Ad
مضامین

باپ: محبت، قربانی اور تحفظ کی خاموش داستان

✍️ :. زید رمضان بانڈے 


دنیا میں کئی رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت اور محبت کا اندازہ الفاظ سے لگانا ناممکن ہوتا ہے، لیکن ان تمام رشتوں میں "والدین" کا رتبہ اور مقام سب سے بلند و بالا ہے۔ ماں کی گود اور اس کی محبت کی مٹھاس کا ذکر تو ہر جگہ ملتا ہے، لیکن باپ وہ گمنام اور خاموش محافظ ہے جو زندگی کی ہر تپتی دھوپ میں اپنے بچوں کے لیے ایک ٹھنڈے اور گھنے درخت کی مانند کھڑا رہتا ہے۔

باپ کی عظمت اور قربانی کی ایک جیتی جاگتی مثال میری اپنی زندگی کے اس سچے واقعے سے ملتی ہے، جب میں صرف پندرہ دن کا معصوم بچہ تھا اور میرے والدین مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جا رہے تھے۔ راستے میں اچانک ناگہانی صورتحال پیدا ہو گئی اور بس پر پتھراؤ شروع ہو گیا، جس سے بس کے شیشے ٹوٹ کر اندر گرنے لگے اور ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایسے خطرناک اور ہنگامی لمحے میں، جب انسان کو اپنی جان کی فکر ہوتی ہے، میرے والد کی پہلی اور واحد سوچ مجھے بچانا تھا۔ انہوں نے فوراً مجھے (اپنے پندرہ دن کے بچے کو) سیٹ کے نیچے محفوظ کیا، میری والدہ نے محبت اور مامتا کی چادر سے مجھے ڈھانپا، اور پھر والد نے اپنے پورے وجود کو ہم دونوں کے اوپر اس طرح پھیلا دیا کہ ٹوٹتے ہوئے شیشے اور ان کے نوکیلے ٹکڑے خود ان کے اپنے جسم پر لگیں، لیکن ان کی بیوی اور معصوم بچے (یعنی مجھ) تک ایک خراش بھی نہ پہنچے۔

یہ واقعہ صرف ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس عالمگیر حقیقت کا ثبوت ہے کہ باپ ہمیشہ اپنے خاندان اور دنیا کے خطرات کے درمیان ایک ناقابلِ تسخیر اور مضبوط دیوار بن کر کھڑا رہتا ہے۔

ایک والد کی محبت کا اندازہ اس کے مٹھاس بھرے الفاظ سے نہیں، بلکہ اس کے تندہی سے کیے گئے کاموں، اس کے ہاتھوں کے چھالوں اور اس کے چہرے کی لکیروں سے لگایا جاتا ہے۔ وہ خود تکلیفیں سہتا ہے، گرمی اور سردی کے تھپیڑے برداشت کرتا ہے، اور دن رات محنت و مشقت کرتا ہے تاکہ اس کے بچوں کو ایک بہتر اور محفوظ مستقبل مل سکے۔ وہ اپنے غم اور پریشانیاں اپنے سینے میں دفن کر لیتا ہے، کبھی اپنے چہرے پر شکستگی نہیں آنے دیتا، لیکن اپنے بچوں کی آنکھ میں ایک آنسو بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اس کی قربانیاں خاموش ہوتی ہیں؛ وہ ہر دن ایک ایسا سپاہی بن کر لڑتا ہے جس کا مقصد صرف اپنے گھر والوں کو خوشیاں فراہم کرنا ہوتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ باپ صرف ایک گھر کا سربراہ یا کفیل نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے خاندان کی سب سے مضبوط اور ناگزیر ڈھال ہوتا ہے۔ جب تک باپ کا سایا سر پر موجود رہتا ہے، زندگی کے بڑے سے بڑے طوفان اور تلخ حقائق بھی انسان کو چھو نہیں پاتے، کیونکہ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے سامنے ایک ایسی ہستی موجود ہے جو ہر بلا کو اپنے اوپر جھیلنے کے لیے تیار ہے۔

والدین زمین پر اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی موجودگی سے گھر میں برکت، سکون اور تحفظ کا احساس قائم رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین کی قدر کریں، ان کا احترام کریں اور ان کی خدمات اور قربانیوں کا بدلہ محبت، اطاعت اور خدمت کے ذریعے چکانے کی کوشش کریں۔

اللہ تعالی تمام کے والدین کو سلامت رکھے، انہیں صحت و تندرستی عطا فرمائے اور جن کے والدین اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!