذبِ نظر عمارت بیک وقت بیس ہزار سے زائد نمازیوں کو اپنی آغوش میں سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سبع مساجد (میدانِ خندق)
شوال 5 ہجری میں کفارِ مکہ، یہود اور تمام قبائلِ عرب نے مل کر دس ہزار کے لشکرِ جرار کے ساتھ مدینہ کی نوزائیدہ ریاست پر یلغار کا ارادہ کیا۔ اس موقع پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے مدینہ کے شمال مغرب میں گہری خندق کھودی گئی۔ بیس روز تک سرکارِ دو عالم ﷺ خود صحابہ کے ہمراہ خاک میں لت پت ہو کر کدالیں چلاتے رہے اور تین ہزار مجاہدین نے نصرتِ الٰہی سے اس عظیم محاصرے کو ناکام بنایا۔ عثمانی دورِ حکومت میں ان مختلف مقامات پر، جہاں دورانِ محاصرہ رسولِ پاک ﷺ اور دیگر جلیل القدر صحابہ کے خیمے تھے، سات چھوٹی مساجد تعمیر کی گئیں جو سبع مساجد کے نام سے مشہور ہیں مگر موجودہ دور میں ان میں سے چھ نمایاں ہیں۔
مدینہ طیبہ میں ہمارا نواں دن تھا اور زیارات کے بعد ہم نے مدینہ شریف کے بازاروں کا رخ کیا۔ دل کی گہرائیوں میں بار بار یہ خیال کوندا کہ کاش ممتاز مفتی کی طرح ہمیں بھی کوئی قدرت اللہ شہاب جیسا بصیرت افروز رہنما نصیب ہوتا جو اس پاک بستی کے اسرار و رموز کی گرہیں کھولتا۔ بہرحال، مسجدِ نبوی کی باجماعت چالیس نمازوں کی سعادت مقدر بنی اور کچھ زائد بھی نصیب ہوئیں۔ اب درِ مصطفیٰ ﷺ سے رخصت کی گھڑی قریب تھی۔ ہماری یہ حاضری بارگاہِ الٰہی اور روضۂ خاتم النبیین ﷺ میں کس درجے پر قبول ہوئی، یہ تو وہی جانیں، البتہ ہم نے اپنے بساط بھر مقدور کے مطابق درود و سلام کے نذرانے اشکوں کی صورت پیش کر دیے۔اور جنت البقیع میں عظیم ارواحان امت کو سلام پیش کیا۔
مدینہ منورہ کے بازاروں کی رونق عجب تماشا دکھا رہی تھی۔ خلافتِ راشدہ کا عظیم مرکز اور روضۂ رسول ﷺ کی یہ نگری دنیا بھر کے مالِ تجارت سے پٹی پڑی تھی۔ چین، ترکیہ، شام، بلغاریہ، بیلجیم، اسپین الغرض ہر براعظم کی مصنوعات دکانوں پر سجی تھیں، مگر امتِ مسلمہ کی اپنی کوئی ایسی منفرد اور خوددار تخلیق نہ ملی جو دل کو موہ لیتی۔ البتہ ٹوپیوں اور تسبیحوں کے معاملے میں بنگلہ دیش اور کسی حد تک ترکیہ نمایاں نظر آئے، جبکہ خالص سعودی ساختہ عطر اور مشروبات آٹے میں نمک کے برابر ہی دکھے۔ ایک ساتھی کو کچھ کپڑے خریدنے تھے۔دوکاندار ایک سوٹ کے سو ریال مانگ رہا تھا ہم بھی ڈٹ گئے آخرکار پچیس ریال میں سودا ہوا۔
2 مئی 2026 کا مبارک دن طلوع ہوا، جب دسویں روز ہمیں مدینۃ النبی ﷺ سے مدینۃ الخلیل یعنی مکہ معظمہ کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔ دل پر ایک عجیب کیفیت طاری تھی، آنکھیں نم اور وجود پر اضطراب تھا۔ ہم نے غسل کیا، سفید و پاکیزہ احرام زیب تن کیے، روضۂ اطہر پر الوداعی سلام کا نذرانہ پیش کیا اور اس فقیرانہ و بے ساختہ لباس میں الحرمین بلٹ ٹرین پر سوار ہو گئے۔
ریل کی تیز رفتار پٹریوں پر سفر کرتے ہوئے روح میں وہ سارے مناظر گھوم رہے تھے جب دنیا کے مشہور سنگ تراش،نمرود کے مذہبی پیشوا آزر کے مؤحد بیٹے حضرت ابراہیم علیہ السلام، اس کی رفیقہ حیات سیدہ ہاجرہ علیہا السلام اور لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تپتے ریگزاروں میں اللہ کے اولین گھر کی بنیادیں رکھی تھیں۔ چند گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم دنیا کے سب سے مقدس حرم، پہاڑوں کے دامن میں آباد مولد النبی مکہ مکرمہ کی پرنور فضاؤں میں وارد ہو گئے۔
لبیک اللہم لبیک
حالسیڈار، ویریناگ (کشمیر)
7006146071