سفر نامہ
سفرِ محمود...... (قسط نمبر 30)

✍️ :. عبد الرشید سرشار دن کے گیارہ بج چکے تھے اور دھوپ کی تپش اپنے جوبن پر تھی۔ ہمارے رفیقِ سفر محمد یوسف بار بار بے قراری سے رمی کے لیے اصرار کر رہے تھے، اور میں دل ہی دل میں ان کی معصومانہ عجلت اور سادگی پر مسکرا رہا تھا۔ ویسے غور کریں تو یہ ہنسی مذاق کی بات بھی نہ تھی، ایک سچا اور مخلص زائر خون پسینے کی کمائی اور زرِ کثیر خرچ کر کے حرمین شریفین کے دیارِ رحمت میں پہنچتا ہے تو اس کی پہلی اور آخری آرزو یہی ہوتی ہے کہ اولین فرصت میں اپنے جملہ فرائض و مناسک کی ادائیگی کر لے۔ خیر، ہمارے سات افراد پر مشتمل قافلے نے آج صبح سے ہی طوافِ زیارت اور سعی کے دوران اطمینان اور راحت کے ساتھ خوب زیارات کی تھیں۔ اس لیے میں نے بھی یہی مناسب سمجھا کہ اب منزلِ مقصود یعنی جمرات کی طرف قدم بڑھائے جائیں، حالانکہ گیارہ ذوالحجہ کی مسنون رمی کا وقت زوالِ آفتاب کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔ جمرات کمپلیکس تک پہنچنے کے لیے ہمارے سامنے دو واضح راستے تھے۔ پہلا راستہ شعبِ ابی طالب سے نکلنے والی طویل سرنگوں (ٹنلز) کا تھا، جو تقریباً پانچ کلومیٹر لمبا، سایہ دار اور محفوظ ضرور ہے، مگر وہاں اژدحام اور ہجوم بے انتہا ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس راستے پر گاڑی یا ٹیکسی کا نام و نشان تک نہیں ملتا، پورا فاصلہ پاپیادہ ہی طے کرنا پڑتا ہے۔ عمر رسیدہ، ناتواں، علیل اور نازک مزاج مستورات کے لیے میری دانست میں یہ آپشن ہرگز قابلِ ترجیح نہیں ہے۔ اس کا متبادل اور نسبتاً سہل راستہ یہ ہے کہ مروہ پہاڑی کے اخراجی راستے سے باہر نکل کر غزہ بس اسٹینڈ سے ٹیکسی لی جائے، جو مسجدِ جن کے دائیں جانب سے گھومتی ہوئی الششہ میں مشہور تجارتی مرکز "بن داؤد" کے پاس اتار دیتی ہے۔ بن داؤد سے جمرات کمپلیکس تک تقریباً دو کلومیٹر کی کھلی، کشادہ سڑک ہے، لیکن یہ راستہ بالکل بے سایہ ہے اور یہ دو کلومیٹر بہرحال پیدل ہی چلنا پڑتا ہے۔ غزہ بس اسٹینڈ پر میں نے ایک ٹیکسی کو رکنے کا اشارہ کیا اور پوچھا: "استاد! جمرات جانا ہے؟" ڈرائیور نے چہرے پر پیشہ ورانہ مسکراہٹ سجائی اور گاڑی بند کر کے خود نیچے اتر کر ہمارے لیے دروازہ کھولتے ہوئے بولا: "حضور سوار ہو جائیں، فی حاجی صرف پچاس ریال!" "شکریہ!" میں نے دانستہ بے نیازی برتتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ ایک اور ٹیکسی بالکل ہمارے قریب آ کر رکی اور چالیس ریال فی سواری پر راضی ہوئی۔ ہم بار بار اپنی جیب اور بجٹ کا جائزہ لے رہے تھے تاکہ جذباتی ہو کر کوئی غیر ضروری نقصان نہ اٹھائیں۔ یوں چالیس سے تیس اور پھر پچیس ریال پر ٹیکسیاں رکتی گئیں اور آگے بڑھتی گئیں۔ دراصل ان ڈرائیوروں کی نظریں حجاج کی تھکن اور بے بسی کو فوراً بھانپ لیتی ہیں، اور پھر عام حجاج گفتگو اور مول تول کے فن سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہوتی ہے کہ حجاج کرام مسجدِ حرام کے تقدس کے زیرِ اثر مکہ اور مدینہ کے تمام تجارتی مراکز، ہوٹل والوں، ڈرائیوروں اور دکانداروں کو بلا استثنا دیانت دار، امانت دار اور اخوت کا پیکر سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہاں ہوٹلوں، دکانوں اور گاڑیوں پر کام کرنے والے اکثر ملازمین کا تعلق بیرونی دنیا، بالخصوص برصغیر پاک و ہند ہی سے ہوتا ہے۔ پہلے آسمان سے باتیں کرتے ہوئے دام بتانا اور پھر رفتہ رفتہ کم کرتے جانا ان کا روزمرہ کا دھندا بن چکا ہے۔ ایک سادہ لوح حاجی دیارِ حبیب میں ہر شخص کو اگر امامِ کعبہ نہیں تو کم از کم مؤذنِ حرم سمجھنے کی بھول ضرور کرتا ہے اور نتیجتاً ٹھگا جاتا ہے۔ اسی ضمن میں مجھے مدینہ منورہ کا ایک سبق آموز واقعہ یاد آگیا۔ سرینگر کے ایک حاجی صاحب نے مجھ سے گزارش کی کہ میں خریداری کے لیے ان کے ساتھ چلوں تاکہ مناسب داموں میں کپڑے لیے جا سکیں۔ میں نے بھی للہ فی اللہ ان کا ساتھ دینا قبول کیا۔ دراصل حرمین شریفین کے بازاروں میں دنیا بھر کی مصنوعات کے انبار لگے رہتے ہیں، جبکہ مقامی سعودی اشیاء آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ زائرین کی بھاری اکثریت ان مارکیٹوں سے عقیدت و تبرک کے نام پر شاپنگ کرتی ہے، حالانکہ وہ تمام تر سامان چین، بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان، شام اور ترکی کا تیار کردہ ہوتا ہے جن کے ریٹ آسمان کو چھو رہے ہوتے ہیں۔ میں نے راستے میں ہی حاجی صاحب کو متنبہ کر دیا تھا کہ دکاندار بڑی لجاجت اور چکنی چپڑی باتوں سے خریدار کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، لہٰذا کپڑا کٹوانے سے پہلے بھاؤ تاؤ لازمی کر لیں ورنہ پچھتانا پڑے گا۔ ہم بازار کی ایک گلی سے بالکل بے پرواہ اور لا تعلق انداز میں گزر رہے تھے جیسے ہمیں کچھ خریدنا ہی نہیں ہے ۔ ایک دکاندار لپک کر آگے بڑھا اور "حاجی صاحب! حاجی صاحب!" کہتا ہوا ہم سے تقریباً چمٹ ہی گیا اور بڑے اصرار کے ساتھ ہمیں دھکیلتے ہوئے اپنی دکان کے اندر لے جا کر کرسیوں پر بٹھا دیا۔ میں دکان میں موجود تھانوں کو کن اکھیوں سے بغور دیکھ رہا تھا مگر چہرے سے ایسا لاتعلق تاثر دے رہا تھا گویا ہمارے آبائی گھر میں ان سے بدرجہا اعلیٰ قسم کے کپڑے موجود ہوں۔ ادھر حاجی صاحب کی اہلیہ نے دام طے کیے بغیر ہی جھٹ پٹ مخمل (ویلویٹ) کے چار بیش قیمت سوٹ کٹوا دیے۔ مجھے حاجی صاحب پر خاصا غصہ آیا کہ جب بھاؤ تاؤ کی زحمت ہی نہیں کرنی تھی تو مجھے ساتھ گھسیٹنے کا کیا مقصد تھا؟ حاجی صاحب نے شرمندگی سے معذرت کی اور اپنی اہلیہ کو بھی خاموش رہنے کی تلقین کی۔ اب ان کو کچھ کفن کا کپڑا خریدنا تھا۔ دکاندار نے خوشی خوشی تھان کھولے ، اس نے تو آدھے گھنٹے میں ہی اپنا دن بنا لیا تھا اور چہک چہک کر باتیں کر رہا تھا۔ اب کی بار میں نے خود استفسار کیا کہ فی کفن کیا قیمت ہے؟ اس نے سینہ تان کر سو ریال بتائے۔ پھر ہمارے خاموش رہنے پر وہ خود ہی سو سے نوے، نوے سے اسی اور گرتے گرتے ستر ریال پر آ گیا۔ جب وہ خود ہی ستر پر اتر آیا تو میں نے لب کشائی کی اور کہا: "ہم آپ کو پچھتر ریال دیں گے۔" دکاندار نے جب ستر کے مقابلے میں پچھتر کی پیشکش سنی تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں، مگر اس کی خوشی اس وقت کافور ہو گئی جب میں نے مسکرا کر اگلا جملہ ادا کیا: "لیکن پچھتر ریال میں آپ تین کفن دیں گے!" وہ کپڑا ماشاءاللہ جاپان کا ساختہ اور عمدہ تھا۔ دکاندار پہلے تو گڑبڑایا، مگر بالاخر سو ریال میں چار سیٹ دینے پر رضامند ہو گیا۔ یہ مناظر مکہ و مدینہ کے بازاروں میں قدم قدم پر ملتے ہیں۔ جہاں تک بڑے شاپنگ مالز کا تعلق ہے، وہاں دام تو فکس ہوتے ہیں مگر اشیاء کے اصل معیار کے مقابلے میں بھاری قیمت وصول کی جاتی ہے۔ لہٰذا میرے معزز قارئین جب بھی اللہ کے فضل و کرم سے اس مقدس سفر پر روانہ ہوں، تو اپنی تمام تر توجہات اور توانائی کو فرائض، واجبات، سنن اور ذکر و اذکار پر ہی مرکوز رکھیں۔ ہمارے بیشتر زائرین حرمین شریفین پہنچتے ہی غیر ضروری طور پر مارکیٹوں کے چکر کاٹنے اور بے وقت خریداریوں میں قیمتی لمحے برباد کر دیتے ہیں۔ پھر واپسی پر ایئرپورٹ پر کسٹم حکام اور اوزان کی چیکنگ کے وقت ان محترم حجاج کی جو درگت بنتی ہے وہ انتہائی قابلِ رحم ہوتی ہے۔ اگر مجبوری کے تحت کچھ خریدنا بھی ہو تو حج کے جملہ مناسک کے اختتام کے بعد ہی ، نہ کہ عبادت کے اوقات میں بازاروں میں کھڑے ہو کر سامان کا بوجھ بڑھاتے رہیں۔ دوسری بات یہ کہ آنکھیں بند کر کے ہر دکاندار اور ڈرائیور پر اندھا دھند اعتماد نہ کریں، بلکہ عقل و شعور کے ساتھ اپنی جیب دیکھ کر ہی سودا سلف کریں۔ قصہ مختصر، ہم مکہ مکرمہ میں ٹیکسی کی تلاش میں کھڑے تھے کہ ایک بارہ سیٹوں والی ٹیکسی آ کر رکی۔ ڈرائیور تین افراد والی سیٹ پر چار کو ٹھونس رہا تھا اور فی سواری بیس ریال مانگ رہا تھا۔ چونکہ یوسف صاحب بے حد عجلت میں تھے، اس لیے ہم سوار ہو گئے۔ ہم کل سات افراد تھے۔ ڈرائیور نے ہمیں پندرہ منٹ تک شدید تپش میں گاڑی کے اندر بٹھائے رکھا اور مزید سواریاں ڈھونڈتا رہا۔ جب بقیہ مسافر نہ ملے تو کمالِ ڈھٹائی سے "معافی معافی" کہتا ہوا ہمیں گاڑی سے اتار گیا۔ اتنے میں پونے بارہ بج گئے۔ ایک اور گاڑی آ گئی جس میں آٹھ مسافروں کی گنجائش تھی۔ اس کا کرایہ بھی بیس ریال فی حاجی تھا جو نہایت مناسب تھا۔ مگر گزشتہ تلخ تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے پہلے ہی تصدیق کر لی کہ تین نشستوں والی سیٹ پر کتنے لوگ بیٹھیں گے؟ اس نے خوش دلی سے اقرار کیا کہ تین کی گنجائش پر تین ہی سوار ہوں گے۔ سعودی قوانین بلاشبہ بے حد سخت اور منظم ہیں، مگر ایامِ حج میں ٹرانسپورٹ والے حد درجہ من مانی اور لالچ پر اتر آتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ حاجی زندگی میں شاذ و نادر ہی آتا ہے، لہٰذا اس مجبوری سے جتنا فائدہ اٹھایا جا سکے اٹھا لیں۔ (الّا ماشاءاللہ، کچھ نیک اور خدا ترس لوگ بھی مستثنیٰ ہیں)۔ اب یہ ڈرائیور آٹھویں سواری کے انتظار میں تھا۔ اتنے میں ایک حاجی صاحب آئے جو جمرات جانا چاہتے تھے مگر ان کے پاس کنکریاں نہیں تھیں، وہ اپنے خیمے میں ہی بھول آئے تھے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ وہ روانہ تو ہونا چاہتے تھے مگر واجب کا بنیادی سامان ان کے پاس نہ تھا۔ انہوں نے لجاجت سے ہم سے استدعا کی کہ اگر کسی کے پاس زائد کنکریاں ہوں تو عنایت کر دیں۔ دنیا کے عجیب و غریب بازاروں اور اسٹاک ایکسچینج کے قصے تو سنے تھے جہاں سونے، چاندی اور بڑی بڑی کمپنیوں کے حصص بیچے جاتے ہیں، مگر یہاں ایک ایسا عجیب و غریب منظر تھا جہاں واجب کی ادائیگی کے لیے دولت نہیں بلکہ صرف پتھر کی کنکریاں درکار تھیں۔ چونکہ ہم نے بڑی احتیاط کے ساتھ گن گن کر بوتل میں اکیس اکیس کنکریاں رکھی تھیں، اس لیے میں تو تذبذب میں رہا، مگر ہمارے سخی رفیق عبدالسلام صاحب نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ذخیرے میں سے اکیس کنکریاں بلا معاوضہ اس پریشان حال حاجی کو دے کر اس کی مشکل آسان کر دی۔ ٹھیک بارہ بجے ٹیکسی نے ہمیں "الششہ " کے مقام پر بن داؤد سپر اسٹور کے پاس اتار دیا۔ ہم نے مکہ سے یہاں تک کا چھ کلومیٹر کا فاصلہ تو گاڑی میں طے کر لیا تھا، مگر آگے ہر قسم کی ٹرانسپورٹ سختی سے ممنوع تھی۔ اب جمرات تک کے دو کلومیٹر کڑی دھوپ میں پاپیادہ طے کرنے تھے۔ سبھی رفقاء کے ہاتھوں میں اپنی اپنی چھتریاں موجود تھیں، مگر میری بدقسمتی کہ چھتری کے پرخچے اڑ چکے تھے اور وہ بس اسٹینڈ کے کسی کوڑے دان کی نذر ہو چکی تھی۔ اس پورے سفرِ حج میں چھتری کے ٹوٹنے کا یہ میرا دوسرا اتفاق تھا۔ میرے سر پر صرف ایک بڑا سا دستی رومال تھا، جسے میری رفیقۂ حیات نے راستے میں دو تین بار ٹھنڈے پانی سے تر کر کے میرے سر پر ڈالا۔ دوپہر کا سورج آسمان سے جیسے انگارے برسا رہا تھا اور سڑک پر پانی کی بوتلیں تقسیم کرنے والے ٹرک بھی غائب تھے۔ ہاتھ میں صرف ایک چھوٹی سی بوتل تھی۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لگی ٹونٹیوں سے ابلتا ہوا گرم پانی نکل رہا تھا۔ تقریباً ایک کلومیٹر کا صبر آزما سفر کٹا ہی تھا کہ دور سے جمرات کمپلیکس کی عمارت نظر آنے لگی۔ عین اسی تپتی دوپہر میں قدرت کی طرف سے مدد اتری ایک بغیر چھت والی کھلی الیکٹرک چھوٹی گاڑی (گولف کارٹ) ہمارے قریب آ کر رکی۔ عملے نے پکارا: "چڑھیے! چڑھیے! جمرات، جمرات!" اس گاڑی میں پندرہ سولہ مسافروں کی گنجائش تھی۔ میں نے بے ساختہ پوچھا: "کتنا کرایہ ہے؟" انہوں نے محبت سے جواب دیا: "مفت! یہ جمرات کمپلیکس کی طرف سے ضیوف الرحمٰن کی سہولت کے لیے بالکل مفت ہے۔" ہم فوراً سوار ہو گئے۔ عملے نے ہمیشہ کی طرح بسکٹ، ٹھنڈے پانی کی بوتلیں، دال اور بریڈ تمام حجاج میں تقسیم کیں۔ گاڑی جمرات کی پہلی منزل پر چڑھتی ہوئی بالکل جمرۂ اولیٰ کے سامنے جا کر رکی۔ وہاں تقریباً ایک ہزار حجاج کو منتظمین اور پولیس نے ترتیب کے ساتھ بٹھا رکھا تھا جو زوال کے مسنون وقت کے منتظر تھے۔ ہمارے پہنچتے ہی پولیس نے دو تین سو حجاج کے دستے کو رمی کے لیے آگے جانے کی اجازت دی، جن کے ہمراہ ہم آٹھوں رفقاء بھی شامل ہو گئے۔ سب سے پہلے ہم جمرۂ اولیٰ (چھوٹے شیطان) کے قریب پہنچے۔ زبان پر ورد تھا: بِسْمِ اللَّهِ، اَللَّهُ أَكْبَرُ، رَغْمًا لِلشَّيْطَانِ وَرِضًا لِلرَّحْمٰنِ بوتل سے سات سنگریزے نکال کر بوتل واپس بیگ کے حوالے کی۔ سنگریزوں کو بائیں ہاتھ میں رکھا، اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور کلمے کی انگلی کے درمیان ایک کنکری تھامی۔ وہاں کوئی افراتفری نہ تھی، نہ دھکم پیل۔ نہ کسی کے دل میں کوئی کینہ تھا، نہ ہم نے کوئی چیخ و پکار کی، نہ گالیاں بکیں، اور نہ ہی لوگوں کی طرح غصے میں آ کر پاؤں سے جوتے نکال کر جمرے پر دے مارے۔ نہ موبائل نکال کر کوئی ویڈیو یا نمائش بنائی۔ حوض سے تقریباً چھ فٹ کے فاصلے پر باوقار کھڑے ہو کر، دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا۔ میرے بائیں جانب میری اہلیہ تھیں، ان کے برابر عبدالسلام صاحب کی اہلیہ، پھر عبدالسلام، محمد یوسف، ان کی اہلیہ اور میرے دائیں طرف غلام محی الدین تھے۔ (جھارکھنڈ کے آٹھویں حاجی صاحب ہمارے ساتھ نہیں تھے)۔ اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے ہم نے ایک ایک کر کے ساتوں کنکریاں جمرۂ اولیٰ کی دیوار پر ماریں۔ رمی مکمل کر کے ہم قدرے آگے بائیں جانب ہٹ گئے، رُخ قبلہ کی طرف موڑا اور دونوں ہاتھ ربِ ذوالجلال کی بارگاہ میں اٹھا دیے۔ کوئی دو تین درجن حجاج قریب کھڑے ہماری دعاؤں پر پرخلوص انداز میں آمین کہہ رہے تھے۔ اس کے بعد ہم درمیانے شیطان یعنی جمرۂ وسطیٰ کی طرف بڑھے۔ وہاں بھی اسی خشوع و خضوع کے ساتھ سات کنکریاں ماریں۔ کنکری مارنا درحقیقت کوئی رسمی اداکاری یا کھیل نہیں تھا، بلکہ ایک گہرا روحانی عہد تھا، اس علامتی پتھر کے بہانے دل و دماغ سے اصل ابلیس اور اس کے تمام فتنوں کو ہمیشہ کے لیے خود سے دور کرنے کا سچا اور پرخلوص جذبہ تھا ،کیونکہ اسی لعین ازلی دشمن نے سیدنا آدم علیہ السلام اور اماں حوا کو بہکایا تھا، پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے دلوں میں شکوک ڈالنے کی ناپاک جسارت کی تھی، تو ہم غریب خطاکار کس کھیت کی مولی ہیں! سات کنکریاں مارنے کے بعد پھر قبلہ رو ہو کر غفور الرحیم کے حضور خوب گڑگڑا کر دعائیں مانگیں۔ آخر میں ہم جمرۂ عقبہ (بڑے جمرے) پر پہنچے۔ کل دس ذوالحجہ کو بھی اسی کی رمی کی گئی تھی۔ جمرات کے بیرونی راستوں پر جہنم نما گرمی تھی، مگر یہاں وسیع و عریض ہال میں زبردست ائیرکنڈیشنرز کی بدولت خنک اور معتدل ہوائیں چل رہی تھیں۔ اللہ کا نام لے کر یکے بعد دیگرے سات کنکریاں ماریں۔ سنت کے مطابق اس آخری جمرے کے بعد کوئی دعا نہیں تھی، اس لیے ہم فوراً وہاں سے باہر نکل آئے۔ کل کے کڑوے تجربات نے ہمیں خاصا ہوشیار اور تجربہ کار بنا دیا تھا۔ اس بار ہم نے سخت دھوپ اور ہجوم والی شارع 68 کا رُخ کرنے کے بجائے روڈ نمبر 44 کی راہ لی۔ ابھی راستے میں ہی تھے کہ ظہر کی روح پرور اذان کی گونج سنائی دی۔ سامنے ہی تاریخی مسجدِ خیف کے بلند و بالا مینار اور گنبد اپنے پورے جلال کے ساتھ نظر آ رہے تھے۔ امام صاحب تکبیرِ تحریمہ کہہ چکے تھے اور ہم تپتی دھوپ اور پسینے میں شرابور دھیمی رفتار سے مسجد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ہم حرم شریف سے ہی باوضو آئے تھے۔ مسجد پہنچتے ہی ہم نے خواتین کو 'باب النساء' کی طرف رخصت کیا اور میں نے انہیں سختی سے تاکید کی کہ کچھ بھی ہو جائے، جب تک میں خود دو بجے لینے نہ آؤں، وہ کسی قیمت پر اس پرسکون مسجد سے باہر قدم نہ نکالیں ، اطمینان سے نماز ادا کریں اور ٹھنڈی چھاؤں میں سستانے کو غنیمت جانیں۔ اس کے بعد ہم مرد حضرات 'باب الرجال' سے اندر داخل ہو گئے۔ یہ وہ مقدس مسجد ہے جہاں ایامِ حج کے دوران باجماعت نمازیں قصر ادا کی جاتی ہیں، اور پھر سال بھر کے لیے مسجدِ نمرہ اور مسجدِ مشعر الحرام کی طرح اس کے دروازے بھی بند کر دیے جاتے ہیں۔ مسجد کا منظر دیدنی تھا۔ ہزاروں پروانے نماز، تلاوت، تسبیح و مناجات اور تھکن مٹانے میں مصروف تھے۔ درجنوں چھوٹی چھوٹی جماعتیں الگ الگ کھڑی تھیں۔ یہ مسجد جبل کے دامن میں واقع ہے اور روایات کے مطابق یہاں کثیر تعداد میں انبیاءِ کرام علیہم السلام نے نماز ادا کی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس مقام پر ستر انبیاءِ کرام نے نماز ادا فرمائی جن میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں، اسی مناسبت سے اسے "مسجدِ انبیاء" بھی کہا جاتا ہے۔ اندر قدم رکھتے ہی ذہن کے کینوس پر حجۃ الوداع کا وہ عظیم الشان منظرنامہ چلنے لگا، جب سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اسی پاک دھرتی پر خیمہ مبارک نصب کیا گیا تھا جہاں آپ نے قیام فرمایا، نمازیں ادا کیں اور مسلمانوں کو اخوت، امانت داری اور حقوق العباد کا وہ لازوال خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ مسجدِ خیف ابتدائی ادوار میں ایک کھلے اور سادہ احاطے پر مشتمل تھی، مگر خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دور میں اس کی تاریخ کی سب سے منظم اور شاندار توسیع ہوئی۔ موجودہ دور میں اس کا رقبہ 25 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے، جہاں بیک وقت پچاس ہزار سے زائد نمازی آرام دہ ائیرکنڈیشنڈ ہالز میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ منبرِ رسول کے عین قریب وہ مبارک جگہ ہے جہاں ہادیٔ برحق صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ مبارک لگا تھا اور آپ نے نمازیں پڑھائی تھیں۔ ہال کی خنک ہواؤں نے وجود کی ساری تکان نچوڑ لی۔ ہزاروں دیگر خستہ حال حجاج کی مانند میں بھی سرخ مخملی قالین پر دائیں کروٹ پر دراز ہو گیا۔ لیٹتے ہی پلکیں بوجھل ہو گئیں اور میں نیند کی پرسکون وادیوں میں گم ہو گیا۔ ابھی بمشکل آدھا گھنٹہ ہی گزرا ہوگا کہ عبدالسلام صاحب نے جھنجھوڑ کر مجھے گہری نیند سے جگا دیا۔ "ماسٹر جی! اٹھیں، مستورات باہر دھوپ میں انتظار کر رہی ہیں!" "مگر میں نے تو تاکید کی تھی کہ جب تک میں خود نہ آؤں، وہ باہر نہ نکلیں!" مجھے اپنی ٹوٹی ہوئی نیند اور ان کی بے وقت جلد بازی پر غصہ آ گیا۔ عبدالسلام نے کہا: "دراصل ان کی کوئی غلطی نہیں، محمد یوسف کی اہلیہ نے شور مچا دیا تھا کہ مرد حجاج اندر کہیں گم ہو گئے ہیں!" "استغفراللہ!" میں غصے اور بے بسی کے عالم میں مسکرا دیا۔ طوعاً و کرہاً، اس ایئرکنڈیشنڈ "جنت" سے نکل کر سیدھا پچاس ڈگری تپتے ہوئے روڈ پر قدم رکھنا پڑا جہاں آسمان آگ برسا رہا تھا۔ فارسی کا وہی مصرع یاد آ گیا: قہرِ درویش بر جانِ درویش! مگر ہم نے مصلحتاً خاموشی اختیار کی کسی کو کچھ نہیں کہا، نہ جھنجھلاہٹ دکھائی، کیونکہ ابھی کچھ دیر قبل ہی ہم شیطان کو کنکر مار کر آئے تھے، اور مسجد سے نکلتے ہی زبان کے شر سے اسے دوبارہ گلے لگانا کسی طرح بھی شیوۂ عزیمت نہ تھا۔ روڈ نمبر 44 کے کھلے آسمان تلے چلنا سراسر جان جوکھوں میں ڈالنا تھا، لہٰذا میں شارع شاہ فیصل (روڈ نمبر 50) پر جانا چاہتا تھا جو کہ سایہ دار تھی، لیکن بیچ میں کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا تھا۔ مجبوراً میں اپنے ساتوں حجاج کو لے کر مسجدِ خیف سے متصل نجی مکاتب کی خیمہ بستی کے اندر داخل ہو گیا۔ میں نے سب کو سختی سے ہدایت کی کہ چپ چاپ میرے پیچھے چلیں اور کسی سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ ان خیموں کا منظر ہی نرالا تھا، کچھ حجاج پرسکون ماحول میں لذیذ کھانے تناول کر رہے تھے، کچھ رس بھرے کینو اور موسمی پھل کھا رہے تھے، تو کوئی ٹھنڈے مشروبات کے گھونٹ بھر رہا تھا۔ یہ یقیناً وی آئی پی اور پرائیویٹ حجاج کے مکاتب تھے جن کی آسائشیں دیکھ کر دل عش عش کر اٹھتا تھا۔ مسجدِ خیف کے سامنے شارع القصر الملکی گزرتی ہے جبکہ پشت پر شارع شاہ فیصل ہے۔ کتنے خوش نصیب ہوں گے وہ زائرین جو ان مکاتب میں قیام پذیر ہیں! جمرات کا فاصلہ محض پندرہ منٹ، اور مسجدِ خیف کا فاصلہ بمشکل پانچ منٹ! وہ ہر نماز اسی مسجدِ انبیاء میں ادا کرتے ہوں گے جہاں آقا دو جہاں ﷺ نے قیام فرمایا تھا۔ جب دل چاہا مسجد کے ٹھنڈے فرش پر جا کر سستا لیے اور بھوک لگی تو خیمے میں آ کر نعمتیں چکھ لیں۔ ویسے بھی دنیا میں آج کل یہی چلن ہے کہ "زیستن برائے خوردن" (جینا صرف کھانے کے لیے ہے)۔ ہم تو خیر سرکاری کوٹے کے مسکین حاجی تھے جن کا بجٹ بمشکل سوا چار لاکھ کے آس پاس تھا، جبکہ یہ آٹھ دس لاکھ والے پرائیویٹ پیکیج کے شاہانہ لوگ تھے۔ خیر، یہ اللہ کی نگری ہے، یہاں کسی نے ہماری طرف شک کی نگاہ سے نہ دیکھا۔ سب اپنی اپنی دھن میں مست تھے اور خدمت گار اپنے کاموں میں مصروف۔ کسی نے "اہلاً و سہلاً" کہا نہ کسی نے ناک بھوں چڑھائی۔ میں عقاب کی طرح باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہا تھا۔ میری اہلیہ اور دیگر احباب میرے قدم بہ قدم تھے۔ آخرکار ایک جگہ سے باہر نکلنے کا درہ مل گیا۔ میں نے مڑ کر ساتھیوں کو اشارہ کیا اور بے دھڑک شارع شاہ فیصل (روڈ نمبر 50) میں کود پڑا۔ سب لوگ باحفاظت سڑک پر آ گئے، بس عبدالسلام کی اہلیہ قدرے پیچھے رہ گئی تھیں، مگر تھوڑی سی منت سماجت کے بعد گارڈز نے انہیں بھی آنے دیا۔ شارع شاہ فیصل پر پہنچ کر ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ منیٰ کی طرف سے ہزاروں حجاج کا سمندر ریلا بن کر جمرات کی جانب رواں دواں تھا۔ بوڑھے، جوان، مرد و زن، کوئی وہیل چیئر پر تو کوئی ایلومینیم اور اسٹیل کی لاٹھیاں ٹیکتا ہوا، تیز تیز اور باوقار قدموں سے آگے بڑھ رہا تھا۔ مگر جمرات سے واپس منیٰ جانے والی سمت میں اس پوری سڑک پر صرف ہم سات نفوس تھے ، تین مستورات اور چار مرد! سعودی قوانین کی سختی کو سوچ کر دل میں وسوسے تو پیدا ہوئے، مگر مکمل سایہ دار راستہ دیکھ کر ہم اللہ کا نام لے کر روانی سے چلتے رہے۔ تقریباً تین کلومیٹر کا فاصلہ با آسانی طے کر کے ہم ملک عبدالعزیز پل (کبریٰ) کے پاس پہنچے اور بائیں جانب مڑ گئے۔ یہاں سے ہمارا مکتب نمبر 22 بالکل قریب تھا۔ راستے میں پانی پلانے والے رضاکار بھی موجود تھے اور سایہ بھی وافر تھا۔ دوپہر کے سوا دو بجے ہم بخیروخوبی اپنے مکتب میں پہنچ گئے۔ حاجی محمد یوسف کو رخصت کر کے ان کے مکتب نمبر 23 کی طرف بھیجا۔ خیمے میں اس وقت دوپہر کا کھانا تقسیم ہو رہا تھا۔ ہم نے کھانا کھایا اور سچے دل سے پروردگار کا شکر ادا کیا، جس نے ہمیں آج کے اس دن طوافِ زیارت، سعیِ صفا و مروہ اور تینوں جمرات کی رمی جیسے بھاری مناسک کی بحسن و خوبی ادائیگی کی توفیق بخشی تھی ۔ شام چار بجے ہمارے محترم استاد نذیر احمد نجار صاحب کی فون کال آئی۔ جب میں نے ان سے ان کا مکتب اور روڈ نمبر پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ روڈ نمبر 68 پر مقیم ہیں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ ان کا کیمپ بالکل ہمارے کیمپ کے روبرو واقع تھا! میں نے فوراً عبدالسلام اور غلام محی الدین کو ساتھ لیا اور ان سے ملاقات کے لیے ان کے مکتب پر جا پہنچے۔ کیمپ کے گیٹ پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے ہمیں اندر جانے سے روک دیا، مگر ہم نے کوئی بحث و تکرار کرنے کے بجائے استاد محترم کو فون کیا۔ وہ خود باہر گیٹ پر تشریف لائے۔ ان کے چہرے پر مشقت اور شدید تھکن کے گہرے آثار نمایاں تھے، گیارہ ذوالحجہ کی کڑی دھوپ کا یہ سفر ان کے لیے کسی کٹھن آزمائش سے کم ثابت نہ ہوا تھا۔ کچھ دیر احوال پرسی اور دعاؤں کے تبادلے کے بعد ہم واپس لوٹ آئے۔ بعد ازاں ہم نے اپنے خیمے میں ہی عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں اور دن بھر کی تمام تھکاوٹیں اپنے پروردگار کے سپرد کر کے، اس کا شکر بجا لاتے ہوئے میٹھی اور گہری نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ عبد الرشید سرشار حالسیڈار، ویریناگ (کشمیر) رابطہ نمبر: 7006146071