سفر نامہ
سفرِ محمود:... قسط نمبر 32

شام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے جب گاڑی نے ہمیں عزیزیہ کی رہائش گاہ، نمبر 114 کے سامنے اتار دیا۔ عموماً قاعدہ ہے کہ انسان جب طویل اور پرمشقت سفر سے خیر و عافیت کے ساتھ پلٹتا ہے تو سجدۂ شکر بجا لاتا ہے، نوافل پڑھتا ہے، صدقہ و خیرات کرتا ہے اور اپنوں کو گلے لگا کر مسرت کا اظہار کرتا ہے۔
مگر جونہی ہم ہوٹل کے اندر داخل ہوئے، فضا میں ایک عجیب ہو کا عالم تھا۔ یوں گمان ہوتا تھا جیسے کسی کا کوئی نہایت محبوب اور عزیز ترین وجود ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا ہو۔ پیشانیوں پر فکرو تشویش کی شکنیں تھیں، آنکھیں نم ناک اور بھیگی ہوئی، اور اعصاب پر ایسا لرزہ طاری کہ ٹانگیں لڑکھڑا رہی تھیں۔ بار بار سر پر ہاتھ پھیرنے سے دل انجانے خوف سے ڈرتا تھا، کھجلی محسوس ہوتی تو انگلیاں سر کی سمت بڑھتیں مگر چھوتے ہی یکدم ساکت ہو جاتیں۔ آخر یہ کیسی وحشت اور اضطراب تھا؟
ارے، ہم تو اب حرم کے قریب تر پہنچ گئے تھے! کعبۃ اللہ کی پے در پے حاضریاں منتظر تھیں، روز علی الصبح کعبہ شریف کے رخ پر سجدہ ریز ہونے کی سعادت ملنی تھی۔ کبھی شیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ، کبھی ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس، کبھی ڈاکٹر عبداللہ بن عواد الجہنی، کبھی ڈاکٹر شیخ ماہر حمد المعیقلی اور کبھی شیخ ڈاکٹر الولید بن خالد الشمسان کی پُرسوز اور مترنم قرأتِ قرآن سے کانوں میں روحانی رس گھلنا تھا۔ وہ کلامِ الٰہی جس کے اعجاز و تاثیر سے مردہ دلوں کو نئی حیات ملتی ہے، روح کی ساری آلودگیاں اور آلائشیں دُھل جاتی ہیں، اور جن و انس اس کی ہیبت سے جھک کر ایمان کی دولت پا لیتے ہیں ، وہی کلام جس کی ایک تلاوت نے عمرؓ کی کایا پلٹ دی تھی اور وہ بارگاہِ رسالت سے ’فاروق اعظم‘ بن کر ابھرے تھے۔
جی ہاں، اب وہی نورانی کلام کانوں میں اترنے کو تھا، سیاہ غلاف میں ملبوس بیت اللہ کا روز روبرو دیدار ہونا تھا۔ حجرِ اسود کے سامنے بیک وقت فضا میں اٹھتے عقیدت مندوں کے دونوں ہاتھ، اس کے مبارک خول میں سر رکھ کر خود کو فضا میں معلق کر دینے کا وجد، ملتزم اور درِ کعبہ کی چوکھٹ سے لپٹ کر آنسوؤں کی جھڑی لگانا، ہر چکر میں مقامِ ابراہیم کا کبھی دائیں اور کبھی بائیں ہونا، حطیم کی دیوار پر اپنے گناہ گار ہاتھ دھرنے کا مژدہ، رکنِ یمانی پر لمسِ عقیدت، اور غلافِ کعبہ سے چمٹ کر دل و نگاہ کی گرد صاف کرنے کی حسرتیں سب کچھ تو سامنے تھا۔
مگر دل کے نہاں خانے میں ایک کسک، ایک ناقابلِ بیان حسرت دبی بیٹھی تھی۔ افسوس! اب عرفات کا وہ مقدس وقوف اور جبلِ رحمت کا سایہ نہ ہوگا۔ مزدلفہ کی وہ بے پایاں، پرسکون رات اب پلٹ کر نہ آئے گی۔ جمرات کی رمی کے وہ مجاہدانہ راستے اور مکتب کی وہ دلکش چہل پہل رخصت ہو چکی تھی۔ دل گواہی دے رہا تھا کہ یہ چھ مبارک ایام اب زندگی میں کہاں لوٹ کر آئیں گے!
ہو سکتا ہے آئندہ برسوں میں عمرے کی سعادت مل ہی جائے، مگر جن متبرک راہوں پر ان چھ دنوں میں قدم دھرے، جہاں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے سے چلی آ رہی لبیک کی صدائیں وادیوں میں گونجتی رہی ہیں، ان کھلی شاہراہوں، پرشکوہ پہاڑوں اور ریگزاروں کی حاضری دوبارہ نصیب ہوگی بھی کہ نہیں؟
غم اور ماتم اسی جدائی کا تھا، اور دل پر یہ خوف بھی طاری تھا کہ آیا ان ایام کے جملہ فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات کی ادائیگی میں کوئی کمی تو نہ رہ گئی؟
کیا ہماری یہ ٹوٹی پھوٹی عبادتیں خدائے واحد و قہار کی بارگاہ کے ترازو میں شرفِ قبولیت پا بھی سکیں گی یا نہیں؟
دل دو متضاد کیفیتوں کے سنگم پر تھا: ایک طرف فریضۂ حج کی تکمیل پر شکر کا وفور، تو دوسری جانب اپنی بے بضاعتی اور کم مائیگی پر آنسو اور ندامت۔
30 مئی 2026ء، بروز ہفتہ ہم نے ارکانِ حج مکمل کر لیے تھے اب صرف طوافِ وداع کی واجب باقی تھی۔ عزیزیہ میں اب ہمارے گنتی کے دن رہ گئے تھے۔ گھر سے نکلے 39 شب و روز بیت چکے تھے اور واپسی میں فقط 11 دن باقی تھے۔
جب ہم حرم سے لوٹتے تو ہوٹلوں کے دروازوں پر بڑی بڑی گاڑیاں قطار اندر قطار کھڑی ملتیں۔ حجاج اپنے رنگ برنگے سوٹ کیس اٹھائے، سوار ہو کر رخصت ہو رہے تھے کوئی اپنے وطن کو لوٹ رہا تھا تو کوئی مسافرِ مدینۂ منورہ جا رہا تھا۔ ہر منظر یہی یاد دلاتا کہ آج ان کی باری ہے تو کل ہمارا کوچ ہوگا، رخصت کا یہ جام تو ہر مسافر کو پینا تھا۔
بازاروں اور دکانوں پر حج سے پہلے جیسا ہجوم اب معدوم تھا۔ آئے روز ایک ایک کر کے دکانوں کے شٹر گر رہے تھے۔ جامع بن محفوظ کے اردگرد کھجوروں کے ٹھیلے، زیتون کے تیل اور انجیر کے انبار تو سجے تھے، مگر خریداروں کی وہ بھیڑ نہ تھی۔ وہی جامع بن محفوظ، جس کی چاروں منزلیں اور کشادہ صحن نماز کے اوقات میں تل دھرنے کی جگہ نہیں دیتے تھے، اب یہ حال تھا کہ ایک منزل بھی بمشکل ہی آباد ہو پاتی تھی۔
ایامِ حج سے قبل کھانے پینے کی تنگی انتہا کو چھو رہی تھی۔ بنگالی ڈھابے کے آگے زائرین کی قطار کچھوے کی چال تھوڑی تھوڑی سرکتی تھی، اور وہاں کے ملازمین کا مغرورانہ تیور دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے دورِ غلامی میں برطانوی سامراج کے کارندے برصغیر کی سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہوں۔
اب جب حج مکمل ہو گیا تو کیٹرنگ کمپنیوں نے ہوٹلوں کا رخ کر لیا، دس ریال میں ایک ایک پیکٹ ملنے لگا۔ پھر کچھ مخیر حضرات نے بھی ہمارے ہوٹل میں مفت کھانے کی سبیل کر دی۔ گھی میں لت پت تلی ہوئی بریانی اور نیم خام، ادھ پکے گوشت کے بڑے بڑے قتلے!
ابتدا میں ہم نے جانا کہ شاید یہ قربانی کا متبرک گوشت ہے۔ مگر سچ ہے، انسان فطرت سے جلد باز اور ناسپاس واقع ہوا ہے۔ پہلے عدم دستیابی کا رونا تھا، اب ہر وقت کی چرب غذا اور بے تحاشا گوشت سے بیزاری ہونے لگی ، تب جا کر بنی اسرائیل کے من و سلویٰ سے اکتا جانے کا قرآنی مفہوم سمجھ میں آیا۔
لوگ کھانے کے پیکٹ تو ضرورت سے زیادہ لے لیتے، پھر دو چار لقمے چکھتے، گوشت کے کچے پن کا شکوہ کرتے اور پورا ڈبہ کوڑے دان کی نذر کر دیتے۔ اس اسراف سے ہوٹل کا صفائی عملہ بھی نالاں ہو گیا، کیونکہ لالچ میں آ کر لوگ ایک سے زائد پیکٹ سمیٹتے اور بعد میں کچرا پھیلاتے۔
ایک روز دل نے چاہا تو میں پھر اسی پرانے بنگالی بابا کے ڈھابے پر جا پہنچا۔ وہاں کا منظر ہی بدل چکا تھا، سچ مچ الو بول رہے تھے۔ بیشتر ملازمین کو فارغ کر دیا گیا تھا اور باقی ماندہ ملازمین پر ویرانی اور کسمپرسی برستی تھی۔ جن کے پاس کل تک گاہکوں سے ریال پکڑنے کی فرصت نہ تھی، آج وہ ترس رہی نگاہوں سے کسی گاہک کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک ملازم، جس کا نمک ہم مہینہ بھر کھا چکے تھے اور جو خوب شناسائی رکھتا تھا، مجھے دیکھتے ہی نہال ہو گیا۔
"ماموں! دو پارسل سبزی کے دینا،" میں نے کہا۔
وہ حیرت سے بولا: "کیوں ماموں؟ صرف دو؟ آپ تو روز پانچ پانچ لے جاتے تھے!"
میں نے مسکرا کر جواب دیا: "جی ماموں، ہوٹل میں مفت کھانا ملتا تو ہے مگر طبیعت کو راس نہیں آیا، اس لیے دو ہی دے دو۔"
یہ سنتے ہی وہ ڈھابے والا ان مخیر حضرات کو جلی کٹی سنانے لگا جن کی خیرات نے ان کا کاروبار ٹھنڈا کر دیا تھا۔ چلتے چلتے ملازم نے کہا: "اور حاجی صاحب، ہماری ٹپ؟"
میں نے ہنسی خوشی جیب سے پانچ ریال نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔ میرے 'ماموں' کہنے پر اس کا ماتھا ذرا بھی نہ ٹھنکا، کیونکہ یہاں ہر چھوٹے بڑے کو پیار سے ماموں کہنا ان کا تکیہ کلام بن چکا تھا، اور ہم بھی اتنے عرصے میں عربی کے صیغوں کے ساتھ ساتھ اس لفظِ 'ماموں' کی گردان خوب سیکھ گئے تھے۔
حج کے ارادے سے جو خاص چپل میں وطن سے لایا تھا، وہ لمبی مسافتوں میں سخت اور تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ ایامِ حج سے قبل جب میں جامع بن محفوظ سے نماز پڑھ کر نکلا تو سامنے ہی ایک نئی دکان سجی دیکھی۔ دکاندار نے مسکرا کر سلام کیا اور بولا: "حاجی صاحب! آج دکان کا پہلا ہی دن ہے، مال سستا ہے، لے جاؤ۔" اس کے پاس چپلیں اور کھلونے تھے۔ میری نظر 'ڈاکٹر آرتھو' برانڈ کی سبز رنگ کی نہایت نرم و آرام دہ چپل پر پڑی۔
اس نے کہا: "حاجی صاحب، اصل قیمت تو دس ریال ہے، مگر آپ کی خاطر صرف پانچ ریال!"
میں نے فوراً پانچ ریال نکالے اور وہ چپل خرید لی سچ کہوں تو پورے ایامِ حج میں وہ میرے پاؤں کے لیے بہترین رفیق ثابت ہوئی۔ اب حج کے بعد میں دوبارہ اس کی دکان پر گیا۔ وہ سامان سمیٹتے ہوئے بولا: "حاجی صاحب! ہم تو کل دکان بند کر کے وطن لوٹ رہے ہیں، زندگی رہی تو اگلے سال پھر آئیں گے۔ جاتے جاتے مہربانی کر کے ہمارے لیے دو تین کپ نمکین چائے کا انتظام کر دینا۔"
وہیں ایک دکاندار جاپان کی بنی ہوئی اصل 'سیکو فائیو' کی خودکار گھڑی صرف پچاس ریال میں پیش کر رہا تھا اور دہائی دے رہا تھا کہ "حاجی صاحب، اصل لاگت پر لے لو، ورنہ دس ماہ گودام کا کرایہ بھرنا پڑے گا۔" مگر مجھے اس کی کوئی حاجت نہ تھی۔ اب اسمارٹ فون نے گھڑی، ٹارچ، کیمرہ، ٹیپ ریکارڈر اور کیلکولیٹر جیسی درجنوں ضروریات سے انسان کو یکسر بے نیاز کر دیا تھا۔
حج سے پہلے ترکی کی عام نماز والی ٹوپیاں بارہ ریال فی درجن بکتی تھیں اور حاجی انہیں یوں ہاتھوں ہاتھ لپک رہے تھے کہ ان کے بیگ بھر گئے تھے۔ اب بازار ٹھنڈا ہوا تو وہی ٹوپیاں میں نے بیس ریال میں چھتیس عدد خرید لیں۔ حج سے پہلے میں اہلیہ کو نصیحت کرتا رہا کہ ارکان کی تکمیل سے پہلے خریداری کا خیال دل سے نکال دو اور جب حج کی سعادت مل گئی تو میں نے انہیں سمجھایا کہ اصل منافع تو ہم سمیٹ چکے ہیں، اب فضول بار اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ چنانچہ جتنا سامان ہم لے کر آئے تھے، اس میں سے پندرہ کلو کھجوروں کا اضافہ کر کے باقی بوجھ کم ہی رکھا۔
بن محفوظ کے آس پاس گلیوں میں ٹھیلوں پر سامان ویسے ہی سجتا جیسے ہمارے دیار میں مساجد کے باہر جمعے کے روز خوانچے لگتے ہیں۔ ایک جگہ زیتون کا تیل دس ریال میں 200 ملی لیٹر کا ڈبہ مل رہا تھا۔ نہایت سستا سودا جان کر میں نے ذرا چشمہ صاف کیا اور ڈبے پر درج عبارت باریک بینی سے پڑھی تو حقیقت کھلی: زیتون کا تیل صرف 20 فیصد اور سورج مکھی (گلِ آفتاب) کا تیل 80 فیصد! مگر حاجی بے خبری میں مال لوٹ رہے تھے۔ یہی سستی اور دکھاوے کی دھوم جائے نمازوں، عبایؤں اور تسبیحوں کے معاملے میں بھی تھی۔
بسیں بدستور عزیزیہ سے حرم شریف کے چکر لگا رہی تھیں۔ اجیاد کے مقام پر اتر کر ہم مسجدِ حرام کی سمت روانہ ہوتے۔ اب احرام کی کوئی قید نہ تھی، سوائے ان کے جو نیا عمرہ کرنے آئے ہوں، چنانچہ عام کپڑوں میں ہر شخص حرم کے اندر بلا روک ٹوک جا رہا تھا اور شرطے بھی پرسکون بیٹھے تھے۔ مگر بیت اللہ کے صحن میں ہجوم کا یہ عالم تھا کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ ہر دل کی تمنا تھی کہ وہ نیچے مطاف میں جا کر طواف کرے۔
ہم بھی ایک روز نفلی طواف کی نیت سے حرم میں حاضر ہوئے۔ سہ پہر کے تین بجے کا وقت تھا اور انگارے برساتی دھوپ! نیچے دیکھا تو روح پرور منظر تھا جتنے حجاج، اتنی ہی چھتریوں کا ایک متلاطم، رنگ برنگا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ کل تک جو میدان مختلف قومیتوں، رنگ و نسل گورے، کالے، حبشی، انڈونیشین، نائیجیرین، ہندوستانی اور پاکستانی احرام پوشوں کے تنوع سے سجا تھا، آج وہاں صرف سفید، سبز اور مختلف ممالک کے دفتری نشانات والے چھاتوں کی بہار تھی۔ بیس منٹ تک ہم حجرِ اسود سے مقامِ ابراہیم کے درمیان رینگتے رہے، آگے سرکنا محال تھا۔ شدید حبس اور گرمی سے گھبرا کر اہلیہ نے التجائیہ لہجے میں کہا: "خدا کے لیے مجھے کسی کھلی جگہ لے چلو، کہیں میرا دم نہ گھٹ جائے۔" میں نے فوراً سعی کی جانب کا رُخ کیا، برقی زینے چڑھ کر پہلی منزل پر پہنچے اور وہاں نہایت سکون و عافیت کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹے میں طواف مکمل کیا۔ عشاء کے بعد جب ہوٹل پہنچے تو ساتھی محمد ابراہیم سے ملاقات ہوئی وہ پسینے میں شرابور تھے اور بتا رہے تھے کہ نیچے کڑکتی دھوپ اور بے پناہ بھیڑ کے باعث انہیں مطاف میں طواف مکمل کرنے میں پورے تین گھنٹے لگ گئے۔
غالباً پانچ جون کی بات ہے، عصر کے وقت بھارتی حج کمیٹی اور ایئرپورٹ اتھارٹی کا عملہ ہوٹل میں آن وارد ہوا۔ انسپکٹر نے پہلے ہی سخت ہدایت جاری کر رکھی تھی کہ ہر حاجی کے لیے صرف تیس کلو گرام کا بڑا بیگ اور سات کلو کا دستی بستہ (ہینڈ بیگ) ہی مجاز ہوگا۔ سرینگر کے شیخ العالم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رن وے کی مبینہ مرمت کا عذر پیش کر کے سامان میں تخفیف کی یہ شرط رکھی گئی تھی کہ بقیہ لگیج بعد میں پہنچایا جائے گا۔ حجاج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا، کیونکہ سول ایوی ایشن کے روز نئے فرمانوں سے کھلبلی مچی تھی۔ سات کلو کے ہینڈ بیگ میں تو صرف روزمرہ کے کپڑے اور ناگزیر دوائیں ہی سما سکتی تھیں۔ حاجیوں کے شدید احتجاج اور واویلے کے بعد بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ پانچ کلو کھجوروں کا مخصوص لیبل لگا ڈبہ ساتھ لے جانے کی اجازت دی جائے گی۔
ہم آٹھ مرد حجاج پورے سفر میں شیر و شکر ہو کر رہے تھے، چنانچہ ایک دوسرے کے سامان کا وزن برابر کرنے لگے۔ اسی اثنا میں مَیں ایک معمر حاجی صاحب کی مدد میں جُت گیا، جبکہ دوسری طرف عملہ ٹکٹیں، لگیج ٹیگز اور سامان کے شناختی لفافے بانٹ رہا تھا۔ اوروں کی مدد کی دھن میں نجانے میرا لفافہ کہاں چھوٹ گیا! جب میرے سامان کے وزن اور ٹیگ لگانے کی باری آئی اور میں نے ہاتھ خالی پایا تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی، آنکھیں پتھرا گئیں۔ اوپر سے سول ایوی ایشن کی ٹیم کا عملہ بگڑنے اور شور مچانے لگا۔ میرے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے کہ اس پردیس میں اب کیا تدبیر کروں؟ وہ درشتی سے کہنے لگے: "آپ کا سامان اب یہاں نہیں بک ہوگا، آپ اسے خود جدہ ایئرپورٹ تک لے جائیں، وہاں کوئی سبیل نکلے تو نکلے۔"
میں نے ان کے آگے ہاتھ جوڑے، بڑی منت سماجت کی، مگر ان سنگ دلوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اسی پریشانی میں ہمارے ساتھی محمد اکبر نے چپکے سے میرے کان میں کہا: "ماسٹر جی ! ان کے جھانسے میں نہ آئیے، آپ کے تمام کاغذات اور ٹکٹیں تو انہی کے ہاتھوں کے نیچے دبی پڑی ہیں۔"
یہ سنتے ہی میری ڈھارس بندھی اور میرا لہجہ یکسر بدل گیا۔ میں نے سیدھے ہو کر گرجدار آواز میں کہا: "جناب! دنیا بھر میں لوگ اللہ کے مہمانوں کی خدمت کو سعادت سمجھتے ہیں، اور آپ ذرا سی بات پر یہاں حجاج کو پریشان اور رسوا کرنے پر تل گئے ہیں؟ کوئی بات نہیں، مت دیجیے ٹکٹ! یہ کوئی آسمانی صحیفہ تو ہے نہیں جو دوبارہ نہیں بن سکتا، ہر چیز کا متبادل اور زیروکس مل جاتا ہے۔ مگر کان کھول کر سن لیجیے، میں ابھی سیدھا حرم شریف جا رہا ہوں اور رب العزت کی عدالت میں تم سب کے خلاف باقاعدہ مقدمہ دائر کروں گا!"
میرا یہ جلالی انداز اور حرم کا نام سنتے ہی ان کے چہروں کا رنگ فق ہو گیا، گھبراہٹ میں انہوں نے جھٹ سے فائلوں کے نیچے سے میرے ٹیگز اور ٹکٹیں نکال کر میز پر رکھ دیں۔ اس تماشے پر پاس کھڑے کچھ حاجی دبی زبان میں طعنہ دینے لگے: "اور کرو دوسروں کی مدد! دیکھ لیا نا نتیجہ؟"
ہمارا سامان کل ملا کر ساٹھ کلو سے بھی کم تھا، جبکہ ہم تین نفوس تھے، چنانچہ ہم نے اپنے کوٹے میں ایک دوسرے ضرورت مند حاجی صاحب کا تیس کلو سامان بھی شامل کروا دیا۔ لیکن سول ایوی ایشن کا ماتحت عملہ اس افراتفری میں بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے اور حجاج کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے درپے تھا۔ دوسری طرف جن حجاج نے بغیر سوچے سمجھے بے تحاشا خریداری کر کے سامان کے انبار لگا لیے تھے، اب ان کی جان پر بھی بن آئی تھی۔ مگر انہوں نے کسی ہیرا پھیری کے بجائے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نجی کوریئر کمپنیوں کا سہارا لیا، جو سامان باحفاظت گھر کی دہلیز تک پہنچانے کی ضامن بن رہی تھیں۔
(ان شاء اللہ العزیز، اگلی قسط اس یادگار اور پُرانوار سفر کی الوداعی اور آخری قسط ہوگی۔ اپنے تاثرات و آراء سے ضرور نوازیے گا۔)
عبدالرشید سرشارؔ
حالسیڈار، ویری ناگ (کشمیر)
رابطہ / واٹس ایپ: 7006146071