سفر نامہ
سفرِ محمود.... (قسط نمبر 31)

✍️ :. عبدالرشید سرشار منیٰ کے مکتب میں سہولیات کی کوئی کمی نہ تھی۔ ناشتہ، دو وقت کا کھانا، چائے، بسکٹ، دال، سیب اور کینو الغرض ہر چیز وافر مقدار میں دستیاب تھی، مگر ایک چیز کی کمی دل کو بڑی شدت سے کچوکے لگا رہی تھی، اور وہ تھی قریب میں کسی مسجد کا نہ ہونا۔ تاریخی و مقدس مسجد مسجدِ خیف ہمارے مکتب سے ساڑھے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی، جبکہ مسجدِ کویتی بھی تقریباً ایک کلومیٹر دور تھی۔ مکتب کے اندر پنکھوں کا مسلسل شور، حجاج کی آپسی بے ہنگم گفتگو، محدود جگہ اور ہزاروں انسانوں کا اژدھام، حالت یہ تھی کہ نماز کا وقت ہوتے ہی ہمیں اپنا بستر اور گدا فولڈ کر کے سمیٹنا پڑتا تھا، تب جا کر بمشکل چند رکعتیں ادا کرنے کی جگہ نکلتی تھی۔ 28 مئی 2026ء کی شام ہم نے باہم صلاح مشورہ کیا کہ 29 مئی کو رات کے آخری پہر کبری (پل) پر چڑھ کر گاڑی کے ذریعے حرمِ پاک کی سمت رختِ سفر باندھیں گے۔ فجر کی نماز، نفلی طواف، تلاوتِ کلامِ پاک اور ذکر و اذکار سب مسجدِ حرام کے پرنور سائے میں ادا کریں گے۔ جمعۃ المبارک تھا، دل میں یہ تمنا انگڑائیاں لے رہی تھی کہ اس مبارک دن کے تمام حقوق کعبۃ اللہ کے روبرو ادا کیے جائیں۔ جمعہ کی نماز وہیں پڑھیں گے اور پھر حسبِ سابق ٹیکسی میں سوار ہو کر بن داؤد کے راستے جمرات پہنچیں گے، رمی کریں گے، پھر مسجدِ خیف میں نمازِ عصر ادا کر کے مغرب تک اپنے مکتب لوٹ آئیں گے۔ یہ حسین اور دلکش خواب آنکھوں میں سجائے ہم سستانے اور آرام کرنے کے لیے خیمے میں دراز ہو گئے۔ لیکن سچ ہے، انسان محض سوچ سکتا ہے، منصوبے تراش سکتا ہے، مگر تکمیل اور عمل آوری صرف اور صرف اُسی ذاتِ بابرکات کے قبضۂ قدرت میں ہے جو احکم الحاکمین ہے۔ تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔ میں نے بیدار ہو کر وضو کیا اور مستورات کے خیمے کی جانب قدم بڑھائے۔ حرم جانے کے اس منصوبے میں میرے پہلوٹھے رفیق، بڈگام کے محمد اکبر صاحب بھی شریک تھے۔ موصوف نے جب اپنی اہلیہ کے گوش گزار یہ مشورہ کیا تو شاید ان کی شریکِ حیات کو یہ تجویز راس نہ آئی۔ ادھر جب میں اپنی اہلیہ کی خبر گیری کے لیے پہنچا تو دیکھا کہ ان کا انگ انگ شدید درد سے کراہ رہا تھا۔ نقاہت اور تکلیف کا یہ عالم تھا کہ ان سے اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں جا رہا تھا۔ میں سخت پریشان ہو گیا۔ فوراً انہیں سہارا دے کر مکتب کی ڈسپنسری لے گیا، جہاں طبی عملے نے معائنے کے بعد انہیں کسی بھی قسم کی نقل و حرکت سے سختی سے منع کر دیا ۔ انہوں نے کچھ دوائیاں دیں، ہلکی پھلکی ورزشیں تجویز کیں۔ دراصل 10 اور 11ذی الحجہ کے ان دو دنوں کی سخت تھکن اور مشقت نے ان کی صحت کو کافی حد تک نڈھال کر دیا تھا۔ یوں ہمارا رات کا سوچا سمجھا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ خیمے کے باہر شور و غل میں قدرے کمی تھی مگر سورج کا پارہ چڑھ چکا تھا اور شدید گرمی تھی۔ نو بجے کے قریب مجھے کسی ضروری کام سے خیمے سے باہر نکلنا پڑا۔ دیکھا تو میری چپل غائب تھی، شاید کوئی حاجی صاحب غلطی سے پہن کر نکل گئے تھے۔ مجھے یہ اخلاقاً گوارا نہ ہوا کہ کسی اور کی چپل پہن کر اپنی طرح کسی دوسرے بندۂ خدا کو پریشانی میں مبتلا کروں۔ مجبوراً ننگے پاؤں ہی نکل پڑا۔ مگر ہائے رے تپش! باہر بچھے مصنوعی پلاسٹک کے سبز گھاس پر قدم رکھنا تھا کہ تلوے کوئلے کی طرح جلنے لگے۔ یوں محسوس ہوا جیسے پاؤں ابلتے یا کھولتے پانی میں ڈال دیے گئے ہوں۔ لمحوں میں دائیں پاؤں کے تلوے پر بڑا سا آبلہ (چھالا) نمودار ہو گیا۔ اب چار و ناچار مجھے خود بھی ڈسپنسری کا رخ کرنا پڑا۔ پاؤں شدت سے دکھ رہا تھا، مگر وہاں تعینات طبی عملے کے لیے یہ آئے دن کا معمول تھا۔ انہوں نے تسلی دی، مالش کے لیے مرہم کی ایک ٹیوب تھمائی اور رخصت کر دیا۔ درحقیقت وہ بے چارے بھی دوہری آزمائش میں تھے ایک طرف سینکڑوں مریض حجاج کا بروقت علاج اور دیکھ بھال کا بوجھ، اور دوسری طرف خود اپنے حج کے ارکان کی بروقت ادائیگی کی فکر۔ مجھے عزیزیہ والی اپنی ڈسپنسری کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا۔ وہاں کا طبی عملہ کچھ تو جنوبی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھتا تھا اور کچھ ہمارے جموں و کشمیر سے۔ شروعات کے دنوں میں وہ لوگ بالکل فارغ بیٹھے مکھیاں مارتے رہتے تھے، کوئی مریض دور دور تک دکھائی نہ دیتا تھا۔ جب کوئی اکا دکا حاجی آتا تو عملہ بڑے پیار اور والہانہ انداز میں اس کی آؤ بھگت کرتا، دوا دارو کرتا، لو لگ جانے کی صورت میں جوس، گلیسرین اور قوت بخش دوائیں دی جاتیں۔ اب جو ایک بار کوئی دوائی یا وٹامن لینے گیا اور اس کا چرچا ہوا، تو مفت کی ویسلین، گلیسرین، سر درد کی گولیاں اور دیگر اشیاء دیکھ کر دوسرے حجاج میں بھی یہ انوکھا شوق جاگ اٹھا کہ بلا ضرورت وقت بے وقت ڈسپنسری کے چکر کاٹنے لگے۔ وہ مطب جہاں پہلے الو بولتے تھے، اب وہاں ہر وقت رونق رہنے لگی اور حجاج کا تانتا بندھ گیا۔ آخرکار ڈاکٹر صاحبان بھی تاڑ گئے کہ اصل بیمار تو آٹے میں نمک کے برابر ہیں، باقی تو حیلے بہانوں سے دوائیں سمیٹنے آ رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی حکمتِ عملی بدل ڈالی۔ وہاں ایک کشمیری ڈاکٹر صاحب نے بڑی سنجیدگی سے حجاج کو سمجھایا کہ بھائیو! ہر چھوٹی موٹی بات اور معمولی کھجلی کے لیے دوائیوں کے پیچھے بھاگنا کوئی دانشمندی نہیں۔ بہرحال، 12 ذی الحجہ، جمعہ کی نماز اور خطبے سے محروم رہ جانے کا مجھے زندگی بھر کا ملال اور صدمہ ہوا۔ مسجدِ خیف اور مسجدِ کویتی میں جمعہ کی نماز سرے سے قائم ہی نہیں ہوتی بلکہ وہاں کے مسافرانہ احکام کے تحت قصر (ظہر) ہی ادا کی جاتی ہے، اور پھر مسجدِ خیف تک پہنچنے میں مجھے کم از کم آدھا گھنٹہ پیدل درکار تھا۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، شاید ہی میری زندگی میں کبھی جمعہ کی باجماعت نماز قضا ہوئی ہو۔ میرے پاس ایک آخری تدبیر یہ تھی کہ جمرات سے آگے بن داؤد کے اطراف کسی مقامی عرب بستی کی جامع مسجد میں جمعہ کے لیے نکل جاؤں، مگر قسمت دیکھیے کہ ڈسپنسری کے چکروں اور علاج معالجے میں ساڑھے دس بج گئے۔ وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا، لہٰذا میں نے رضائے الٰہی اور تقدیر کے فیصلوں کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ یہ ہمارے حج کا پانچواں دن تھا۔ اب خیمے میں نماز ادا کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ بچا تھا۔ جمعہ کے بجائے ہم نے باجماعت نمازِ ظہر ادا کی، دوپہر کا کھانا کھایا، اور یوں حسرت ہی رہی کہ آج رب کی نگری میں حج کے دوران جمعہ کی سعادت حاصل نہ کر سکا۔ نماز کے بعد میں پھر مستورات کے خیمے میں گیا۔ اہلیہ کی حالت جوں کی توں تھی، شوگر کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ شاید بلڈ پریشر بھی بڑھ گیا تھا۔ دوپہر ڈھائی بجے کے قریب میں نے ان سے مخلصانہ گزارش کی کہ "آج آپ بستر پر ہی آرام فرمائیں، میں آپ کا شرعی وکیل بن کر آپ کی طرف سے جمرات پر کنکریاں مار آؤں گا۔" اگرچہ برصغیر کے معاشرے میں میاں بیوی ایک دوسرے کے بے شمار دنیاوی و خانگی امور بنا کہے خود ہی نمٹا لیتے ہیں، مگر عبادت اور نیابت کا معاملہ نازک تھا، اس لیے میں نے پیشگی اجازت اور باضابطہ رضامندی لینا لازم سمجھا۔ اہلیہ نے بڑی ضد کی، کہنے لگیں: "نہیں، مجھے بھی ساتھ لے چلو، میں گرتے پڑتے خود ہی اپنی رمی کروں گی۔" مگر میں نے حکمت اور پیار سے سمجھا بجھا کر انہیں خیمے میں ہی آرام پر آمادہ کر لیا۔ ابھی یہ بات چیت چل ہی رہی تھی کہ خیمے سے دو دیگر خواتین حاضر ہوئیں۔ وہ دراصل آج ہی پانچویں دن منیٰ سے کوچ کر کے اپنے ہوٹل جانا چاہتی تھیں، مگر راستے کی مشقت سے بچنے کے لیے مجھ پر اصرار کرنے لگیں کہ میں ان کی طرف سے بھی وکالتاً رمی کر دوں۔ میں نے دیکھا کہ صحت کے اعتبار سے وہ ماشاءاللہ خوب توانا اور چست تھیں، چلنے پھرنے میں کوئی عذر یا جسمانی لاچاری نہ تھی۔ لہٰذا میں نے ان کی بے جا فرمائش کو اپنے گلے کا ہار نہیں بنایا اور صاف مگر مشفقانہ لہجے میں سمجھایا کہ "دیکھیے! رمی ایک شرعی واجب ہے اور بلا عذرِ شرعی نیابت درست نہیں۔ باہر گرمی ضرور ہے مگر جب اللہ نے آپ کو صحت سے نوازا ہے تو آپ خود کیوں نہیں کرتیں؟ مغرب سے پہلے پہلے آپ کو عزیزیہ کے لیے گاڑیاں بھی آسانی سے مل جائیں گی۔" اب نہ معلوم انہوں نے خود جا کر رمی کی یا کسی اور کو وکیل بنایا، البتہ وہ اسی دن منیٰ چھوڑ کر عزیزیہ چلی گئیں۔ ڈھائی بجے ہم جمرات کی جانب روانہ ہوئے۔ رفقاء میں عبدالسلام صاحب اور غلام محی الدین صاحب کے علاوہ چند دیگر حجاج بھی شامل تھے۔ دھوپ انگارے برسا رہی تھی اور تپش عروج پر تھی۔ عربین بینک کا وہ بڑا چھاتا، جس کی لمبی ہینڈل چلتے ہوئے لاٹھی کا کام بھی دیتی تھی، سر پر تانے ہم شارع 68 کے بجائے شارع 50 پر آ نکلے۔ یہ راستہ سایہ دار تھا، مگر گرمی اور لو کا زور بدستور قائم تھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے کی مسلسل مسافت کے بعد ہم مسجدِ خیف کے احاطے میں داخل ہو گئے۔ اندر قدم رکھتے ہی یوں لگا جیسے جنت کی ٹھنڈی ہوائیں روح کو تر کر رہی ہوں۔ ہزاروں حجاجِ کرام شاید 10 ذی الحجہ کی صبح سے ہی اسی پاکیزہ مسجد کو اپنا مسکن بنائے آرام فرما تھے۔ وہ دن میں بس ایک بار رمی کے لیے باہر نکلتے، باقی سارا وقت ایک پاکیزہ اعتکاف کی صورت اسی معطر فضا میں قیام پذیر رہتے۔ کھانے پینے کے بکھیڑوں سے آزاد، بس نماز، تلاوت، ذکر و اذکار اور تذکیہ نفس غرض اوڑھنا بچھونا سب اسی مسجد کی دہلیز تھی۔ کتنے خوش نصیب تھے وہ نفوسِ قدسیہ! اور ایک ہم تھے کہ بار بار مکتب 22 سے جمرات اور جمرات سے مکتب کے چکر کاٹ رہے تھے، وہی خیموں کا شور و غل، وہی نفسا نفسی اور وہی تپتی لو کے تھپیڑے۔ سچ تو یہ ہے کہ حرم اور مشاعر کے گرد و پیش میں سعودی حکومت اور مخیر حضرات شانہ بشانہ ضیوف الرحمن کی ایسی بے لوث خدمت میں جتے تھے کہ اگر ہم بھی اکیلے آئے ہوتے تو بلاشبہ یہی مسجدِ خیف ہمارا مستقل بیس کیمپ ہوتی۔ تین بجے سے لے کر نمازِ عصر تک ہم نے مسجد کے ٹھنڈے فرش پر کچھ دیر سکھ کا سانس لیا۔ خوش قسمتی دیکھیے کہ مسجد کے اندر اس خاص جگہ، جہاں روایت کے مطابق سرکارِ دو عالم ﷺ کے لیے خیمۂ مبارک نصب کیا گیا تھا، آج نوافل ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ عصر کی نماز باجماعت ادا کر کے ہم مسجد سے باہر نکلے اور میٹرو اسٹیشن کی طرف برقی سیڑھیوں کے ذریعے جمرات کی دوسری منزل پر پہنچ گئے۔ حسبِ معمول اس منزل پر اژدھام نہ ہونے کے برابر تھا اور انگلیوں پر گنے جانے والے حجاج ہی نظر آ رہے تھے۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی تھی کہ اکثر حجاج محض زمینی یا پہلی منزل کو ترجیح دے کر بلاوجہ بھیڑ کا شکار ہو جاتے ہیں، جہاں دھکم پیل میں ایک دوسرے کو دھکے لگتے ہیں اور لوگ خواہ مخواہ شدید اذیت اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ سنتِ نبوی کے مطابق پہلے میں نے اپنی طرف سے سات کنکریاں ماریں، پھر اہلیہ کی نیابت میں اللہ کا نام لے کر رمی مکمل کی۔ گڑگڑا کر دعائیں مانگیں۔ دعا سے فارغ ہو کر کچھ ساتھیوں نے عجلت میں مکتب کا رخ کیا تاکہ غروبِ آفتاب سے قبل ہی منیٰ کی حدود سے نکل سکیں، کیونکہ شریعت کے مطابق بارہ تاریخ کو سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے منیٰ کی حدود چھوڑ دینے سے پانچ دن کا حج پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے۔ پانچ دن کی اس محنت اور فریضے کی بحسن و خوبی تکمیل پر دل شکر کے جذبات سے لبریز تھا۔ عبدالسلام صاحب نے پلٹتے ہوئے کہا: "آئیے! پھر سے مسجدِ خیف چلتے ہیں۔" میں نے مسکرا کر عرض کیا: "نہیں، اب مختصر راستے سے مکتب لوٹتے ہیں۔" سورج کا غصہ اب دھیما پڑ رہا تھا اور تپش بتدریج زائل ہو رہی تھی۔ راستے میں سینکڑوں مستعد پولیس اہلکار اور مقامی رضاکار حجاج کو "حج مبرور و ذنب مغفور" کی مبارکبادی صدائیں دے کر دعاؤں سے نواز رہے تھے۔ جمرات سے نکل کر ہم شارع 68 پر آ چکے تھے۔ اس شاہراہ سے ہمارے مکتب نمبر 22 کا فاصلہ تقریباً ڈھائی کلومیٹر تھا۔ ابھی ہم نے آدھا کلومیٹر ہی طے کیا تھا کہ آگے شدید ٹریفک جام دیکھنے کو ملا، بڑی بڑی بسیں اور گاڑیاں امنڈ آئی تھیں۔ مگر چاک و چوبند پولیس نے کمال مہارت سے چند لمحوں میں راستہ کھلوا دیا۔ ہم ہنستے کھیلتے، ہلکے پھلکے قدموں سے اپنے مکتب پہنچ گئے۔ مکتب کا منظر نامہ یکسر بدل چکا تھا، تقریباً 70 فیصد حجاج نے اپنا بوریا بستر باندھ لیا تھا اور وہ اپنے اپنے بیگ تھامے استقبالیہ ہال میں بسوں کے منتظر بیٹھے تھے۔ وہ ہمیں بھی بار بار ترغیب دے رہے تھے کہ "سامان باندھو اور ہمارے ساتھ ہی چلو۔" مگر میرے کانوں میں ہمارے محترم حج ٹرینر فیصل صاحب کی وہ قیمتی نصیحت گونج رہی تھی کہ "اگر ہو سکے تو چھٹا دن بھی منیٰ میں ہی گزاریں، سنت کی پیروی میں ایک اضافی دن کی برکت سمیٹیں، گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔" دل نے کہا کہ کیا خبر زندگی کی بے اعتبار سانسیں پھر کبھی ان مقدس وادیوں کے یہ سنہری اور انمول لمحات نصیب کریں یا نہ کریں! اگرچہ اپنے رب کی رحیمی پر پختہ یقین ہے کہ اس کے فضل سے میرے نصیب میں اس دربار کی بار بار حاضری لکھی جا چکی ہے۔ دنیا داری کے جوڑ توڑ میں میں کتنا ہی نکما اور اناڑی کیوں نہ سہی، مگر شاید میری یہی درویشانہ بے نیازی میرے خالق کے حضور شرفِ قبولیت رکھتی ہے۔ مکتب کے منتظمین نے بھی تسلی دی کہ لاجسٹک اور کھانے پینے کی فراہمی میں ذرہ برابر کمی نہیں آئے گی، آپ پورے سکون کے ساتھ اگلا دن بھی یہاں گزاریں، خدمات بدستور جاری رہیں گی۔ اللہ ان خادمین کو جزائے خیر دے جنہوں نے ان ایام میں حجاج کی بے لوث خدمت کی۔ سورج وادیِ منیٰ کے پہاڑوں کے پیچھے ڈوب گیا۔ ہم نے باجماعت نمازِ مغرب ادا کی۔ مگر ہمارے وہ ساتھی جو جلد بازی میں تھے، گاڑیوں کی تاخیر کے سبب ابھی تک استقبالیہ میں پھنسے ہوئے تھے۔ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اب میں فرداً فرداً کن کن کو جا کر سمجھاؤں کہ فقہی اعتبار سے جب بارہ تاریخ کا سورج منیٰ کی حدود میں ڈوب جائے تو اب یہاں سے رات کو نکلنا مکروہ ہے اور تیرہویں کی رمی کر کے جانا ہی افضل و لازم ہو جاتا ہے۔ مغرب کے بعد میں اپنے محترم اور شفیق استادِ مکرم نذیر احمد نجار صاحب کی خبر گیری کے لیے ان کے مکتب کی سمت چل پڑا۔ وہاں کا احوال الامان والحفیظ! سارے حجاج جا چکے تھے اور پورے کیمپ میں ایک عجیب افراتفری کا ماحول برپا تھا۔ میں نے استادِ محترم کو فون ملایا تو معلوم ہوا کہ وہ نکل چکے ہیں اور مسجدِ حرام کے قریب محلہ غزا پہنچ چکے ہیں۔ میں نے فون پر ہی استادِ محترم اور ان کی اہلیہ کو پانچ دن کا حج خیر و خوبی سے مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ رات کو عشاء کے بعد کھانا کھا کر ہم سونے کی تیاری کرنے لگے۔ کل تک جس خیمے میں محشر کا سماں تھا اور تل دھرنے کو جگہ نہ تھی، آج وہاں سناٹا اور ہو کا عالم تھا۔ حجاج کی بڑی تعداد عزیزیہ سدھار چکی تھی۔ اب جہاں ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کے تنگ گدوں پر سمٹ کر راتیں کٹتی تھیں، وہاں ہم نے پانچ پانچ چھ چھ صوفہ کم بیڈ آپس میں ملا لیے اور شاہانہ انداز میں ٹانگیں پھیلا کر، پروردگار کی بے پایاں رحمتوں اور عنایتوں پر شکر کے ترانے پڑھتے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ تہجد کے وقت بیدار ہوا تو دیکھا کہ غسل خانے بالکل خالی پڑے تھے۔ خوب تسلی سے غسل کیا، اجلے اور پاکیزہ کپڑے زیب تن کیے۔ اتنے میں منیٰ کی فضاؤں میں فجر کی سحر انگیز اذان گونج اٹھی۔ باجماعت نماز ادا کی تو مجمع میں سے کسی نے شوشہ چھوڑا کہ "آج چھٹے دن تو ہم زوال سے پہلے ہی رمی کر کے فارغ ہو سکتے ہیں۔" میں نے موقع پر موجود پیش امام، محترم طاہر صاحب سے مودبانہ التماس کی کہ "خدا را! حجاج کے ذہنوں سے اس غلط فہمی کا ازالہ فرمائیے۔ جب ہم نے چھ دن رکنے کا عزم ہی کر لیا ہے تو پھر آدھا ادھورا دن گزار کر سنت کی تکمیل کیوں چھوڑیں؟" طاہر صاحب نے مقتدیوں کو مسئلے کی شرعی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ زوال سے قبل رمی کی رخصت صرف شدید معذوروں، بیماروں اور ضعیفوں کے لیے ہے، تندرست اور توانا حجاج پر بہرحال زوالِ آفتاب کے بعد ہی رمی واجب ہے۔ صبح آٹھ بجے کے قریب میں اپنے خیمے سے اکیلا ہی باہر نکل آیا۔ دھوپ اگرچہ ہلکی دھندلی سی لگ رہی تھی مگر اس کی تپش بڑی تیز اور جان لیوا تھی۔ میں کبری پر چڑھ گیا۔ ارادہ تھا کہ مسجدِ کویتی میں جا کر چند نوافل ادا کروں گا۔ ابھی چھ سات سو میٹر ہی چلا ہوں گا کہ اچانک یوں محسوس ہوا جیسے دہکتا ہوا پورا سورج میرے نہتے سر پر آگ کی لہریں برسا رہا ہے۔ غضب یہ ہوا کہ نہ تو سر پر چھاتا تھا، نہ رومال یا عقال، اور نہ ہی پانی کی کوئی چھوٹی بوتل ساتھ تھی۔ اوپر سے کوئی شناسا یا ساتھی بھی ہمراہ نہ تھا۔ اب مسجدِ کویتی کی دھن دھری رہ گئی اور اپنی جان بچا کر خیمے کی طرف لوٹنے کی فکر لاحق ہوئی۔ مگر نقاہت کا یہ عالم کہ ٹانگوں میں جسم کا بوجھ سنبھالنے کی سکت نہ رہی۔ قدم لڑکھڑانے لگے اور محسوس ہوا کہ اب گرا کہ تب گرا۔ میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے قریبی سایہ دار دیوار کا سہارا لیا اور وہیں نڈھال ہو کر بیٹھ گیا۔ حسنِ اتفاق کہ وہیں قریب ہی ایک اور حاجی صاحب سستانے بیٹھے تھے۔ میں نے لرزتی آواز میں ان سے پانی مانگا۔ انہوں نے کمال فیاضی اور ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانی کی ٹھنڈی بوتل میری طرف بڑھا دی۔ میں نے پوری بوتل اپنے جلتے ہوئے سر پر انڈیل دی اور آنکھوں پر چھینٹے مارے، مگر آنکھوں کے آگے اب بھی اندھیرا اور دھندلا پن چھایا ہوا تھا۔ جیب سے فون نکالا کہ خیمے میں ساتھیوں کو بتاؤں، مگر پھر سوچا کہ وہ ناحق پریشان ہوں گے اور اس اجنبی کبری پر شاید مجھے ڈھونڈ بھی نہ پائیں۔ دل کو مضبوط کیا، اللہ کا نام لے کر ڈگمگاتے قدموں سے مکتب کا رخ کیا اور بالآخر خیر و عافیت کے ساتھ اپنے خیمے میں داخل ہو گیا۔ وہاں بچے کھچے حجاج کی چہل پہل تھی۔ کوئی گرم چائے کی چسکیاں لے رہا تھا تو کوئی ٹھنڈے مشروبات سے دل بہلا رہا تھا۔ دھوپ کے تھپیڑوں اور اس اچانک افتاد نے میرا برا حال کر دیا تھا، میری جو کیفیت تھی وہ یا تو میرے دل کو معلوم تھی یا عرش پر بیٹھے میرے پروردگار کو۔ ایک ساتھی نے مجھے خیمے میں داخل ہوتے دیکھ کر ازراہِ تفنن چھیڑا: "ارے ماسٹر جی! آئیے چائے پیتے ہیں۔ آپ اس وقت کہاں سیر سپاٹے کر رہے تھے؟" میں نے کوئی جواب دینے کے بجائے خاموشی کو غنیمت جانا۔ سیدھا غسل خانے گیا اور کوئی دس منٹ تک شاور چلا کر اپنے تپتے ہوئے سر پر ٹھنڈے پانی کی دھار بہاتا رہا، تب جا کر حواس بحال ہوئے اور کھوپڑی کی جلن قابو میں آئی۔ طبیعت کچھ سنبھلی تو مستورات کے خیمے کا رخ کیا۔ اہلیہ کا حال اب بھی دگرگوں تھا، نقاہت میں کوئی خاص افاقہ نہ ہوا تھا۔ دوائیں موجود تھیں، کھانا بھی وقت پر مل رہا تھا، سو میں نے تسلی اور محبت کے چند بول بول کر ان کی ڈھارس بندھائی۔ وہ جہاں ایک اضافی دن منیٰ میں رکنے پر نازاں تھیں، وہیں کل کی رمی اپنے ہاتھوں سے نہ کر پانے پر سخت ملول اور مغموم تھیں۔ میں نے پیار سے سمجھایا: "کوئی ملال نہ کرو، شریعت نے عذر کی حالت میں نیابت کی کھلی گنجائش رکھی ہے۔ کل بھی میں نے تمہاری نیابت کا حق پوری طرح ادا کیا تھا اور آج بھی انشاءاللہ تمہاری طرف سے یہ فریضہ خوش اسلوبی سے ادا کر دوں گا۔" وہ خفگی سے بولیں: "نہ نہ! ایسا ہرگز مت کرنا۔ میں ہمت کر کے خود جاؤں گی۔" تب میں نے مسجدِ کویتی کے راستے میں خود اپنے اوپر جو بیتی تھی، وہ سارا ماجرا من و عن ان کے گوش گزار کیا۔ وہ میری بپتا سن کر سہم گئیں اور چپ چاپ اپنی نیابت کی اجازت دے دی۔ ساڑھے دس بجے ہم آخری بار جمرات کا رخ کرنے کے لیے خیمے سے نکلے۔ قافلے میں میرے ساتھ عبدالسلام صاحب، غلام محی الدین صاحب اور شمشادہ آنٹی تھیں۔ محمد سلطان صاحب گزشتہ روز ہی عزیزیہ لوٹ چکے تھے۔ ہم نے پھر وہی محفوظ تدبیر آزمائی اور سایہ دار شارع 50 کا راستہ اختیار کیا۔ حج کے دوران یہ بات ہر ایک کی زبان پر عام تھی کہ منیٰ میں جگہ جگہ آئس کریم اور ٹھنڈے جوسز وافر بانٹے جاتے ہیں، جنہیں دھوپ اور پسینے کے عالم میں کھانے سے اکثر حجاج کے گلے بیٹھ جاتے ہیں، نزلہ زکام جکڑ لیتا ہے اور جب تک اینٹی بائیوٹکس کا سہارا نہ لیا جائے، انسان سخت عذاب جھیلتا ہے۔ یہی نصیحت پلے باندھ کر میں نے پورے سفر میں احتیاط کا دامن تھامے رکھا تھا، حتیٰ کہ عرفات کے میدان میں بھی ایسی چیزوں سے پرہیز کیا۔ مگر آج جب ہم شارع 50 پر جا رہے تھے تو دیکھا کہ ایک مقامی خادم کے پاس آئس کریم کا بڑا ڈبہ ہے اور وہ ہر آنے جانے والے کو بانٹ رہا ہے۔ دل نے کہا کہ چلو آج تو رخصتی کا دن ہے، اب تک بڑا پرہیز کر لیا، ذرا دیکھ ہی لیتے ہیں۔ اس نے مسکرا کر دو دو ڈبیاں ہمارے ہاتھوں میں تھما دیں۔ میں نے وہ دونوں کھا لیں، ادھر شمشادہ آنٹی نے بھی اپنی ایک ڈبی میری طرف بڑھا دی تو میں نے وہ بھی شوق سے ہڑپ کر لی۔ ہم سوا گیارہ بجے مسجدِ خیف پہنچ گئے۔ سبھی اندر داخل ہو گئے اور نمازِ ظہر تک کے بابرکت لمحات وہیں عبادات اور استراحت میں گزارے۔ جوں ہی مؤذن نے ظہر کی صدا بلند کی، ہم نے باجماعت نماز ادا کی۔ دل میں ایک ہوک سی اٹھی کہ یقیناً سال 2026ء کی اس تاریخی مسجد میں یہ ہماری آخری باجماعت نماز تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر جب ہم باہر نکلے تو گمان تھا کہ حجاج کی بھاری اکثریت تو کل ہی منیٰ خالی کر چکی ہے، اب میدان صاف ہوگا اور ہم دو چار سو بچے کھچے لوگ بڑی آسانی سے رمی کر لیں گے۔ مگر باہر کا نظارہ دیکھا تو دنگ رہ گئے آج بھی انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود تھا! ہم نے نیچے کی بھیڑ میں گھسنے کا خطرہ مول نہ لیا اور میٹرو اسٹیشن والی طرف سے برقی سیڑھیوں کے ذریعے سیدھے دوسری منزل پر چلے گئے۔ اللہ کا شکر کہ وہاں ہجوم نہ ہونے کے برابر تھا۔ ہم نے پورے سکون اور خضوع کے ساتھ تینوں جمرات پر پہلے اپنی اور پھر اہلیہ کی طرف سے کنکریاں ماریں۔ رمی کے بعد ہم نے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی، اور آج کی دعا دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی ایک خاص التجا تھی: "اے ہمارے پروردگار! اس حج کو حجِ مبرور بنا، اور مالک! اسے ہماری زندگی کا آخری حج نہ بنانا، بلکہ اپنے اس مقدس دربار کی بار بار، پے در پے حاضری ہمارے نصیب میں لکھ دے۔" میرے پہلو میں کھڑے ایک رفیق نے جب میری یہ پرسوز دعا سنی تو ازراہِ تفنن میرے کان میں سرگوشی کی: "ماسٹر جی! کچھ حصہ اپنے بچوں کے نصیب کے لیے بھی رہنے دو۔ جب سارا حج آپ خود ہی بار بار کر لو گے تو کل کو بچے کیا کریں گے؟" میں نے بھرائی ہوئی آواز اور عاجز دل کے ساتھ جواب دیا: "میرے بھائی! میرے بچوں کا حقیقی کارساز اور نگہبان وہ پروردگار ہے جس نے اجنبی ہو کر بھی مجھے اور آپ کو اپنے فضل سے یہاں بلایا ہے۔ وہ داتا جب اپنے خزانے سے دینے پر آئے اور کرم فرمائے تو بھلا کس چیز کی کمی ہے؟" یہ بات آئی گئی ہو گئی۔ جمرہ عقبہ سے نکل کر پولیس کے نظام نے ہمیں کافی دور کے چکر پر ڈال دیا، شاید وہاں سے حرم کے لیے سیدھی گاڑیاں میسر تھیں۔ بہرحال، ہم ہنسی خوشی وہ طویل چکر کاٹ کر واپس مسجدِ خیف کے دامن میں پہنچ گئے۔ یہاں میں نے موبائل فون نکال کر اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولا اور صرف اتنا لکھا کہ "الحمدللہ رب العالمین " جمرات کے پاس تند و تیز اور گرم ہوائیں چل رہی تھیں، اور قدرت کا کھیل دیکھیے کہ تیسری بار میرا چھاتا تیز ہوا کے ایک جھکڑ کی نذر ہو کر ہاتھ سے چھوٹ گیا اور فضا میں اڑ گیا۔ مگر آج دل میں ذرا بھی تاسف یا جھنجھلاہٹ نہ تھی، بلکہ میں نے لبوں پر مسکراہٹ سجائے اپنے اس چھاتے کو یوں اڑتے ہوئے الوداع کہا جیسے وہ میرا کوئی سدھایا ہوا کبوتر یا باز ہو، جو ابھی نیلگی فضاؤں میں پرواز کر کے واپس میرے کندھے پر آن بیٹھے گا۔ آج کے دن بھی شارع 50 واپسی کے لیے مختص نہ تھی، مگر دھوپ سے بچنے کے لیے ہم نے پھر دانستہ اسی پرسکون اور سایہ دار راستے کا رخ کیا۔ راستے میں خوراک کے پیکٹ تقسیم ہو رہے تھے، ہم نے بھی لے لیے۔ ادھر شمشادہ آنٹی کی طبیعت سفر اور گرمی کے باعث پھر بگڑنے لگی تھی، چنانچہ ہم نے ان کا وزنی سامان خود اٹھا لیا اور سہ پہر تین بجے کے قریب بحفاظت مکتب نمبر 22 میں داخل ہو گئے۔ مکتب کی استقبالیہ حجاج سے بھرا ہوا تھا۔ حجاج کی اکثریت اپنے بیگ سنبھالے استقبالیہ کے سامنے بسوں کی منتظر کھڑی تھی۔ آج اس وادی کو خیرباد کہنا لازمی امر تھا۔ دل تو تڑپ رہا تھا کہ کاش چند دن اور اسی دیارِ حبیب میں بیت جائیں، مگر حج تو دراصل عبدیت اور حکمِ الٰہی کی کامل اطاعت کا نام ہے۔ اُسی مالک کا فرمان تھا کہ فلاں تاریخ کو بستر باندھ کر منیٰ چلو، اور اسی کا حکم تھا کہ فلاں وقت تک تم یہاں قیام کر سکتے ہو۔ اب اس کے بعد یہاں بلاوجہ رکنا گویا اس کے دوسرے حکم سے سرتابی تھی۔ سو، بادلِ نخواستہ اور دل پر جبر کرتے ہوئے ہم نے بھی اپنے اپنے بیگ باندھنا شروع کر دیے۔ موبائل چارجر، پاور بینک، سفید احرام کی چادریں، پانی کی بوتلیں، چپلیں، غرض تمام اسباب سلیقے سے سمیٹ کر بیگوں میں بند کر دیا۔ مکتب 22 کے عملے نے ان ایام میں جس خلوص سے ہماری میزبانی کی تھی، ہم نے تہہ دل سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ مکتب کے باورچی خانے میں جو راشن بچ گیا تھا، مثلاً بسکٹ، دالیں، روٹیاں اور سیب وغیرہ، انتظامیہ نے وہ سارا سامان باہر لا کر حجاج میں تقسیم کرنا شروع کر دیا، کیونکہ بصورتِ دیگر وہ ضائع ہو جاتا۔ مگر یہ کیا! سامان کا باہر آنا تھا کہ حجاج کے درمیان ایک عجیب نفسا نفسی اور چھینا جھپٹی برپا ہو گئی۔ لوگ یوں دیوانہ وار جھپٹ رہے تھے جیسے زندگی میں کبھی یہ نعمتیں دیکھی ہی نہ ہوں۔ لمحہ بھر کو یوں لگا جیسے ہم کسی متبرک حاجی کیمپ میں نہیں بلکہ کسی گنجان اور بے ہنگم مچھلی منڈی کے بیچ کھڑے ہیں۔ اسی ہنگامے کے دوران ایک من چلا برمی خادم اپنے سر پر گتے کا ایک بڑا سا ڈبہ اٹھائے "حاجی! حاجی! حاجی!" کی پکار لگاتا ہوا نمودار ہوا۔ آن کی آن میں مفت خوروں کا ایک غول اس کے گرد جمع ہو گیا۔ خادم نے بڑی ہوشیاری سے یوں ظاہر کیا جیسے ڈبہ بے انتہا وزنی ہو اور اس میں کوئی من بھر قیمتی سامان بھرا ہو۔ وہ اسے سر سے اتارتے ہوئے شدید تھکن اور مشقت کی شاندار اداکاری کر رہا تھا۔ حجاج کی رال ٹپک رہی تھی۔ جونہی سنبھلتے سنبھلتے اس نے وہ ڈبہ زمین پر رکھا، تو حجاج نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، بازو چڑھا کر ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے اس پر دھاوا بول دیا۔ مگر ڈبہ کھلتے ہی سب کے طوطے اڑ گئے اندر سے وہ بالکل خالی تھا! اس مسخرے خادم نے اپنی اس چوٹ سے حجاج کو ان کی اوقات کا آئینہ دکھا دیا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں عزیزیہ لے جانے والی بسیں آن پہنچیں۔ خیمے کے حجاج کو گنتی کے مطابق گاڑیوں میں سوار کرایا جانے لگا۔ میری نظریں بار بار اس ویل چیئر کو تلاش کر رہی تھیں جو مزدلفہ سے جمرات اور پھر مکتب بائیس تک میری اہلیہ کا سہارا بنی تھی، مگر وہ کہیں نظر نہ آئی۔ مکتب کے احاطے میں درجنوں دیگر ویل چیئرز لاوارث پڑی تھیں، مگر میں نے کسی پرائی امانت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ ہم نے اپنا سامان بس کی ڈکی میں چڑھایا۔ بس کے اندر میری نشست اہلیہ کی نشست کے بالکل ساتھ تھی۔ مگر ان کے چہرے پر نگاہ ڈالی تو صاف عیاں تھا کہ اپنے ہاتھوں سے آخری رمی نہ کر پانے کا قلق ابھی تک ان کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا تھا۔ دل میں ایک حسرت جاگی کہ کاش! آج بھی بسیں نہ آتیں اور یہیں مغرب ہو جاتی، اور حکم ملتا کہ اب مغرب کے بعد نکلنا ممنوع ہے، تو کیسا اچھا ہوتا کہ ہم ایک اور رات منیٰ کی اس دلفریب وادی میں گزار لیتے! مگر تقدیر کے فیصلے اٹل تھے۔ ڈھلتے ہوئے سورج کی سنہری کرنیں منیٰ کے سنگلاخ پہاڑوں اور سفید خیموں کے شہر کو ایک مسحور کن الوداعی سنہری نور بخش رہی تھیں۔ بس نے دھیمی رفتار سے چلنا شروع کیا، آگے گاڑیوں کا ایک طویل قافلہ رواں دواں تھا۔ ہم وادیِ منیٰ کو نم آنکھوں سے الوداع کہہ رہے تھے۔ عین اسی لمحے میرے تخیل کے پردے پر وادیِ منیٰ ایک جیتی جاگتی ہستی بن کر ابھری۔ یوں لگا جیسے منیٰ کی یہ مقدس وادی مجھ سے محوِ کلام ہو اور کہہ رہی ہو: "اے مسافرو! ذرا پلٹ کر دیکھو، میں نے اپنے اس کشادہ دامن میں ازل سے لے کر اب تک کروڑوں، اربوں انسانوں کو آتے اور جاتے دیکھا ہے۔ امیر و کبیر ہوں کہ مفلس و نادار، نیکوکار ہوں کہ خطا کار، پیغمبر ہوں یا ان کے امتی یہ وہی دشتِ وفا ہے جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خلیل اللہ بن کر اپنے لختِ جگر سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا پختہ ارادہ فرمایا تھا۔ کیا بے مثال اور وجد آفریں منظر تھا وہ ایثار کا! اور آج تم سب انہی قدسی نقوش کی پیروی میں یہاں آئے ہو۔ میں تم میں سے ہر ایک کو، تمہارے ناموں اور نیتوں سمیت خوب پہچانتی ہوں۔ یاد رکھنا! ایک وقت آئے گا جب میں تمہارے ان پانچ چھ دنوں کی تمام تر داستانیں، تمہارے اچھے اعمال، تمہاری کوتاہیاں، غفلتیں اور لغزشیں سب اٹھا کر احکم الحاکمین کی عدالتِ عالیہ میں پیش کر دوں گی۔ آج جب تم اس وادی سے نکلو گے تو دنیا تمہیں 'حاجی صاحب' کے معزز لقب سے پکارے گی۔ جیسے کوئی اعلیٰ ڈگری (پی جی) پاس کر لے تو وہ ماسٹر کہلاتا ہے، یا کوئی طب کی سند لے کر ڈاکٹر بن جاتا ہے، بالکل ویسے ہی تم بھی حاجی کہلاؤ گے۔ مگر خبردار! اس نام کی لاج رکھنا، اس اعزاز کو محض نمائش نہ بنانا، اور حاجی بن کر دینِ اسلام کے اس عظیم الشان پانچویں ستون کی ناقدری کبھی نہ کرنا!" میں نے بوجھل دل اور پرنم آنکھوں کے ساتھ جمرات، مسجدِ خیف، اپنے مکتب نمبر 22 اور میلوں تک پھیلے ہزاروں خیموں کے اس سفید سمندر پر ایک آخری الوداعی نظر ڈالی۔ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آخری سلام کا نذرانہ پیش کیا، اور ہماری گاڑی مزدلفہ کی وادیوں کو چیرتی ہوئی واپس عزیزیہ کی سمت گامزن ہو گئی۔ عبدالرشید سرشار حالسیڈار، ویریناگ (کشمیر) رابطہ: 7006146071