سفر نامہ
سفرِ محمود..... (قسط نمبر 32)

10 جون 2026ء، نمازِ عشاء سے فراغت پاتے ہی ہم اپنے ہوٹل پہنچ گئے۔ ہوٹل کی وسیع و عریض لابی میں حج انسپکٹر منظور صاحب نے تمام حجاج کو فوری جمع ہونے کا حکم دیا۔ جب حجاج کی ایک بڑی تعداد وہاں اکٹھی ہو گئی، تو موصوف نے اعلان کرتے ہوئے فرمایا:
"کل 11 جون ہے۔ صبح دس بجے کے بعد کوئی بھی حاجی ہوٹل سے باہر کسی بھی قسم کی زیارت کے لیے نہ نکلے۔ اپنے ہینڈ بیگز میں بچا کھچا سامان اچھی طرح پیک کر لیں۔ چونکہ طوافِ وداع واجب ہے، اس لیے جس کسی حاجی نے ابھی تک یہ فریضہ ادا نہیں کیا ہے، وہ کل اولین فرصت میں یہ واجب عمل مکمل کر لے!"
وادیٔ کشمیر سے نکلے ہوئے پورے پچاس دن بیت چکے تھے۔ گھر، بوڑھی والدہ، بچے، عزیز و اقارب، ناتے رشتے، احباب اور اپنی ملازمت غرض دنیا و مافیہا کو پسِ پشت ڈال کر فقط احکم الحاکمین کی پکار پر "لبیک" کہتے ہوئے جزیرۃ العرب کا رخ کیا تھا۔ یہ قیمتی، تابناک لمحات مدینہ طیبہ اور مکہ معظمہ کے مقدس مقامات کے درمیان گزارنے کا شرف نصیب ہوا تھا۔
ہم نے مناسکِ حج الحمد للہ بحسن و خوبی انجام دیے تھے۔ فرائض، ارکان، سنن اور واجبات سب ادا ہو چکے تھے، اب اس مبارک سفر کے آخری واجب عمل یعنی طوافِ وداع کی گھڑی آ پہنچی تھی۔
"ماسٹر جی، اٹھئے!"
غلام محی الدین صاحب نے رات کے آخری پہر مجھے گہری نیند سے بیدار کیا۔ محمد سلطان، محمد ابراہیم، عبدالسلام، محمد رفیق بکروال، محمد اکبر، غلام نبی اور خود غلام محی الدین یہ تمام رفقائے حج عمر میں مجھ سے خاصے بڑے تھے۔ لہٰذا ان کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی کہ مجھ سے پہلے جاگ جائیں، وضو بنائیں، کچھ میرے اٹھنے سے قبل اور کچھ میرے بعد تیار ہو جاتے۔
ابھی رات ہی کا گہرا سحر تھا، گھڑی کی سوئیاں دو بجا رہی تھیں۔ میں نے اپنی آنکھیں ملیں۔ کاریڈور کے سفید مرکری بلبوں کی چبھتی روشنی سے آنکھیں چندھیانے لگیں۔ میں نے جلدی سے وضو کیا۔ ہوٹل کے برآمدے میں عجیب چہل پہل تھی۔ کچھ حجاج سیڑھیوں سے اتر رہے تھے، تو کچھ نیند میں غنودہ، ادھ موئے سے لفٹ کے آگے قطاریں باندھے کھڑے تھے۔ میں نے جلدی سے کپڑے بدلے، دعاؤں کا چھوٹا کتابچہ جیب سے نکالا اور ہوٹل کے باہر آ گیا۔ باہر گاڑیاں قیامت کا شور مچائے ہوئے تھیں، ہر وقت رواں دواں اور اسٹارٹ حالت میں "شین شین" کی مہیب آوازیں گونج رہی تھیں۔
ایک بس کا دروازہ کھلا تو حجاج لپک لپک کر سوار ہونے لگے۔ میں بھی کسی نہ کسی طرح اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس گاڑی کے پیچھے بھی دو تین بسیں قطار میں تیار کھڑی تھیں۔ میرے سوار ہوتے ہی میری اہلیہ بھی اندر پہنچ گئیں۔ نشستیں پوری بھر چکی تھیں یا کہیں کہیں خالی تھیں، شاید اس وقت میرا دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری تھا۔ پیچھے سے مسافر آتے اور میری آنکھوں کے سامنے خالی نشستوں پر بیٹھ جاتے۔ میں نے دل میں سوچا، چلو اچھا ہی ہوا وہ بیٹھ گئے، اگر دوسروں کو ذرا آرام مل جائے تو اس کا بھی ثواب ملے گا۔ ویسے بھی کسی کے لیے نشست چھوڑنا بس آج ہی تک ہے، کل اپنے وطن لوٹ کر کون کس کے لیے کہاں جگہ خالی کرے گا!
میرا دل مسلسل بوجھل اور ملول ہو رہا تھا۔
"ماسٹر جی! ادھر آئیے، یہ سیٹ خالی ہے!" کسی نے پکارا۔
مگر میں نے کوئی دھیان نہ دیا۔
"ماسٹر جی! کہاں کھو گئے ہیں؟ ہم نے آپ ہی کے لیے تو یہ سیٹ رکھی ہے، تشریف لائیے!" ڈرائیور کے پیچھے بیٹھے ایک اور حاجی صاحب برابر آوازیں دے رہے تھے۔
لوگ باتیں کر رہے تھے۔ باتوں کا کیا ہے، دنیا میں کروڑوں انسان باتیں بناتے ہیں، اور منطق کی رُو سے انسان اور جن ہی "حیوانِ ناطق" کہلاتے ہیں
یہ خیال میرے ذہن میں غیر ارادی طور پر بجلی کی طرح کوندا۔
اچانک مجھے اپنے دائیں کندھے پر کسی کے ہاتھ کا دباؤ محسوس ہوا۔
دل میں عجیب سا وسوسہ ابھرا: میں نے کوئی چوری تو نہیں کی، نہ کوئی جرم سرزد ہوا ہے۔ یوں بھی حرمین شریفین کا پورا ماحول اتنا پرنور اور اسلامی ہے کہ یہاں کوئی گناہ کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا۔ ایسی مقدس سرزمین پر کسی جرم کا تصور ہی ناممکن ہے، اور پھر ملکی تعزیرات کا خوف بھی سر پر سوار رہتا ہے۔ آخر میرا گریبان کوئی کیوں پکڑے گا؟
نہ میں نے کوئی خطا کی ہے کہ مجھ پر کوئی دباؤ ڈالے، اور اگر کوئی مجرم ہو بھی تو وہ قانون کے کٹہرے سے بچ نہیں سکتا۔ انھی الجھے ہوئے خیالات کے تانے بانے بنتے ہوئے میں نے کندھے کے اس دباؤ کو درخورِ اعتنا نہ جانا۔
"ماسٹر جی! آپ کن یادوں کی دنیا میں گم ہیں؟"
"کسی یاد میں نہیں۔" میں نے بیزاری سے سوچا۔ نہ جانے یہ لوگ مجھ سے کیوں لایعنی گفتگو بڑھا رہے ہیں، مجھے دل ہی دل میں برا لگا۔
میں تو بس میں سوار تھا۔ میرا ہاتھ بس کی چھت سے لٹکتی ہوئی گرفت بیلٹ کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا۔ گاڑی دیوانہ وار تیز رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ میں کبھی دائیں جھولتا، کبھی بائیں، کبھی آگے کو گرتا اور کبھی پیچھے۔ بائیں ہاتھ سے میں نے آگے والی نشست کی بالائی پشت کو تھام رکھا تھا تاکہ میرا توازن سلامت رہے۔ باہر تیز روشنیاں جھلملا رہی تھیں، مگر اندھیری رات کے باعث نگاہوں کو کچھ خاص سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ دفعتاً ڈرائیور نے زور دار بریک لگائی۔ میں ہچکولے کھاتا ہوا بس کے اندر چار قدم اچھل کر آگے جا گرا اور غالباً سامنے والی سیٹ سے ٹکرا گیا۔ دونوں طرف کی سیٹوں کے بیچ خاصا کشادہ راستہ تھا، خدا کا شکر ہے مجھے کوئی چوٹ نہ لگی۔
گاڑی کے پہیے تھم گئے۔ اجیاد کا بس اسٹینڈ آ چکا تھا، ہم سرنگ (ٹنل) سے نکل چکے تھے۔
"ماسٹر جی! آپ سارا راستہ یوں کھڑے کھڑے کون سے مناظر میں گم رہے؟"
کسی نے شفقت سے میرا دایاں ہاتھ اس لٹکتی بیلٹ سے چھڑایا۔
چاروں طرف سے شور اٹھ رہا تھا: "جگہ دیجیے، جگہ دیجیے! نیچے اتریں، حجاج کو اترنے دیں!"
ایک میکانکی انداز میں، بالکل بے سدھ، میں بس سے نیچے اتر آیا۔ قدم ازخود اٹھ رہے تھے، گویا میرے دماغ نے اپنی ٹانگوں کو آگے بڑھنے کا کوئی باضابطہ حکم صادر ہی نہ کیا ہو۔
سامنے ابراج الصفوہ کے دامن میں قہوہ تقسیم ہو رہا تھا۔ تلخ، بغیر چینی کے۔ ایک وسیع تھال سجا تھا اور ایک خدمت گار ہاتھ میں چائے کی بڑی کیتلی لیے اس کمال مہارت سے کاغذی پیالیوں میں گرم مائع انڈیل رہا تھا جیسے کوئی جدید کمپیوٹرائزڈ مشین لکڑی کے دروازے پر باریک کیل نما اوزار سے نہایت نفاست کے ساتھ نقش و نگار تراش رہی ہو، یا جیسے کوئی ماہر فنکارہ مہندی کا کون (cone) دو انگلیوں میں سنبھالے، گرد و پیش سے بے نیاز، دائیں بائیں دیکھتے ہوئے بھی دلہن کی ہتھیلی پر بے خطا اور پرپیچ ڈیزائن بناتی چلی جائے۔ نہ کوئی جھول، نہ کوئی لغزش۔
ہاتھ تیزی سے بڑھ رہے تھے اور پیالیاں اٹھا رہے تھے گرم گرم، تلخ چائے اور ساتھ دو تین کھجوریں۔ وہ بڑا سا تھال پلک جھپکتے ہی دو منٹ میں خالی ہو جاتا۔ پھر وہی کیتلی بردار پیالیوں کا نیا بنڈل لے کر ایک منٹ میں دو درجن گلاس قرینے سے سجاتا اور قہوہ بھرتا۔ لوگ دیوانہ وار جھپٹ کر پیالیاں سمیٹ لیتے۔ میں ٹکٹکی باندھے یہ پرکیف منظر دیکھتا رہا۔
"لیجیے حاجی صاحب!"
میکانکی طور پر میرا ہاتھ بھی بڑھا اور میں نے اس کے ہاتھ سے کپ تھام لیا۔ پیالی ہونٹوں سے لگائی تو عجیب کیفیت ہوئی نہ اس میں چینی تھی، نہ کڑواہٹ، اور نہ ہی کوئی بدذائقگی۔ بس ایک انوکھی تازگی تھی۔
میں دوبارہ چلنے لگا۔ بابِ شاہ عبدالعزیز اب فقط دو سو میٹر کی دوری پر تھا۔ فضا میں تہجد کی سحر انگیز اذان گونج رہی تھی۔ کعبۃ اللہ کے فلک بوس مینار سفید دودھیا روشنی میں نہائے ہوئے تھے اور آسمان کے ستارے اس نور کے آگے ماند پڑ چکے تھے۔ حرم کے بیرونی صحن میں سفید سنگِ مرمر کی ایسی چکناہٹ تھی کہ پاؤں پھسلنے کا پورا خدشہ لاحق تھا۔
حجاج کا سمندر بلا روک ٹوک مطاف کی وسعتوں میں سماتا جا رہا تھا۔ پہلے دایاں پاؤں اندر رکھنا تھا، مگر سوچتا ہوں کہاں کہاں دایاں پاؤں رکھا تھا؟ عزیزیہ سے نکلے تو دایاں پاؤں گاڑی کے پائیدان پر رکھا، بس اسٹینڈ سے باہر آئے تو پہل دائیں پاؤں نے کی، ابراج الصفوہ کے سامنے قہوہ بانٹنے والے خادم کی طرف بھی دایاں پاؤں ہی آگے بڑھا تھا ۔
چلو، بابِ عبدالعزیز کی دہلیز پر بھی دایاں ہی پاؤں رکھتے ہیں۔
اس عظیم الشان دروازے کی کشادگی کوئی تین میٹر ہو گی۔ اندر نگاہ پڑتے ہی روح جھوم اٹھی سامنے وہ نورانی، چوکور، آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا کعبہ، جو سیاہ غلاف (کسوہ) میں لپٹا جلال و جمال کا مرقع بنا کھڑا تھا!
میرے دونوں ہاتھ ازخود دعا کے لیے بلند ہو گئے۔ کعبہ شریف اب بھی لگ بھگ سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ بائیں جانب ایک برقی زینہ (ایسکلیٹر) تھا اور دائیں جانب سفید سنگِ مرمر کی روایتی سیڑھیاں۔ میں انہی مرمریں سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا۔ اب مطاف کے فرش پر قدم رکھنا تھا یقیناً پہلے دایاں ہی پاؤں، پھر بایاں بھی تو دھرنا تھا۔ میں نے ٹٹول کر اپنے دائیں پاؤں اور دائیں ٹانگ کا جائزہ لیا، پھر نگاہیں اوپر اٹھا کر کعبے کے جلوے کا مشاہدہ کرنے لگیں۔ آنکھوں کی جنبش جیسے تھم سی گئی، پلکیں جھپکنا بھول گئیں، مگر سب کچھ آئینے کی طرح شفاف دکھائی دے رہا تھا۔ عام طور پر پلک جھپکنے کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پپوٹوں سے خارج ہونے والی رطوبت آنکھ کو تر اور صاف رکھتی ہے تاکہ نظر کو دھوکا نہ ہو اور مناظر نکھر کر سامنے آئیں۔ مگر یہاں تو عجب عالم تھا اوپر کی پلک اوپر، نیچے کی نیچے، اور نگاہیں ساکت! غلافِ کعبہ پر سونے کے آبدار دھاگوں سے کشیدہ کی گئی قرآنی آیات کا ایک ایک حرف جگمگاتا صاف نظر آ رہا تھا۔ کچھ ابابیلیں فضا میں غوطے لگاتے ہوئے چکر کاٹ رہی تھیں اور پھر کعبے کے کناروں پر لمحہ بھر کو اپنے پر سمیٹ لیتی تھیں۔
میں کسی منظم قطار کا حصہ نہیں تھا۔ ہزاروں زائرین تہجد کی نماز کے بعد مطاف کے گول دائرے میں رواں دواں تھے۔ میں بھی اس سمندر میں ریت کے ایک حقیر ذرے کی مانند خود بخود گردش کرنے لگا۔ میرے دائیں کون ہے، بائیں کون، مجھے کچھ خبر نہ تھی۔ میں نے قمیض کی جیب سے دعاؤں کا کتابچہ نکالا اور بائیں ہاتھ میں تھام لیا۔ دائیں ہاتھ میں سات دانوں والی تسبیح تھی۔ میں نے حجرِ اسود کی سیدھ میں اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے: "بسم اللہ، اللہ اکبر!"
کیا یہ شہنشاہِ کائنات کے ساتھ بندے کا مصافحہ اور معانقہ تھا؟ وہاں سے تو بظاہر کوئی مادی ہاتھ آگے نہ بڑھا، مگر ہزاروں بندگانِ خدا نے اسی طرح ہاتھ اٹھا رکھے تھے، شاید وہ سبھی اپنے رب سے گلے مل رہے تھے۔ میں نے اپنے ہی دونوں ہاتھوں کو چوم لیا، اس وارفتگی میں وہ کتابچہ بھی آپ ہی آپ چوم لیا گیا۔
اب میں دائیں رخ چل رہا تھا، کعبے کے گرد چکر کاٹ رہا تھا۔ قدرت نے مجھے دو آنکھیں، دو کان، دو ہاتھ اور دو پاؤں عطا کیے ہیں، مگر دل صرف ایک ہی بنایا ہے۔ وہ دل میرے دائیں طرف نہیں، بلکہ بائیں پہلو میں ہے۔ کعبہ شریف میرے بائیں طرف تھا میرا آدھا جسم دائیں اور آدھا بائیں، مگر میرا دل؟
میں نے دائیں ہاتھ سے اپنی پسلیوں کے پنجرے کو ٹٹولا۔ سینے کے قریب دائیں جانب کچھ بھی محسوس نہ ہوا، البتہ بائیں طرف ہلکا ہلکا سا میٹھا درد جاگ رہا تھا۔ میں نے اپنی بائیں بغل اور سینے کی درمیانی لکیر پر اپنی ہتھیلی زور سے جما دی۔ نبض تو زیادہ سنائی نہ دی، مگر یوں گمان گزرا جیسے سینے کی گہرائی سے مسلسل "رب، رب، رب" کی صدائیں گونج رہی ہوں۔ اس کا سیدھا سا مفہوم یہی تھا کہ میرا دل بائیں طرف دھڑک رہا ہے اور دنیا کا مرکز و محور، یعنی کعبہ شریف، وہ بھی میرے بائیں ہاتھ پر ہے۔ گویا ایک مقناطیسی نظام قائم ہو چکا تھا اور میرا بایاں دھڑ کعبے کے رخ پر بالکل سیدھ میں آ گیا تھا۔
میں نے ایک بار پھر کتابچہ کھولا۔ میں دل کھول کر دعائیں مانگنا چاہتا تھا، لیکن نگاہیں کعبہ شریف پر گڑی ہوئی تھیں۔ اب مخمصہ یہ تھا کہ میں کعبے کے دیدار میں محو رہوں یا کاغذ کے اوراق پر لکھی دعائیں پڑھوں؟ پھر ایک دعا پڑھ کر دوسرا صفحہ الٹنا مجھے بڑا عجیب اور بے کیف لگا۔ میں رٹی رٹائی دعائیں کتاب سے دیکھ کر پڑھوں، میری نگاہیں کاغذ کے بے جان پرزے پر جمی ہوں اور میں کعبے کا طواف کر رہا ہوں؟ اس تصور سے مجھے اپنے اندر سخت سبکی اور شرمندگی کا احساس ہوا۔
میں نے فوراً وہ کتابچہ بند کر دیا۔
سامنے مقامِ ابراہیم آگیا۔ طواف کے بہاؤ میں شاید میں اس سے ٹکرا جاتا، لیکن حجاج کا اژدھام اتنا گھنا تھا کہ ان کی لہروں نے مجھے بچا لیا، وہ بھلا مجھے اس سے کیسے ٹکرانے دیتے۔ میں نے کتابچہ دوبارہ جیب کے حوالے کیا اور نظریں پھر سے کعبۃ اللہ کے حسن پر جما دیں۔ دائیں ہاتھ میں وہی سات دانوں کی تسبیح تھی، جس کے پہلے دانے پر میری شہادت کی انگلی اور انگوٹھا جمے ہوئے تھے تاکہ ایک چکر پورا ہوتے ہی دانہ کھسکا دیا جائے۔
مگر طبیعت پر ایسی خود رفتگی طاری ہوئی کہ میں نے تسبیح بھی سمیٹ کر دائیں جیب میں رکھ دی۔ دماغ سے ساری دعائیں اور رٹے رٹائے الفاظ محو ہو چکے تھے، اور کتابی اوراق تو میں پہلے ہی لپیٹ چکا تھا۔
ہاں، مجھے چھ کلمے زبانی یاد تھے، مگر چکر تو سات لگانے تھے! دل نے کہا: چھ کلموں کے ساتھ مجھے کلمۂ تہلیل بھی تو یاد ہے۔ طے پایا کہ پہلے چکر میں صرف تہلیل کا ورد کروں گا۔ میں نے لب ہلانے چاہے، مگر زبان تو خشک ہو کر تالو سے چپکی ہوئی تھی۔ نگاہیں کعبے پر خیرہ تھیں۔ بڑی مشقت سے میں نے اپنی زبان کو تالو سے الگ کیا:
"لا الہ الا اللہ!"
میرے مولا! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اگر کوئی حقیقی ہستی ہے تو وہ صرف تیری ذاتِ واحد ہے!
حطیم کے نیم دائرے کے پاس بھی پروانوں کا عجب ہجوم تھا۔ لوگ اپنی باہیں پھیلا کر حطیم کی دیوار پر یوں سینہ تانے گلے مل رہے تھے جیسے ببانگِ دہل کہہ رہے ہوں کہ یہی میرا رب ہے اور یہی میری کل کائنات! پھر رکنِ عراقی گزرا، اور ایک نشانی پار کر کے رکنِ یمانی کے پاس پہنچے۔ وہاں پہنچ کر مجھے یاد آیا کہ یہاں تو یہ دعا مسنون ہے:
"رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"
بس، میرا سارا دنیوی "سافٹ ویئر" اڑ چکا تھا۔ حافظے میں صرف چھ کلمے، کلمۂ تہلیل اور "ربنا آتنا..." ہی باقی رہ گئے تھے۔
پہلا پھیرا مکمل کر کے جب میں حجرِ اسود کے مقابل پہنچا، تو ایک چکر پورا ہونے پر میں نے دور ہی سے استلام کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو چوم لیا۔ کعبہ شریف سے کوئی جسمانی ہاتھ یا منہ مجھے چومنے کے لیے باہر نہیں آیا تھا۔ اس کے بعد میں نے پہلے کلمے کا ورد شروع کیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا اس طرح ساتویں چکر تک پہنچتے پہنچتے میرے چھ کلمے بھی مکمل ہو گئے۔ اس پورے سفر میں میری پتھرائی ہوئی نظریں مسلسل کعبے کے غلاف پر ہی ٹکی رہیں۔
"ماسٹر جی! ہم نے سات چکر مکمل کر لیے ہیں، ہمارا طواف پورا ہو گیا!"
رفقاء کی آواز پر میں آہستہ آہستہ دائیں جانب ہٹنے لگا، لیکن میرا دل کسی طاقتور مقناطیس کی مانند کعبے کے مرکز سے جدا ہونے کو تیار نہ تھا۔ مقامِ ابراہیم کی سیدھ میں، میں افقی انداز میں الٹے قدموں پیچھے ہٹتے ہوئے حرم شریف کی عقبی دیوار تک پہنچ گیا، مگر روح کی مقناطیسی کشش کسی بھی طور ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
اب میں نے مقامِ ابراہیم کے پیچھے طواف کی دو رکعت واجب نماز کی نیت باندھی۔ پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری میں سورۃ الاخلاص
دو مختصر رکعتیں اور دو جامع سورتیں!
سلام پھیرتے ہی یوں لگا جیسے ذہن میں روشنی کا کوئی بند دریچہ وا ہوا ہو۔ کیا میری یادداشت لوٹ آئی تھی؟
میں کون تھا؟ میں کہاں تھا؟ اور میں یہاں کیوں آیا تھا؟
اب ان تین سوالوں کون، کہاں اور کیوں کا جواب دھیرے دھیرے میرے شعور میں اتر رہا تھا۔
میں کعبۃ اللہ میں کھڑا طوافِ وداع کا مقدس فریضہ ادا کر رہا تھا!
گزشتہ چالیس دنوں سے مجھے دن میں کئی کئی بار کعبے کے دیدار کی سعادت حاصل ہوتی رہی تھی، اور آج اپنے حج کو آخری انجام تک پہنچانے کی نیت سے پروردگار کی چوکھٹ پر حاضر تھا۔ اب مجھے پوری طرح یاد آیا کہ میرے ساتھ آٹھ مرد حجاج اور چند محترم خواتین بھی اس قافلے میں شریک ہیں۔
حج تو زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے!
اچانک میرے ذہن میں وہ لرزہ خیز حدیثِ قدسی گونجی کہ ایک تھکا ماندہ مسافر غلافِ کعبہ کا کونا تھام کر گڑگڑا کر دعائیں مانگ رہا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں، چہرہ گرد و غبار سے اٹا ہے، مگر ربِ ذوالجلال فرماتا ہے کہ میں اس کی کوئی دعا ہرگز قبول نہیں کروں گا، کیونکہ اس کی خوراک حرام ہے، اس کا لباس حرام ہے اور اس کی کمائی حرام ہے!
استغفر اللہ! کیا میری کمائی حرام ہے؟
حرام کمائی کے تو بے شمار راستے ہیں چوری، ڈکیتی، رشوت، سود خوری، اور ناحق کسی کا حق مار لینا۔ کیا میں ان میں سے کسی جرم کا مرتکب ہوا ہوں؟
میرے باطن نے پورے اطمینان سے گواہی دی: نہیں! میں تو معمولی محنت مزدوری اور ملازمت کرتا ہوں، اور جتنا رزق پاتا ہوں اس کے بدلے پوری دیانت داری سے ڈیوٹی نبھاتا ہوں۔ اب میری آنکھیں حقیقت کے ادراک سے مزید کھل گئیں۔ اگر میں سود خور یا لٹیرا نہیں ہوں، تو کیا کہیں میں "کام چور" تو نہیں رہا؟ کیا میں نے اپنے فرائض میں کوئی کوتاہی تو نہیں برتی؟
میرے مولا! اب میرا کیا بنے گا؟ میں تیری پاک چوکھٹ پر اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر سخت نادم اور شرمسار کھڑا تھا۔
"ماسٹر جی، یہ لیجیے آبِ زمزم کا گلاس!"
میرے ہونٹوں پر پیاس اور خشکی کی تہیں جم چکی تھیں اور حلق کانٹا ہو رہا تھا۔ بے خودی کے عالم میں، میں نے زمزم کا بھرا ہوا گلاس تھام لیا۔ وہی شفاف، شیریں، ٹھنڈا اور بابرکت پانی جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیاں رگڑنے سے جاری ہوا تھا اور جو ہر بیماری کے لیے شفا ہے۔ میں نے ایک گلاس، پھر دوسرا گلاس پے در پے کھڑے کھڑے اپنے پیاسے حلق میں انڈیل دیا۔
مگر ارے... یہ کیا؟ اس کا ذائقہ نمکین اور کھاری کیوں ہو گیا؟
زمزم میں تو مٹھاس اور شفا ہے، اس میں کوئی کھاری پن کہاں! دراصل اس لمحے دو نہیں بلکہ تین چشموں کے پانی کا باہم سنگم ہو رہا تھا۔ ایک تو آبِ زمزم کا مقدس چشمہ تھا، اور باقی دو چشمے میری اپنی گناہ گار آنکھیں تھیں جن سے توبہ اور ندامت کے آنسو بے قابو ہو کر ابل رہے تھے۔ وہ آنسو نمکین اور کھاری تھے، جن میں ندامت اور گناہوں کی دھول گھلی ہوئی تھی۔
اور میں کعبے کے سامنے کھڑا، زمزم کی مٹھاس کے ساتھ ساتھ اپنی آنکھوں کا نمکین پانی بھی گھونٹ گھونٹ پی رہا تھا
عبدالرشید سرشار
حالسیڈار ویریناگ
7006146071