Ad
ہندوستان

پہلگام حملے کے بعد پہلی بار، نئی دلی کی اسلام آباد کو دعوت

✍️ :. رضوان سلطان / نوکِ قلم نیوز 

ایک غیر معمولی پیش رفت میں بھارت نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تحت نئی دہلی میں منعقد ہونے والے ’سیولائزیشنل ڈائیلاگ فورم‘ میں شرکت کے لیے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھیچی کو دعوت دی ہے۔ اپریل 2025 میں پہلگام حملے اور مئی 2025 میں آپریشن سندور کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کے تناظر میں یہ پہلا موقع ہے جب بھارت نے پاکستان کے کسی سینئر وزیر کو اس نوعیت کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

 یہ فورم 20 اور 21 نومبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے حوالے سے ایک اہم پہلو سامنے آیا ہے، اگرچہ دوطرفہ تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔

بھارت نے آخری مرتبہ مئی 2023 میں پاکستان کے کسی سینئر وزیر کی میزبانی کی تھی، جب پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گوا میں ایس سی او کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

، پاکستان کو دعوت دینا بھارت کی میزبانی کی ذمہ داریوں کا حصہ مانا جارہا  ہے، کیونکہ نئی دہلی نے ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان تہذیبی مکالمے کے اس فورم کی میزبانی کی تجویز پیش کی تھی۔ تنظیم کے تمام رکن ممالک کو اس پروگرام میں شرکت کی دعوت دینا اسی عمل کا حصہ ہے۔بتاتے چلیں کہ پاکستان آئندہ سال ایس سی او کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کی میزبانی کرنے والا ہے۔بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات 2016 میں پٹھان کوٹ اور اُوڑی حملوں اور پھر پلوامہ اور پہلگام حملے کے  بعد سے مسلسل تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ 2019 میں دونوں ممالک کی جانب سے اپنے سفیروں کو واپس بلائے جانے کے بعد دوطرفہ سفارتی تعلقات مزید محدود ہوگئے تھے۔ تاہم، دونوں ممالک کو ایس سی او جیسے کثیر ملکی پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنا پڑتا ہے۔ایس سی او کے تحت تہذیبی مکالمے کا تصور وزیر اعظم نریندر مودی نے ستمبر 2025 میں چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے دوران پیش کیا تھا۔

بعد ازاں، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 20 اکتوبر 2026 کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے 25ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ بھارت اس فورم کی میزبانی کرے گا۔رپورٹ کے مطابق، ایس سی او کے پلیٹ فارم پر بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں کا سلسلہ گزشتہ ماہ اس وقت آگے بڑھا، جب بھارت کے ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کی۔بھارت کے ایس سی او قومی رابطہ کار آلوک دِمری نے اسلام آباد میں قومی رابطہ کاروں کے اجلاس میں بھارتی وفد کی قیادت کی۔ اسلام آباد میں ایس سی او کے اجلاس میں بھارتی وفد کی شرکت تقریباً دو سال کے وقفے کے بعد ہوئی۔ اس سے قبل اکتوبر 2024 میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اسلام آباد میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ایس سی او کے تحت پاکستان کے سینئر رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔ایس سی او کے رکن ممالک میں بھارت، پاکستان، چین، روس، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔

پاکستان کو نئی دہلی میں ہونے والے تہذیبی مکالمے کے فورم میں شرکت کی دعوت ایسے وقت میں دی گئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات معمول پر نہیں آئے ہیں۔ تاہم، ایس سی او جیسے کثیر ملکی پلیٹ فارمز کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے برقرار ہیں۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!