مضامین
منشیات کے خلاف جموں و کشمیر پولیس کی جنگ، محافظوں کو سلام

جموں و کشمیر پولیس کے ان تمام افسران اور اہلکاروں کو سلام جو آج ہماری نوجوان نسل کو منشیات کے تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے ایک اہم اور مشکل جدوجہد میں مصروف ہیں۔ یہ محض ایک سرکاری کارروائی نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت، خاندانوں کے تحفظ اور معاشرے کے مستقبل کو بچانے کی ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی۔‘‘ (المائدہ: 32) اگرچہ یہ آیت انسانی جان کی حرمت اور اس کے تحفظ کے سیاق میں ہے، تاہم اس میں انسانی زندگی کی قدر و منزلت بھی واضح ہوتی ہے۔ منشیات کے مہلک جال سے نوجوانوں کو بچانے کی کوشش بھی انسانی خدمت کا ایک اہم پہلو ہے۔ اس جدوجہد میں ڈی جی پی، اے ڈی جی پی، آئی جی پی، ڈی آئی جی صاحبان ، ایس ایس پی صاحبان ، ایس پی صاحبان ، ڈی ایس پی صاحبان ، ایس ایچ او صاحبان ، سی آئی ڈی کے افسران، تحقیقاتی ٹیموں اور زمینی سطح پر خدمات انجام دینے والے تمام پولیس اہلکاروں کی محنت قابلِ تحسین ہے۔ کسی بڑے آپریشن کے پیچھے صرف ایک افسر کا نام نہیں ہوتا، بلکہ ایک پوری ٹیم کی منصوبہ بندی، معلومات، نگرانی، تحقیق اور عملی محنت شامل ہوتی ہے۔ اس لیے اس مہم کی کامیابی کا اعتراف پوری پولیس فورس کے نام ہونا چاہیے۔ قرآن مجید نے نشہ آور اشیا سے بچنے کا واضح حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے: ’’اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور پانسے یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آؤ گے؟‘‘ (المائدہ: 90-91) رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘ (صحیح مسلم) یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ نشہ صرف جسمانی صحت ہی کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ انسان کی عقل، کردار، عبادت، خاندان اور معاشرتی زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
حالیہ عرصے میں کشمیر کے مختلف علاقوں سے منشیات فروشوں کی گرفتاریوں، منشیات کی برآمدگی اور منظم نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ یہ کارروائیاں اس بات کی علامت ہیں کہ پولیس اس مسئلے کو ایک سنگین سماجی خطرہ سمجھ کر دیکھ رہی ہے۔ بالخصوص سی آئی ڈی اور انٹیلی جنس کے ان اہلکاروں کی محنت قابلِ ذکر ہے جو پس پردہ رہ کر معلومات جمع کرتے، مشتبہ سرگرمیوں کا سراغ لگاتے اور منظم گروہوں تک پہنچنے میں معاونت کرتے ہیں۔ اسی طرح تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز، ڈی ایس پیز اور دیگر افسران کے ساتھ وہ کانسٹیبل اور زمینی اہلکار بھی اس جدوجہد کا اہم حصہ ہیں جو مشکل حالات میں کارروائیوں کو عملی شکل دیتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ پولیس کی قانونی کوششوں کا ساتھ دیں، مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع ذمہ داری کے ساتھ متعلقہ حکام تک پہنچائیں اور منشیات کے کاروبار کو کسی بھی صورت سماجی قبولیت نہ دیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف گرفتاریوں، چھاپوں اور مقدمات کے اندراج سے مکمل نہیں ہوگی۔ منشیات فروشوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی اپنی جگہ ضروری ہے، مگر نشے کی لت میں مبتلا افراد کے لیے علاج، نفسیاتی مدد اور بحالی کے مؤثر انتظامات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ ہمیں منشیات فروشی کرنے والے اور نشے کے عادی شخص کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا؛ ایک معاشرے میں زہر پھیلا رہا ہے، جبکہ دوسرا اکثر خود اس زہر کا شکار بن چکا ہوتا ہے۔ ایسے افراد کو علاج اور معاشرے میں واپسی کا موقع دینا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اسی حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا ایک جامع اصول ہے: ’’نہ خود نقصان اٹھانا ہے اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچانا ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ) یہی اصول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دوسروں کو منشیات کے ذریعے نقصان پہنچانے والوں کو روکنا اور نشے کے شکار افراد کو تباہی سے نکالنے کی کوشش کرنا، دونوں ضروری ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی صحبت اور معمولات پر توجہ دیں، تعلیمی ادارے آگاہی پیدا کریں، علما اور سماجی رہنما نوجوانوں کی اخلاقی تربیت میں کردار ادا کریں اور پولیس اپنی کارروائیوں کے ساتھ عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنائے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پولیس کے اہلکار بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں؛ وہ بھی اپنے گھروں اور ذاتی زندگی سے وقت نکال کر دوسروں کے تحفظ کے لیے ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ ان کی محنت پر تنقید کرنا آسان ہے، لیکن مشکل حالات میں فرائض کی ادائیگی، خطرات کا سامنا اور مسلسل میدان میں موجود رہنا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ جہاں کسی کارروائی میں کوتاہی ہو، وہاں اصلاح اور جواب دہی بھی ضروری ہے، لیکن جہاں کوئی افسر یا اہلکار ایمانداری اور فرض شناسی سے معاشرے کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہو، وہاں اس کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے۔ ہماری پولیس کے اعلیٰ افسران سے لے کر آخری صف میں کھڑے اہلکار تک ہر اس شخص کی خدمات قابلِ قدر ہیں جو منشیات کے خلاف اس جنگ کو اپنا فرض سمجھ کر لڑ رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ مہم چند دنوں یا چند اخباری سرخیوں تک محدود نہ رہے، بلکہ اسے ایک مستقل اجتماعی تحریک بنایا جائے۔ منشیات کے کاروبار کی مالی بنیادوں، سپلائی نیٹ ورکس اور سرپرستوں تک پہنچنا، نوجوانوں کو کھیل، تعلیم اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اور نشے کے شکار افراد کی بحالی کو یقینی بنانا اس جدوجہد کے بنیادی تقاضے ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس کے لیے ہماری نیک تمنائیں اور تعاون اس امید کے ساتھ ہے کہ اس کی مسلسل کوششوں سے وہ دن ضرور آئے گا جب ہمارے تعلیمی ادارے، گلیاں اور محلے منشیات کے خوف سے آزاد ہوں گے۔ یہ جنگ صرف پولیس کی نہیں، ہم سب کی ہے؛ البتہ اس جنگ میں جو لوگ وردی پہن کر سب سے آگے کھڑے ہیں، وہ ہماری تحسین، احترام اور تعاون کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری نوجوان نسل کو منشیات کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔