مضامین
سیرتِ رسول اور تہذیبِ انسانی کی تعمیر

چیئرمین: نور گروپ آف انسٹیٹیوشنز
انسانی تاریخ کے صفحات پر بے شمار عظیم شخصیات گزری ہیں۔ بادشاہ آئے، فاتحین آئے، مفکرین اور مصلحین آئے، بڑے بڑے فلسفیوں نے اپنے افکار پیش کیے، تہذیبوں نے جنم لیا اور وقت کے ساتھ معدوم بھی ہو گئیں مگر تاریخِ انسانیت میں ایک ایسی ہستی جلوہ گر ہوئی جس کی زندگی اپنے عہد کی حدود سے نکل کر قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہدایت، رحمت، اخلاق، عدل اور کامیابی کا سرچشمہ بن گئی۔ وہ ہستی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے آخری نبی، رحمت للعالمین اور انسانیت کے لیے کامل نمونہ بنا کر مبعوث فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت انسانی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھی۔ دنیا ظلم، جاہلیت، طبقاتی تفاخر، اخلاقی زوال، مذہبی تحریف اور انسانی بے قدری کے اندھیروں میں گھری ہوئی تھی۔ طاقتور کمزور کو کچلتا تھا، مال دار غریب کو حقیر سمجھتا تھا، عورت اپنے بنیادی حقوق سے محروم تھی، یتیم بے سہارا تھا، غلام انسانی مرتبے سے محروم سمجھا جاتا تھا اور قبائلی عصبیت نے انسانی رشتوں کو پامال کر رکھا تھا۔ ایسے ماحول میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا اور آپؐ نے انسان کو اس کے حقیقی مقام سے آشنا کیا۔ آپؐ نے عزت کا معیار نسب، رنگ، زبان، مال اور اقتدار کو نہیں بتایا، اس کا حقیقی معیار تقویٰ کہا،زندگی کا مقصد خواہشات کی تکمیل نہیں، اللہ تعالیٰ کی بندگی اور انسانیت کی خدمت ہے اور اقتدار کا حسن غلبہ نہیں، عدل ہے۔
آپؐ کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کی پوری زندگی قرآن کی عملی تفسیر تھی۔ آپؐ نے جو تعلیم دی، اسے اپنے کردار میں اتارا جس اخلاق کی دعوت دی، اسے اپنے عمل سے زندہ کیا جس عدل کا حکم دیا، اسے دوست اور دشمن سب کے لیے قائم کیا جس رحمت کا درس دیا، اسے اپنے طرزِ معاشرت کا حصہ بنایا۔
ربیع الاول ہمیں اسی عظیم حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔ اس نسبت سے یہ مہینہ مسلمانوں کے دلوں میں محبتِ رسولؐ کی یاد تازہ کرتا ہے۔محبت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ جس ذات سے محبت کا دعویٰ کیا جائے، اس کی تعلیمات کو سمجھا جائے، اس کے اخلاق کو اپنایا جائے، اس کے اسوہ کو زندگی کا معیار بنایا جائے اور اس کے لائے ہوئے دین کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دی جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ مکہ کی زندگی میں آپؐ نے توحید، صبر، استقامت، دعوت، عفو اور حق پر ثابت قدمی کا درس دیا۔ طائف کی وادیوں میں پتھر کھانے کے باوجود آپؐ کی زبان سے انسانیت کے لیے خیر نکلی۔ ہجرت کے موقع پر آپؐ نے توکل، تدبیر اور قربانی کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک اہل ایمان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہے گی۔ مدینہ پہنچ کر آپؐ نے مسجد کو مرکزِ تربیت بنایا، مہاجر و انصار کے درمیان مواخات قائم کی، مختلف قبائل اور مذاہب کے لوگوں کے ساتھ معاشرتی نظم پیدا کیا، ریاست کو عدل و ذمہ داری کی بنیاد پر استوار کیا اور ایک ایسی اجتماعی زندگی تشکیل دی جس میں مذہبی شعائر، انسانی حقوق، معاشرتی ذمہ داریاں اور اخلاقی اصول ایک دوسرے سے مربوط تھے۔
گھریلو زندگی میں آپؐ بہترین شوہر تھے، اولاد کے ساتھ محبت و شفقت کا پیکر تھے، صحابہؓ کے ساتھ بے تکلف اور شفیق تھے، یتیموں کے لیے سہارا تھے، مسکینوں کے لیے رحمت تھے اور کمزوروں کے حقوق کے محافظ تھے۔ میدانِ جنگ میں بھی اخلاق کی حدود قائم رہیں۔
فتح مکہ کے موقع پر وہ لوگ جو برسوں تک آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کو اذیت دیتے رہے تھے، آپؐ کے سامنے بے بس کھڑے تھے؛ مگر انتقام کے بجائے عفو و درگزر کا مظاہرہ ہوا۔ یہ سیرت کا وہ پہلو ہے جو بتاتا ہے کہ حقیقی طاقت دشمن کو مٹانے میں نہیں، اپنے اختیار کو عدل و رحم کے تابع رکھنے میں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کے ساتھ انسان کا تعلق بدل دیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور ایمان کا بلند معیار یہ بتایا کہ انسان اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ان تعلیمات میں ایک ایسا معاشرتی فلسفہ پوشیدہ ہے جو آج کے اضطراب زدہ معاشرے کے لیے بے حد اہم ہے۔ زبان سے نکلنے والا ایک لفظ رشتہ توڑ سکتا ہے اور ایک نرم جملہ ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے سکتا ہے۔ ہاتھ کسی کو زخمی کر سکتا ہے اور وہی ہاتھ کسی ضرورت مند کا سہارا بن سکتا ہے۔ اس لیے سیرتِ نبویؐ ہمیں اپنے رویوں، گفتگو، معاملات اور تعلقات کا محاسبہ سکھاتی ہے۔
آج امت مسلمہ کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم سیرتِ رسولؐ سے اپنے تعلق کو کس طرح عملی زندگی میں تبدیل کریں۔ ہماری کمزوری کا علاج محض سیرت کے واقعات سن لینے میں نہیں، ان واقعات کے پیغام کو اپنے کردار کا حصہ بنانے میں ہے۔ اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں تو ہماری تجارت میں دیانت ہونی چاہیے، ہمارے معاملات میں امانت ہونی چاہیے، ہمارے گھروں میں محبت ہونی چاہیے، ہماری گفتگو میں شائستگی ہونی چاہیے، ہمارے معاشرتی رویوں میں عدل ہونا چاہیے اور ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی خشیت اور مخلوق کے لیے خیرخواہی ہونی چاہیے۔اصلاح ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے۔ انسان دوسروں کے کردار پر گفتگو آسانی سے کر لیتا ہے، مگر اپنے کردار کا محاسبہ دشوار محسوس کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا منہج انسان کو اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے۔ دل میں تکبر ہے تو اسے عاجزی سے بدلنا ہوگا، حسد ہے تو اسے خیرخواہی سے، غصہ ہے تو اسے ضبط سے، سختی ہے تو اسے رحمت سے اور بے مقصد مشغولیت ہے تو اسے مقصدِ زندگی کی یاد سے بدلنا ہوگا۔ یہی سیرت کا زندہ پیغام ہے۔
ہماری نئی نسل کو بھی سیرتِ نبویؐ سے مضبوط رشتہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو صرف واقعات کے نام اور تاریخیں یاد کرا دینا کافی نہیں۔ انہیں بتایا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے کیسے محبت کرتے تھے، پڑوسیوں کے حقوق کا خیال کیسے رکھتے تھے، علم کی قدر کیسے کرتے تھے، عورتوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کی کیا تعلیم دیتے تھے، غریبوں اور یتیموں کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے، اختلاف کے مواقع پر کیا طرز اختیار کرتے تھے اور مشکلات میں صبر و استقامت کا دامن کس طرح تھامے رکھتے تھے۔
جب سیرت کتاب کے صفحات سے نکل کر گھر، مدرسہ، اسکول اور معاشرے کے کردار میں داخل ہوگی تو اس کی حقیقی تاثیر سامنے آئے گی۔آج امت مسلمہ کو اپنے مسائل کے ساتھ سنجیدگی سے روبرو ہونے کی ضرورت ہے۔ اختلافات، باہمی کشمکش، عدم برداشت، اخلاقی کمزوری، مادہ پرستی، اجتماعی بے حسی اور ترجیحات کی بے ترتیبی نے ہمارے اجتماعی وجود کو متاثر کیا ہے۔ ان حالات میں سیرتِ رسولؐ ہمارے لیے ماضی کی یاد نہیں، حال کی ضرورت ہے۔ آپؐ نے منتشر لوگوں کو ایک امت بنایا، قبائلی تفاخر کو اخوت میں بدلا، دشمنیوں کو معاہدات اور عدل کے ذریعے نظم دیا، علم و اخلاق کو معاشرے کی بنیاد بنایا اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونے کا شعور عطا کیا۔
امن و امان اور اخوت کا پیغام بھی سیرتِ طیبہ کا بنیادی حصہ ہے۔ مدینہ میں مواخاتِ مدینہ نے انسانی معاشرت کو ایک نئی بنیاد دی۔ مہاجرین اور انصار کے درمیان جو ایثار، محبت اور قربانی پیدا ہوئی، وہ اسلامی اخوت کی روشن ترین مثالوں میں شمار ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح کیا کہ ایک صالح معاشرہ محض قوانین سے وجود میں نہیں آتا؛ اس کے لیے دلوں میں احساس، معاملات میں انصاف اور ایک دوسرے کے حقوق کا شعور ضروری ہے۔ آج جب معاشرہ مختلف تعصبات اور باہمی نفرتوں سے متاثر ہے، سیرتِ نبویؐ ہمیں پھر اسی راستے کی طرف بلاتی ہے جہاں انسان کی عزت محفوظ ہو، اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے اور طاقتور اپنے اختیار کو کمزور کے حق کی حفاظت کے لیے استعمال کرے۔سیرتِ نبویؐ کا پیغام عبادت اور معاشرت، روحانیت اور کردار، فرد اور اجتماع، حق اور ذمہ داری کو ایک جامع نظام میں جوڑتا ہے۔ مسجد میں کھڑا مسلمان بازار میں بھی مسلمان رہے، گھر میں بھی مسلمان رہے، دفتر میں بھی مسلمان رہے، اقتدار میں بھی مسلمان رہے اور اختلاف کے وقت بھی مسلمان رہے۔ اس جامعیت کے بغیر سیرت کا فہم ادھورا رہ جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمیں ایک ایسا مسلمان بننے کی دعوت دیتی ہے جس کی عبادت اس کے اخلاق کو سنوارے، جس کا علم اس کے عمل میں نظر آئے، جس کی دینداری انسانوں کے لیے رحمت بنے اور جس کی شخصیت معاشرے میں خیر کا سبب بنے۔
سیرتِ رسولؐ کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے، اپنی حقیقت کو سمجھے، اپنے مقصدِ زندگی کو دریافت کرے اور اپنے کردار کو اس مقصد کے مطابق ڈھالے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ مشکلات راستے کا خاتمہ نہیں ہوتیں، صبر اور یقین کے ساتھ وہ کامیابی کی سیڑھی بن جاتی ہیں؛ مخالفت انسان کو حق سے دور نہیں کرتی، اگر دل میں یقین ہو؛ اقتدار انسان کو بڑا نہیں بناتا، عدل اسے بڑا بناتا ہے؛ مال انسان کو معزز نہیں کرتا، کردار اسے عزت دیتا ہے؛ اور علم اسی وقت بابرکت بنتا ہے جب وہ انسان کو عمل، خشیت اور خدمت کی طرف لے جائے۔ہمیں آج اپنے گھروں میں سیرت لانی ہے، اپنے بازاروں میں سیرت لانی ہے، اپنے تعلیمی اداروں میں سیرت لانی ہے، اپنی سیاست اور اجتماعی زندگی میں سیرت کے اصولوں کو جگہ دینی ہے، اپنے بچوں کی تربیت میں سیرت کو بنیاد بنانا ہے اور اپنے اختلافات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو سامنے رکھنا ہے۔ جب یہ شعور پیدا ہوگا تو سیرت ہمارے لیے محض ایک موضوعِ گفتگو نہیں رہے گی؛ وہ ہمارے کردار کی زبان بن جائے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے، مگر آپؐ کا اسوہ باقی ہے، آپؐ کی تعلیم باقی ہے، آپؐ کا اخلاق باقی ہے، آپؐ کی دعوت باقی ہے اور آپؐ کا پیغام قیامت تک زندہ ہے۔ زمانے بدلتے رہیں گے، حالات کی صورتیں تبدیل ہوتی رہیں گی، انسانی مسائل نئی شکلیں اختیار کرتے رہیں گے، مگر سیرتِ محمدیؐ انسان کو ہر دور میں وہی بنیادی روشنی فراہم کرتی رہے گی جس کی اسے اپنے رب، اپنے آپ اور اپنے معاشرے کو سمجھنے کے لیے ضرورت ہے۔
ہماری فلاح اسی میں ہے کہ ہم اس روشنی سے اپنا راستہ روشن کریں۔ ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم سیرت کو کتابوں سے اٹھا کر زندگی میں اتاریں۔ ہماری عزت اسی میں ہے کہ ہم اپنے کردار کو اسوۂ محمدیؐ کے مطابق سنواریں۔ اور ہماری سب سے بڑی سعادت یہی ہے کہ ہماری زندگی کے آخری لمحے تک دل میں محبتِ رسولؐ، زبان پر درود و سلام اور عمل میں سنتِ رسولؐ کی روشنی باقی رہے۔سیرتِ رسول ﷺ یہ آج کے انسان کے لیے زندگی کا وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں وہ اپنے باطن کی تاریکی، اپنے اخلاق کی کمزوری، اپنے معاشرے کی بے اعتدالی اور اپنی زندگی کی بے سمتی کو دیکھ سکتا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ایمان کردار میں ظاہر ہوتا ہے؛ محبت محض زبان کا دعویٰ نہیں، وہ اطاعت اور اتباع سے اپنا ثبوت فراہم کرتی ہے؛ اور سیرت کا مطالعہ اس وقت بامعنی ہوتا ہے جب رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا کوئی نقش ہمارے اپنے اخلاق، معاملات اور تعلقات میں نمایاں ہونے لگے۔